![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 5th September 2011
عفیف احسن
سچ ہے کے سیاست میں نہ ہی کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن ہوتاہے۔شاید اسی پالیسی کو اپناتے ہوئے کروناندھی نے اب پلٹی ماری ہے اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی دئے جانے کی وکالت کررہے ہیں۔ اس سے ایک بہت ہی مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ یہ وہی کروناندھی ہیں جن کی حکومت نے ان تین قاتلوں کے لئے سن 2000 میں ان کے وزیر اعلی رہتے ہوئے معافی کی سفارش سے انکار کر دیا تھا۔مگر ایک دہائی بعد تمل سیاست میں بہت فرق پیدا ہوگیا ہے۔ اب کروناندھی اقتدار سے باہر ہیں، ان کی بیٹی اور اے راجا جیل کے اندر ہیں اورا ن کی پارٹی حالیہ انتخابات میں منہ کی کھاچکی ہے، اس لئے شاید ان کو لگتا ہے کہ اسی مدعے کے سہارے وہ تمل ووٹوں کو پھر سے اپنے قبضہ میں کرسکتے ہیں۔ کرونا ندھی کو لگتا ہے کہ تمل ایلم کیخاتمہ کے بعد تمل غم وغصہ کی بنیاد پر ووٹ بھنانے کے خاصے امکانات ہیں۔حالانکہ ڈی ایم کے دہلی میں کانگریس کے ساتھ اقتدار میں ساتھ ہے یہ وہی کانگریس ہے جس کے سربراہ کبھی سونیا گاندھی کے شوہر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ہوا کرتے تھے۔سونیا گاندھی جن کی اجازت کے بغیر پارٹی میں پتہ تک نہیں ہلتا۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو 21 مئی ، 1991 کو شری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ایل ٹی ٹی ای کی ایک خود کش حملہ آور نے ان کے قریب جاکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ سال 1998 میں اسپیشل کورٹ نے مرگن ، سانتھن ، پیرارولن اور مرگن کی بیوی نلنی سمیت اس قتل کے تمام 26 ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔سال 1999 میں سپریم کورٹ نے چاروں کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی ، لیکن دوسرے قصورواروں کی سزا کم کر دی تھی۔ جیل میں ماں بنی نلنی کی رحم کی درخواست پر اس کی موت کی سزا بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی نلنی کو موت کی سزا نہ دینے کی سفارش کی تھی۔ادھر ، راجیو گاندھی کے قتل کے بیس سال بعد مجرم مرگن اور نلنی کی بیٹی ہرتھرا نے اب تامل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا سے اپنے والد مرگن کے لئے رحم کی اپیل کی ہے ۔ہرتھرا نے جے للتا کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس نے مرگن کی جان بخشنے کی اپیل کی ہے۔
ادھرہر طرف یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا راجیو گاندھی کے قاتلوں کو قانون کے مطابق پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے یا پھر رہنماؤں ، وکلاء ، اورہمدردوں کی طرف سے پرزورطورپرپیش کی گئی سزا ٹالنے کی درخواست مان لی جائے۔یہ کہاجارہا ہے کہ کیونکہ ان تین مجرموں نے 20سال سے زیادہ کاعرصہ موت کے انتظارمیں جیل میں گزاردیا ہے اس لئے ان کو معافی دے دینی چاہئے۔
مگر ان تمام دلیلوں کی پشت پر سیاست کارفرما ہے۔کروناندھی محض ہمدردی دکھانے کے لئے قاتلوں کو بچانے کی کوشش میں اگر زمین آسمان کو اس طرح ہلا سکتے ہیں تو تصور کیجئے کہ کسی قاتل دوست کو بچانے کی کوشش میں تو وہ کائنات کو ہی ہلا کر رکھ دیں گے۔ایسا ہرگزنہیں لگتا کہ کروناندھی اصولی طور پر موت کی سزا ختم کرنے کے حامی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو انہوں نے ایسی سزا کے خلاف ماضی میں باقاعدہ مہم چلائی ہوتی۔ ان کی دلچسپی تو صرف راجیو گاندھی کے قاتلوں کو زندہ رکھنے میں ہی ہے۔ اگر ان لیڈروں کوسزائے موت اتنی ہی غیر انسانی لگتی ہے تو انہیں قانون میں تبدیلی کا مادہ رکھنا چاہئے۔
کیونکہ جب تک موجودہ قانون ہے وہ اپنا کام کرے گاچاہے اس کا راستہ تختہ دار تک ہی کیوں نہ جاتا ہو۔ قانون کے تحت کافی سوچ وچار کے بعد دی گئی موت کی سزا جس پر عدالت عظمیٰ نے اپنی مہر لگادی ہوان لوگوں کے لئے بھلا غلط کیسے ہے جنہوں نے ہندوستان کے ایک سابق وزیر اعظم کے قتل کا منصوبہ بنایا اور اسے نافذ کیا وہ بھی محض اس لیے کہ وہ اس کے ایک سیاسی فیصلے سے متفق نہیں تھے۔
لیکن لمبی چوڑی باتیں کرنے والوں میں سے کسی کی بھی یہ دلیل نہیں ہے کہ عدالتی عمل میں کہیں کوئی خامی رہ گئی تھی۔ نہ ہی کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ سزا دینے والے ججوں نے قانون کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جودلائل ان مجرموں کو بچانے کے لئے پیش کئے جارہے ہیں ان کا ایک دوسرا رخ بھی ہے وہ یہ کہ کیونکہ ان قاتلوں کو اب تک بیس سال تک زندہ رہنے کی چھوٹ مل چکی اس لئے بہت ہو چکا اور ایسے لوگوں کو بغیر کوئی دیر کئے ان کے انجام تک پہنچا دیا جانا چاہے۔بیس سال کی سزا کو کافی ماننے والے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کے راجیو گاندھی اگر زندہ ہوتے تو وہ اپنی زندگی کی کتنی دہائیاں اپنے دیش کو دیتے اور اپنے خاندان کو کتنا پیار دے سکتے تھے۔
حالانکہ تینوں قصورواروں کو موت کی سزا دینے پر مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو آٹھ ہفتوں کی روک لگا دی۔یہ مجرم مرگن،ستھم اور پیراریولن فی الحال ویلور جیل میں بند ہیں جن کی رحم کی درخواست کوصدر پرتبھا پاٹل پہلے ہی 11 اگست کو خارج کر چکی تھیں اور انہیں نو ستمبر کو پھانسی پر چڑھایا جانا تھا۔سزا کے عمل پر عبوری پابندی لگاتے ہوئے جسٹس سی ناگپّن اور جسٹس ایم ستیہ نارائن کی بینچ نے پایا کہ قصورواروں نے رحم کے لئے صدر کو جو درخواست دی تھی ، اس کے تصفیے میں 11 سال سے زیادہ تاخیر ہو چکی ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں قانون کا سوال بھی موجود ہے اور مرکزی حکومت ، تمل ناڈو اور ریاست کی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ سزائے موت کے ملتوی کئے جانے کے بعد ہائی کورٹ کے سامنے جس طرح کا جشن منایا گیا ،نعرے بازی ہوئی اور پٹاخے پھوڑے گئے اس کی مثال نہیں ملتی، وہ بھی ایسے قاتلوں کی سزا پر پابندی کے بعد جنہوں نے دیش کی ایک عظیم ہستی اور سابق وزیر اعظم کو قتل کیاہو۔ یہی نہیں تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کی قیادت میں اسمبلی نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا جائے۔
شاید ان سب باتوں سے کھیج کر عمر عبداللہ نے ٹوٹر پر یہ سوال داغ دیا کہ’’ اگرجموں اور کشمیر اسمبلی نے افضل گرو کے لئے تامل ناڈو کی طرزپر ایک قرارداد پاس کردی تو کیا اس پر اتنی ہی خاموشی چھائی رہے گی ؟ میرا خیال ہے نہیں‘‘۔ اس کے بعد اس پر چاروں طرف کہرام برپا ہوگیا اور ہر کوئی عمر عبداللہ پر ٹوٹ پڑا۔وہ لوگ جو تامل ناڈو اسمبلی کی قراردادپر اب تک چپی سادھے ہوئے پڑے تھے عمر عبداللہ کے خلاف زورشور سے بیانات دینے لگے اور ان کو غدار کہنے سے بھی نہیں چوکے۔ حالانکہ عمر عبداللہ نے اپنا سوال ایسے لوگوں کوعریاں کرنے کے لئے ہی دیا تھاجو دومونہی بات کرتے ہیں، اور شاید وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ انہوں نے پھر سوال داغہ کے’’میں یہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوں کے اب شاہ نوازحسین اور دوسرے بی جے پی والے کیا کہتے ہیں۔پنجاب میں تو ان کی اپنی حکومت ہے۔‘‘عمر عبداللہ کااشارہ بھلر کو معافی دئے جانے کی پنجاب کی سفارش کی طرف تھا۔
اگر ان معاملات میں علاقائیت، کی بنیاد پر اسی طرح سیاست ہوتی رہی تو پھر کسی بھی قاتل کو اس کے کیفر کردار تک پہنچاپانا مشکل ہوجائے گا۔ یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے بھلر کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں اتنی دیر ہوئی اور یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے راجیوگاندھی کے قاتلوں کی پھانسی معافی کی درخواست کو اتنے دنوں تک لٹکایا گیا، اور دوسری طرف جموں کشمیر میں امن اورچین کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے افضل گرو کی پھانسی معافی کی درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔مگر پہلے بھلر کی درخواست کو نامنظور کرنا پھر راجیو کے قاتلوں کی درخواست کی نامنظور سے یہ اشارہ ملتاہے کہ افضل گرو کی درخواست کا بھی یہی ہا ل ہوگا۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو 21 مئی ، 1991 کو شری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ایل ٹی ٹی ای کی ایک خود کش حملہ آور نے ان کے قریب جاکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ سال 1998 میں اسپیشل کورٹ نے مرگن ، سانتھن ، پیرارولن اور مرگن کی بیوی نلنی سمیت اس قتل کے تمام 26 ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی۔سال 1999 میں سپریم کورٹ نے چاروں کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی ، لیکن دوسرے قصورواروں کی سزا کم کر دی تھی۔ جیل میں ماں بنی نلنی کی رحم کی درخواست پر اس کی موت کی سزا بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی نلنی کو موت کی سزا نہ دینے کی سفارش کی تھی۔ادھر ، راجیو گاندھی کے قتل کے بیس سال بعد مجرم مرگن اور نلنی کی بیٹی ہرتھرا نے اب تامل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا سے اپنے والد مرگن کے لئے رحم کی اپیل کی ہے ۔ہرتھرا نے جے للتا کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس نے مرگن کی جان بخشنے کی اپیل کی ہے۔
ادھرہر طرف یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا راجیو گاندھی کے قاتلوں کو قانون کے مطابق پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے یا پھر رہنماؤں ، وکلاء ، اورہمدردوں کی طرف سے پرزورطورپرپیش کی گئی سزا ٹالنے کی درخواست مان لی جائے۔یہ کہاجارہا ہے کہ کیونکہ ان تین مجرموں نے 20سال سے زیادہ کاعرصہ موت کے انتظارمیں جیل میں گزاردیا ہے اس لئے ان کو معافی دے دینی چاہئے۔
مگر ان تمام دلیلوں کی پشت پر سیاست کارفرما ہے۔کروناندھی محض ہمدردی دکھانے کے لئے قاتلوں کو بچانے کی کوشش میں اگر زمین آسمان کو اس طرح ہلا سکتے ہیں تو تصور کیجئے کہ کسی قاتل دوست کو بچانے کی کوشش میں تو وہ کائنات کو ہی ہلا کر رکھ دیں گے۔ایسا ہرگزنہیں لگتا کہ کروناندھی اصولی طور پر موت کی سزا ختم کرنے کے حامی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو انہوں نے ایسی سزا کے خلاف ماضی میں باقاعدہ مہم چلائی ہوتی۔ ان کی دلچسپی تو صرف راجیو گاندھی کے قاتلوں کو زندہ رکھنے میں ہی ہے۔ اگر ان لیڈروں کوسزائے موت اتنی ہی غیر انسانی لگتی ہے تو انہیں قانون میں تبدیلی کا مادہ رکھنا چاہئے۔
کیونکہ جب تک موجودہ قانون ہے وہ اپنا کام کرے گاچاہے اس کا راستہ تختہ دار تک ہی کیوں نہ جاتا ہو۔ قانون کے تحت کافی سوچ وچار کے بعد دی گئی موت کی سزا جس پر عدالت عظمیٰ نے اپنی مہر لگادی ہوان لوگوں کے لئے بھلا غلط کیسے ہے جنہوں نے ہندوستان کے ایک سابق وزیر اعظم کے قتل کا منصوبہ بنایا اور اسے نافذ کیا وہ بھی محض اس لیے کہ وہ اس کے ایک سیاسی فیصلے سے متفق نہیں تھے۔
لیکن لمبی چوڑی باتیں کرنے والوں میں سے کسی کی بھی یہ دلیل نہیں ہے کہ عدالتی عمل میں کہیں کوئی خامی رہ گئی تھی۔ نہ ہی کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ سزا دینے والے ججوں نے قانون کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جودلائل ان مجرموں کو بچانے کے لئے پیش کئے جارہے ہیں ان کا ایک دوسرا رخ بھی ہے وہ یہ کہ کیونکہ ان قاتلوں کو اب تک بیس سال تک زندہ رہنے کی چھوٹ مل چکی اس لئے بہت ہو چکا اور ایسے لوگوں کو بغیر کوئی دیر کئے ان کے انجام تک پہنچا دیا جانا چاہے۔بیس سال کی سزا کو کافی ماننے والے یہ کیسے بھول جاتے ہیں کے راجیو گاندھی اگر زندہ ہوتے تو وہ اپنی زندگی کی کتنی دہائیاں اپنے دیش کو دیتے اور اپنے خاندان کو کتنا پیار دے سکتے تھے۔
حالانکہ تینوں قصورواروں کو موت کی سزا دینے پر مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو آٹھ ہفتوں کی روک لگا دی۔یہ مجرم مرگن،ستھم اور پیراریولن فی الحال ویلور جیل میں بند ہیں جن کی رحم کی درخواست کوصدر پرتبھا پاٹل پہلے ہی 11 اگست کو خارج کر چکی تھیں اور انہیں نو ستمبر کو پھانسی پر چڑھایا جانا تھا۔سزا کے عمل پر عبوری پابندی لگاتے ہوئے جسٹس سی ناگپّن اور جسٹس ایم ستیہ نارائن کی بینچ نے پایا کہ قصورواروں نے رحم کے لئے صدر کو جو درخواست دی تھی ، اس کے تصفیے میں 11 سال سے زیادہ تاخیر ہو چکی ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں قانون کا سوال بھی موجود ہے اور مرکزی حکومت ، تمل ناڈو اور ریاست کی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ سزائے موت کے ملتوی کئے جانے کے بعد ہائی کورٹ کے سامنے جس طرح کا جشن منایا گیا ،نعرے بازی ہوئی اور پٹاخے پھوڑے گئے اس کی مثال نہیں ملتی، وہ بھی ایسے قاتلوں کی سزا پر پابندی کے بعد جنہوں نے دیش کی ایک عظیم ہستی اور سابق وزیر اعظم کو قتل کیاہو۔ یہی نہیں تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کی قیادت میں اسمبلی نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے کہا کہ سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا جائے۔
شاید ان سب باتوں سے کھیج کر عمر عبداللہ نے ٹوٹر پر یہ سوال داغ دیا کہ’’ اگرجموں اور کشمیر اسمبلی نے افضل گرو کے لئے تامل ناڈو کی طرزپر ایک قرارداد پاس کردی تو کیا اس پر اتنی ہی خاموشی چھائی رہے گی ؟ میرا خیال ہے نہیں‘‘۔ اس کے بعد اس پر چاروں طرف کہرام برپا ہوگیا اور ہر کوئی عمر عبداللہ پر ٹوٹ پڑا۔وہ لوگ جو تامل ناڈو اسمبلی کی قراردادپر اب تک چپی سادھے ہوئے پڑے تھے عمر عبداللہ کے خلاف زورشور سے بیانات دینے لگے اور ان کو غدار کہنے سے بھی نہیں چوکے۔ حالانکہ عمر عبداللہ نے اپنا سوال ایسے لوگوں کوعریاں کرنے کے لئے ہی دیا تھاجو دومونہی بات کرتے ہیں، اور شاید وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ انہوں نے پھر سوال داغہ کے’’میں یہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوں کے اب شاہ نوازحسین اور دوسرے بی جے پی والے کیا کہتے ہیں۔پنجاب میں تو ان کی اپنی حکومت ہے۔‘‘عمر عبداللہ کااشارہ بھلر کو معافی دئے جانے کی پنجاب کی سفارش کی طرف تھا۔
اگر ان معاملات میں علاقائیت، کی بنیاد پر اسی طرح سیاست ہوتی رہی تو پھر کسی بھی قاتل کو اس کے کیفر کردار تک پہنچاپانا مشکل ہوجائے گا۔ یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے بھلر کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں اتنی دیر ہوئی اور یہ سیاست ہی تھی جس کی وجہ سے راجیوگاندھی کے قاتلوں کی پھانسی معافی کی درخواست کو اتنے دنوں تک لٹکایا گیا، اور دوسری طرف جموں کشمیر میں امن اورچین کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے افضل گرو کی پھانسی معافی کی درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔مگر پہلے بھلر کی درخواست کو نامنظور کرنا پھر راجیو کے قاتلوں کی درخواست کی نامنظور سے یہ اشارہ ملتاہے کہ افضل گرو کی درخواست کا بھی یہی ہا ل ہوگا۔

Gostei! boa!
ReplyDelete