Search

Tuesday, 27 December 2011

کیا مذہب ریزرویشن کی بنیاد ہوسکتا ہے؟


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 27th December 2011
عفیف احسن
مذہب ریزرویشن کی بنیاد نہیں ہو سکتا،تو پھر ریزرویشن کس بنیاد پر مانگا یا دیا جاسکتا ہے۔اس سوال کا قدرتی جواب یہ ہوگا کہ ریزرویشن کا حقدارنہ تو کوئی خاص طبقہ،نہ ہی کوئی خاص فرقہ اور نہ ہی کوئی مخصوص مذہبی یا لسانی اقلیت ہوسکتی ہے۔ریزرویشن تو صرف معاشی پچھڑے پن کی بنیاد پر دیا جانا چاہئے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کے ملک میں ریزرویشن کی شروعات کب ، کیسے اورکیو ں ہوئی۔ عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں ریزرویشن ڈاکڑ امبیڈکر اور کانگریس نے شروع کیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔دراصل ہندوستان میں ریزرویشن کی بنیاد انگریزوں نے ڈالی۔ریزرویشن کی پالیسی کی شروعات مدراس اور میسور پریسیڈنسیوں سرکاری نوکریوں میں برہمنوں کے غلبہ کے خلاف غیر برہمنوں کے احتجاج کے بعد ہوئی۔ برہمنوں نے اس کے خلاف کوئی سخت مزاحمت نہیں کی۔ اور ان علاقوں کو ہجرت کر گئے جہاں خوشحال کے مواقع میسر تھے۔
میسورپریسیڈنسی نے 1874 سے ہی غیر رسمی طور پر اپنی ریزرویشن پالیسی تیار کررکھی تھی۔ اسکی حکومت نے (1874 اور 1885 کے درمیان) برہمنوں کے لئے درمیانی اور نچلی سطح پر 20 فیصد اور باقی 80 فیصد نوکریاں دوسروں کے لئے ریزرو کیں۔ 1881 سے 1910 کے دوران ملازمتوں کے مطالبہ کی حوصلہ افزائی’’ماٹی کے لال‘‘ تحریک کے نتیجے میں ہوئی ۔
اس عملمیں برطانوی حکومت کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1858 میں چارج لینے کے بعد تیزی آئی۔ 1858 میں برطانوی حکومت نے ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی پالیسی اپنا ئی۔ اس پر عمل درآمد کے لئے انگریزوں سے جو بھی بن سکتا تھا انہوں نے کیا تاکہ تمام ہندوستانیوں کے اندر انگریزوں کے خلاف اتحادنہ پنپ سکے اور انگریز بلا کسی روک ٹوک کے ملک پر حکمرانی کرتے رہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک برطانوی سفیر یوٹس جے کٹس نے 1881 کی مردم شماری میں پچھڑی ذات اور قبائل کی پہچان کی۔ جس کا مقصد انہیں مقامی اور صوبائی سطح پر مالی مدددینا اور تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دینا تھا۔شاید اسی وجہ سے 1905 سے 1940 کے دوران ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی برطانوی پالیسی بہت زور شور سے پھلی پھولی۔اسی دور میں ریزرویشن کو جامع شکل ملی۔
کیونکہ ہمارے ملک میں وصائل محدود ہیں، جو کبھی آبادی کے تناسب میں میئسر نہیں رہے ، ہمارا ملک بیروزگار تو پیدا کرتارہا مگر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرپایا۔ تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس کورس میں ایپلائی کرنے کے لئے کم ازکم تعلیمی لیاقت 45 فیصد ہو تی ہے اس میں 98سے100فیصد نمبرلانے والوں ہی کو داخلہ مل پاتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہہیکہ باقی طالب علم نا اہل ہیں؟ایسا ہرگز نہیں۔ ہر 45فیصد نمبر حاصل کرنے والا اس کا ا ہل ہے ۔
اس کا ایک سبب یہ ہے کہ سرکارضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے نہیں بنا پارہی ہے۔ اور اس کے لئے ذمہ دار محدود وسائل کاٹھہرایا جاتا ہے۔صرف نجی شعبہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔جس کے پاس حاصل کرنے کے ذرائیوں کی کوئی کمی نہی ہے۔لیکن کیونکہ ہمارے ملک میں تعلیم میں اب بھی کوٹہ سسٹم اور لائسنس راج نافذ ہے، جس کی وجہ سے لائسنس جاری کرنے والی ایجنسیوں کو من مانی رشوت وصول کرنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ یہ رشوت منسٹر سے لیکر کلرک تک لی جاتی ہے۔شرائط ایسی لگائی جاتی ہیں کہ ان کو پورا کرناجوئے شیر لانے جیسا ہوتا ہے۔ اگر کسی طرح کوئی یونیورسٹی بن بھی جائے تو بعد میں اس کی منظوری کالعدم قرار دے دی جاتی ہے اور طالب علموں کو بیچ مجدھار میں چھوڑ دیا جاتاہے۔
ہمیں یہ تومنظور ہے کہ ہمارے بچے بیرون ملکی تعلیمی اداروں میں جاکر تعلیم حاصل کریں اور ملک کا لاکھو کروڑوں کا زرمبادلہ باہرچلا جائے مگر ان غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کو اس بات پر رازی کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا جس سے کہ وہ اندرون ملک اپنی شاخیں کھولیں اور اس کے لئے ان کو لبھانے کی ضرورت کو بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ایسا کیا گیا توایک تو بیروں ملک کے مقابلے تعلیم کم خرچ ہوگی اور دوسرے تعلیم کے معیا ر میں اضافہ ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کے انگریزوں کے ذریعہ شروع کیا گیا ریزرویشن بے بنیاد تھا ، دراصل ہوا یہ کے کچھ لوگوں نے اپنی طاقت اور پہنچ کی بنیاد پر نوکریوں اور سہولتوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ذات پات کی بنیاد پر ایک معاشرہ تشکی کیا ۔ جس میں یہ کہا گیا کہ راجہ کا بیٹا راجا، وزیر کا بیٹا وزیر، درباری کا بیٹا درباری، سپاہی کا بیٹا سپاہی ، اور اس طرح ہر دوسری ذیلی ذات کے لوگ بھی وہی کام کرتے رہیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ یعنی دھوبی کا بیٹا دھوبی، نائی کا بیٹا نائی، تیلی کا بیٹا تیلی،بھشتی کا بیٹا بھشتی، جلاہے کا بیٹا جلاہا،کسان کابیٹا کسان، جوتیاں گاٹھنے والے کا بیٹا جوتی گانٹھنے والاوغیرہ وغیرہ۔ یہ سماج میں خود غرضی کی ایک انتہاء تھی اور اس نے اجارہ داری کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح ایک خاص طبقہ ہمیشہ دبا اورکچلا رہا ، حالانکہ یہ اکثریت میں تھا۔اگر کسی ملک میں برسوں تک کسی خاص طبقہ، فرقہ یا گروپ کا استحصال کیا جائے گا تو وہ قدرتی طور پربغاوت پر آمادہ ہوجائے گا۔
جس طرح کچھ لوگو ں کو اچھوت بتاکرصدیوں تک اعلیٰ شاہی منصبوں سے دور رکھا گیا اور بعد میں ان لوگ کو ہریجن کہا گیا اور پھر وہی لوگ شیڈیولڈ کاسٹ کہلائے اسی طرح آزادی کے بعد مسلمانوں کو بھی طرح طرح سے پریشان کیا گیا اوراسے بھی اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ اب اس کو مائنارٹی کہا جارہا ہے۔ اس مائنارٹی میں بے شک مسلمان شامل ہیں مگر اس میں سکھ، عیسائی ،بودھ اور جینی بھی شامل ہیں۔ اس لئے اگر مائنارٹی کو کوئی بھی ریزرویشن دیا جاتا ہے تو وہ مذہب کی بنیاد پر دیا گیا نہیں مانا جاسکتا۔ کیونکہ دیش میں جس کسی کو بھی کوئی ریزرویشن ملے گا یاملا ہوا ہے اسکا اپنا کوئی ذاتی مذہب ضرور ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہے کے جن لوگوں کو شیڈول کاسٹ کے تحت ریزرویشن ملتا ہے وہ لامذہب ہیں۔یا لامذہبیت ریزرویشن کی بنیادہے۔ہا ں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی شیڈول کاسٹ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی (نیوکرسچن)یا اسلام مذہب اختیار کرلے (نیو مسلم)تو اس کو ریزرویشن حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی کہ ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہ دینے کی بات صرف شیڈیول کاسٹ کے لئے ہے اور یہ کسی اور قانون میں نہیں ہے کہ باقی کسی اورطبقہ ، فرقہ ، یا جماعت کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے روکا جاسکتا ہے۔
ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک بار بھی کسی بھی قسم کا ریزرویشن مل گیا تو اس کو اور اس کے بال بچوں کومستقبل میں ریزرویشن کا کوئی حق نہیں رہ جاناچاہئے کیونکہ جس طرح ہمارے ملک کے وسائل محدود ہیں اسی طرح ریزرویشن کی سیٹیں بھی محدود ہیں۔اور اس پر ایک ہی خاندان کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے نہیں تو ایک نیا پچھڑا طبقہ ابھر کے سامنے آجائے گا ۔ آج جو اوپر ہیں وہ کل نیچے ہو جائیں گے۔ ایک جوتی گانٹھنے والے کا لڑکاجب آئی اے ایس افسر بن جاتا ہے تو وہ جوتی گانٹھنے والا نہیں رہ جاتابلکہ اسکا شمار دیش کے اعلیٰ افسران میں ہوتا ہے اور وہ شیڈیول کاسٹ سے نکل کر ایک نئی کاسٹ میں شامل ہوجاتا ہے جوکہ ہے نوکر شاہوں کی ،مگر کیونکہ اب وہ طاقت ور ہے اس لئے وہ خود کو شیدیول کاسٹ میں بنائے رکھتا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس کافائدہ دلاتا رہتا ہے جوشیڈیول کاسٹ کے دوسرے کمزور لوگوں کی قیمت پر ہوتا ہے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آج تک ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔اسی طرح اگر ایک نائی کو ، تیلی کو، دھوبی کو، بھشتی کو، جس دن بھی ریزرویشن مل گیا وہ اس دن سے نائی، تیلی، دھوبی، بھشتی کے زمرے سے باہر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس کی آنے والی نسلیں ریزویشن سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔
مسلمانوں کو دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں دیا جانے والا ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کچھ نیا نہیں ہے۔یہ مانگ بھی ٹھیک اسی طرح کی ہے جس طرح کی مانگ گوجر ریزرویشن کے لئے کی جارہی ہے۔ کیونکہ گوجر دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور بہت پچھڑے ہونے کی سبب اور دوسری جاتیوں کی اجارہ داری کی سبب وہ ریزرویشن کا فائدہ نہیں حاصل کرپاتے ،اس لئے وہ اپنی جاتی کے لئے الگ سے ریزرویشن چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی جب تک کے ستّائیس فیصد میں ہی ان کی آبادی کے تناسب سے ان کوریزرویشن دیا جائے ، مگر الگ سے ان کو ریزرویشن دینا ابھی ممکن نہیں لگتا۔اسی طرح کی مانگ مسلمان دیگر پسماندہ ذاتوں کی بھی ہے، وہ کہتے ہیں کے دوسری ذاتیں ان کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں لینے دیتیں اس لئے ریزرویشن میں سے مسلم اوبی سی کو ان کے تناسب کے اعتبار سے حصہ مختص کیاجائے۔ ایسا ہی مرکزی حکومت نے کیا ہے۔ اس لئے یہ قطعی نہیں سمجھنا چاہئے کے مسلمانوں کو کوئی نیاریزرویشن مل گیا ہے، یا یہ کہ کانگریس نے ان پر کوئی بہت بڑا احسان کردیا ہے بلکہ یہ توانہیں پہلے سے ہی مل رہا تھا کانگریس نے تو صرف اس کو یقینی بنانے کا کام کیا ہے۔
Afif Ahsen, Ambedkar, Backward Classes, Britain, Congress, Daily Pratap, Muslim Reservation, Reservation, Scheduled Caste, Vir Arjun,

क्या धर्म आरक्षण का आधार होसकता है?


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 27th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
धर्म आरक्षण का आधार नहीं हो सकता, तो फिर आरक्षण किस आधार पर मांगा या दिया जा सकता है. इस सवाल का प्राकृतिक जवाब यह होगा कि आरक्षण का हकदार ना तो कोई खास वर्ग, न ही कोई खास समुदाय और न ही कोई विशेष धार्मिक या भाषाई अल्पसंख्यक हो सकता है. आरक्षण तो आर्थिक पिछड़े पन के आधार पर दिया जाना चाहिए.
इस मामले को समझने के लिए हमें पहले यह जानना चाहिए की देश में आरक्षण की शुरुआत कब, कैसे और क्यों हुई. आम विचार है कि हिंदुस्तान में आरक्षण डॉ. अंबेडकर और कांग्रेस ने शुरू किया. तथ्य इसके बिल्कुल विपरीत है. दरअसल हिंदुस्तान में आरक्षण का आधार अंग्रेजों ने डाला. आरक्षण की नीति की शुरुआत मद्रास और मैसूर प्रजीडेंसियों में सरकारी नौकरियों में ब्राह्मणों के बहुल के खिलाफ गैर ब्राह्मणों के विरोध के बाद हुई. ब्राह्मणों ने इसके खिलाफ कोई सख्त प्रतिरोध नहीं किया और उन क्षेत्रों को पलायन कर गए जहाँ समृद्धी के अवसर उपलब्ध थे.
मैसूर प्रजीडेंसी ने 1874 से ही अनौपचारिक तौर पर अपनी आरक्षण नीति तैयार कर रखी थी. उसकी सरकार ने (1874 और 1885 के बीच) ब्राह्मणों के लिए मध्यम और निचले स्तर पर 20 प्रतिशत और शेष 80 प्रतिशत नौकरियां दूसरों के लिए आरक्षित कीं. 1881 से 1910 के दौरान नौकरियों की मांग को “माटी के लाल” आंदोलन के कारण प्रोत्साहन प्राप्त हुआ.
इस कार्य में 1858 में ब्रिटिश सरकार के ईस्ट इंडिया कंपनी से चार्ज लेने के बाद तेजी आई. 1858 में ब्रिटिश सरकार ने “बांटो और राज करो” की नीति अपनाई. उस पर अमल करने के लिए अंग्रेजों से जो भी बन पड़ता था उन्होंने किया ताकि सभी हिदुस्तानियों में अंग्रेजों के खिलाफ ऐका न पनप सके और अंग्रेज बिना किसी रोक-टोक के देश पर शासन करते रहें. आज़मगढ़ में एक ब्रिटिश राजदूत यूटस जे किट्स ने 1881 की जनगणना में पिछड़ी जातियों और जनजातियों की पहचान की, जिसका उद्देश्य उन्हें स्थानीय और प्रांतीय स्तर पर माली मदद देना और शिक्षा और सरकारी नौकरियों में प्राथमिकता देना था. शायद इसी वजह से 1905 से 1940 के दौरान “बांटो और राज करो” की ब्रिटिश नीति बहुत जोर-शोर से फली-फूली. इसी दौर में आरक्षण को व्यापक रूप मिला.
क्योंकि हमारे देश में वसायल सीमित हैं, जो कभी आबादी के अनुपात में मेयसर नहीं रहे, हमारा देश बेरोज़गार तो पैदा करता रहा मगर रोजगार के अवसर पैदा नहीं कर पाता. शिक्षा व्यवस्था ऐसी है कि जिस कोर्स में अपलाई करने के लिए कम से कम योग्यता 45 प्रतिशत होती है उसमें 98 से 100 प्रतिशत नमबर लाने वालों को ही प्रवेश मिल पाता है. क्या इसका मतलब यह हे की बाकी छात्र पात्र नहीं हैं? ऐसा हरगिज़ नहीं. हर 45 प्रतिशत अंक प्राप्त करने वाला उसका पात्र है.
इसका एक कारण यह है कि सरकार ज़रूरत के अनुसार नए शैक्षणिक संस्थान नहीं बना पा रही है. और इसके लिए जिम्मेदार सीमित संसाधन को ठहराया जाता है. केवल निजी क्षेत्र के पास संसाधनों की कमी नहीं है. जिसके पास प्राप्त करने के ज़रायों की कोई कमी नहीं है. लेकिन क्योंकि हमारे देश में शिक्षा में अब भी कोटा सिस्टम और लाइसेंस राज लागू है, जिसकी वजह से लाइसेंस जारी करने वाली एजेंसियों को मनमानी रिश्वत प्राप्त करने की खुली छूट मिल जाती है. यह रिश्वत मिनिस्टर से लेकर क्लर्क तक ली जाती है. शर्तें ऐसी लगाई जाती हैं कि उन्हें पूरा करना जूए-शीर लाने जैसा है. अगर किसी तरह कोई विश्वविद्यालय बन भी जाए तो बाद में उसकी स्वीकृति वापस ले ली जाती है और छात्रों को बीच मजधार में छोड़ दिया जाता है .
हमें यह तो मंज़ूर है कि हमारे बच्चे विदेश जाकर वहां के शिक्षण संस्थानों में शिक्षा प्राप्त करें और देश की लाखों करोड़ों की विदेशी मूद्रा बाहर चली जाए मगर इन विदेशी विश्वविद्यालयों और संस्थाओं को इस बात पर राज़ी करने के लिए कोई काम नहीं किया जाता जिससे कि वह देश में ही अपनी शाखायें खोलें और इसके लिए उन्हें लूभाने की आवश्यकता को भी नहीं समझा जाता. अगर ऐसा किया गया तो एक तो विदेश के मुकाबले शिक्षा कम खर्च होगी और दूसरे शिक्षा के स्तर में इजाफा होगा.
ऐसा नहीं है के अंग्रेजों द्वारा शुरू किया गया आरक्षण निराधार था, दरअसल हुआ यह की कुछ लोगों ने अपनी शक्ति और पहुंच के आधार पर नौकरियों और सुविधाओं पर एकाधिकार स्थापित करने के लिए जाति के आधार पर एक समाज की संरचना की. जिसमें यह कहा गया कि राजा का बेटा राजा, मंत्री का बेटा मंत्री, दरबारी का बेटा दरबारी, सिपाही का बेटा सिपाही और इस तरह हर दूसरी उप जाति के लोग भी वही काम करते रहेंगे जो करते हैं. यानी धोबी का बेटा धोबी, नाई का बेटा नाई, तैली का बेटा तैली, भिशती का बेटा भिशती, जुलाहे का बेटा जुलाहा, किसान का बेटा किसान, जूते गांठने वाले का बेटा जूते गांठने वाला आदि आदि. यह समाज में स्वार्थ की हद थी और उसने एकाधिकार की नींव डाली. इसी कारण एक विशेष वर्ग हमेशा दबा व कुचला रहा, हालांकि यह बहुमत में था. अगर किसी देश में वर्षों तक किसी वर्ग, समुदाय या समूह का शोषण किया जाएगा तो वह स्वाभाविक रूप पर बगावत पर उतारू हो जाएगा.
जिस तरह कुछ लोगों को अछुत बताकर सदीयों तक उॅचे शाही निकायों से दूर रखा गया और बाद में इन लोग को हरिजन कहा गया और फिर वही लोग शेडयूलड जाति कहलाए इसी तरह स्वतंत्रता के बाद मुसलमानों को भी तरह तरह से परेशान किया गया और उनहें भी अछूत बना दिया गया. अब इसे माइनारिटी कहा जा रहा है. इस माइनारिटी में बेशक मुसलमान हैं मगर इसमें सिख, ईसाई, बौद्ध और जेनी भी शामिल हैं. इसलिए अगर माइनारिटी को कोई भी आरक्षण दिया जाता है तो वह धर्म के आधार पर दिया गया नहीं माना जा सकता. क्योंकि देश में जिस किसी को भी कोई आरक्षण मिलेगा या मिला है उसका अपना कोई व्यक्तिगत धर्म ज़रूर है. ऐसा तो नहीं हे की जिन लोगों को अनुसूचित जाति के तहत आरक्षण मिलता है वह किसी भी धर्म को नहीं मानते हैं. या धर्म को नहीं मानना ही आरक्षण की बुनियादा हो सकता है, हां यह ज़रूर है कि अगर कोई अनुसूचित जाति का व्यकती अपना धर्म बदल कर ईसाई (न्यू ‍िक्रसचन) या इस्लाम धर्म अपना कर (न्यू मुस्लिम) हो जाये तो केवल उसे ही आरक्षण प्राप्त करने का अधिकार नहीं है. यानी कि हमारे देश में धर्म के आधार पर आरक्षण न देने की बात केवल शेडयूल जाति के लिए है और ऐसा किसी और कानून में नहीं है कि बाकी किसी तबक़े, समुदाय या दल को धार्मिक आधार पर आरक्षण देने से रोका जा सकता है.
एक और बात जो ध्यान देने योग्य है वह यह है कि अगर किसी को एक बार भी किसी भी प्रकार का आरक्षण मिल गया तो उसे और उसके बाल बच्चों को भविष्य में आरक्षण का कोई अधिकार नहीं रह जाना चाहिये क्योंकि जिस तरह हमारे देश के संसाधन सीमित हैं उसी तरह आरक्षण की सीटें भी सीमित हैं. और उस पर एक ही परिवार का एकाधिकार नहीं होना चाहिए नहीं तो एक नया पिछड़ा वर्ग उभर के सामने आ जाएगा. आज जो ऊपर हैं वह कल नीचे हो जाएंगे. एक जूती गांठने वाले का लड़का जब आईएएस अधिकारी बन जाता है तो वह जूती गांठंने वाला नहीं रह जाता बल्की उसका शुमार देश के अधिकारी वर्ग में होता है और वह शेडयूल जाति से निकलकर एक नई जाति में शामिल हो जाता है जो है नौकरशाहों की, लेकिन क्योंकि अब वह शक्तिशाली है, इसलिए वह खुद को शेडयूल जाति में बनाए रखता है और अपनी आने वाली पीढ़ियों को भी फायदा दिलाता रहता है जो शेडयूल कास्ट के दूसरे कमजोर लोगों की कीमत पर होता है, बहुत से लोग हैं जो आज तक आरक्षण का लाभ उठाने में सफल नहीं हुए हैं. इसी तरह अगर एक नाई को तैली को धोबी को ‍भिशती को जिस दिन भी आरक्षण मिल गया वह उस दिन से नाई, तैली, धोबी, ‍भिशती वर्ग से बाहर हो जाता है मगर फिर भी उसकी आने वाली पीढ़ियां आरक्षण का लाभ उठाती रहती हैं.
मुसलमानों को अन्य पिछड़ी जातियों की श्रेणी में दिया जाने वाला साढ़े चार प्रतिशत आरक्षण कुछ नया नहीं है. यह मांग भी ठीक उसी तरह की है जिस तरह की मांग गुर्जर आरक्षण के लिए की जा रही है. क्योंकि गुर्जर अन्य पिछड़े जातियों की श्रेणी में आते हैं और बहुत पिछड़े होने की वजह से और अन्य जातियों के एकाधिकार के कारण वह आरक्षण का लाभ नहीं प्राप्त कर पाते, इसलिए वह अपनी जाती के लिए अलग से आरक्षण चाहते हैं. इसमें कोई बुराई नज़र नहीं आती जब तक सत्ताईस प्रतिशत में ही उन की जनसंख्या के अनुपात में आरक्षण दिया जाता हे, मगर अलग से उन्हें आरक्षण देना अभी संभव नहीं लगता. इसी तरह की मांग मुसलमान अन्य पिछड़े जातियों की है, वह कहते हैं के अन्य जातियां उन्हें आरक्षण का लाभ नहीं लेने देतीं इसलिए आरक्षण में मुस्लिम पिछडी जातियों को उनके अनुपात के आधार पर हिस्सा निर्धारित किया जाये. ऐसा ही केंद्र सरकार ने किया है. इसलिए यह कतई नहीं समझना चाहिए के मुसलमानों को कोई नया आरक्षण मिल गया है, या यह कि कांग्रेस ने उन पर कोई बहुत बड़ा एहसान किया है बल्कि यह तो उन्हें पहले से ही मिल रहा था कांग्रेस ने तो केवल उस को सुनिश्चित करने का काम किया है.
Afif Ahsen, Ambedkar, Backward Classes, Britain, Congress, Daily Pratap, Muslim Reservation, Reservation, Scheduled Caste, Vir Arjun,

Monday, 19 December 2011

لوک پال بل یا زندہ طلسمات




Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 19th December 2011
عفیف احسن
مجھے چند ماہ پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھاکے ملک جس راہ پر گامزن ہے اگراسی پرچلتا رہا تو معاشی تباہی بہت دور نہیں ہے۔جب مجھے لگا کہ ہمارا ملک اس سلسلے میں قطعی فکر مند نہیں لگ رہا تھا اس لئے حکام کی توجہ اس جانب منبدول کرانے کے لئے میں نے ایک مفصل آرٹیکل لکھا تھاجس کے ذریعہ میں نے اس بات کا خلاصہ کیا تھا کہ کیسے ہمارے ملک کی معیشت تباہی کی راہ پر گامزن ہے اور اگرجلد ہی اس کا کوئی سدباب نہ کیا گیاتو ہمارا ملک تباہی کے دہانے پرپہنچ جائے گا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ حکمراں طبقہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس مسئلہ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کو سیاست کے علاوہ نہ توکچھ اوردکھائی ہی دیتا ہے اور نہ ہی سنائی ہی دیتا ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کو کو ئی مسئلہ ماننے سے لگاتار انکار کررہے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں کی نیت تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ان کے مفادمیں ہوسکتا ہے کہ دیش کے حالات بد سے بدتر ہوجائیں۔ اور ملک کے عوام حکومت سے متنفر ہوجائیں اورپریشان ہوجائیں جس کے سبب ایک ایسی حکومت مخالف لہر چلے جس میں لوگ حکمرا ں طبقہ کو اقتدار سے بے دخل کردیں۔ کیونکہ جب عوام ناراض ہو تے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کے کون سی پارٹی ان کی پریشانیوں کو دور کرسکتی ہے بلکہ وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اسے حکمراں پارٹی کو ہٹانا ہے، کیونکہ وہ ہی ان کی ساری پریشانیوں کی جڑ ہے۔ ان کے ووٹ کے نتیجے میں چاہے کوئی بھی ایری غیری پارٹی برسر اقتدار آجائے، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
مگر ہماری حکمراں جماعت کو نہ جانے کیا ہوا ہے۔ وہ کیوں خواب غفلت سے بیدارنہیں ہوتی۔اور کیوں اس پریشانی کاسدباب نہیں کرتی۔ اس سب کی ایک بڑی وجہ تو لوک پال بل ہی ہے ۔ایسا ماحول بنایاجارہا ہے کہ جیسے ملک کی تمام پریشانیوں کا ایک اچوک اور رام بان علاج لوک پال بل ہی ہے۔یا یوں کہئے کہ یہ حیدرآباد کی مشہور دوا’’ زندہ طلسمات‘‘کی طرح ہے۔جس کو کہ آپ ہر بیماری میں استعمال کرسکتے ہیں۔ایک زمانے میں زندہ طلسمات کا استعمال بہت عام تھا اور اس کا استعمال ہر بیماری کے علاج میں کیا جاتا تھا۔ مگر وہ پرانا دور تھا جب بیماریاں کم تھیں یا یو ں کہئے کے لوگوں کو کم بیماریوں کے نام پتا تھے۔ اسلئے تمام بیماری کے لئے گنے چنے نام ہی تھے۔ مگر اب اسپیشلائزیشن کا دور ہے اور اس لئے ایک ایک بیماری میں کئی کئی بیماریاں نکل آئی ہیں۔اور ان بیماریوں کے الگ الگ اسپیشلسٹ اور ڈاکٹر ہو گئے ہیں۔ مگر ہم اسی پرانے زمانے میں جی رہے ہیں۔ہمیں اب بھی یہی یقین ہے کہ لوک پال بل ہی ہماری ساری پریشانیوں کا علاج ہے۔
حالانکہ تمام پارٹیاں انا کی سبھی باتوں سے متفق نہیں ہیں مگر کوئی بھی کھل کر اس کی مخالفت نہی کررہی ہے۔ بلکہ اپوزیشن پارٹیاں تو اس کی آگ میں اپنی روٹیاں سینکنے سے بھی نہیں چوک رہی ہیں ۔اور جتنا ہوسکے اس معاملے کو ہوا دے رہی ہیں۔بند کمروں میں ان پارٹیوں کا جو اسٹینڈ ہوتا ہے وہ ان کے اعلانیہ اسٹینڈ سے قطعی مختلف ہے۔
لوک پا ل بل پاس کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے اور سرمائی اجلاس کی مدت بڑھائے جانے تک کی بات ہو رہی ہے مگر دوسرے بہت ہی ضروری اور اہم بل ہیں جو دونوں ایوانوں میں پاس ہونے کے انتظار میں ہیں ان کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔اس کے علاوہ بہت سے ایسے بل ابھی ڈرافٹ اسٹیج پر ہی لٹکے ہوئے ہیں۔اور بہت سے ایسے بل ہیں جوکہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دئے گئے ہیں۔سرکار نے سرمائی اجلاس شروع ہونے سے پہلے 62ایسے نئے بلوں کی فہرست بنائی تھی جو کہ اس میں پاس کرائے جانے تھے۔ یہ ان بلوں کے علاوہ تھے جو پہلے ہی سے پینڈنگ ہیں۔ لیکن اب جب کے اس اجلاس کے ختم ہونے میں چند روز ہی بچے ہیں مگر حکومت ایک بھی بل پاس کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔اجلاس کا زیادہ تر وقت شور شرابے اور ہنگامے کی نظر ہو چکا ہے۔ پچھلے سال کے سرمائی اجلاس میں کوئی بھی بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ جبکہ بجٹ اجلاس میں کل پانچ بل ہی پاس ہوسکے اور مانسون اجلاس میں دس بل پاس ہوئے تھے۔
اس نا اہلی میں حکومت نے خوردہ میں ایف ڈی آئی پر لئے گئے اپنے فیصلے کو واپس لیکر اور اس پر عمل درآمد نہ کرکے اور بھی ناقص کام کیا ہے۔ اس سے حکومت اورزیادہ کمزور نظر آرہی ہے۔ اب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کے کیبنٹ میں لئے گئے فیصلے کی مخالفت کانگریس کے اتحادی پارلیمنٹ اور سڑک پر کرتے ہیں حالانکہ جس وقت یہ فیصلہ لیا جاتا ہے وہ کیبنٹ کی میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں اور تب وہ اس فیصلے کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ۔
یوپی اے کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں تک کو کسی بل کے لئے راضی نہیں کرپاتی ہے اور یوپی اے کے الائز ہی اس کے ہرفیصلے کی مخالفت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ رہی سہی کسر بی جے پی پوری کردیتی ہے اور وہ بھی کانگریس کے ہر قدم کی مخالفت کرنا شروع کردیتی ہے۔پینشن بل کو ہی لے لیجئے ۔ 2004میں بی جے پی اس بل کی پرزور حمایت کررہی تھی مگر اس وقت کمیونسٹ اس بل کی مخالفت کررہے تھے۔آج حالت یہ ہے کے کمیونسٹ اور بی جے پی دونو ں ہی مل کر اس کی پرزورمخالفت میں آگئے ہیں۔
آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ سرکار ی افسران اور وزرائچھوٹے سے چھوٹا فیصلہ لینے سے بھی ڈرتے ہیں کے کہیں ان پر بدعنوانی کا الزام نہ لگ جائے۔اور کئی اسکیمیں اور پروگراموں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔سرکاری خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے۔اور اس کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے۔
سرکار کے سبھی آنکڑے اور اعدادوشمار غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ صاف ہے کہ سرکار ابھی تک خوش فہمی میں جی رہی ہے اور موجودہ حقیقت اور آئندہ مشکلات سے نظر چرارہی ہے۔پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیرمین مونٹیک سنگھ اہلوالیہ نے بڑی بے شرمی سے اس بات کو قبول کرلیا ہے کے پلاننگ کمیشن نے مہنگائی درکا غلط اندازہ لگایا تھا۔مگر اس پر کوئی بھی ہنگامہ نہیں ہوا۔ ان سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ اپنابوریا بستر گول کریں کیوں کہ آپ کو کام کرنا نہیں آتا۔ حکومت کا کام کاج زیادہ تر انہیںآنکڑوں یا اعدادوشمار پر چلتا ہے۔ کیوں کہ غلط اعداد و شمار کا اندازہ حکومت کو غلط راہ پر لے جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اب یہ دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں کے مارچ 2012تک مہنگائی در سات سے آٹھ فیصد تک آجائے گی۔اور اسی کو بنیاد بنا کرپرنب مکھرجی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مارچ تک مہنگائی کم ہوجائے گی۔یہ اعداد وشمارجس بنیاد پر بنائے گئے تھے جب وہ بنیاد ہی ڈھے گئی ہو تو پھر کیسے ان نئے اعداد و شمار پر بھروسہ کیاجاسکتا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت ملک کی موجودہ معاشی حالت کانئے سرے سے جائزہ لے اور اس پر ایک وہائٹ پیپر جاری کرے اور اس کو درست کرنے کے لئے جلد سے جلد سدباب کرے اور سبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کے حالات بہتر بنانے کی سمت کام کرے۔
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, FDI in Retail, Parliament, UPA, Vir Arjun,

लोकपाल बिल या जिन्दा तिलस्मात


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

Published on 19th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
मुझे कुछ महीने पहले ही अनुमान हो गया था की देश जिस राह पर चल रहा है अगर उसी पर चलता रहा तो आर्थिक तबाही बहुत दूर नहीं है. जब मुझे लगा कि हमारा देश इस बारे में बिल्कुल चिंतित नहीं लग रहा हे, इसलिए सरकार का ध्यान इस ओर दिलाने के लिए मैंने एक विस्तृत लेख लिखा था जिस में मैंने इस बात का खुलासा किया था कि कैसे हमारे देश की अर्थव्यवस्था तबाही की राह पर आगे बढ़ रही हे और अगर जल्द ही इसका कोई उपाय नहीं किया गया तो हमारा देश तबाही की कगार पर पहुँच जाएगा. मगर ऐसा लगता है कि शासक वर्ग ही नहीं बल्कि हमारे देश का विपक्षी दल भी इस समस्या को लेकर गंभीर नहीं हैं. क्योंकि उन्हें राजनीति के अलावा न तो कुछ और दिखाई ही देता है और न ही सुनाई ही देता है. शायद इसीलिए वह उसे कोई समस्या मानने से लगातार इनकार कर रहे हैं.
विपक्षी दलों की नीयत तो समझ में आती है कि उनके हित में हो सकता है कि देश के हालात बद से बदतर हों. और देश की जनता सरकार से नाराज़ हो और परेशान हो जिसकी वजह से एक ऐसी सरकार विरोधी लहर चले जिसमें लोग सरकारी वर्ग को सत्ता से बेदखल कर दें. क्योंकि जब जनता नाराज़ होती है तो वह यह नहीं देखते के कौन सी पार्टी उनकी परेशानियों को दूर कर सकती है बल्कि वह तो केवल यह देखती है कि उसे शासक दल को हटाना है, क्योंकि वे ही सारी परेशानियों की जड़ नज़र आती है. उनके वोट के कारण चाहे कोई भी दल सत्ता में आ जाये उसकी उन्हें कोई परवाह नहीं होती.
मगर हमारे सत्ताधारी दल को न जाने क्या हुआ है? वह क्यों चिर निद्रा से नहीं जागता. और क्यों परेशानी का निवारण नहीं करती. इस सब की एक बड़ी वजह तो लोकपाल बिल ही है. ऐसा माहौल बनाया जारहा है कि जैसे देश की सभी समस्याओं का एकमात्र अचूक और रामबाण इलाज लोकपाल बिल ही है. या यूँ कहिए कि हैदराबाद की प्रसिद्ध दवा “जिन्दा तिलस्मात” की तरह है. जिसको कि आप हर बीमारी में उपयोग कर सकते हैं. एक समय “जिन्दा तिलस्मात” का उपयोग बहुत आम था और इसका उपयोग हर बीमारी के इलाज में किया जाता था. मगर वह पुराना दौर था जब बीमारियां कम थीं या यूं कहिए के लोगों को कम बीमारियों के नाम पता थे. इसलिए सभी बीमारी के लिए ‍गिने चुने नाम ही थे. मगर अब स्पेशलाईज़ेशन का दौर है और इसलिए एक-एक बीमारी में कई-कई बीमारियां निकल आई हैं. और इन बीमारियों के अलग अलग विशेषज्ञ और डॉक्टर हो गए हैं. मगर हम उसी पुराने ज़माने में जी रहे हैं. हमें अब भी यही विश्वास है कि लोकपाल बिल ही हमारी सारी परेशानियों का इलाज है.
हालांकि सभी पार्टियां अन्ना की सभी बातों से सहमत नहीं हैं, लेकिन कोई भी खुलकर इसका विरोध नही कर रही है. बल्कि विपक्ष पार्टियां तो उसकी आग में अपनी रोटियाँ सेंकने से भी नहीं चूक रही हैं. और जितना हो सके इस मामले को हवा दे रही हैं. बंद कमरों में इन पार्टियों का जो स्टैंड होता हे वह उनके खुले आम स्टैंड से बिल्कुल अलग है.
लोक पाल बिल पास कराने के लिए संसद का विशेष सत्र बुलाए जाने और चालू सत्र की अवधि बढ़ाए जाने तक की बात हो रही है मगर दूसरे बहुत ही आवश्यक और महत्वपूर्ण विधेयक हैं जो दोनों सदनों में पास होने के इंतजार में हैं उनकी कोई बात भी नहीं करता. इसके अलावा बहुत से ऐसे बिल अभी ड्राफ्ट स्टेज पर ही अटके हुए हैं. और बहुत से ऐसे बिल हैं जो ठंडे बस्ते में डाल दिए गए हैं. सरकार ने मोजूदा सत्र शुरू होने से पहले 62 ऐसे नए बिलों की सूची बनाई थी जो इसमें पारित कराए जाने थे. यह बिल उन के अलावा थे जो पहले से ही लम्बित हैं. लेकिन अब जब इस सत्र के खत्म होने में कुछ दिन ही बचे हैं सरकार एक भी बिल पास कराने में कामयाब नहीं हो सकी है. बैठक का अधिकांश समय शोर शराबे और हंगामे की नज़र हो चुका है. पिछले वर्ष शीत सत्र में कोई भी बिल पास नहीं हो सका था. जबकि बजट सत्र में कुल पांच बिल ही पास हो सके और मानसून सत्र में दस बिल पास हुए थे.
इस नाअहली में सरकार ने खुदरा में एफडीआई पर लिए गए अपने फैसले को वापस लेकर और उस पर अमल न करके ओर भी गलत काम किया है. इससे सरकार और ज़यादा कमज़ोर दिख रही है. अब तो हालात यहां तक ​​पहुंच गए हैं के केबिनेट में लिए गए निर्णय का विरोध कांग्रेस के सहयोगी दल संसद और सड़क पर करते हैं हालांकि जिस समय यह फैसला लिया जाता है वह केबनट की बैठक में मोजूद होते हैं और तब वह इस फैसले को रोकने के लिए कुछ नहीं करते.
यूपीए की स्थिति ऐसी हो गई है कि वह अपने सहयोगी दलों तक को किसी ‍विधेयक के लिए राज़ी नहीं कर पाता है और यूपीए के घटक दल ही उसके हर फ़ेसले का विरोध करना शुरू कर देते हैं. रही सही कसर भाजपा पूरी कर देती है और वह भी कांग्रेस के हर कदम का विरोध करना शुरू कर देती है. पेंशन बिल को ही ले लीजिए. 2004 में भाजपा इस विधेयक का समर्थन कर रही थी लेकिन उस समय कम्युनिस्ट इस विधेयक का विरोध कर रहे थे. आज हालत यह है कि कम्युनिस्ट और भाजपा दोनों मिल कर उसकी पुरज़ोर मुखाल्फ़त में आ गए हैं.
आज हालात यह हो गए हैं कि सरकारी अधिकारी और मंत्री छोटे से छोटा फैसला लेने से डरते हैं के कहीं उन पर भ्रष्टाचार का आरोप न लग जाए. और कई योजनाएं और कार्यक्रमों का क्रियान्वित नहीं हो सका है. सरकारी खजाना खाली होता जा रहा है. और आय कम होती जा रही है.
सरकार के सभी आँकड़े ग़लत साबित होते जा रहे हैं. जिसकी वजह साफ है कि सरकार अभी तक खुश फहमी में जी रही है और वर्तमान वास्तविकता और भविष्य के संकट से नज़रें चूरा रही है. योजना आयोग के उप-अध्यक्ष मोंटेक सिंह अहलूवालिया ने बड़ी बेशरमी से इस बात को स्वीकार कर लिया है की योजना आयोग ने महंगाई दर का ग़लत अनुमान लगाया था. मगर उस पर कोई भी हंगामा नहीं हुआ. उनसे किसी ने भी यह नहीं कहा कि आप अपना बोरिया बिस्तर गोल करें क्योंकि आपको काम करना नहीं आता. सरकार का अधिकांश कामकाज इनही आँकड़े पर चलता है. क्योंकि गलत आंकड़ों का आंकलन सरकार को गलत राह पर ले जा सकता है. इतना ही नहीं वह यह दावा करने से भी नहीं चूक रहे हैं के मार्च 2012 तक महंगाई दर सात से आठ प्रतिशत तक आ जाएगी. और इसी को आधार बनाकर प्रणब मुखर्जी यह दावा कर रहे हैं कि मार्च तक महंगाई कम हो जाएगी. यह आंकड़े जिस आधार पर बनाए गए थे जब वह आधार ही धराश्य हो गया हो तो फिर कैसे इन नए आंकड़ों पर भरोसा किया जासकता है.
अभी भी समय है कि सरकार देश की मौजूदा आर्थिक स्थिति की नए सिरे से आंकलन और समीक्षा क‍रे और उस पर एक व्हाइट पेपर जारी करे और उसको ठीक करने के लिए जल्द से जल्द कदम उठाये और सभी राजनीतिक दलों के साथ बैठ कर देश के हालात बेहतर बनाने की ओर काम करे.
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, FDI in Retail, Parliament, UPA, Vir Arjun,

Tuesday, 13 December 2011

अमेरिका और ईरान के बीच स्टार-वार


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

Published on 12th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
पिछले दिनों ईरान ने दावा किया कि उसने एक बिना पायलट के ड्रोन विमान को मार गिराया है जो ईरान के पूर्वी हिस्से पर उड़ान भर रहा था. ईरानी मीडिया का कहना है कि यह ड्रोन विमान जो जासूसी के उद्देश्य से प्रयोग किया जाता है नवीनतम RQ-170 श्रृंखला का है. ईरानी मीडिया पर यह दावा किया गया कि ड्रोन विमान को बहुत अधिक नुकसान नहीं पहुँचा है. राडार पर नज़र न आने वाले इस विमान को बनाने और प्रयोग करने की घोषणा अमेरिका ने दो साल पहले ही की थी. ईरानी सेना ने कहा है कि ईरान की वायु सीमा के इस तरह के उल्लंघन की प्रतिक्रिया केवल ईरानी हवाई सीमा तक सीमित नहीं रहेगी. अमेरिका ने हाल ही में ईरान पर परमाणु हथियार बनाने के आरोप में आर्थिक प्रतिबंधों को सख्त कर दिया था जिसके बाद पश्चिमी देशों ने भी ऐसे ही क़दम उठाए हैं. हालांकि ईरान का कहना है कि उसका पर्माणु कार्यक्रम शांतिपूर्ण उद्देश्यों के लिए है.
हालांकि अमेरिका ने शुरू में आधिकारिक तौर पर इस बात को स्वीकार नहीं किया. मगर बाद में अमेरिकी अधिकारी अपने ड्रोन के लापता होने की पुष्टि कर चुके हैं. अब ईरान के सरकारी टीवी ने अमेरिका के सबसे आधुनिक ड्रोन विमान की फुटेज प्रसारित की है. रिपोर्ट में बताया गया है कि यह विमान देश के पूर्वोत्तर क्षेत्र में बहुत अंदर तक घुस आया था. 2 मिनट से अधिक अवधि की वीडियो फुटेज में ईरानी सैन्य अधिकारियों को इस जासूसी विमान का निरीक्षण करते दिखाया गया है. सरकारी टीवी की फुटेज में RQ-170 सेनटैनल नामक यह जासूस विमान सही हालत में दिखाई दे रहा है. ईरानी क्रांतिकारी गार्ड के एयरोस्पेस डिवीज़न के प्रमुख जनरल अली हाजी ज़ादा ने दावा किया है कि जासूसी विमान को इलेक्ट्रॉनिक घात लगाकर क़ब्ज़े में किया गया जिसकी वजह से उसे कम से कम नुकसान पहुंचा. सरकारी टीवी के अनुसार इस विमान को कब्जे में लेने के लिए गार्ड और ईरान की रेगलर सेना ने संयुक्त कार्रवाई की. पर्यवेक्षकों का कहना है कि इस फुटेज का उद्देश्य अमेरिकी विमान को मार गिराने के दावे की पुष्टि के साथ-साथ प्रोपेगंडा है क्योंकि फुटेज में जहाज के नीचे की ओर लटकाए गए अमेरिकी झंडे में सितारों की जगह पर मानव खोपड़ियां नज़र आ रही हैं. इसके अलावा एक बैनर भी लगा है जिस पर सवालिया निशान के साथ लिखा है “अमेरिका यह हरकत नहीं कर सकता?”. अमेरिकी रक्षा विभाग पेन्टागन के एक प्रवक्ता ने इस फुटेज के हवाले से कहा है कि सेना इस फुटेज की समीक्षा कर रही है. लेकिन प्रवक्ता ने इस बारे में अधिक जानकारी उपलब्ध नहीं कराइ है.
जो तस्वीरें और वीडियो फुटेज जारी की गई है उसके विश्लेषण से ड्रोन के वास्तविक होने और उसे उतारे जाने या मार गिराए जाने के बारे में विभिन्न राय जताई जा रही हैं. कुछ बातें ऐसी हैं जिससे कि यह कहा जा सकता है कि यह फर्ज़ी है. एक रूपरेखा सबसे उपर एक्सेस पैनल के साथ कुछ ज्यादा ही लंबी चली गयी है और स्क्रू की तरह के निशान जो उसके किनारे के साथ हैं कुछ अधिक अजीब हैं. इस जहाज को नीचे से देख पाने में सक्षम नहीं. ईरान क्यों चाहेगा कि विमान को पहुँचने वाले नुकसान को प्रदर्शित करे? पंखों के अलग होने और फिर गलत ढंग से लगाए जाने की यह व्याख्या की जा सकती है कि यह एक चकमा है, हालांकि यह अच्छा कारीगरी का नमूना हो सकता क्योंकि शेष भाग बहतरीन हालत में है, लेकिन इस कमी पर विचार करने की जरूरत है.
ड्रोन गिरने की तुरंत बाद घटना स्थल की कोई फोटो उपलब्ध नहीं है. बिना यह जाने कि किस तरह उसे ज़मीन पर उतारा गया या गिर कर तबाह हो गया और ऐसे हादसे के बाद भी इतनी अच्छी हालत में बचा रहा. यह बात अधिकांश लोगों को यह सोचने पर मजबूर कर सकती है कि किया एसा बिलकुल असंभव है.
कुछ समाचार एजेंसियों ने अज्ञात अमेरिकी सरकारी सूत्रों के हवाले से कहा है कि केंद्रीय कमान द्वारा घटना स्थल की उपग्रह से खींची गई तस्वीरों में एक बड़े मैदान में ड्रोन का मलबा फैला हुआ देखा गया था. इस बात में कुछ वजन लगता है, क्योंकि किसी बेलगाम दुर्घटना की स्थिति में आमतौर पर धमाकेदार विस्फोट और तबाही होती है. मगर हमेशा ऐसा नहीं होता.
फोटो एक‍जि़फ डेटा (वह डेटा जो तस्व‍ीर खींचने के समय इसमें शामिल होजाता है) से पता चलता हे कि ड्रोन हमलों की तस्वीरें एक 5D मार्क II कैमरे से एक 28mm लेंस प्रयोग करके 17 सितंबर 2011 को ली गई थी. मगर किसी भी कैमरे में गलत तारीख सेट हो सकती है. ये ईरानी दावे के सही होने के खिलाफ अब तक की सब से मजबूत शहादत हो सकती है.
उसके सही होने के बारे में जो विवरण पेश किया जा रहा है वह यह है कि राडार ‍िडफयूज़र / मेष ‍िग्रल के पीछे एक मोटर दिखायी दे रहा है. यह एक बहुत बारीक विवरण है जिसकी जरूरत ईरान केवल फोटोग्राफी सबूत देने के लिए नहीं थी. यह तकनीक के इतिहास का हिस्सा है, कुछ जो “एक्सपैंडबल स्टेल्थ” की सोच से मेल रखता है और इंजन में किसी भी राडार की लहरों को टकराकर वापस जाने को कम करने में मदद करता है.
तसवीरों में सभी बारीक विवरण ठीक वहीं पर हैं जहां उन्हें होना चाहिए. कुछ विवरणों का संतुलन बहुत आश्चर्यजनक है. जिससे यह लगता है कि यह एक बेहतरीन और विश्वसनीय प्रतिलिपि नहीं है जिसके लिए ईरान के पास समय और पैसा दोनों की कोई कमी नहीं थी.
एक बड़ी तस्वीर जो दिखाए गए जहाज़ के बारे में सबसे अधिक प्रभावशाली है, और जो एक बड़ी बात है. कुल व्यास, किनारों की ढाल, उसकी चोंच की गोलाई, सब कुछ है और उसका बराबर हिसाब किताब है. विमान के मॉडल में सभी आवश्यक जानकारी मौजूद हो सकती हैं, लेकिन अगर एक भी लाइन गलत है या अजीब है या कोण ग़लत है तो सब कुछ एक खिलौने वाले जहाज की तरह दिखाई देगा हालांकि यह ऐसा नही है.
इसलिए चाहे किस्मत हो या कौशल, ईरान के कब्जे में एक पूरा RQ-170 सेनटैनल ड्रोन है जिसे कि लोकहीड स्कंक ने तैयार किया था. शुरूआत में तो यह लग रहा था कि जालसाजी का यह एक बेहतरीन नमूना है और फोटोशाप का कमाल है मगर नज़दीकी जांच, एक अनुसंधान और घंटों जमा घटा के बाद स्थिति स्पष्ट हो गयी है और पूरी तरह विश्वास किया जा सकता है कि जो कुछ आप को तस्वीर और ईरानी टीवी वीडियो में दिखाया गया है वह वास्तव में वही है जिसका दावा किया जा रहा है.
लोग ईरानी सेना को अधिक महत्व नहीं देते हैं, हालांकि ईरानी सेना बहुत व्यापक संसाधनों से सुसजिज्त है, विपरीत उसके जिस पर अधिकांश लोगों को विश्वास है. यदि ईरान की मानी जाए तो उन्होंने उसको इलेक्ट्रॉनिक घात लगाकर नीचे उतारा है जिसके दो अर्थ हो सकते हैं. पहला यह कि उन्होंने ड्रोन का जुड़ाव उसके कंट्रोल सेंटर से तोड़ दिया और इसके बाद वह खुद नीचे आगिरा. या फिर यह कि उसने अमेरिका का संपर्क तोड़ कर उसे अपने कंप्यूटर से नियंत्रित कर लिया और ठीक ठाक उतार लिया. यदि दूसरी बात सही है तो यह अमेरिका के लिए बहुत ही खतरनाक हो सकता है. क्योंकि अगर ईरान ने ऐसी तकनीक ईजाद कर ली है या हासिल कर ली है तो फिर किसी भी संभावित युद्ध में अमेरिका के मिसाइल का मुंह उस की ओर या उसके साथियों की ओर मोड़ा जासकता है. और अगर ऐसा होता है तो स्टार-वार जिसके अमेरिका और रूस के बीच लड़े जाने का अनुमान लगाया जाता था आने वाले दिनों में अमेरिका और ईरान के बीच लड़ी जाएगी.
Afif Ahsen, Daily Pratap, Vir Arjun, Iran, America, Drone,

Monday, 12 December 2011

امریکہ اور ایران کی اسٹار وار


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 12th December 2011
عفیف احسن
گزشتہ دنوں ایران نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے جوکہ ایران کے مشرقی حصہ پر پرواز کر رہا تھا ۔ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون طیارہ جو جاسوسی کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے جدید ترین70 RQ- سیریز کا ہے ۔ ایرانی ذرائع ابلاغ پر یہ دعوی بھی کیا گیا کہ ڈرون طیارہ کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ راڈار کو نظر نہ آنے والے اس طیارہ کوبنانے اور اس کو استعمال کرنے کا اعلان امریکہ نے دو سال قبل ہی کیا تھا۔ایرانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی حدود کی اس طرح کی خلاف ورزیوں کا رد عمل آئندہ ایران کی فضائی حدود تک محدود نہیں رہے گا۔ امریکہ نے حال ہی میں ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزام میں اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا جس کے بعد مغربی ممالک نے بھی ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔ حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
حالانکہ امریکہ کی طرف سے شروع شروع میں سرکاری طور پر اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ مگر بعد میں امریکی حکام اپنے ڈرون کے لاپتہ پونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اب ایران کے سرکاری ٹی وی نے امریکہ کے اس انتہائی جدید ڈرون طیارے کی فوٹیج نشر کی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں بہت اندر تک گھس آیا تھا۔ 2 منٹ سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو فوٹیج میں ایرانی فوجی اہلکاروں کو اس جاسوس طیارے کا معائنہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی اس فوٹیج میں بظاہر RQ-170سینٹنل نامی یہ جاسوس طیارہ درست حالت میں دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کے ایروسپیس ڈویژن کے سربراہ جنرل عمی علی حاجی زادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جاسوس طیارے کو الیکٹرونک گھات لگا کر قبضے میں کیا گیا جس کی وجہ سے اسے کم سے کم نقصان پہنچا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس طیارے کو قبضے میں لینے کے لیے گارڈز اور ایران کی ریگولر آرمی نے مشترکہ کارروائی کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فوٹیج کا مقصد امریکی طیارے کو مار گرانے کے دعوے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا بھی ہے کیونکہ فوٹیج میں جہاز کے نیچے کی جانب لٹکائے گئے امریکی جھنڈے میں ستاروں کی جگہ پر انسانی کھوپڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بینر بھی آویزاں ہے جس پر سوالیہ نشان کے ساتھ تحریر ہے امریکہ یہ حرکت نہیں کر سکتا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن کے ایک ترجمان نے اس فوٹیج کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی حکام اس فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ترجمان نے اس بابت مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
جو تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے اس کے تجزیہ سے اس ڈرون کے اصلی ہونے اور اس کو اتارے جانے یا مار گرائے جانے کے بارے میں مختلف رائے ظاہر کی جارہی ہیں۔کچھ باتیں ایسی ہیں جس سے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ جعلی ہے۔ ایک خاکہ جو سب سے اوپرایکسس پینل کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ ہی طویل چلا گیا ہے اور اسکرو کی طرح کے نشانات جوکہ اس کے کنارے کے ساتھ ساتھ ہیں کچھ زیادہ عجیب ہیں۔ اس جہاز کو نیچے سے دیکھ پانے کے قابل نہیں۔ ایرانی کیوں چاہیں گے کہ طیارے کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر ہونے دیں؟پروں کے علا حدہ ہونے اور پھر بے ڈھنگے طریقہ سے لگائے جانے کی یہ تشریح کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک چکما ہے ، اگرچہ یہ ناقص کاری گری کا نمونہ ہو سکتا ہے کیونکہ باقی ماندہ حصہ بہتبہترین حالت میں ہے، لیکن اس مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈرون گرنے کی فوراً بعد جائے حادثے کی کوئی تصویر فراہم نہیں کی گئی ہے۔ بغیر اس بات کو جانے کہ کس طرح اس کو زمین پر اتاراگیا یا گر کر تباہ ہو گیا اور ایسے عظیم حاد ثے کے بعد بھی اتنی اچھی حالت میں بچا رہا،یہ بات زیادہ تر لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے کہ ایسایکسر ناممکن ہے۔
کچھ خبر رساں ایجنسیوں نے نامعلوم امریکی سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مرکزی کمان کے ذریعہ جائے حادثے کی مصنوعی سیارہ سے کھینچی گئی تصاویر میں ایک بڑے میدان میں اس ڈرون کا ملبہ پھیلا ہوا دیکھا گیا تھا۔ اس بات میں کچھ وزن لگتاہے، کیوںکہ کسی بھی بے لگام حادثے کی صورت میں عام طور پراس کا اختتام دھماکہ خیزتباہی کے ساتھ ہوتا ہے۔ مگرہمیشہ ایسا نہیںہوتا۔
تصاویر کا ایکزف ڈیٹا (وہ ڈیٹا جو تصویرکھینچنے کے وقت اس میں سرایت کرجاتا ہے)سے پتاچلتاہے کہ ڈرون حملوں کی تصاویر ایک 5D مارک II کیمرے سے ایک 28mm لینس استعمال کرتے ہوئے 17 ستمبر 2011 کو لی گئیں تھی۔ مگرکسی بھی کیمرے میں غلط تاریخ سیٹ ہوسکتی ہے۔ یہ ایرانی دعویٰ کے صحیح ہونے کے خلاف اب تک کی مضبوط ترین شہادت ہو سکتی ہے۔
اس کے صحیح ہونے کے بارے میں جو وضاحت پیش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ راڈار ڈفیوزر/ میش گرل کے پیچھے ایک موٹر نظرآرہی ہے۔ یہ ایک نہایت باریک تفصیل ہے جس کی ضرورت ایرانیوں کو صرف فوٹو گرافی ثبوت فراہم کرنے کے لئے نہیں تھی۔ یہ اس ٹیکنالوجی کی تاریخ کا حصہ ہے، کچھ جو ’’ایکسپینڈبل اسٹیلتھ‘‘ کی سوچ سے مطابقت  رکھتا ہے  اور انجن کے اندر کسی بھی راڈار کی لہروں کو ٹکراکر واپس جانے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
تصاویرمیں تمام باریک تفصیلات ٹھیک وہیں پر موجود ہیں جہاں انہیں ہونا چاہئے۔ پیش کی گئی چیز کی تفاصیل اور توازن بہت حیرت انگیز ہیں۔ جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ ایک بہترین اور قابل اعتماد نقل نہیں ہے جس کے لئے ایرانیوں کے پاس وقت اور پیسہ دونوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔
ایک بڑی تصویر جو کہ دکھائے گئے ہوائی جہاز کے بارے میں سب سے زیادہ متاثر کن ہے، اور جوکہ ایک بڑی بات ہے۔ مجموعی حجم، کناروں کی ڈھال، اس کی چونچ کی گولائی، سب کچھ موجود ہے اور اس کا برابر حساب کتاب ہے۔ ہوائی جہاز کے ماڈل میں تمام ضروری تفصیلات موجود ہوسکتی ہیں، لیکن اگر ایک بھی لائن غلط ہے یا عجیب ہے یا ایک زاویہ بھی غلط ہے توسب کچھ ایک کھلونے والے جہاز کی طرح نظر آئے گا حالانکہ یہ ایسا نہی ہے۔
  لہٰذا چاہے قسمت ہویا مہارت، ایران کے قبضہ میں ایک پورا 170 RQ-سینٹینل ڈرون ہے جسے کہ لوکہیڈ اسکنک نے تشکیل کیا ہے۔ شروع شروع میں تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ جال سازی کا ایک بہترین نمونہ ہے اور فوٹوشاپ کا کمال ہے مگرنزدیکی جانچ، ایک چھوٹی سی تحقیق اور گھنٹوں کی جمع گھٹا کے بعد، حالات بالکل واضح ہو گئے ہیں اور اس بات کا مکمل طور یقین کیا جاسکتا ہے کہ جو کچھ آپ کوتصاویر میں اور ایرانی ٹی وی ویڈیو میں دکھایا گیاہے وہ واقعی وہی ہے جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
 لوگ ایرانی فوج کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں، حالانکہ ایرانی فوج بہت وسیع وسائل کی حامل ہے، برخلاف اس کے جس پر زیادہ تر لوگوں کو یقین ہے۔اگر ایران کی مانی جائے تو انہوں نے اس کو الیکٹرونک گھات لگاکر نیچے اتارا ہے جس کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ اول یہ کہ انہوں نے امریکی ڈرون کا رابطہ اس کے کمانڈ سینٹر سے منقطع کردیا اور اس کے بعد وہ نیچے آگرا۔ یا پھر یہ کہ اس نے امریکہ کا رابطہ منقطع کرکے اس کو اپنے کمپیوٹروں سے قابو میں کرلیا اور اس کوٹھیک ٹھاک اتار لیا۔ اگر دوسری بات صحیح ہے تو پھر یہ امریکہ کے لئے بہت ہی خطر ناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر ایران نے ایسی تکنیک ایجاد کرلی ہے یاحاصل کرلی ہے تو پھر کسی بھی ممکنہ جنگ میں وہ امریکہ کے میزائلوں کا ر خ خود اس کی طرف یا اس کے ساتھیوں کی طرف موڑ سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اسٹار وار جس کے امریکہ اور روس کے درمیان لڑے جانے کا قیاس لگایا جاتا تھا آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑی جائے گی