![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 2 April 2012
عفیف احسن
اگر جنرل سنگھ کی مانیں تو ہمارے ملک کے پاس دو دن سے زیادہ جنگ جاری رکھنے کے لئے وافر مقدار میں گولا بارود نہیں ہے لیکن جنر ل صاحب کے خود کے ترکش میں اتنے تیر ہیں یا یوں کہئے کہ اتنا گولا بارود ہے کے وہ دیش کے سیاست دانوں، عوام اور میڈیا کو دو مہینے تک یعنی کہ اپنی ریٹائرمینٹ کی تاریخ تک تو زبانی جنگ میں الجھائے ہی رکھ سکتے ہیں۔جنرل صاحب نے اپنی سربراہی کی مدت معیاد میں چاہے کوئی بھی ایسا بڑا کارنامہ نہ کیا ہو جس کے لئے ملک کا عوام ان کو یاد رکھے مگر جاتے جاتے وہ ایسے دھماکے کرنے سے نہیں چوکے رہے ہیں جن کے لئے ملک ان کوہمیشہ یاد رکھے گا۔
سب سے پہلے تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ ان کو ٹٹرا ٹرکوں کی خرید کے لئے ان کے ایک ساتھی لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ نے چودہ کروڑ روپئے کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔اس کے بعد ان کا ایک خفیہ خط منظرعام پر آگیا جس میں انہوں نے ہندوستان کی افواج میں نمایاں خامیوں کی طرف وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرائی تھی۔اب جنرل سنگھ نے سی بی آئی کی طرف ایک اور’’ کرپشن بم‘‘لپکا دیا ہے۔
آرمی چیف کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے ایم پی امبیکا بنرجی کے مئی 2011کے ایک خط کو سی بی آئی کو براہ راست بھیجنے سے ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ایم پی نے اپنے خط میں خفیہ اسپیشل فرنٹیر فورس میں خریدا ری میں وسیع پیمانے پر گھوٹالوں کا الزام لگایاہے۔ یہ اس وقت سے تعلق رکھتا ہے جب لیفٹننٹ جنرل دلبیر سنگھ اس کے انسپکٹر جنرل تھے۔اس میں رات کو دیکھنے کے آلات، مواصلاتی نظام، ہتھیار اور پیراشوٹ شامل ہیں۔یہ فورس ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ کے تحت کام کرتی ہے جو کے ملک کیبیرونی انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔
ایم پی بینرجی نے ایک سابق آرمی چیف کے بشمول دوسرے کئی فوجی افسران پر بدعنوانی کے الزامات لگائے ہیں، انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان لوگوں نے فوجی سودوں میں کروڑوں کی دلالی کمائی ہے اور اپنی آمدنی سے زیادہ جائدادیں جمع کرلی ہے۔
شکایت کے ساتھ منسلک اپنے کورنگ لیٹر میں جنرل سنگھ نے سی بی آئی سے بنرجی کی شکایت کی جانچ کرنے کوکہا ہے۔بنرجی کے لکھے خط پر اتنا عرصہ چپ رہنے کے بعد اب اسے براہ راست سی بی آئی کو بھیجنے کاجنرل صاحب کا فیصلہ کچھ لوگوں کے لئے حیران کن ہو سکتا ہے مگر اسے اپنے ایک دیرینہ دشمن سے حسا ب برابر کرنے کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ یہ با ت کسی سے چھپی نہیں ہے کہ جنرل صاحب نے لیفٹننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کے ایک آرمی کمانڈر بنائے جانے کی سخت مخالفت کی تھی، حالانکہ وزارت دفاع دلبیر سنگھ کی پرزور حمایت کررہا تھا۔
اپنے نوٹ میں جنرل سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ دلبیر سنگھسہاگ نے ایک سینیرآرمی آفیسر کی خفیہ سالانہ رپورٹ (اے سی آر) کو اس وجہ سے ڈاؤن گریڈ کیا تھا کیوں کہیہ میجر جنرل ایک ایسے کارٹل کے دباؤ کے آگے نہیں جھکا جو کہ فوج کوپیراشوٹ بیچنا چاہتا تھا۔آرمی چیف نے اس افسر کا نام تو نہیں لکھا مگر انہوں نے یہ ضرور لکھا ہے کہ اس افسر نے اس سلسلے میں انہیں ایک تحریری عرضداشت دی تھی۔
خود کو ملے رشوت کے آفر پر جنرل صاحب کا پورے دو سال تک کچھ بھی نہ کرنا، نہ ہی اس کی تحریری شکایت کرنا اورنہ ہی اس کی انکوائری کی مانگ کرنا ، دوسری طرف ایک ایسے ادارے کے خلاف سی بی آئی کو جانچ کرنے کے لئے لکھنا جو کے براہ راست ان کے تحت نہیں آتاہے عجیب سا لگتا ہے۔
ایسا نہیں لگتا کے سی بی آئی اس معاملے میں زیادہ کچھ کرسکے گی۔کیونکہ یہ حقیقت کہ ایس ایف ایف’’را‘‘کے تحت ہے معاملات کو اور بھی بدتر کر دے گا۔ را ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس بہت کثیر فنڈ ہوتا ہے جس کا ذکر بجٹ میں بھی نہیں کیا جاتا اورجو آڈٹ یا اپنے اخراجات کی جوابدیہی کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔
اسی اختیار کی وجہ سے را کے کچھ چیف اور دوسروں نے اسے لوٹ لوٹ کراپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بیرون ملک مطالعہ کرنے اوراچھی طرح سیٹل کرانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔اس طرح ہر سال کروڑوں روپے لوٹ لئے گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی پکڑا گیا تو اس کا معاملہ رازداری کی شق کے تحت دبا دیا گیا۔
قومی سلامتی کے سابق مشیر برجیش مشرا نے رشوت کے پیشکش کے الزام پر کوئی کارروائی نہیں کرنے کے لئے حکومت اور جنرل دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کو زبردستی چھٹی پر بھیجا جائے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا فوج کے سربراہ کو برطرف کیا جانا چاہئے یا انہیں جبراً چھٹی پر بھیجا جانا چاہئے، مشرا نے کہا کہ اگر ان کی برخاستگی ہوئی تو کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ اگر انہیں لازمی چھٹی پر بھیجا جاتا ہے تو انہیں برطرف نہیں ما ناجائے گا۔
مشرا نے کہا کہ ان سے کہا جانا چاہئے کہ آپ سرکاری تنخواہ پر دو ماہ کی چھٹی بتائیے اور پھر تنخواہ لیجیے اور گھر جائیے۔ وزیر اعظم کو لکھے جنرل سنگھ کے خط کے لیک ہونے کے بارے میں مشرا نے فوج کے سربراہ کے قریبی ساتھیوں کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جن کا میں بہت احترام کرتا ہوں، ایسے شخص نہیں ہیں جو اس طرح کا کچھ لیک کریں ۔ میں یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ وزیر اعظم کے دفتر میں کسی نوکر نے اسیلیک کیا ہو۔ اس لئے اگر جنرل نے اس خط کو خود لیک نہیں کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ان کے کسی دوست نے ایسا کیا ہو۔جنرل سنگھ کے لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سہاگ کے خلاف سی بی آئی جانچ کرانے کی سفارش پر انہوں نے کہا کہ فوج کے سربراہ کوایسا کرنے کا اختیار نہیں ہیں۔
حالانکہ جنرل سنگھ کے خط کے لیک ہونے کے وقت کو لیکر بی جے پی نے شکوک کا اظہار کیا ہے ۔مگر آرجے ڈی نے کہا ہے کہ جنرل سنگھ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور ان کو برخاست کردیا جانا چاہئے۔سماج وادی پارٹی اور جنتا دل (یو) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو وزیر اعظم منموہن سنگھ کولکھے خط کو میڈیا کو لیک کرنے کے لئے برطرف کر دیا جاناچاہئے۔ بیجوجنتا دل اور بایاں محاز نے خط کے لیک ہونے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرنے میں شمولیت اختیار ک اورکہا کہ جوبھی اس کے لیے ذمہ دارہے وہ بچنا نہیں چاہئے۔ جنتا دلہ (یو) کے رہنما شوانند تیواری نے کہا کہ ’’یہ شدید تشویش کا معاملہ ہے ،آرمی چیف کاطرز عمل مشکوک ہے۔ اب، کہ وہ اس تنازعہ میں ملوث ہو رہی ہے، شاید وہ الزام منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ وی کے سنگھ کو خفیہمعاملات کو عوامی نہیں بنانا چاہئے۔انہوں نے یہ اس وقت کیوں نہیں کیا جب وہ سربراہ بنے تھے۔سماج وادی پارٹی کے رہنما موہن سنگھ نے کہا۔ سماج وادی پارٹی کے ایک اور رہنما رام گوپال یادو نے مطالبہ کیا کہ جنرل سنگھ کو فوری طور پر برطرف کر دیا جاناچاہئے۔
حالانکہ بعد میں اپنے ایک بیان میں جنرل سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم کو بھیجے گئے سرکاری خطکے لیک ہونے کوملک سے غداری کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے صاف کیا تھا کہ یہ خط انہوں نے لیک نہیں کیا ہے۔ اس معاملے پر جنرل سنگھ نے کہا تھاکہ ان کی شبیہہ کو داغدار کرنے کے بے تکے رویہ کو بند ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو لکھے گئے ان کے خط کے لیک ہونے کے ذریعہ کا پتہ لگایا جانا چاہئے اور اس سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہئے۔
حالانکہ وزیردفاع حکومت اور جنرل کے درمیان کسی بھی ٹکراؤ سے لگاتار انکار کررہے ہیں جس کی زبانی تائید جنرل سنگھ بھی کر رہے ہیں مگر پھر بھی وہ ہر ہر وہ حربہ اپنا رہے ہیں جس سے کہ حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑے اور وہ ایک زندہ شہید کے طور پر اپنی بقیہ زندگی گزاردیں۔ہر ایک فوجی کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ملک پر شہید ہوجائے شاید یہ خواہش جنرل سنگھ کے دل میں بھی رہی ہے اور اب ان کو لگ رہا ہے کہ دومہینے رہ گئے ہیں اور یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی تو کیوں نہ کچھ ایسا کیا جائے کہ وہ شہید کہلائیں۔
ایسا نہیں لگتا کہ جنرل سنگھ اور حکومت کے بیچ تنازعات کم ہونے کا نام لیں گے۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تنازعات آگے اور بڑھیں گے کیونکہ جنرل سنگھ جس جگہ پر بیٹھے ہیں وہاں پر چاہے بقول جنرل ملک کی افواج کے پاس وافرگولا بارود نہ ہو مگر جنرل صاحب کے ترکش میں ابھی بہت سے تیر باقی ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً ان کا استعمال بھی کریں گے کیونکہ انہیں ایک ایسی حکومت سے حساب برابر کرنا ہے جس نے ان کی ایک سال کی نوکری کو کم کردیا اور انہیں سپریم کورٹ تک سے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ۔
دوسری طرف وزیر دفاع اور حکومت سے یہ امید نہیں ہے کہ وہ اپنا بچاؤ کرنے کے علاوہ جنرل کے خلاف کوئی اور تادیبی کارروائی کریں گے ،کیونکہ بقول شاعر
نا خنجر اٹھے گا نا تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
A K Antony, Afif Ahsen, Daily Pratap, Defence Ministry, General V K Singh, india, Indian Army, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment