Search

Monday, 26 September 2011

ہماری بیگم ہم اور خط افلاس

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 26th September 2011
عفیف احسن
گزشتہ روز جب میں نے اپنی بیگم سے یہ کہا کہ وہ بہت فضول خرچ ہے تو وہ بھڑک اٹھی، اور لگی مجھے برا بھلا کہنے، وہ کہنے لگی کہ آپ کو کیا پتا میں کیسے آپکے گھر کا خرچا چلارہی ہوں، میری جگہ کوئی اور ہوتی تو آپ کو پتا چلتا۔ میں نے آج تک اپنی بیگم کو فضول خرچ کہنے کی ہمت تو نہیں کی تھی مگر دل ہی دل میں اس کی فضول خرچی کا گمان رکھتاتھا۔ مگر میری ہمت پلاننگ کمیشن نے بڑھا دی تھی، اب میرے پاس اعداد وشمار تھے اس کی فضول خرچی کو ثابت کرنے کے لئے۔ اور وہ تھے پلاننگ کمیشن کے وہ اعداد و شمارجس میں اس نے خط افلاس کی تشریح کی تھی۔ میں نے اس سے کہاکہ اب اس کو ہم چار لوگوں کے خرچہ کے لئے مہینے میں صرف چار ہزار روپئے ہی ملیں گے اور اس نے اسی میں پورے مہینے کا خرچہ چلانا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے آپ خود ہی اتنے روپئے میں گھر کا خرچہ چلا کر دکھائیں تب میں جانوں گی۔ میں نے کہا کہ یہ میرا کام نہیں ہے کے میں تمہارے گھر کے خرچہ کی پلاننگ کروں کیوں کہ یہ چھوٹے موٹے کام یا تو تمہارے ہیں یا ملک کے پلاننگ کمیشن کے ہیں۔ مجھے تو دیش کے بڑے بڑے مسائل سے ہی فرصت کہاں ہے جو میں تمہارے معمولی خانگی معاملات کودیکھوں۔ تم پلاننگ کمیشن کے صلاح مشورے سے اپنے گھر کے اخراجات چلاؤ۔ اس پر وہ لگی پلاننگ کمیشن کوکوسنے۔ اس نے کہا کہ پلاننگ کمیشن والوں سے کہو کہ وہ صرف ایک مہینے تک چار ہزار میں میرے گھر کا خرچ چلاکر دکھادیں تب میں مانوں گی۔ خود تو یہ لوگ لاکھوں خرچ کرتے ہیں، ایک میٹنگ کا ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور چلے ہیں مجھے سکھانے۔ وہ خود کیوں نہیں صرف چار ہزرا میں اپنے گھر کا خرچہ چلائیں اور باقی پیسا ہم جیسے غریبوں کو دے دیں۔ بیگم کا رخ پلاننگ کمیشن کی طرف موڑ کر میں نے تو سکون کی سانس لی اور دیش کے بڑے بڑے مسائل پر غور کرنے لگا۔
یہی ہال پورے ہندوستان کا ہے ، منصوبہ بندی کمیشن نے غربت کا تعین کرنے کے لیے جو پیمانہ مقرر کیا ہے، اس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح ضرورت مند لوگوں کی بہت بڑی تعداد سماجی بھلائی کے پروگراموں کے فوائد سے محروم ہو جائے گی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی کا ایک تہائی حصہ غریب ہے ۔
منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ دیہی علاقے میں جو شخص غذا، تعلیم اور صحت پر26روپیہ خرچ کرتا ہے جوکہ 781روپیہ ماہانہ ہوتا ہے، اسے غریب نہیں سمجھا جائے گا۔ شہری علاقوں کے لیے غریبی کی یہ لائن کچھ اونچی ہے، یعنی32روپیہ جوکہ 965روپیہ ماہانہ ہوتا ہے ۔ یہ اعداد و شمار غربت کے لیے عالمی بنک کے مقرر کردہ ایک ڈالر پچیس سینٹ یعنی کہ 75روپیہ روزانہ کے معیار سے کہیں کم ہیں۔
منصوبہ بندی کمیشن نے جو اقتصادی پالیسی ترتیب دیتا ہے، یہ معیار اس وقت مقرر کیے جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کہ اس نے غربت کے معیار کس بنیاد پر مقرر کیے ہیں۔ یہ اعدادوشمارپلاننگ کمیشن نے تب دئے جب سپریم کورٹ نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کے اس نے جواعدادوشمار دئے ہیں وہ کیسے درست مانے جائیں اور اس کو جائز ٹھہرانے کے لئے پلاننگ کمیشن ایک ایفیڈیوٹ داخل کرے۔ کیونکہ جو اعداد اس نے پہلے دئے تھے وہ کسی بھی طور پر جائز نہیں تھے ۔ پہلے پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ دیہی علاقہ میں 14روپیہ اور شہر میں19روپیہ خرچ کرنے والے خط افلاس سے اوپر ہیں۔
لیکن بہت سے ماہرینِ معاشیات اور سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ نئے معیار حقیقت کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی دہلی جیسے شہر میں، تیس روپیہ میں ایک پیاز، ایک آلو، کچھ چاول، ایک کیلا، ایک پینسل، ایک ایسپرین اور بس کے ایک ٹکٹ کے سوا اور کچھ نہیں خریداجا سکتا۔
جین دریز ایک ممتاز اقتصادی ماہر ہیں جو بھارت میں اقتصادی پالیسی کی تشکیل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہمیں یہ تو علم ہے کہ غربت کی تعریف میں بہت کم لوگ آتے ہیں۔ لیکن جو چیز نئی اور بالکل حیران کن ہے وہ یہ دعویٰ ہے کہ غریبی کاجو پیمانہ مقرر کیا گیا ہے وہ غذا، صحت اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے۔  یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اسے خط افلاس کے بجائے بھوک کی لکیر کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔‘‘
دوسری طرف پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے خط افلاس اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان لوگوں کی مدد ہو سکے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ حکومت کو سماجی بہبود کے لیے دستیاب محدود وسائل کا بہترین استعمال کرنا پڑتا ہے اور اس میں بہت زیادہ لوگوں کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ پلاننگ کمیشن کی اسی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے خط افلاس مقرر کر لے کیونکہ اس کو ایسا کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایسے لوگوں کو دینے کے لیے کتنی رقم ہے نہ کہ یہ کہ کتنے لوگ اس کی مدد کے مستحق ہیں۔
بھارت کی شاندار اقتصادی ترقی کے باوجود، کروڑوں لوگ اب بھی غریب ہیں۔ کانگریس کی قیادت میں چلنے والی حکومت نے غربت کم کرنے اور روزگار،علاج معالجے، اور تعلیمی پروگراموں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔ وہ ایک قانون منظورکرنا چاہتی ہے جس کے تحت غریبوں کو سستااناج فراہم کیا جائے گا۔ وہ کم قیمت ایندھن اور کھاد کی جگہ نقد رقوم دینا چاہتی ہے۔ لیکن سماجی کارکنوں کاکہنا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کی تعداد گھٹا کر جو حکومت کے سماجی بھلائی کے پروگراموں کے مستحق ہیں، اپنا بوجھ کم کر رہی ہے ۔ ناقدین میں بیراج پٹنائیک بھی شامل ہیں جو غذا کے حق کے بارے میں ایک سرکاری کمیشن کے مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’وہ اس ملک کے 70 فیصد لوگوں کو غربت دور کرنے کے پروگراموں کے فوائد سے الگ کر رہے ہیں۔ اس طرح حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد میں کمی آ جائے گی۔ لیکن اس کا مقصد تو یہ ہوا کہ غریبوں کی تعداد ان کی حالت بہتر بنا کر نہیں، بلکہ دھوکہ دے کر کم کر دی جائے گی۔‘‘ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی میں سے 32 فیصد، یا تقریباً چالیس کروڑ لوگ غریبی کی حالت میں زندہ ہیں۔ لیکن بہت سے اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار سے ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی تقریباً نصف تعداد غذائیت کی کمی کا شکار ہے، لوگوں کی محرومیوں کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا ۔
حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نیشنل ایڈوائزری کونسل یہ کہتی رہی ہے کہ سماجی امداد تمام شہریوں کو فراہم کی جانی چاہئیے کیوں کہ ملک میں ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اقتصادی ماہردریز اس کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں کچھ ریاستوں، جیسے جنوب میں تامل ناڈو اور شمال میں ہماچل پردیش میں اس سمت میں پہلے ہی بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔
ان وزیروں کی کیا کہئے جو کے عالیشان سرکاری بنگلوں میں رہتے ہیں جن کاانہیں کوئی کرایہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ ان کو یہ بھی نہیں سوچنا پڑتا کہ آج شام کو گھر میں چولہہ جلے گا بھی کے نہیں، انہیں تو صرف ایک ہی کام ہے کہ وہ دیش کے غریبوں کے بارے میں سوچیں اور وہ سوچتے بھی کیا خوب ہیں۔
کوئی وزیر لکھ پتی سے کم نہیں ہے، تو زیادہ تر کروڑپتی ہیں اور کافی وزیر توایسے ہیں جو کہ ارب پتی ہیں۔ ایسا شخص جس کو اس بات کی فکر نہ ہو کہ وہ شام کو کیا کھائے گا کسی دوسرے ایسے شخص کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے جو پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے خاندان کے لئے محنت مزدوری کرتا ہو۔
ایک بار الیکشن جیتنے اور وزیر بننے کے بعد اس کو اتنی فرصت ہی کہاں رہ جاتی ہے کے وہ ان غریب اور نادار لوگوں کی خبر گیری کرنے کے لئے چھوٹے موٹے گاؤں اور قصبوں کا دورا کرسکیں ۔ اسے سال میں شاید ایک یادو مواقع ہی ملتے ہیں جب وہ چند گھنٹوں کے لئے اپنے حلقہ کے صدر مقام پر جاپاتا ہوگا اور وہ بھی چارٹرڈ فلائٹ سے اور ائرکنڈیشنڈ کاروں سے۔
دراصل ہمارے ملک میں خط افلاس کے لئے آنکڑوں کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ایشیا ئی ترقیاتی بینک یا ورلڈ بینک کے اشارے پر کیا جارہا ہے۔ دراصل حکومت ہند یہ چاہتی ہے کہ دنیا کے سامنے اپنی حالت مستحکم اور بہتر بناکرپیش کرے اور ایسا کرنے کے لئے وہ خط افلاس کو نیچا رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

हमारी बेगम हम और ग़रीबी रेखा


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 26th September 2011
अफ़ीफ़ अहसन
कल जब मैंने अपनी बेगम से कहा कि वह बहुत फजूल खर्च है तो वह भड़क उठी और लगी मुझे बुरा भला कहने, वह कहने लगी कि आपको क्या पता में- कैसे आपके घर का ख़रचा चला हूँ, मेरी जगह कोई और होती तो आपको पता चलता. मैंने आज तक अपनी बेगम को फजूल खर्च कहने की हिम्मत तो नहीं थी लेकिन दिल ही दिल में उसकी फजूल ख़रची का गुमान रखता था. मगर मेरी हिम्मत योजना आयोग ने बढ़ा दी थी, अब मेरे पास आंकड़े थे उसकी व्यर्थ ख़रची को साबित करने के लिए. और वह थे योजना आयोग के वे आँकड़े जिस में उसने ग़रीबी रेखा की व्याख्या की थी. मैंने उससे कहा कि अब हम चार लोगों के खर्च के लिए महीने में केवल चार हजार रुपये ही मिलेंगे और उसने इसी में पूरे महीने का खर्च चलाना है. उसने कहा कि पहले आप स्वयं ही इतने रुपये में घर का खर्च चला कर दिखाएँ तब मैं जानूं गी. मैंने कहा कि यह मेरा काम नहीं है के मैं तुम्हारे घर के खर्च की योजना करूँ क्यों कि यह छोटे मोटे काम या तो तुम्हारे हैं या देश के योजना आयोग के हैं. मुझे तो देश के बड़े बड़े मुद्दों से फुर्सत कहाँ है जो मैं तुम्हारे छोटे घरेलू मामलों को देखूं. तुम योजना आयोग की सलाह से घर के खर्च चलाउ. इस पर वह लगी योजना आयोग को कोस्ने. उसने कहा कि योजना आयोग वालों से कहो कि वह एक महीने तक चार हज़ार में मेरे घर का खर्च चला कर दिखादें तब मैं मानों गी. खुद तो ये लोग लाखों खर्च करते हैं, बैठकों पर हजारों रुपया खर्च करते हैं और चले हैं मुझे सिखाने. वह खुद क्यों नहीं चार हज़रा में अपने घर का खर्च चलाएँ और बाकी पैसा हम जैसे गरीबों को दे दें. बेगम का रुख योजना आयोग की ओर मोड़ कर मैंने तो सुकून की सांस ली और देश के बड़े मुद्दों पर विचार करने लगा.
यही हाल पूरे हिन्दुस्तान का है, योजना आयोग ने गरीबी का आंकलन करने के लिए स्तर निर्धारित किया है, इसकी कड़ी आलोचना की जा रही है. आलोचकों का कहना है कि इस तरह ज़रूरतमंद लोगों की बहुत बड़ी संख्या सामाजिक भलाई के कार्यक्रमों के लाभ से वंचित हो जाएगी. सरकारी अनुमानों के अनुसार, भारत की एक दशमला दो अरब आबादी का एक तिहाई हिस्सा गरीब है.
योजना आयोग ने सुप्रीम कोर्ट से कहा है कि ग्रामीण क्षेत्र में जो व्यक्ति भोजन, शिक्षा और स्वास्थ्य पर 26 रुपये खर्च करता है जो 781 रुपये मासिक होता है, उसे गरीब नहीं माना जाएगा. शहरी क्षेत्रों के लिए गरीबी की लाइन कुछ ऊँची है यानी 32 रुपये जो 965 रुपये मासिक होता है. यह आंकड़ा गरीबी के लिए विश्व बैंक के निर्धारित एक डॉलर पच्चीस सेंट यानी कि 75 रुपये प्रतिदिन की आय के स्तर से कहीं कम हैं.
योजना आयोग ने जो आर्थिक नीति बनाता है, यह आंकड़ा उस समय निर्धारित किया जब देश की सर्वोच्च अदालत ने कहा कि वह बताए कि उसने गरीबी का स्तर किस आधार पर तय किए हैं. यह आंकड़ा योजना आयोग ने तब दिए जब सुप्रीम कोर्ट ने उससे कहा कि वह बताए के उसने जो आंकड़े दिए हैं वह कैसे सही माने जाएं और उसे वैध ठहराने के लिए योजना आयोग एक हलफनामा दाखिल करे. क्योंकि जो आंकड़ों उसने पहले दिए थे वह किसी भी रूप में उचित नहीं थे. पहले योजना आयोग ने सुप्रीम कोर्ट से कहा था कि ग्रामीण क्षेत्र में 14 रुपये और शहर में 19 रुपये खर्च करने वाले गरीबी की रेखा से ऊपर हैं.
लेकिन कई विशेषज्ञों अर्थशास्त्र और सक्रिय कार्यकर्ताओं ने कहा है कि नए स्तर वास्तविकता के खिलाफ हैं. वह कहते हैं कि नई दिल्ली जैसे शहर में तीस रुपये में एक प्याज, एक आलू, कुछ चावल, एक केला, एक पेंसिल, एक एसपरीन और बस एक टिकट के सिवा और कुछ नहीं ख़रीदा जा सकता.
जैन दरीज़ एक प्रमुख आर्थिक विशेषज्ञ हैं जो भारत में आर्थिक नीति के गठन में भाग लेते रहे हैं. वह कहते हैं ''हम यह तो जानते हैं कि गरीबी की परिभाषा में बहुत कम लोग आते हैं. लेकिन जो कुछ नई और बिल्कुल हैरान करने वाला है वह यह दावा है कि गरीबी का जो पैमाना नियुक्त किया गया है वह भोजन, स्वास्थ्य और शिक्षा के खर्च पूरे करने के लिए काफी है. यह समझ में आने वाली बात नहीं. उसे ग़रीबी रेखा के बजाय भूख की रेखा कहना अधिक उचित होगा.
दूसरी ओर योजना आयोग का कहना है कि उसे ग़रीबी रेखा इस तरह स्थापित करना है कि उन लोगों की मदद हो सके जो सबसे ज़रूरतमंद हैं. सरकार को सामाजिक कल्याण के लिए उपलब्ध सीमित संसाधनों का सर्वश्रेष्ठ इस्तेमाल करना पड़ता है और इसमें बहुत अधिक लोगों को शामिल नहीं किया जा सकता. योजना आयोग की इसी बात से पता चलता है कि वह जो चाहे ग़रीबी रेखा निर्धारित कर ले क्योंकि ऐसा करने से पहले उसे यह देखना होता है कि उसके पास ऐसे लोगों को देने के लिए कितनी राशि है न कि यह कि कितने लोग उसकी मदद के पात्र हैं.
भारत की शानदार आर्थिक विकास के बावजूद करोड़ों लोग अब भी गरीब हैं. कांग्रेस के नेतृत्व में चलने वाली सरकार ने गरीबी कम करने और रोजगार, इलाज चिकित्सक और शिक्षा कार्यक्रमों पर अरबों रुपये खर्च करने की योजना बनाइ हैं. वह एक कानून पारित करना चाहती जिसके तहत गरीबों को सस्ता अनाज प्रदान किया जाएगा. वह कम कीमत ईंधन और खाद की जगह नकद राशि देना चाहती है. लेकिन सामाजिक कार्यकर्ताओं का कहना है कि सरकार ऐसे लोगों की संख्या घटा कर जो सरकार के सामाजिक भलाई के कार्यक्रमों के पात्र हैं, अपना बोझ कम कर रही है. आलोचकों में पटनाईक भी शामिल हैं जो भोजन के अधिकार के बारे में एक सरकारी आयोग के सलाहकार हैं. वे कहते हैं वह इस देश के 70 प्रतिशत लोगों को गरीबी दूर करने के कार्यक्रमों के लाभ से अलग कर रहे हैं. इस तरह सरकार द्वारा मिलने वाली सहायता में कमी आ जाएगी. लेकिन इसका उद्देश्य तो यह है कि गरीबों की संख्या उनकी हालत सुधार नहीं, बल्कि धोखा देकर कम कर दी जाएगी. सरकारी अनुमानों के अनुसार, भारत की एक दशमला दो अरब आबादी में से 32 प्रतिशत या लगभग चालीस करोड़ लोग गरीबी की हालत में जिंदा हैं. लेकिन कई आर्थिक विशेषज्ञों का कहना है कि इन आंकड़ों से एक ऐसे देश में जहां पांच साल से कम उम्र के बच्चों की लगभग आधी संख्या पोषण की कमी का शिकार है, लोगों की महरूमी का सही आंकलन नहीं होता.
सरकार द्वारा निर्धारित राष्ट्रीय सलाहकार परिषद यह कहती रही है कि सामाजिक सहायता सभी नागरिकों को प्रदान की जानी चाहिए क्योंकि देश में ऐसा करने की क्षमता है. आर्थिक माहिर दरीज़ इसके समर्थक हैं. वे कहते हैं कि देश में कुछ राज्यों, जैसे दक्षिण में तमिलनाडु और उत्तर में हिमाचल प्रदेश में इस दिशा में पहले ही बहुत अच्छा काम हो रहा है.
इन मंत्रियों की क्या कहिए जो के आलीशान सरकारी बंगलों में रहते हैं जिनका उनहें कोई किराया भी नहीं देना पड़ता. उनको यह भी नहीं सोचना पड़ता कि आज शाम को घर में चूलहा जले गा भी के नहीं, उन्हें तो केवल एक ही काम है कि वह देश के ग़रीबों के बारे में सोचें और सोचते भी खूब हैं.
कोई मंत्री लख पति से कम नहीं है, तो अधिकांश करोड़पती हैं और काफी मंत्री तो ऐसे हैं जो अरबपति हैं. ऐसा व्यक्ति जिसे इस बात की चिंता न हो कि वह शाम को क्या खाएगा किसी ऐसे व्यक्ति के बारे में कैसे सोच सकती है, जो पेट पर पत्थर बांधकर अपने परिवार के लिए मेहनत मजदूरी करता है.
एक बार चुनाव जीतने और मंत्री बनने के बाद उनको इतनी फुर्सत ही कहाँ रह जाती है के वे गरीब और नादार लोगों की खबर लेने के लिए छोटे गांवों और कस्बों का दौरा कर सकें. उसे साल में शायद एक या दो अवसर ही मिलते हैं जब वह कुछ घंटों के लिए अपने क्षेत्र के मुखय स्थान पर जापाता होगा और वह भी चार्टर्ड उड़ान और एयरकंडीशन कारों से.
दरअसल हमारे देश में ग़रीबी रेखा के आंकड़ों का खेल खेला जा रहा है. और ऐसा लगता है कि यह सब एशिया कोई विकास बैंक या वर्ल्ड बैंक के इशारे पर किया जा रहा है. दरअसल सरकार यह चाहती है कि दुनिया के सामने अपनी स्थिति स्थिर और बेहतर बनाकर पेश करे और ऐसा करने के लिए वह गरीबी की रेखा को नीचा रखने की कोशिश कर रही है.

Sunday, 4 September 2011

راجیو کے ہتیاروں کی پھانسی پر سیاست


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 5th September 2011
عفیف احسن
سچ ہے کے سیاست میں نہ ہی کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن ہوتاہے۔شاید اسی پالیسی کو اپناتے ہوئے کروناندھی نے اب پلٹی ماری ہے اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی دئے جانے کی وکالت کررہے ہیں۔ اس سے ایک بہت ہی مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ یہ وہی کروناندھی ہیں جن کی حکومت نے ان تین قاتلوں کے لئے سن 2000 میں ان کے وزیر اعلی رہتے ہوئے معافی کی سفارش سے انکار کر دیا تھا۔مگر ایک دہائی بعد تمل سیاست میں بہت فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اب کروناندھی اقتدار سے باہر ہیں، ان کی بیٹی اور اے راجا جیل کے اندر ہیں اورا ن کی پارٹی حالیہ انتخابات میں منہ کی کھاچکی ہے، اس لئے شاید ان کو لگتا ہے کہ اسی مدعے کے سہارے وہ تمل ووٹوں کو پھر سے اپنے قبضہ میں کرسکتے ہیں۔ کرونا ندھی کو لگتا ہے کہ تمل ایلم کیخاتمہ کے بعد تمل غم وغصہ کی بنیاد پر ووٹ بھنانے کے خاصے امکانات ہیں۔حالانکہ ڈی ایم کے دہلی میں کانگریس کے ساتھ اقتدار میں ساتھ ہے یہ وہی کانگریس ہے جس کے سربراہ کبھی سونیا گاندھی کے شوہر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ہوا کرتے تھے۔سونیا گاندھی جن کی اجازت کے بغیر پارٹی میں پتہ تک نہیں ہلتا۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو 21 مئی ، 1991 کو شری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ایل ٹی ٹی ای کی ایک خود کش حملہ آور نے ان کے قریب جاکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ سال 1998 میں اسپیشل کورٹ نے مرگن ، سانتھن ، پیرارولن اور مرگن کی بیوی نلنی سمیت اس قتل کے تمام 26 ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔سال 1999 میں سپریم کورٹ نے چاروں کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی ، لیکن دوسرے قصورواروں کی سزا کم کر دی تھی۔ جیل میں ماں بنی نلنی کی رحم کی درخواست پر اس کی موت کی سزا بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی نلنی کو موت کی سزا نہ دینے کی سفارش کی تھی۔ادھر ، راجیو گاندھی کے قتل کے بیس سال بعد مجرم مرگن اور نلنی کی بیٹی ہرتھرا نے اب تامل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا سے اپنے والد مرگن کے لئے رحم کی اپیل کی ہے ۔ہرتھرا نے جے للتا کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس نے مرگن کی جان بخشنے کی اپیل کی ہے۔
ادھرہر طرف یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا راجیو گاندھی کے قاتلوں کو قانون کے مطابق پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے یا پھر رہنماؤں ، وکلاء ، اورہمدردوں کی طرف سے پرزورطورپرپیش کی گئی سزا ٹالنے کی درخواست مان لی جائے۔یہ کہاجارہا ہے کہ کیونکہ ان تین مجرموں نے 20سال سے زیادہ کاعرصہ موت کے انتظارمیں جیل میں گزاردیا ہے اس لئے ان کو معافی دے دینی چاہئے۔
مگر ان تمام دلیلوں کی پشت پر سیاست کارفرما ہے۔کروناندھی محض ہمدردی دکھانے کے لئے قاتلوں کو بچانے کی کوشش میں اگر زمین آسمان کو اس طرح ہلا سکتے ہیں تو تصور کیجئے کہ کسی قاتل دوست کو بچانے کی کوشش میں تو وہ کائنات کو ہی ہلا کر رکھ دیں گے۔ایسا ہرگزنہیں لگتا کہ کروناندھی اصولی طور پر موت کی سزا ختم کرنے کے حامی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو انہوں نے ایسی سزا کے خلاف ماضی میں باقاعدہ مہم چلائی ہوتی۔ ان کی دلچسپی تو صرف راجیو گاندھی کے قاتلوں کو زندہ رکھنے میں ہی ہے۔ اگر ان لیڈروں کوسزائے موت اتنی ہی غیر انسانی لگتی ہے تو انہیں قانون میں تبدیلی کا مادہ رکھنا چاہئے۔
کیونکہ جب تک موجودہ قانون ہے وہ اپنا کام کرے گاچاہے اس کا راستہ تختہ دار تک ہی کیوں نہ جاتا ہو۔ قانون کے تحت کافی سوچ وچار کے بعد دی گئی موت کی سزا جس پر عدالت عظمیٰ نے اپنی مہر لگادی ہوان لوگوں کے لئے بھلا غلط کیسے ہے جنہوں نے ہندوستان کے ایک سابق وزیر اعظم کے قتل کا منصوبہ بنایا اور اسے نافذ کیا وہ بھی محض اس لیے کہ وہ اس کے ایک سیاسی فیصلے سے متفق نہیں تھے۔
لیکن لمبی چوڑی باتیں کرنے والوں میں سے کسی کی بھی یہ دلیل نہیں ہے کہ عدالتی عمل میں کہیں کوئی خامی رہ گئی تھی۔ نہ ہی کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ سزا دینے والے ججوں نے قانون کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جودلائل ان مجرموں کو بچانے کے لئے پیش کئے جارہے ہیں ان کا ایک دوسرا رخ بھی ہے وہ یہ کہ کیونکہ ان قاتلوں کو اب تک بیس سال تک زندہ رہنے کی چھوٹ مل چکی اس لئے بہت ہو چکا اور ایسے لوگوں کو بغیر کوئی دیر کئے ان کے انجام تک پہنچا دیا جانا چاہے۔بیس سال کی سزا کو کافی ماننے والے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کے راجیو گاندھی اگر زندہ ہوتے تو وہ اپنی زندگی کی کتنی دہائیاں اپنے دیش کو دیتے اور اپنے خاندان کو کتنا پیار دے سکتے تھے۔
حالانکہ تینوں قصورواروں کو موت کی سزا دینے پر مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو آٹھ ہفتوں کی روک لگا دی۔یہ مجرم مرگن،ستھم اور پیراریولن فی الحال ویلور جیل میں بند ہیں جن کی رحم کی درخواست کوصدر پرتبھا پاٹل پہلے ہی 11 اگست کو خارج کر چکی تھیں اور انہیں نو ستمبر کو پھانسی پر چڑھایا جانا تھا۔سزا کے عمل پر عبوری پابندی لگاتے ہوئے جسٹس سی ناگپّن اور جسٹس ایم ستیہ نارائن کی بینچ نے پایا کہ قصورواروں نے رحم کے لئے صدر کو جو درخواست دی تھی ، اس کے تصفیے میں 11 سال سے زیادہ تاخیر ہو چکی ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں قانون کا سوال بھی موجود ہے اور مرکزی حکومت ، تمل ناڈو اور ریاست کی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ سزائے موت کے ملتوی کئے جانے کے بعد ہائی کورٹ کے سامنے جس طرح کا جشن منایا گیا ،نعرے بازی ہوئی اور پٹاخے پھوڑے گئے اس کی مثال نہیں ملتی، وہ بھی ایسے قاتلوں کی سزا پر پابندی کے بعد جنہوں نے دیش کی ایک عظیم ہستی اور سابق وزیر اعظم کو قتل کیاہو۔ یہی نہیں تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کی قیادت میں اسمبلی نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا جائے۔
شاید ان سب باتوں سے کھیج کر عمر عبداللہ نے ٹوٹر پر یہ سوال داغ دیا کہ’’ اگرجموں اور کشمیر اسمبلی نے افضل گرو کے لئے تامل ناڈو کی طرزپر ایک قرارداد پاس کردی تو کیا اس پر اتنی ہی خاموشی چھائی رہے گی ؟ میرا خیال ہے نہیں‘‘۔ اس کے بعد اس پر چاروں طرف کہرام برپا ہوگیا اور ہر کوئی عمر عبداللہ پر ٹوٹ پڑا۔وہ لوگ جو تامل ناڈو اسمبلی کی قراردادپر اب تک چپی سادھے ہوئے پڑے تھے عمر عبداللہ کے خلاف زورشور سے بیانات دینے لگے اور ان کو غدار کہنے سے بھی نہیں چوکے۔ حالانکہ عمر عبداللہ نے اپنا سوال ایسے لوگوں کوعریاں کرنے کے لئے ہی دیا تھاجو دومونہی بات کرتے ہیں، اور شاید وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ انہوں نے پھر سوال داغہ کے’’میں یہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوں کے اب شاہ نوازحسین اور دوسرے بی جے پی والے کیا کہتے ہیں۔پنجاب میں تو ان کی اپنی حکومت ہے۔‘‘عمر عبداللہ کااشارہ بھلر کو معافی دئے جانے کی پنجاب کی سفارش کی طرف تھا۔
اگر ان معاملات میں علاقائیت، کی بنیاد پر اسی طرح سیاست ہوتی رہی تو پھر کسی بھی قاتل کو اس کے کیفر کردار تک پہنچاپانا مشکل ہوجائے گا۔ یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے بھلر کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں اتنی دیر ہوئی اور یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے راجیوگاندھی کے قاتلوں کی پھانسی معافی کی درخواست کو اتنے دنوں تک لٹکایا گیا، اور دوسری طرف جموں کشمیر میں امن اورچین کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے افضل گرو کی پھانسی معافی کی درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔مگر پہلے بھلر کی درخواست کو نامنظور کرنا پھر راجیو کے قاتلوں کی درخواست کی نامنظور سے یہ اشارہ ملتاہے کہ افضل گرو کی درخواست کا بھی یہی ہا ل ہوگا۔
Afif Ahsen, BJP, Congress, Daily Pratap, DMK, Jayalalitha, Karunanidhi, Omar Abdullah, Rajiv Gandhi, Sonia Gandhi, Twitter, Vir Arjun,

राजीव के हत्यारों की फांसी पर राजनीति

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 5th September 2011
अफ़ीफ़ अहसन

सच है के राजनीति में न कोई स्थायी दोस्त होता है और न ही कोई स्थायी दुश्मन होता है. शायद इसी नीति को अपनाते हुए करुणानिधि ने अब पलटी मारी है और राजीव गांधी के हत्यारों को माफी दिए जाने की वकालत कर रहे हैं. इससे एक हास्यास्पद स्थिति पैदा हो गई है. क्योंकि यह वही करुणानिधि हैं जिनकी सरकार ने तीन हत्यारों के लिए वर्ष 2000 में उनके मुख्यमंत्री रहते हुए माफी की सिफारिश से इनकार कर दिया था. मगर एक दशक बाद तमिलनाडु राजनीति में बहुत अंतर पैदा हो गया है. अब करुणानिधि सत्ता से बाहर हैं, उनकी बेटी और ए राजा जेल के अंदर हैं उन्की पार्टी हाल के चुनावों में मुंह की खा चुकी है, इसलिए शायद उन्हें लगता है कि इसी मुद्दे के सहारे वह तमिल वोटों को फिर अपने क़ब्ज़े में कर सकते हैं. करुणानिधि को लगता है कि तमिल इलम के खातमे के बाद तमिल आक्रोश के आधार पर वोट भुनाने का बहुत अच्छा अवसर है. हालांकि डीएमके दिल्ली में कांग्रेस के साथ सत्ता में साझेदार है यह वही कांग्रेस है जिसके प्रमुख कभी सोनिया गांधी के पति पूर्व प्रधानमंत्री राजीव गांधी हुआ करते थे. सोनिया गांधी जिनकी अनुमति के बिना पार्टी में पता तक नहीं हिलता.
उल्लेखनीय है कि पूर्व प्रधानमंत्री राजीव गांधी की 21 मई, 1991 को श्री पेरम्बदूर में एक चुनावी रैली के दौरान हत्या कर दी गई. एलटीटीई की एक आत्मघाती हमलावर ने उनके पास जाकर खुद को विस्फोट से उड़ा दिया था. वर्ष 1998 में स्पेशल कोर्ट ने मुरुगन, संथम, पेरारिवलन और मुरुगन की पत्नी नलिनी सहित इस हत्या के सभी 26 आरोपियों को मौत की सज़ा सुनाई थी. वर्ष 1999 में सुप्रीम कोर्ट ने चारों की मौत की सजा बरकरार रखी थी, लेकिन दूसरे दोषियों की सज़ा कम कर दी थी. जेल में मां बनी नलिनी की दया याचिका पर उसकी मौत की सजा बाद में आजीवन कारावास में बदल दी गई थी. सोनिया गांधी ने भी नलिनी को मौत की सजा न देने की सिफारिश की थी. उधर, राजीव गांधी की हत्या के बीस साल बाद दोषी मुरुगन और नलिनी की बेटी हर्थरा ने अब तमिलनाडु की मुख्यमंत्री जयललिता से अपने पिता मुरुगन के लिए दया की अपील की है. हर्थरा ने जयललिता को एक पत्र भेजा है जिसमें उसने मरुगन जान बखश देने की अपील की है.
उधर हर ओर यह बहस छिड़ी हुई है कि क्या राजीव गांधी के हत्यारों को कानून के अनुसार फांसी पर लटका दिया जाना चाहिए या फिर नेताओं, वकीलों, और हमदरदों से ज़ोरदार तोर से पेश किये गये सजा टालने के अनुरोध को मान लिया जाए. यह कहा जारहा है कि क्योंकि इन तीन अपराधियों ने 20 साल से अधिक का समय मौत की प्रतिक्षा में जेल में गुज़ार दिया है इसलिए उन्हें माफी दे देनी चाहिए.
मगर इन सभी तर्कों के पीछे राजनीति है. करुणानिधि केवल सहानुभूति दिखाने के लिए हत्यारों को बचाने की कोशिश में अगर ज़मीन आसमान को इस तरह हिला सकते हैं तो कल्पना कीजिए कि किसी हत्यारे दोस्त को बचाने की कोशिश में तो वह ब्रह्मांड को ही हिलाकर रख देंगे. ऐसा हरगिज़ नहीं लगता कि करुणानिधि सैद्धांतिक तौर पर मौत की सजा समाप्त करने के समर्थक हैं क्योंकि अगर ऐसा होता तो उन्होंने ऐसी सजा के खिलाफ पूर्व में नियमित अभियान चलाया होती. उनकी दिलचस्पी तो राजीव गांधी के हत्यारों को ज़िंदा रखने में ही है. अगर इन नेताओं को सज़ाए मौत उतनी ही अमानवीय लगती है तो उन्हें कानून में बदलाव का माद्दा रखना चाहिए. क्योंकि जब तक मौजूदा कानून है वह अपना काम करे गा चाहे उसका रास्ता मोत के तख्त तक ही क्यों न जाता हो. कानून के तहत काफी सोच विचार के बाद दी गई मौत की सज़ा जिस पर सुप्रीम कोर्ट ने अपनी मुहर लगा दी हु उन लोगों के लिए भला गलत कैसे है जिन्होंने भारतीय पूर्व प्रधानमंत्री की हत्या की योजना बनाई और उसे लागू किया वह भी केवल इसलिए कि वह एक राजनीतिक फैसले से सहमत नहीं थे.
लेकिन लंबी चौड़ी बातें करने वाले किसी की भी यह दलील नहीं है कि न्यायिक प्रक्रिया में कहीं कोई त्रुटि रह गई थी. न ही कोई यह कह सकता है कि सज़ा देने वाले जजों ने कानून की सीमाओं का उल्लंघन किया है. जो दलीलें इन अपराधियों को बचाने के लिए पेश की जारही हैं उनका दूसरा रुख भी है वह यह कि क्योंकि हत्यारों को अब तक बीस साल तक जीवित रहने की छूट मिल चुकी इसलिए बहुत हो चुका और ऐसे लोगों को बिना कोई देर किए उनके अंजाम तक पहुंचा दिया जाना चाहिए. बीस साल की सजा को काफी मानने वाले यह कैसे भूल जाते हैं के राजीव गांधी अगर जीवित होते तो वह अपने जीवन की कितनी दहाईयॅा अपने देश को देते और अपने परिवार को कितना प्यार दे सकते थे.
हालांकि तीनों दोषियों को मौत की सज़ा देने पर मद्रास हाईकोर्ट ने मंगलवार को आठ सप्ताह की रोक लगा दी. यह अपराधी मुरुगन, संथम और पेरारिवलन फिलहाल वेल्लोर जेल में बंद हैं जिनकी दया की याचिका को राष्ट्रपति प्रतिभा पाटिल पहले ही 11 अगस्त को नकार चुकी थीं और उन्हें नौ सितंबर को फांसी पर चढ़ाया जाना था. सज़ा प्रक्रिया पर अंतरिम रोक लगाते हुए जस्टिस सी नागप्पन और जस्टिस एम सत्यनारायण की खंडपीठ ने पाया कि दोषियों ने दया के लिए राष्ट्रपति को जो आवेदन किया था, उसके निपटारे में 11 साल से अधिक की देरी हो चुकी है. अदालत ने कहा कि इस मामले में कानून का सवाल भी मौजूद है और केंद्र सरकार, तमिलनाडु और राज्य की पुलिस को नोटिस जारी किया. मौत के स्थगित किए जाने के बाद हाई कोर्ट के बाहर जिस तरह का जश्न मनाया गया, नारेबाजी हुई और पटाखे फोड़े गए उसकी मिसाल नहीं मिलती, वह भी ऐसे कातिलों की सजा पर रोक के बाद जिन्होंने देश की एक महान हसती और पूर्व प्रधानमंत्री की हत्या कि हो. यही नहीं तमिलनाडु की मुख्यमंत्री जयललिता के नेतृत्व में विधानसभा ने एक प्रस्ताव पारित करके कहा कि सजा को आजीवन कारावास में बदल दिया जाए.
शायद इन सब बातों से खीज कर उमर अब्दुल्ला ने ट्विटर पर सवाल दाग दिया कि “अगर जम्मू और कश्मीर विधानसभा ने अफ़ज़ल गुरु के लिए तमिलनाडु की तरज़ पर एक प्रस्ताव पास कर दिया तो क्या उस पर उतनी ही खामोशी छाई रहेगी? मुझे लगता है नहीं.” इसके बाद उस पर चारों ओर कोहराम बरपा हो गया और हर कोई उमर अब्दुल्ला पर टूट पड़ा. जो तमिलनाडु विधानसभा के प्रस्ताव पर अब तक चुप्पी साधे हुए पड़े थे उमर अब्दुल्ला के खिलाफ ज़ोरशोर से बयान देने लगे और उन्हें गद्दार कहने से भी नहीं चूके. हालांकि उमर अब्दुल्ला ने अपना सवाल ऐसे लोगों को नंगा करने के लिए ही दिया था जो दोमूंही बात करते हैं, और शायद वह उसमें कामयाब भी रहे. उन्होंने फिर सवाल दागह कि “मैं यह देखने के लिए बेचैन हूँ के अब शाहनवाज़ हुसेन और दूसरे भाजपा वाले क्या कहते हैं. पंजाब में तो उनकी अपनी सरकार है.” उमर अब्दुल्ला का इशारा भुल्लर को माफी दिए जाने की पंजाब की सिफारिश की ओर था. अगर इन मामलों में क्षे‍त्रयता के आधार पर इसी तरह राजनीति होती रही तो किसी भी कातिल को उसके अंजाम तक पहुँचापाना मुश्किल हो जाएगा. यह राजनीति ही थी जिसकी वजह से भुल्लर के मामले में फैसला करने में इतनी देर हुई और यह राजनीति ही थी जिसकी वजह से राजीव के हत्यारों की फांसी माफी का अनुरोध इतने दिनों तक लटका गया, और दूसरी तरफ जम्मू कश्मीर में शांति का खतरा बता कर इसकी वजह से अफ़ज़ल गुरु की फांसी माफी की याचिका पर अभी तक कोई कार्रवाई नहीं हुइ. मगर पहले भुल्लर की याचिका को अस्वीकार करना फिर राजीव के हत्यारों की अपील की अस्वीकृति से यह संकेत मिलता है कि अफ़ज़ल गुरु के अनुरोध का भी यही हाल होगा.
 Afif Ahsen, BJP, Congress, Daily Pratap, DMK, Jayalalitha, Karunanidhi, Omar Abdullah, Rajiv Gandhi, Sonia Gandhi, Twitter, Vir Arjun,