Search

Monday, 25 April 2011

پہلا پتھر وہی پھینکے جس نے کوئی پاپ نہ کیا ہو

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
عفیف احسن
سنیچر کوآبی وسائل اور مائینارٹی معاملات کے مرکزی وزیرسلمان خورشید نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے لوک پال بل تیار کرنے والی کمیٹی سے استعفیٰ دینے کی کرناٹک کے لوک آیکت کی دھمکی کے سلسلے میں کہا کہ حکومت بل کی تیاری کے سلسلے میں ان کے مفید مشورے کی منتظر ہے۔ مسٹر خورشید نے کہا کہ وہ ہیگڑے کی خدمات کی قدر کرتے ہیں اور ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کمیٹی میں بنے رہیں گے اور ان کے مفید مشوروں کی ضرورت ہے اور حکومت کو ان کے مفید مشوروں کا انتظار ہے۔
سلمان خورشید نے کمیٹی کے اراکین میں تبدیلی کے امکانات کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ ان کا کام جامع لوک پال بل تیار کرنے تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے کردار پر بحث کرنے کے بجائے بل کی صلاحیت کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے بعد کرناٹک کے لوک آیکت اور لوک پال بل ڈرافٹنگ کمیٹی کے سول سوسائٹی کو طرف سے رکن این سنتوش ہیگڑے بھی انّا ہزارے کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد کمیٹی میں بنے رہنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف کانگریس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اس کے کسی لیڈر اور حکومت کی جانب سے انّا ہزارے کی کمیٹی کے کسی بھی ممبر پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ سو نیا گاندھی کو انّا ہزارے کے ذریعہ لکھے گئے خط اور قومی صلاح کار کونسل کی حیثیت سے مسز گاندھی کے ذریعہ دئے گئے جواب کی روشنی میں طے کیا گیا کہ پارٹی کے تمام لیڈروں کو اس معاملے سے الگ رہنے کی صلاح دی جائے۔
یہی نہیں اس سے پہلے دگوجے سنگھ نے ہیگڑے سے اپنے بیان کے لئے معافی مانگ لی تھی اور صفائی بھی پیش کردی تھی۔جب تک دگوجے سنگھ، شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن پر زبانی حملے کرتے رہے تب تک تو ٹھیک تھا مگر جس دن انہوں نے اپنے حملوں کا رخ سنتوش ہیگڑے کی طرف موڑا تو یہ ان کو الٹا پڑ گیا کیونکہ سنتوش ہیگڑے بہت ہی صاف ستھری شبیہہ کے شخص ہیں اور وہ کسی بھی لالچ اور دباؤمیں نہیں آتے۔
اس سے پہلے بھی انہوں نے 2010میں کرناٹک کے لوک پال کے عہدے سے کرناٹک کی بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کے خلاف جنگ میں مدد نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔مگر بعد میں ایل کے ایڈوانی کی اپیل پر انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا، اس کے بعد ان کی مانگوں کو کچھ حد تک مانتے ہوئے کرناٹک کی یدیورپا حکومت نے انہوں از خودتمام سرکاری نوکروں اور افسروں یہاں تک کے چیف سیکریٹری کے خلاف شکایتوں کی جانچ کے اختیارات دے دئے۔ کچھ شرائط کے ساتھ وزیراعلیٰ، وزراء اور تمام کارپوریشنوں اور بورڈوں اور سرکاری کمپنیوں کے خلاف شکایتوں کی جانچ کے اختیارات بھی دے دئے۔
ہندوستان میں کرناٹک ہی ایک ایسی ریاست تھی جہاں پر مرحوم راجیو گاندھی کے ایماء پرسب سے پہلے ایک قانون کے ذریعہ1984 میں لوک پال بل پاس کیا گیا تھا، حالانکہ پہلے لوک پال کی تقرری 1986میں ہی کی جاسکی۔ یہی نہیں کرناٹک کو پہلے سی وی سی کی تقرری کابھی اعزاز حاصل ہے۔ملک کے پہلے سی وی سی کی تقرری 1964میں کرناٹک میں ہی ہوئی تھی۔
1984کے لوک آیکت بل میں لوک آیکت کو چیف منسٹر تک کے خلاف جانچ کا اختیار تھا اور وہ ازخود ہی کوئی بھی جانچ شروع کرسکتا تھا مگر پہلے لوک آیکت کی تقرری کے چھے مہینے کے اندر ہی اندر اس سے ازخود جانچ کرنے اور چیف منسٹر کے خلاف جانچ کرنے کے اختیارات چھین لئے گئے تھے۔
سنتوش ہیگڑے کے برخلاف شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن دونوں ہی پروفیشنل وکیل ہیں اور فیس کی خاطر کام کرتے ہیں۔ جب ان کے خلاف مختلف قسم کے الزامات لگنے لگے جن میں ایک سی ڈی بھی شامل تھی جس میں شانتی بھوشن کو ملائم سنگھ اور امر سنگھ سے ایک کیس کے سلسلے میں کسی جج کو مرعوب کرنے کے لئے باتیں کرتے اور شانتی بھوشن کو چار کروڑ کی رقم کی بات کرتے ہوئے سنا گیا تو انّا ہزارے نے اپنے ایک بیان میں اپنے علاوہ کسی اور کی ایمانداری کی گارنٹی لینے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنے علاوہ کسی اور کی ایمانداری کی گارنٹی لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان سے یہ اشارہ محسوس کیا گیا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین نہیں ہے کہ شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن پوری طرح سے پاک اور صاف ہیں۔ حالانکہ اروند کیجریوال بھوشن باپ بیٹوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے رہے۔ پھر ان پر سوا کروڑ کی اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری کا الزام لگا، یہی نہیں ان کو خوش کرنے کے لئے شانتی بھوشن اور انکے دوسرے بیٹے جینت بھوشن کو یوپی حکومت کے ذریعہ کروڑوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ دینے کا بھی الزام لگا۔ کہا یہ جارہا ہے کہ جینت بھوشن مایاوتی کے پارک کے خلاف مقدمہ لڑرہے ہیں اورکہیں ایسا تو نہیں کہ اس مقدمہ کو متائثر کرنے کے لئے ان دونوں باپ بیٹوں کو یہ زمین دی گئی ہو۔پرشانت بھوشن نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ الاٹمنٹ کینسل ہوجاتی ہے تو وہ اس کو چنوتی نہیں دیں گے مگر انہوں نے اس زمین کو خود واپس کرنے سے انکارکردیاہے۔
حالانکہ پرشانت بھوشن نے بہت ہی کم وقت میں سی ڈی کی دو دو نجی لیب سے فورینسک رپورٹ حاصل کرلی تھی جن میں یہ کہا گیا تھا کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور وہ چھیڑ چھاڑ صرف اتنی سی ہے کہ چھ جگہ پر بات چیت میں بریک کے نشانات ہیں۔ مگر انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس میں ان کے والد کی آواز نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی صفائی پیش کی کہ ان کے والد نے چار کروڑ کی رقم کی بات کہیں اور کہی ہوگی جسے یہاں استعمال کیا گیا ہے، اگر ایسا ہے تو کیا ان کے والد کی بات چیت بھی الگ سے ریکارڈ کی جارہی تھی۔ اس کے برخلاف سرکاری فورنسک لیب سے ملی رپورٹ جو کہ پرشانت بھوشن کی شکایت کے ساتھ پولیس کو سونپی گئی سی ڈی پر مبنی ہے کچھ اور ہی کہتی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں یہ بات صاف کی گئی ہے کہ اس سی ڈی کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے اور اس میں جو بھی بات چیت ریکارڈہے وہ ایک ہی وقت میں کی گئی ہے اور الگ الگ جگہ سے لیکر نہیں جوڑی گئی ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجودبھوشن باپ بیٹوں کا یہ مکرر انکار کے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ہیگڑے کا ذرا سی بات پر استعفیٰ دے دینا باپ بیٹوں کوشرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
ان تمام لن ترانیوں کا حکومت اور کانگریس کو بہت فائدہ ملا ہے ۔ایک فائدہ تو یہ ملا ہیکہ کانگریس نے اس بات کو صحیح ثابت کردیا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اس طرح اس نے انّا ہزارے کی تحریک کی ہوا نکال دی ہے اور سول سوسائٹی کو اپنے ہی ممبران کے طرف شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
ان حالات میں ایسا لگتا ہیکہ اگر اس قسم کی مہم دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کو عوام الناس کی ایسی زبردست تائید اور حمایت نہیں ملے گی جیسی کہ حال کے دنوں میں دیکھی گئی ہے کیونکہ اب ہر کوئی یہ مانگ کرے گا کہ ’’پہلا پتھر وہی پھینکے جس نے کوئی پاپ نہ کیا ہو‘‘۔

पहला पत्थर वही फेंके जिस ने कोइ पाप न किया हो

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

अफ़ीफ़ अहसन
शनिवार को जल संसाधन और अल्पसंखयक मामलों के केंद्रीय मंत्री सलमान खुर्शीद ने एक बयान दिया जिसमें उन्होंने लोकपाल विधेयक तैयार करने वाली समिति से इस्तीफा देने की कर्नाटक के लोकायुक्त की धमकी के बारे में कहा कि बिल की तैयारी के बारे में उनके उपयोगी सुझावों के प्रतीक्षा है. श्री खुर्शीद ने कहा कि वह हैगड़े की सेवाओं का मान करते हैं और वह स्वयं उनका बहुत सम्मान करते हैं. उन्होंने उम्मीद जताई कि वह समिति में बने रहेंगे और उनके उपयोगी सुझावों की ज़रूरत है, ‍और सरकार को भी उनके उपयोगी सुझावों की प्रतीक्षा है.
सलमान ख़ुर्शीद ने समिति के सदस्यों में बदलाव की संभावना को भी खारिज कर दिया और कहा कि उनका काम व्यापक लोक पाल विधेयक तैयार करने तक सीमित है. उन्होंने कहा कि लोगों की भूमिका पर चर्चा करने के बजाय बिल की क्षमता के आधार पर समीक्षा की जाए.
दूसरे तरफ कर्नाटक के लोक आयुक्त और लोक पाल विधेयक डराफ़टिंग समिति के सिविल सोसाइटी के द्वारा नामित सदस्य एन संतोष हैगड़े भी अन्ना हजारे के साथ बातचीत करने के बाद समिति में बने रहने पर सहमत हो गए हैं.
अब कांग्रेस ने इस बात का वचन दिया है कि किसी नेता और सरकार की ओर से अन्ना हजारे के समिति के किसी भी सदस्य पर कोई हमला नहीं किया जाएगा. सोनिया गांधी को अन्ना हजारे द्वारा लिखे गए पत्र और राष्ट्रीय सलाहकार परिषद की ओर से श्रीमती गांधी द्वारा दिए गए उत्तर की रोशनी में तय किया गया कि पार्टी के सभी नेताओं को इस मामले में सयंम बरतने की सलाह दी जा‍ए.
यही नहीं इससे पहले दिग्विजय सिंह ने हेगड़े से अपने बयान के लिए माफी मांग ली थी और सफाई भी दी थी. जब तक दिग्विजय सिंह, शांति भुशण और प्रशांत भुशण पर ज़बानी हमले करते रहे तब तक तो ठीक था लेकिन जिस दिन उन्होंने अपने हमलों का रुख संतोष हेगड़े की तरफ मोड़ा तो यह उनको उल्टा पड़ गया. संतोष हेगड़े बहुत ही साफ सुथरी छवी के व्यक्ति हैं और वह किसी भी लालच में नहीं आते.
इससे पहले भी उन्होंने 2010 में कर्नाटक के लोकपाल के पद से कर्नाटक की भाजपा सरकार पर भ्रष्टाचार से लड़ने में मदद न करने का आरोप लगाते हुए इस्तीफा दे दिया था. मगर बाद में लालकृष्ण आडवाणी की अपील पर उन्होंने अपना इस्तीफा वापस ले लिया था, इसके बाद उनकी मांगों को कुछ हद तक मानते हुए कर्नाटक की यदयुरप्पा सरकार ने उन्हें खुद सरकारी कर्मचारियों और अधिकारियों यहां तक ​​के मुख्य सचिव के खिलाफ शिकायतों की जांच के अधिकार दे दिए. कुछ शर्तों के साथ मुख्यमंत्री, मंत्रियों और सभी कॉरपोरेशनों और बोर्ड के और सरकारी कंपनियों के खिलाफ शिकायतों की जांच के अधिकार भी दे दिए.
हिन्दुस्तान में कर्नाटक ही एक ऐसा राज्य हे जहां पर मरहूम राजीव गांधी की सहमति से सब से पहले एक कानून के ज़रिए 1984 में लोकपाल विधेयक पास किया गया था, हालांकि पहले लोकपाल की नियुक्ति 1986 में ही की जा सकी. यही नहीं कर्नाटक को पहले सीवीसी की नियुक्ति का भी सम्मान प्राप्त है. देश के पहले सीवीसी की नियुक्ति 1964 में कर्नाटक में ही हुई थी.
1984 के लोकायुक्त बिल में लोकायुक्त को मुख्यमंत्री तक के खिलाफ जांच का अधिकार था और वह खुद ही कोई भी जांच शुरू कर सकता था मगर पहले लोकायुक्त की नियुक्ति के छ: महीने के अंदर ही अंदर उससे खुद जांच शुरू करने और मुख्यमंत्री के खिलाफ जांच करने का अधिकार छीन लिया गया.
विपरीत इसके शांति भुशण और प्रशांत भुशण दोनों पेशेवर वकील हैं और फीस के लिए काम करते हैं. जब उनके खिलाफ विभिन्न प्रकार के आरोप लगने लगे जिनमें एक सीडी भी थी जिसमें शांति भुशण को मुलायम सिंह और अमर सिंह से एक मामले के सिलसिले में किसी जज को मरउब करने के लिए बातें करते हुए और शांति भुशण को चार करोड़ की रकम की बात करते हुए सुना गया तो अन्ना हजारे ने अपने एक बयान में अपने अलावा किसी और की ईमानदारी की गारंटी लेने से साफ इनकार कर दिया और कहा कि वह अपने अलावा किसी और की ईमानदारी की गारंटी लेने को तैयार नहीं हैं. उनके इस बयान से यह संकेत पाया गया कि उन्हें इस बात का पूरा विश्वास नहीं है कि शांति भुशण और प्रशांत भुशण पूरी तरह से पाक और साफ हैं. हालांकि अरविंद केजरीवाल भुशण बाप बेटों के साथ कंधे से कंधा मिलाकर खड़े रहे. भूशण पर सवा करोड़ की स्टांप ड्यूटी की चोरी का आरोप भी लगा, यही नहीं उन्हें खुश करने के लिए शांति भुशण और उनके दूसरे बेटे जयंत भुशण को उत्तर प्रदेश सरकार द्वारा करोड़ों की ज़मीन को‍िडयों के भाव देने का भी आरोप लगा. कहा यह जा रहा है कि जयंत भुशण मायावती के पार्क के ख़िलाफ़ मुक़दमा लड़ रहे हैं और कहीं ऐसा तो नहीं कि इस मामले को मुतासिर करने के लिए इन दोनों बाप बेटों को ज़मीन दी गई हो. प्रशांत भुशण ने कहा है कि अगर यह अलाटम्ंट कैंसिल हो जाती है तो वह उसे चुनौती नहीं देंगे, लेकिन उन्होंने इस भूमि को स्वयं वापस करने से इन्कार कर दिया.
हालांकि प्रशांत भुशण ने तुरत-फुरत में सीडी की दो दो निजी लेब से फ़ोरेंस्क् रिपोर्ट प्राप्त कर ली थी जिन्में कहा गया था कि उसके साथ छेड़छाड़ की गई है और वह छेड़छाड़ केवल इतनी सी है कि छह स्थान पर बातचीत में रुकावट के निशान हैं. मगर उन्होंने इस बात से इनकार नहीं किया कि उनके पिता की आवाज़ नहीं है. उन्होंने यह भी सफाई पेश की कि उनके पिता ने चार करोड़ की रकम की बात कहीं और कही होगी जिसे यहाँ प्रयोग किया गया है, यदि उनकी बात सही है तो क्या उनके पिता की बात भी अलग से रिकॉर्ड की जा रही थी. इसके विपरीत सरकारी फ़ोरेंस्क् लेब से मिली ‍रिपोर्ट जो शांति‍ भुशण की शिकायत के साथ पुलि‍स को सौंपी गई सीडी पर आधारित है कुछ और ही कहती है. बताया गया है कि इस रिपोर्ट में यह बात साफ की गई है कि सीडी के साथ कोई छेड़छाड़ नहीं हुई है और जो भी बातचीत रिकार्ड की गयी है वह एक ही समय में की गई है अलग अलग जगह से लेकर नहीं जोड़ी गई हैं. इन सब बातों के बावजूद भुशण बाप बेटों का लगातार यह इन्कार की वे इस्तीफा नहीं देंगे और हेगड़े का ज़रा सी बात पर इस्तीफा दे देना बाप बेटों को शर्मिंदा करने के लिए काफी है.
इन सभी लन तरानियों का सरकार और कांग्रेस को बहुत फायदा मिला है. एक फायदा तो यह मिला है कि कांग्रेस ने इस बात को सही साबित कर दिया कि इस हमाम में सब नंगे हैं, इस तरह उसने अन्ना हजारे के आंदोलन की हवा निकाल दी है और सिविल सोसाइटी को ही अपने सदस्यों के द्वारा शक की निगाह से देखने पर मजबूर कर दिया है.
इन हालात में ऐसा लगता है कि यदि इस प्रकार का अभियान दोबारा शुरू होती है तो लोगों में संभवत उसका ऐसा जबर्दस्त समर्थन और सहयोग नहीं मिलेगा जैसा कि हाल के दिनों में देखा गया है, क्योंकि अब हर कोई यह मांग करेगा कि पहला पत्थर वही फेंके जिसने कोई पाप न किया हो.

Monday, 18 April 2011

क्या लोकपाल बिल से भ्रष्टाचार का अंत होगा?

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
प्रकाशित: 18 अप्रैल 2011

अफ़ीफ़ अहसन
इसमें कोई शक नहीं है कि इस समय देश का सबसे बड़ा मुद्दा भ्रष्टाचार है. मगर इसमें भी कोई शक नहीं है कि भ्रष्टाचार से निपटने के लिए हमें उसकी जड़ पर हमला करना चाहिए. मगर लगता एसा हे कि कुछ लोग उसकी जड़ के बजाय उसके फल से लाभान्वित होने वालों पर ज़बानी हमले करते रहते हैं और उसकी जड़ पर हमला करने की नहीं सोचते, जिससे यह पेड़ फलता फूलता रहता है, ओर भ्रष्टाचार का खात्मा नहीं हो पाता.
किसी ज़माने में बर्गद के पेड़ को बहुत महत्व प्राप्त था और यह हर गांव का मुख्य पेड़ होता था, और इसी पेड़ के नीचे गांव की पंचायत भी लगा करती थी जहां पर गरीब को मुफ्त में न्याय प्राप्त हुआ होता था. मगर आज वह पुराना बर्गद का पेड़ कहाँ? और वह मुफ्त का न्याय कहाँ? अब तो करोड़ों रुपये खर्च करके भी आप न्याय की उम्मीद नहीं कर सकते. आज वकील करोड़ों रुपए की फीस वसूलते है. कभी कभी तो एसा लगता है कि गरीब को न्याय मिल ही नहीं सकता.
भ्रष्टाचार, परिवार वाद और बद दयानती का यह पेड़ आज़ादी के बाद से दिन बदिन बढ़ता और फलता फूलता चला गया और आज उस ने बर्गद के एक घने पेड़ का रूप धारण कर लिया है जिसके आगे अन्य सभी पेड़ बोने दिखाई देते हैं. यही नहीं इसमें और नयी नयी जड़ें निकल आई हैं जिसके सहारे उसने पूरे जंगल को अपनी लपेट में ले लिया है. बर्गद के पेड़ की एक विशेषता यह भी है कि इसके नीचे किसी भी तरह की वनस्पति पनप नहीं सकती, इसलिए इसके नीचे की ज़मीन पर अन्य पौधे नहीं पाऐ जाते. इसका कारण यह बताया जाता है यह कि पेड़ ‍सुरज की रोशनी को जमीन तक नहीं पहुंचने देता जो कि किसी भी पौधे के जीवित रहने के लिए आवश्यक है. भ्रष्टाचार के पेड़ को न चाहते हुए भी प्रत्येक भारतीय को पानी देना पड़ रहा है और भ्रष्टाचार के जीन्स हमारी अगली पीढ़ी में भी भी प्रवाहित हो गए हैं.
आन्ना हज़ारे के अंशन शुरू करने के दूसरे दिन मेरे एक मित्र मुझसे मिलने आए. वह मुझसे पूछने लगे की "क्या आपने आन्ना हज़ारे को फोन किया? मैंने ना में जवाब दिया तो उन्होंने बड़े दुख के साथ कहा कि आप ने ऐसा क्यों नहीं किया. तो मैंने मजाक में कहा कि मेरे फोन में बेलेंस नहीं था. उन्होंने कहा कि ''अरे आप को तो एक मिस कॉल ही करनी है, उसमें बेलेंस के होने और न होने की क्या बात है, मैं तो उनको अभी अभी मिस कॉल करके आ रहा हूँ, मेरा एक भी पैसा खर्च नहीं हुआ''. मैंने उनसे पूछा कि इस से क्या होगा तो उन्होंने कहा कि आन्ना हज़ारे उन लोगों के खिलाफ अंशन कर रहे हैं जो रिश्वत लेते हैं और देश को लूट कर खा रहे हैं. मैंने अपने दोस्त से निवेदन किया कि जनाब यदि हमें भ्रष्टाचार का अंत करना है तो हमें सबसे पहले स्वंय यह क़सम खानी होगी कि हम किसी को एक पैसा भी रिश्वत नहीं देंगे, यही नहीं इस अभियान में प्रत्येक व्यक्ति अपनी धार्मिक पुस्तक पर हाथ रख कर यह क़सम भी खाये कि वह न तो रिश्वत देगा और न ही रिश्वत लेगा, और यह कि चाहे कुछ भी हो वह किसी के साथ भी कोई भेदभाव या द्वेश नहीं करेगा और न ही होने देगा जो कि भ्रष्टाचार की ही एक किसम है.
सिविल सोसाइटी के ऐसे दस्ते बनाए जाएं जो कार्यालय कार्यालय जाकर हर एक सरकारी नौकर को यह क़सम दिलायें कि वह किसी भी प्रकार के भ्रष्टाचार में न तो खुद शामिल होगे और न ही किसी को इस में शामिल होने देंगा और अगर कोई शामिल पाया जाता है तो उसका सरे आम मुंह काला किया जाय.
इस पर हमारे दोस्त ने फ़र्माया कि यह कैसे हो सकता है. अभी तो हम थोड़े बहुत पैसे देकर सरकारी कार्यालय से अपना काम निकाल लेते हैं यदि ऐसा हो गया तो हमारा कोई भी काम नहीं होगा और हमें लाइन में लगना होगा और यह भी हो सकता है कि हम हर दिन लाइन में लगें और हमारा नंबर कभी भी न आए. मैंने कहा कि आप तो पाखंडी बात कर रहे हैं तो उन्होंने कहा कि ''मैं तो केवल नेतऔं के भ्रष्टाचार की बात कर रहा हूँ क्योंकि ये लोग तो देश को लूट कर खा रहे हैं और केवल इस पर रोक लगनी चाहिय''. अब आप ही बताएं के भ्रष्टाचार विरोधी अभियान के समर्थक अगर ऐसे लोग हों तो देश का भगवान ही मालिक है.
इस अभियान को चलाने वाली एनजीओ भारत अगेन्स्ट करप्शन ने जो ब्युरा पेश किया है उसमें उसने बताया कि उसे 82,87,668 रुपये का दान मिला है जिसमें से उसने 50,17,768 रुपये खर्च कर दिए हैं. यदि 96 घंटे अभियान चलाने का खर्च पचास लाख आता है जिसमें कि हर व्यक्ति को केवल अंशन ही करना था तो अगर यह अभियान आगे चलता तो  कितना खर्च आता. इस एनजीओ की वेबसाइट पर 45 दानियों की सूची दी गई है मगर यह नहीं बताया गया है कि किसने कितना चंदा दिया है. यही नहीं इस सूची में अभियान में शामिल करोड़पतियों और अरबपतियों के नाम नहीं हैं. कुछ ओर एनजीओ भी पैदा हो गई हैं जो अलग अलग दान जमा कर रही हैं. ऐसी ही एक संगठन डांडी मार्च2 है जो देश के बाहर दान ले रही है और उसके बारे में कोई भी ब्युरा नहीं मिला है कि उसने अब तक कितनी राशि जमा की और कहाँ खर्च की है.
आन्ना हजारे को छोड़कर सिविल सोसाइटी के हर किसी सदस्य की संपत्ति पर सवाल उठ रहे हैं. हालांकि कभी आन्ना हजारे पर दो लाख रुपए के ग़लत खर्च करने का आरोप लगा था मगर इसके अलावा उनके ख़िलाफ़ कोई अन्य आरोप नहीं है. सिविल सोसाइटी का कमीटी में नामित कोई सदस्य लखपति है तो कोई करोड़पति, और कोई और अरबपती. एक सदस्य तो पिछले कुछ सालों में ही अरब पति बने हैं और उसे वैध ठहराने के लिए उन्होंने पिछले दस साल की आमदनी का ब्युरा भी दिया है हालांकि उसकी बिल्कुल जरूरत नहीं थी. एक अरबपती सदस्य अपने मकान मालिक की कोठी पर कब्जा करके उन्हें मजबूर करके उनसे उस कोठी का दो तिहाइ भाग एक लाख में अपने नाम लिखवाकर अरबपति बने हैं.
इस अभियान के सार्वजनिक होने का इस से बड़ा सबूत क्या होगा कि इसमें आगे आगे रहने वाले अधिकतर नायक करोड़पति हैं, बड़े बड़े बंगलों में रहते हैं, हवाई जहाज़ से यात्रा करते हैं और बड़ी बड़ी गाड़ियों में घूमते हैं.
देश के सामने मोजूद आंतरिक और बाहरी खतरों के बावजूद हमारे राजनीतिक नेतृत्व का रवैया दुखद रहा है. जबकि पिछले कुछ वर्षों के दौरान, सिविल सोसाइटी संगठनों, वकील समुदाय और मीडिया ने बहुत सकारात्मक भूमिका निभाई है. बहरहाल जब तक उनकी कोशिशों को हिन्दोस्तानी समाज का पूरा सहारा नहीं मिलेगा तो उनको शक्तिशाली लोगों और सरकार द्वारा प्रोत्साहनों, पर्लोभन और धमकियों द्वारा बे असर कर दिया जाएगा.
इस सहारे को बढ़ने में समय लगेगा क्योंकि हमारे समाज में बदलाव की इच्छा रखने वाली शक्तियां बिखरी हुई हैं इसलिए वह सरकार पर इतना दबाव नहीं डाल सकते कि वह अपने तोर तरीक़े सही कर ले और हिन्दुस्तान की जनता की इच्छाओं के अनुसार कार्य करे. ऐसा आवश्यक है कि लोकतांत्रिक शक्तियों को एकजुट करने के तरीके खोजे जाएं.
प्रमुख राजनीतिक पार्टियों के यह दावे गलत साबित हो चुके हैं कि उन्हें जनता का समर्थन प्राप्त है जब हम यह देखते हैं कि मतदान के दिन केवल 45 से 50 प्रतिशत लोग अपने अधिकार का प्रयोग करने मतदान केंद्र पर जाते हैं. और 45 से 50 प्रतिशत में से केवल 30 प्रतिशत वोट हासिल करने वाली पार्टी देश में सत्ता में आजाती है और उसका प्रतिनिधि प्रधानमंत्री बन जाता है. बहुत से ऐसे लोग हें जो मामलात को समझते हैं और अच्छे और बुरे राजनीतिज्ञों के बीच तमीज़ कर सकते हैं, उनमें से बहुमत वोट देने की ज़हमत गवारा नहीं करती. ताकतवर लोग और उद्योगपति जो राजनीतिक पार्टियों का नेतृत्व करते हैं अपने कार्यकर्ताओं और यहाँ तक कि सशस्त्र गुटों द्वारा काम करते हैं. उन राजनीतिक नेताओं का एक विशिष्ट वोट बैंक है. और जब वह सत्ता में होते हैं तो अपने मनपसंद लोगों को हर प्रकार लाभ पहुंचाते हैं. यह वही नेता हैं जो सत्ता में आने के बाद सरकार चलाने की प्रक्रिया को नष्ट करते हैं.
किसी ज़माने में आन्दोलन जनता द्वारा चलता था और हर आम आदमी स्वयं इस का हिस्सा होता था. अगर किसी जलसे जुलूस में जाना होता था तो लोग अपना किराया खर्च कर के जाते और अपने हाथों से पोस्टर और बैनर तैयार कर के ले जाते थे. मगर अब हालात बदल गए हैं. इंटरनेट और मोबाइल फोन की उपलब्धता ने सिविल सोसाइटी की शक्ति में एक और पहलू शामिल कर दिया है, जिसे भारत में परिवर्तन लाने के लिए इस्तेमाल किया जा रहा है. पूरी दुनिया में अपराध, भ्रष्टाचार और पर्दा के पीछे की हस्तियों को बेनक़ाब करने में मीडिया आज इतना स्वतंत्र है जितना कभी नहीं था और इस कारण यह शासन प्रणाली का अनुकूलन करने में सहायक हो सकते हैं.
कुछ लोग सिविल सोसाइटी संगठनों पर आपत्ति करते हैं. उन्हें लगता है कि इन संगठनों ने बिना चुनाव या नियुक्ति के जबर्दस्त शक्ति प्राप्त कर ली. लेकिन इन संगठनों को लोकतंत्र का सहायक और सहारा समझा जाना चाहिए. एक राष्ट्र के तोर पर हमारे लिए यह अंतिम अवसर है. बदलाव व्यक्तिगत स्तर से शुरू होना चाहिए फिर परिवार के स्तर पर और उसके बाद समुदाय के स्तर पर आना चाहिए और इस तरह हिन्दुसतान में भूमिका और भ्रष्टाचार के रोग का इलाज होना चाहिए. हिंदुस्तान को विचार की क्रांति की आवश्यकता है जो नीचे से उठकर ही ऊपर आ सकता है. व्यकित विशेष पर आरोप लगाने या दूसरों को जिम्मेदार ठहरा देने भर से नहीं जिसमें हमेशा नेताओं से अपेक्षा की जाती है कि वह बदलाव लाएं जो जोकरों को टोपी पहनाने जेसा है.

کیا لوکپال بل سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
 عفیف احسن 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بدعنوانی سے نپٹنے کے لئے ہم کو اس کی جڑ پرحملہ کرنا چاہئے ۔مگر لگتا ایساہے کہ کچھ لوگ اس کی جڑ کے بجائے اس کے ثمرسے مستفید ہونے والوں پر زبانی حملہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی جڑ پر حملہ کرنے کی نہیں سوچتے، جس سے یہ پیڑ پھلتا پھولتا رہتا ہے اور بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوپاتاہے۔
کسی زمانے میں برگد کے درخت کو بہت اہمیت حاصل تھی اور یہ ہر گاؤں کا مرکزی پیڑ ہوتا تھا، اور اسی پیڑ کے نیچے گاؤں کی پنچایت بھی لگا کرتی تھی اورغریبوں کو مفت میں انصاف حاصل ہوا کرتا تھا۔مگر آج وہ پرانا برگد کا درخت کہاں؟ اور وہ مفت کا انصاف کہاں؟ اب تو کروڑوں روپئے خرچ کرکے بھی آپ انصاف کی امید نہیں کرسکتے۔آج کے وکیل کروڑوں روپئے فیس وصولتے ہیں۔ کبھی کبھی توایسا لگتا ہے کہ غریب کو انصاف مل ہی نہیں سکتا۔
بدعنوانی، کنبہ پروری اوربد دیانتی کایہ درخت آزادی کے بعد سے روز بروز بڑھتا اور پھلتا پھولتا چلا گیا اور آج س نے برگد کے ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلی ہے جس کے آگے دوسرے تمام درخت بونے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں اس میں مزید نئی نئی جڑیں نکل آئی ہیں جس کے سہارے اس نے پورے جنگل کو اپنی لپییٹ میں لے لیا ہے۔برگد کے پیڑ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس کے نیچے کسی بھی طرح کی نباتات پنپ نہیں سکتی اس لئے اس کے نیچے کی زمین پر دوسرے پودے نہیں پنپ سکتے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ پیڑسورج کی روشنی کو زمین تک نہیں پہنچنے دیتاجوکہ کسی بھی پودے کی بقاء کے لئے لازمی ہے۔ بدعنوانی کے اس درخت کی آبیاری نہ چاہتے ہوئے بھی ہر ایک ہندوستانی کو کرنی پڑرہی ہے، اور بدعنوانی کے جینس ہماری اگلی پیڑھی میں بھی سرایت کرگئے ہیں۔
انّا ہزارے کے انشن شروع کرنے کے دوسرے دن میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے ۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کے کیا آپ نے انّا ہزارے کو فون کیا؟ میں نے نفی میں جواب دیاتو انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ تو میں نے مذاق میں کہا کہ میرے فون میں بیلنس نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ’’ ارے آپ کو تو صرف ایک مس کال ہی کرنی ہے، اس میں بیلنس کی ہونے اور نہ ہونے کی کیا بات ہے، میں تو ان کو ابھی ابھی مس کال کرکے آرہا ہوں اورمیرا ایک بھی پیسا خرچ نہیں ہوا‘‘۔میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کرنے سے کیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا کہ انّا ہزارے ان لوگوں کے خلاف انشن کررہے ہیں جو رشوت خور ہیں اور ملک کو لوٹ کر کھارہے ہیں۔
میں نے اپنے دوست سے عرض کیا کہ جناب اگر ہمیں بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے توخود یہ قسم کھانی ہوگی کہ ہم کسی کو ایک پیسہ بھی رشوت نہیں دیں گے، یہی نہیں اس مہم میں شامل ہر ایک شخص اپنی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر یہ قسم بھی کھائے کہ وہ نہ تو رشوت دے گا اور نہ ہی رشوت لے گا، مزید یہ کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ کسی کے ساتھ بھی کوئی تفریق یا امتیازی سلوک نہیں کرے گانہ ہی ہونے دے گاجو کہ بدعنوانی کی ہی ایک قسم ہے۔سول سوسائٹی کے ایسے دستے بنائے جائیں جو دفتر دفتر جاکر ہر ایک سرکاری نوکر کو اس بات کی قسم دلائے کہ وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں نہ تو خود ملوث ہوگا اور نہ ہی کسی کو اس میں شامل ہونے دیگا اور اگر کو ئی ملوث پایا جاتا ہے تو اس کا سر عام منہ کالا کیاجانا چاہئے۔
اس پر ہمارے دوست نے فرمایہ کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ابھی تو ہم تھوڑے بہت پیسے دیکر سرکاری دفاتر سے اپنا کام نکال لیتے ہیں اگر ایسا ہوگیا توہمارا کوئی بھی کام نہیں ہوگا اور ہمیں لائن میں لگنا پڑے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم روز لائن میں لگیں اور ہمارا نمبر کبھی بھی نہ آئے۔ میں نے کہا کہ آپ تو دوغلی بات کر رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ’’ میں تو صرف نیتاؤں کی بدعنوانی کی بات کررہا ہوں کیونکہ یہ لوگ تو دیش کو لوٹ کر کھارہے ہیں اور صرف اس پر روک لگنی چاہے‘‘۔ اب آپ ہی بتائیں کے بدعنوانی مخالف مہم کے حامی اگر اس قسم کے لوگ ہوں تو پھر ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔
اس مہم کو چلانے والی این جی او انڈیا اگینسٹ کرپشن نے جو بیورا پیش کیا ہے اس میں اس نے بتایا ہے کہ اس کو82,87,668روپئے کا چندہ ملا ہے جس میں سے اس نے50,17,768روپئے خرچ کردئے ہیں۔اگر چھیانوے گھنٹے کی مہم چلانے کا خرچہ پچاس لاکھ آتا ہے جس میں کہ ہر شخص کو انشن ہی کرنا تھا تو اگر یہ مہم آگے چلتی تو اورکتنا خرچ آتا۔اس این جی او کی ویب سائٹ پرصرف پینتالیس لوگوں کی فہرست دی گئی ہے اور یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کس نے کتنا چندہ دیا ہے۔ یہی نہیں اس فہرست میں مہم میں شامل کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کے نام بھی نہیں ہیں۔کچھ ذیلی این جی اوز بھی پیدا ہوگئی ہیں جو کہ الگ الگ چندہ کررہی ہیں۔ایسی ہی ایک انجمن ڈانڈی مارچ2ہے،جو دیش کے باہر چندہ جمع کررہی ہے اور اس کے بارے میں کوئی بھی بیورہ نہیں ملا ہے کہ اس نے اب تک کتنی رقم جمع کی اور کہاں خرچ کی ہے۔
انّا ہزارے کو چھوڑ کر ہر کسی سول سوسائٹی کے ممبر کے اثاثوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔حالانکہ بہت پہلے انّا ہزارے پر بھی دو لاکھ روپے کے بے جا تصارف کا الزام لگاتھا مگر اس کے علاوہ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ سول سوسائٹی کاکمیٹی میں نامزد کوئی ممبر لکھ پتی ہے تو کوئی کروڑ پتی ، اور کوئی اور ارب پتی۔ایک ممبر تو پچھلے چند سالوں میں ہی ارب پتی ہوئے ہیں اور اس کو جائز ٹھہرانے کے لئے انہوں نے پچھلے دس سال کی آمدنی کا بیورہ بھی پیش کردیا ہے ہالانکہ اس کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اور ارب پتی ممبر اپنے مکان مالک کی کوٹھی پر قبضہ کرکے اور ان کو مجبورکرکے ان سے دوتہائی حصہ صرف ایک لاکھ میں اپنے نام لکھواکر ارب پتی بنے ہیں۔ا س مہم کے عوامی ہونے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اس میں آگے آگے رہنے والے زیادہ تر قائدین کروڑ پتی ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں ، ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں، اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔
ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کے باوجود ہماری سیاسی قیادت کا رویہ بھی افسوسناک رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران، سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکیل برادری، اور میڈیا نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا ہے۔ بہرحال جب تک ان کی کوششوں کوہندوستانی معاشرہ کا مکمل سہارا نہیں ملے گا تو ان کو طاقتور حلقوں اور حکومت کی طرف سے ترغیبات اور دھمکیوں کے ذریعہ بے اثر کردیا جائے گا۔ اس سہارے کو بڑھنے میں وقت لگے گا کیونکہ ہمارے معاشرہ میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والی طاقتیں بکھری ہوئی ہیں لہٰذا وہ حکومت پر اتنا دباؤ نہیں ڈال سکتیں کہ وہ اپنے انداز و اطوار درست کرلے اور ہندوستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق کام کرے۔ ان حالات کا تقاضہ ہے کہ جمہوری طاقتوں کو یکجا کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں۔
سرکردہ سیاسی پارٹیوں کے یہ دعوے غلط ثابت ہوچکے ہیں کہ ان کو عوام کی حمایت حاصل ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ووٹنگ کے د ن صرف45 سے50 فیصد لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پولنگ بوتھ پر جاتے ہیں۔ اور اس 45 سے50 فیصدمیں سے بھی صرف 30فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی ملک میں برسراقتدار آجاتی ہے اور اس کا نمائندہ وزیراعظم بن جاتا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ جومعاملات کو سمجھتے ہیں اور اچھے اور برے سیاستدانوں کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں، ان میں سے اکثریت ووٹ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ طاقتور لوگ اور صنعت کار جو سیاسی پارٹیوں کی قیادت کرتے ہیں اپنے کارکنوں اور حتی کہ مسلح گروہوں کے ذریعہ کام کرتے ہیں۔ ان سیاسی لیڈروں کا ایک مخصوص ووٹ بینک ہے۔ اور جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنے من پسند کے لوگوں کو ہر طرح فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہی وہ لیڈر ہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد حکومت چلانے کے نظام کو تباہ کرتے ہیں۔
کسی زمانے میں تحریکیں عوام کے ذریعہ چلائی جاتی تھیں اور اس میں ہر عام آدمی ذات ذاتی شریک ہوتا تھا۔اگر کسی جلسے جلوس میں جانا ہوتا تھا تو لوگ اپنا کرایہ خرچ کرکے جاتے اور اپنے ہاتھوں سے پوسٹر اور بینر تیار کرکے لے جاتے تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی دستیابی نے سول سوسائٹی کی طاقت میں ایک اور پہلو شامل کردیا ہے جسے ہندوستان میں تبدیلیاں لانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں جرائم، بدعنوانی اور پردہ پوشیوں کو بے نقاب کرنے میں میڈیا آج اتنا آزاد ہے جتنا کبھی نہیں تھا اور اس نتیجے میں یہ حکمرانی کے نظام کی اصلاح کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔
کچھ لوگ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے جواز پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان تنظیموں نے بغیر انتخابات یا تقرر کے اپنے لئے زبردست طاقت حاصل کرلی ہے۔ لیکن ان تنظیموں کو جمہوریت کا معاون اور سہارا سمجھا جانا چاہئے۔ بطورایک قوم ہمارے لئے یہ آخری موقع ہے۔ تبدیلی انفرادی سطح سے شروع ہونا چاہئے پھر کنبہ کی سطح پر اور اس کے بعد برادری کی سطح پر آنا چاہئے اور اس طرح ہندوستان میں کردار اور بدعنوانی کے امراض کا علاج ہونا چاہئے۔ ہندوستان کو خیالات کے ایک انقلاب کی ضرورت ہے جو نیچے سے اٹھ کر اوپر جائے۔ مخصوص الزام تراشی یا دوسروں کو ذمہ دار قرار دینا نہیں جس میں ہمیشہ لیڈروں سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ تبدیلی لائیں جو جوکروں کوٹوپی پہنانے کے مترادف ہے۔

Monday, 11 April 2011

बहरीन का विरोध इतिहास के आईने में 2

बहरीन के इतिहास ने कई उतार चढ़ाओ देखे हैं. कुछ को छोड़कर अधिकांश समय बहरीन पर ईरान का कबज़ा रहा है और बहरीन ईरानी म्मिलकत का ही हिस्सा रहा है. मगर बहरीन में अलखलीफा परिवार के सत्ता में आने के बाद उसने कई उतार चढ़ाओ देखे हैं. अलखलीफा परिवार बहुत चालाक साबित हुआ, वह कभी ईरान के साथ होजाता था तो कभी ब्रिटेन के साथ.
जब 1820 में अलखलीफा परिवार बहरीन में सत्ता में आया तो उसने अपनी ताकत को मजबूत करने के लिए ब्रिटेन के साथ समझौता कर लिया जो उस समय फारस की खाड़ी में सैन्यशक्ति में ग़ालिब था. इस करार ने अलखलीफा को बहरीन के शासक की पदवी से सम्मानित किया.
1830 में उसमानिया राज्य द्वारा जब मिस्र के मोहम्मद पाशा ने अरब द्वीप समुह को वहाबयों से मुक्त करा लिया तो शेख आबदुलखलीफा ने ईरानी सरकार की बैअत कर ली ताकि मिस्र को बहरीन पर कब्जा करने से रोका जा सके.
1860 में अलखलीफा सरकार ने उस समय यही दांव अपनाया जब ब्रिटेन बहरीन में कबज़े की कोशिश कर रहा था, तब शेख मोहम्मद बिन खलीफा ने उस समय ईरान के शाह नसीरुद्दीन को एक पत्र लिखकर खुद को और उन्हें भाई भाई बताया और बहरीन के सभी लोगों के ईरान की जनता होने की घोषणा की. ईरानी विदेश मंत्री को लिखे एक अन्य पत्र में शेख खलीफा ने ईरान सरकार से मांग की कि वह उनका सीधा मार्गदर्शन करे और ब्रिटेन के दबाव से सुरक्षा दे.
कर्नल सर लेविस पीली के दबाव के बाद शेख़ मोहम्मद ने ईरान से सैनिक सहायता का अनुरोध किया, लेकिन उस समय ईरान सरकार के पास ब्रिटिश अतिक्रमण से बहरीन की रक्षा करने की क्षमता नहीं थी, इसलिए, ब्रिटिश भारतीय सेना ने अंत में बहरीन पर कबज़ा कर लिया ओर
1861 में कर्नल पीली ने शेख मोहम्मद के साथ और बाद में उसके भाई शेख अली के साथ समझौतों पर हस्ताक्षर किए जिसके तहत बहरीन को ब्रिटिश सरकार का संरक्षित राज्य बना दिया गया. जब ब्रिटिश सेना बहरीन में दाखिल हुई तो उनहोंने पाया कि शेख़ मोहम्मद बिन खलीफा ने बहरीन की सभी मीनारों और कि़लों पर ईरानी ध्वज लहरा दिया था.
1868 में ब्रिटेन के प्रतिनिधियों ने अलखलीफा परिवार के शासकों के साथ एक समझौते पर हस्ताक्षर किए और बहरीन ने फारस की खाड़ी में ब्रिटेन के असरवाले सुरक्षित क्षेत्र में शामिल होना मान लिया. यह समझौता फारस की खाड़ी के दूसरे राज्यों के साथ ब्रिटिश सरकार द्वारा किए गए समझौतों की तरह ही था जिस में यह स्पष्ट किया गया था कि सत्तारूढ़ वर्ग इस क्षेत्र को ब्रिटेन के सिवाय किसी दूसरे के इसतेमाल में नहीं दे सकता
है और किसी भी विदेशी सरकार के साथ ब्रिटेन की अनुमति के बिना संधी नहीं हो सकती है, उसके बदले में ब्रिटेन ने सागर की ओर से किसी भी अतिक्रमण से बहरीन की सुरक्षा और देश पर जमीनी हमले की स्थिति में उसका साथ देने का वादा क्या, मज़ीद यह कि ब्रिटेन बहरीन में अलखलीफा के शासन का समर्थन करता है और देश के शासक के रूप में उसकी अस्थिर स्थिति को मज़बूत करने का वादा भी करता है.
1880 और 1892 के दूसरे समझौतों की वजह से बहरीन सरकार को ब्रिटेन द्वारा समर्थित सरकार की पूर्ण दर्जा मिल गया. और इस तरह बहरीन जो व्यावहारिक रूप से 1783 में ईरान के मातहत था अधीकारिक तौर पर 1868 और अन्तिम बार 1892 के वर्ष के बीच ईरान से अलग हुआ. भारत के साथ बहरीन के व्यवसाय ने उपमहाद्वीप की संस्कृति पर नाटकीय प्रभाव दिखाया, कपड़े, भोजन और शिक्षा सहित, हर चीज पर भारतीय रंग दिखाई देने लगा.
1911 में बहरीन के व्यापारियों के एक समूह ने बहरीन में ब्रिटेन के प्रभाव और हस्तक्षेप पर लगाम लगाने की मांग की तो आंदोलन के नेताओं को गिरफ्तार कर लिया गया और देश निकाला दे कर भारत भेज दिया गया. 1923 में ब्रिटेन के विरोध का आरोप लगाया गया और शेख ईसा बिन अली को हटा कर बहरीन में एक स्थायी प्रतिनिधि नियुक्त कर दिया गया. यह सब ईरान के बहरीन पर स्वामित्व के दावे के नवीनीकरण से सहमती के साथ हुआ बर्तानिया ने शेख ईसा पर दावा का स्वागत करने का आरोप लगाया था. इसके अलावा बहरीन पर ईरान द्वारा स्वामित्व के दावे के नवीनीकरण से लोगों द्वारा दिखाइ गयी सहबद्ध ब्रिटेन के लिए चिंता का कारण बन गयी. इन समस्याओं के समाधान के लिए ब्रिटेन ने अपने सबसे अनुभवी कालोनियल अधिकारी, सर चार्ल्स बेलगरेव को 1926 में बहरीन के अमीर के सलाहकार के रूप में भेजा. उसने बहुत सख्त कदम उठाए जिससे लोगों की बढ़ती नफरत में और वृद्धि हुई, जिसका परिणाम 1957 में बहरीन से उनके निष्काशन के रूप में सामने आया.
1927 में रज़ा शाह ने लीग आफ नेशन्स को एक पत्र लिखकर बहरीन की वापसी की मांग की. ब्रिटेन का मानना था कि बहरीन में उसका कमज़ोर तसल्लुत खाड़ी फारस की खाड़ी पर नियंत्रण खोने का कारण बनेगा, और उस ने किसी भी कीमत पर बहरीन के लोगों के बीच आपस में नहरत फैलाने का फैसला किया. इस को अंजाम तक पहुंचाने के लिए ब्रिटिश तत्वों ने बहरीन के शिया और सुन्नी समुदाय के बीच विवादों को हवा दी और प्रेरित या.
बहरीन में ब्रिटिश चार्ल्स बेलगरेव के शेख़ हमाद इब्ने ईसा अलखलीफा (1872-1942) के सलाहकार के कार्यकाल के दौरान 1926 और 1957 के बीच महत्वपूर्ण सामाजिक सुधारों का आधार पड़ी. 1919 में इमाम हिदायत ब्वाय स्कूल के उद्घाटन के साथ देश के पहले आधुनिक स्कूल की स्थापना की गई जबकि अरब फारस की खाड़ी का पहला लड़कियों का स्कूल 1928 ई. में खुला. डच रैफार्म चर्च की ओर से अमेरिकी मिशन अस्पताल ने 1903 ई. में काम करना शुरु कर दिया. अन्य सुधारों में गुलामी की समाप्ती शामिल हैं, जबकि सागर से मोती निकालने के उद्योग ने तेज रफतार से विकास किया.
इन सुधारों का बहरीन के कई ताक़तवर समूहों द्वारा ओर सत्तारुड परिवार के भीतर, कबायली सेना, धार्मिक अधिकारियों और व्यापारियों सहित भारी मुखालफ़्त का सामना रहा. रूडीवादियों की दबाने के लिए ब्रिटेन ने अमीर ईसा बिन अली अलखलीफा को हटा दिया और 1923 में उनके बेटे को उसकी जगह दे दी. कुछ सुन्नी कबीलों जैसे अलदोसारी को ज़बरदस्ती बहरीन से बाहर निकाल दिया गया और अरब की धरती पर भेज दिया गया, जबकि सामाजिक सुधारों के विरोधी मोल‍वियों को सऊदी अरब और ईरान भेज दिया गया और कुछ राज घरानों और महत्वपूर्ण परिवारों के मुख्याओं को देश निकाला दे दिया गया. बहरीन में आधुनिकता के इस कदम की ब्रिटेन की सऊदी वहाबी और ईरान के बहरीन के बारे में आज़ाएम के भय ने प्रोत्साहित किया था.
तेहरान से जारी किए जा रहे बहरीन के शिया बहुल समर्थन के बयान सुन कर कोई भी व्यक्ति यह मान सकता है कि शायद बहरीन के शिया विपक्षी पड़ोस के अपने हम मसलकों की मदद पर निर्भर है. लेकिन वास्तविकता इसके बिल्कुल विपरीत है. सच तो यह है कि शिया विपक्ष तेहरान से इस से अधिक और कुछ नहीं चाहता कि वह इस छोटे से राज्य में चल रहे विवाद से बाहर ही रहे.
मुख्य धारा की विपक्षी पार्टी की सबसे बड़ी मांग एक संवैधानिक बादशाहत का स्थापना है जैसा कि यूरोप के कई देशों में है. अन्य माँगो में चूनी हुइ सरकार, एक स्वतंत्र प्रेस, एक मुक्त सिविल सोसाइटी और सुन्नी अल्पसंख्यक समुदाय को छोड़कर बाकी अन्य धर्म और मसलकों के खिलाफ बरता जा रहा भेदभाव, जैसे रोजगार के ना बराबर अवसर, माल व धन का गैर बराबर वितरण और हर प्रकार के प्रशासनिक और वित्तीय भ्रष्टाचार का खातमा शामिल हैं.
अब जब कि दुनिया का ध्यान लीबिया पर केंद्रित है, बहरीन के केंद्रीय धारा की विपक्ष खुद को तेहरान के शासकों से दूर करने की कोशिश कर रही है.शेख अली जो अलविफाक़ पार्टी के महासचिव हैं जो एक शिया विपक्ष दल है ने सार्वजनिक रूप से मार्च में यह घोषणा की थी कि उनकी संस्था ईरान वाली रहबर ए आज़म वाली विलायत अलफकीह वाली शैली के शासन के विचार को लागू करने की बिल्कुल इच्छुक नहीं है. इन तथ्यों को जानते बोझ हुए ईरान की ओर से युवा ईरानी लड़कों को विपक्ष के साथ बहरीन के विरोध प्रदर्षन में शामिल होने के लिए भेजने के बड़े बड़े वादे से पता चलता है कि ईरान दुनिया को यह दिखाने की कोशिश कर रहा है कि वह इस संकट में बहरीन के शिया के साथ है.
वास्तव में बहरीन इस इलाके में राजनीतिक रूप से सबसे अधिक जागरुक राज्यों में से एक है. सुधार की मांग कुछ हफ्ते पहले, जब से बहरीन में बेचैनी शुरू हुइ है, नहीं निकल आइ है बल्कि इस का इतिहास 1971 ई. में ब्रिटेन से राज्य की स्वतंत्रता से पहले का है.
शिया बहुमत के मुकाबले के लिए पिछले दिनों सऊदी सेना के बहरीन में आना वहां के शासकों की केवल एक चाल है ताकि स्थिति को ज्यों का त्यों बनाए रखा जाए और विपक्ष की इस मांग को दबाया जा सके कि बिना विलम्ब के एक पश्चिमी शैली के लोकतंत्र की स्थापना की जाए. जबकि सऊदी अरब के लिए बहरीन में शिया प्रदर्शनकारियों के खिलाफ सैन्य शक्ति का प्रदर्शन वास्तव में सऊदी अरब के पूर्वी भाग में शोरिश पसंद शिया नागरिकों को जो अपने देश में लोकतांत्रिक सरकार की मांग कर रहे हैं कड़ा संदेश देना हे.
सऊदी अरब सरकार के बहरीन में मौजूदगी ने नकारात्मक परिणाम उत्पन्न किए हैं, एक तरफ तो सऊदी अरब बहरीन के शासकों पर दबाव डाल रहा है कि वह किसी भी संभावित ईरानी हस्तक्षेप को कम करने और अपने शिया नागरिकों को आतंकित करने के लिये अपने ही लोगों के खिलाफ हिंसा का प्रयोग करे और दूसरे ओर ईरान अब सऊदी अरब के इस हमले को बहरीन की सरकार को धमकाने और पड़ोसी राज्य में अपने शिया भाइयों की सुरक्षा का हव्वा पेदा करने में इस्तेमाल कर रहा है.
दुख की मगर सच बात यह है कि खाड़ी में तनाव का अब जितना इजाफा हुआ है उसकी मिसाल सालों मैं नहीं देखी गई है. इससे बहरीन और सऊदी अरब दोनों को खतरों का अनदेशा है लेकिन ईरान को निश्चित रूप से किसी नुकसान की अनदेशा नहीं है.
अधिकतर शिया लोगों का सोचना है कि संयुक्त राज्य अमेरिका का मानना है कि कुछ अरब तानाशाहों को बचाए रखना उसके हित में हैं और वह ईरान के साथ बहरीन के शिया गठबंधन से डरता है. वास्तव में अमेरिका ने ही सऊदी अरब को सेना भेजने की हरी झंडी दी है. क्योंकि वह नहीं चाहता कि वह खुद हस्तक्षेप करके बहरीन के शासकों को सुरक्षा दे क्योंकि ऐसा करना जहां एक ओर इसे लोकतंत्र विरोधियों की पंक्ति में शामिल कर देगा वहीं दूसरी ओर उसकी लीबिया में चल रही लोकतंत्र समर्थक अभियान पर भी असर पड़ेगा और उसका विरोधाभास सबके सामने आ जाएगी.
यह वॉशिंगटन के हित में है कि बहरीन में स्थिरता कायम हो ओर ऐसी सरकार रहे जो उसके इशारे पर चले क्योंकि मनामा में अमरीका का पांचवां समुद्री बेड़ा है.
बहरीन का संकट तभी समाप्त होगा अगर सउदी अरब और ईरान इस अंदरूनी संकट से बाहर रहते हैं, बहरीन के शासकों पर विपक्ष के साथ समझौता करने के लिए दबाव डाला जाए और अमेरिका इस बात को साफ कर दे कि एक प्रॉक्सी युद्ध किसी भी मूल्य पर बर्दाश्त नहीं करेगा क्योंकि इसमें किसी ओर से जयादा ईरान को लाभ होगा.

بحرین کا احتجاج تاریخ کے آئینے میں2

 عفیف احسن

بحرین کی تاریخ نے کئی اتارچڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر زیادہ تر ادوار میں اس پر ایران کا غلبہ رہا ہے اور یہ ایرانی مملکت کا ہی حصہ رہا ہے۔ مگر بحرین میں الخلیفہ خاندان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ الخلیفہ خاندان بہت چالاک ثابت ہوا، وہ کبھی ایران کے ساتھ ہوجاتا تھا تو کبھی برطانیہ کے ساتھ۔
جب 1820میں الخلیفہ خاندان بحرین میں اقتدار میں آیا تو اس نے اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کرلیا جو اس وقت خلیج فارس میں فوجی طاقت میں غالب تھا۔ اس معاہدہ نے الخلیفہ کو بحرین کے حکمران کے لقب سے نوازا۔
1830 میں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے جب مصر کے محمد پاشا نے جزیرہ نمائے عرب کو وہابیوں سے آزاد کرالیا توشیخ عبدالخلیفہ نے ایرانی حکومت کی بیعت کرلی تاکہ مصر کو بحرین پر قبضہ کرنے سے روکا جاسکے۔
1860 میں الخلیفہ کی حکومت نے اس وقت پھریہی حربہ اپنایا۔ جب برطانیہ بحرین پر غالب ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو شیخ محمد بن خلیفہ نے اس وقت کے ایران کے شاہ نصیرالدین کوایک خط لکھ کر خودکو اور ان کو بھائی بھائی بتایا اور بحرین کے تمام عوام کا ایران کی رعایہ ہونے کا اعلان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کو لکھے ایک دوسرے خط میں شیخ خلیفہ نے ایران کی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کے وہ ان کی براہ راست رہنمائی کرے اور برطانیہ کے دباؤ سے تحفظ دے۔
کرنل سرلیوس پیلی کے دباؤ کے بعد شیخ محمد نے ایران کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست کی، لیکن اس وقت ایران کی حکومت کے پاس برطانوی جارحیت سے بحرین کی حفاظت کرنے کی صلاحیت نہیں تھی، لہذا، برطانوی ہندوستانی افواج نے آخر میں بحرین کو مغلوب کرلیا اورمئی 1861 میں کرنل پیلی نے شیخ محمد کے ساتھ اور بعد میں اس کے بھائی شیخ علی کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے جس کے تحت بحرین کو برطانوی حکومت کے تحفظ میں دے دیا گیا۔ اس وقت جب برطانوی افواج بحرین میں داخل ہوئیں توانہوں نے محسوس کیا کہ شیخ محمدبن خلیفہ نے بحرین کی تمام میناروں اور قلعوں پر ایرانی پرچم لہرا دیا تھا۔
1868 میں برطانیہ کے نمائندوں نے الخلیفہ خاندان کے حکمرانوں کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کئے اور بحرین نے خلیج فارس میں برطانیہ کے اثروالے محفوظ علاقوں میں شمولیت اختیار کرلی۔
یہ معاہدہ خلیج فارس کی دوسری ریاستوں کے ساتھ برطانوی حکومت کی جانب سے کئے گئے ان معاہدوں کی طرح ہی تھاجن میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ حکمراں اس علاقے کو برطانیہ کے سوائے کسی دوسرے کے تصرف میں نہیں دے سکتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی حکومت کے ساتھ برطانیہ کی اجازت کے بغیر تعلقات میں داخل نہیں ہو سکتا ہے، اس کے بدلے میں برطانیہ نے سمندر کی طرف سے کسی بھی جارحیت سے بحرین کی حفاظت کرنے اور ملک پر زمینی حملے کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، مزیدبرآں کہ برطانیہ بحرین میں الخلیفہ کی حکمرانی کی حمایت کرتا ہے اور ملک کے حکمراں کے طور پر اس کی غیر مستحکم پوزیشن کو مضبوط کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔
1880 اور 1892 کے دوسرے معاہدوں کی رو سے بحرین حکومت کو برطانیہ کی زیر حمایت حکومت کی مکمل حیثیت مل گئی۔ اور اس طرح بحرین جو عملی طور پر 1783 میں ایران کے ما تحت تھا سرکاری طور پر 1868 اور آخری بار 1892 کے سال کے درمیان ایران سے الگ ہوا۔
ہندوستان کے ساتھ بحرین کے کاروبار نے برصغیر کی ثقافت پر ڈرامائی اثر و رسوخ دکھایا، کپڑے، کھانا، اور تعلیم سمیت، ہر ایک چیز پر ہندوستانی رنگ نظر آنے لگا۔
1911 میں بحرین کے تاجروں کے ایک گروپ نے بحرین میں برطانیہ کے اثر و رسوخ اور دخل اندازی پرپا بندی لگانے کا مطالبہ کیا تواس تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا اورملک بدر کرکے ہندوستان بھیج دیا گیا۔ 1923 میں برطانیہ کی مخالفت کا الزام عائد کیا گیا اور شیخ عیسیٰ بن علی کومعزول کرکے بحرین میں ایک مستقل نمائندہ مقرر کردیا۔ یہ سب ایران کے بحرین پر ملکیت کے دعویٰ کی تجدید سے اتفاق کے ساتھ ہوا اوربرطانیہ نے شیخ عیسیٰ پر اس دعویٰ کا خیر مقدم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ بحرین پر ایران کی طرف سے ملکیت کے دعویٰ کی تجدید کی جانب لوگوں کی طرف سے دکھایاگیا الحاق برطانیہ کے لئے تشویش کا باعث بن گیا۔ ان مسائل کے حل کے لئے، برطانیہ نے اپنے سب سے زیادہ تجربہ کار کالونیل افسر، سر چارلس بیلگریو کو 1926 میں بحرین کے امیر کے مشیر کے طور پر بھیجا۔ اس نے انتہائی سخت اقدامات کئے جس سے لوگوں کی بڑھتی ہوئی نفرت میں اور اضافہ ہوا، جس کا نتیجہ 1957 میں بحرین سے ان کے اخراج کی صورت میں سامنے آیا۔
1927 ء میں رضا شاہ نے اتحادی متحدہ کمیونٹی کو ایک خط لکھ کر بحرین کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کا خیال تھا کہ بحرین پر اس کا کمزور تسلط خلیج فارس پر کنٹرول کھونے کا سبب بنے گا ، اوراس نے کسی بھی قیمت پربحرین کے لوگوں کے درمیان آپس میں منافرت پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کوانجام تک پہنچانے کے لئے برطانوی عناصر نے بحرین کے شیعہ اور سنی فرقہ کے درمیان تنازعات کو ہوا دی اور حوصلہ افزائی کی۔
بحرین میں برطانوی چارلس بیلگریو کے شیخ حماد ابن عیسیٰ الخلیفہ (1872۔1942) کی مشاورت کے دوران 1926 اور 1957 کے درمیان اہم سماجی اصلاحات کی بنیاد پڑی۔ 1919 میں امام ہدایۃ بوائز اسکول کے افتتاح کے ساتھ ملک کا پہلا جدید اسکول قائم کیا گیا ، جبکہ عرب خلیج فارس کا پہلا لڑکیوں کا اسکول 1928 ء میں کھلا۔ ڈچ ریفارم چرچ کی طرف سے امریکی مشن ہسپتال نے 1903 ء میں کام کرناشروع کر دیا۔ دیگر اصلاحات میں غلامی کا خاتمہ شامل ہیں، جبکہ سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت نے تیز رفتارسے ترقی کی۔
ان اصلاحات کی اکثر بحرین کے اندرطاقتور گروپوں کی طرف سے اورحکمران خاندان کے اندر، قبائلی افواج ، مذہبی حکام اور تاجروں سمیت بھرپورمخالفت کا سامنا رہا۔ قدامت پسندوں کا انسداد کرنے کے لیے برطانیہ نے امیر عیسیٰ بن علی الخلیفہ کوہٹا دیا اور 1923 میں ان کے بیٹے کو اس کی جگہ دے دی۔ کچھ سنی قبائل مثلاً الدوساری کو زبردستی بحرین سے باہر نکال دیا گیا اور عرب کی سرزمین پربھیج دیا گیا، جبکہ سماجی اصلاحات کے مخالف مولویوں کو سعودی عرب اور ایران بھیج دیا گیا اور کچھ تاجرگھرانوں اور اہم خاندانوں کے سربراہوں کو شہر بدر کیا گیا تھا۔ بحرین میں جدیدیت کے ان اقدامات کی برطانیہ کی سعودی وہابی اور ایران کے بحرین کے متعلق عزائم کے خدشات نے حوصلہ افزائی کی تھی۔
تہران سے جاری کئے جارہے بحرین کی شیعہ اکثریت کی حمایت کے بیانات سن کر کوئی بھی شخص یہ فرض کرسکتا ہے کہ شاید بحرین کی شیعہ اپوزیشن پڑوس کے اپنے ہم مسلکوں کی مدد پر منحصر ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شیعہ حزب اختلاف تہران سے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہتا کہ وہ اس چھوٹی سے ریاست میں چل رہے فرقہ وارانہ تنازعہ سے باہر ہی رہے۔
مرکزی دھارے کی اپوزیشن پارٹی کی سب سے بڑی مانگ ایک آئینی بادشاہت کا قیا م ہے جیسا کہ یورپ کے کئی ممالک میں رائج ہے۔ دیگرمانگوں میں ایک منتخب حکومت ، ایک آزاد پریس، ایک کھلی سول سوسائٹی اور سنی اقلیت کو چھوڑ کر باقی دوسرے مذاہب اور مسلکوں کے خلاف برتی جارہی تفریق، جیسے روزگار کے نابرابر مواقع ، مال و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ہر قسم کی انتظامی اور مالی بدعنوانیوں کاخاتمہ شامل ہیں۔
اب جب کہ دنیا کی توجہ لیبیا پر مرکوز ہے، بحرین کے مرکزی دھارے کی حزب مخالف خود کو تہران کے حکمرانوں سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شیخ علی جوکہ الوفاق پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں جوکہ ایک اہم شیعہ حزب اختلاف ہے نے عوامی طور پر مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کی تنظیم ایرانی رہبراعظم والی ولایۃالفقیہ طرز کی حکمرانی کے تصور کو لاگو کرنے کی قطعی خواہش مند نہیں ہے۔ ان حقائق کو جانتے بوجھتے ہوئے تہران کی طرف سے نوجوان ایرانی لڑکوں کو حزب اختلاف کے شانہ بشانہ احتجاج بحرین میں شامل ہونے کے لئے بھیجنے کے بڑے بڑے وعدے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس بحران میں بحرین کے شیعہ کے ساتھ ہے۔
حقیقت میں بحرین اس علاقے میں سیاسی طور پر سب سے زیادہ آگاہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اصلاحات کے مطالبے صرف چند ہفتے قبل، جب سے بحرین میں بے چینی شروع ہوئی ہے، نہیں نکل آئے ہیں بلکہ اس کی تاریخ 1971 ء میں برطانیہ سے ریاست کی آزادی سے پہلے کی ہے۔
شیعہ اکثریت کے مقابلہ کے لئے پچھلے دنوں سعودی فوج کی بحرین میں آمد وہاں کے حکمرانوں کی محض ایک چال ہے تاکہ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور حزب اختلاف کی اس مانگ کو دبایا جاسکے کہ بلاتا خیر ایک مغربی طرز کی جمہوریت قائم کی جائے۔ جبکہ سعودی عرب کے لئے بحرین میں شیعہ مظاہرین کے خلاف فوجی طاقت کا مظاہرہ دراصل سعودی عرب کے مشرقی حصے میں شورش پسند شیعہ شہریوں کو جو اپنے ملک میں بھی جمہوری حکومت کی مانگ کر رہے ہیں ایک سخت پیغام دیناہے۔
سعودی عرب فوج کی بحرین میں موجودگی نے دو منفی نتائج پیدا کئے ہیں، ایک طرف تو سعودی عرب بحرین کے حکمرانوں پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ایرانی مداخلت کو کم سے کم کرنے اور اپنے شیعہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد کا استعمال کرے اوردوسرے طرف ایران اب سعودی عرب کے اس حملے کو بحرین کی سرکار کودھمکانے اور ایک پڑوسی ریاست میں اپنے شیعہ بھائیوں کی حفاظت کاہوا دکھانے میں استعمال کر رہا ہے۔
دکھ کی مگر سچ بات یہ ہے کہ خلیج میں کشیدگی میں اب ایک اہم اضافہ ہوا ہے جس کی مثال سالوں میں نے نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس سے بحرین اور سعودی عرب دونوں کو خطرات کا اندیشہ ہے لیکن ایران کو یقیناًکسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔
زیادہ تر شیعہ لوگوں کا سوچنا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کاخیال ہے کہ بعض عرب تاناشاہوں کو بچائے رکھنا اس کے مفاد میں ہیں اور وہ ایران کے ساتھ بحرین کے شیعہ کے اتحاد سے ڈرتا ہے۔ اصل میں واشنگٹن نے ہی سعودی عرب کو فوج بھیجنے کی ہری جھنڈی دی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ خود مداخلت کرکے بحرین کے حکمرانوں کو تحفظ دے کیونکہ ایسا کرنا جہاں ایک طرف اس کو جمہوریت مخالفین کی صف میں شامل کردے گا وہیں دوسری طرف اس کی لیبیا میں چل رہی جمہوریت حامی مہم پر بھی اثر پڑے گا اوراس کی منافقت سب کے سامنے آجائے گی۔ یہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے کہ بحرین میں استحکام قائم ہواور ایسی حکومت رہے جو اس کے اشارے پر چلے کیونکہ مناما میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا قیام ہے۔
بحرین کا بحران صرف اس صورت میں ختم ہوگا اگرسعودی عرب اور ایران اس اندرونی بحران سے باہر رہتے ہیں، بحرین کے حکمرانوں پر اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے دباؤڈالاجائے، اور امریکہ اس بات کو صاف کردے کہ وہ ایک پراکسی جنگ کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا کیونکہ اس میں کسی اورفریق سے زیادہ ایران کو فائدہ حاصل ہوگا۔

Monday, 4 April 2011

بحرین کا احتجاج تاریخ کے آئینے میں

عفیف احسن
 بحرین کے احتجاج نے خلیج فارس کے ملک میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے۔ 2010-2011 مشرق وسطی اور شمالی افریقہ احتجاج کے حصہ کے طور پر بحرین کے احتجاج کا مقصد شروع میں اکثریتی شیعہ آبادی کے لئے وسیع تر سیاسی آزادی اور مساوات کا حصول  تھا۔ اور 17 فروری کو منامہ میں پرل گول چکر پرایک مہلک رات کو مظاہرین کے خلاف چھاپے کی کارروائی کے بعد جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ،اس میں بادشاہ حماد کے شاہی نظام حکومت کا خاتمہ کرنے کی مانگ کا اضافہ ہوگیا۔
منامہ میں مظاہرین پرل کے گول چکر کے باہر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں جوکہ مظاہروں کے مرکزی نقطہ کے طور پرجانا جاتا ہے۔ ایک ماہ کے بعد حکومت نے خلیج تعاون کونسل سے فوج اور پولیس مدد کی درخواست کی اور 14 مارچ کو وہاں پر دبئی اور سعودی عرب کی فوج نے پہنچ کر پرامن مظاہرین پر کارروائی شروع کردی جو ابھی تک جاری ہے اور سیکڑوں پر امن مظاہرین جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، جس کی بین الاقوامی سطح پرپر زور مذمت کی جارہی ہے۔

بحرین کے بادشاہ نے بھی اس تحریک کو کچلنے کے لئے وہی شعیہ سنی کو لڑانے کا پرانہ فارمولہ اپنایا ہے جو کہ کسی زمانے میں برطانیہ نے بحرین میں اپنے اقتدار کو تقویت دینے کے لئے اپنایا تھا۔

ایک طرف تواقوام متحدہ اور مغربی ممالک لیبیا میں فوج کشی کرکے وہاں پر جمہوری نظام قائم کرنے کی بات کررہی ہیں وہیں اس کے الٹ بحرین کی اکثریت کو انکا حق دلانے کے لئے اور وہاں پر جمہوریت کی بحالی کے لئے کوئی کچھ کہنے اور سننے کو تیار نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف لیبیا میں جمہوریت کی بقاء کے لئے مغربی ممالک فوج کشی کررہے ہیں وہیں دوسری طرف جمہوریت کی آواز کو دبانے کے لئے بحرین کا شاہ دوسرے پڑوسی بادشاہوں کے ساتھ مل کر معصوم اور نہتے عوام پر فوج کشی کررہا اور بے گناہوں کا قتل کیاجارہا ہے مگر اس پر کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔

بحرین کی تصویر کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بحرین ایک عربی لفظ ہے اس کے معنیٰ ”دوبحر“کے ہیں جو اس کو اس کے میٹھے پانی کے دو رواں چشموں کی وجہ سے ملا ہے جن کے ارد گرد نمکین سمندر ہے۔ زمانہ قدیم سے بحرین میں آبادی پائی جاتی ہے۔ خلیج فارس میں اس کے ا سٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے اس پر آشوریوں، بابی لونیا، فارس، اور عرب کا اثر رہا جن کے تحت جزائر مشرف بہ اسلامی ہوا۔ بحرین کو دلمون کے ساتھ وابستہ کر سکتے ہیں جس کا میسوپوٹامیہ تہذیب میں حوالہ ملتا ہے ۔

اس کی تاریخ کے مختلف ادوارمیں جب کہ یہ ایرانی سلطنت کا حصہ تھااسے مختلف ناموں سے پکارا گیا جیسے مشماہگ، چھٹی سے تیسری صدی قبل مسیح تک بحرین ہخمامنشی خاندان کے تحت ایرانی سلطنت میں شامل تھا۔ تیسری صدی قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد تک، بحرین پارتھیا اور ساسانی دو دیگر ایرانی خاندانوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ تقریبا 250 قبل مسیح تک پارتھیا خاندان خلیج فارس کو اپنے مکمل کنٹرول میں لے آیا اور اس نے اپنااثر و رسوخ عمان تک بڑھا لیا۔

خلیج فارس کے تجارتی راستے پر کنٹرول کرنے کے لئے پارتھیا نے خلیج فارس کے جنوبی کنارے پرفوجی چوکیان قائم کیں۔ تیسری صدی عیسوی میں پارتھیا کے بعد ساسانی قابض ہوگئے اورچار صدی بعداسلام کے عروج تک اس علاقے پر حکومت کی۔ ساسانی خاندان کے پہلے حکمراں اردشیر بابکان نے عمان اور بحرین پرچڑھائی کی اور اس نے سناترق کوہرا دیا،اس وقت بحرین میں جنوبی ساسانی صوبہ جس میں خلیج فارس کاجنوبی کنارا اوربحرین کے مجمع الجزائر شامل تھے۔

ساسانی سلطنت کاجنوبی صوبہ تین اضلاع اردشیر بابکان( اب قاطف، سعودی عرب)، ہگّر (اب حفوف، سعودی عرب) اورمشماہگ میں منقصم تھا، یہاں تک کہ بحرین کے 629 ء میں اسلام کو اپنانے تک، یہ نسطوری عیسائیت کا مرکز رہا۔ ابتدائی اسلامی ذرائع کے مطابق یہ عبدالقیس، تمیم، اور بکر قبائل کی رہائش گاہ تھاجو اوال کی پرستش کرتے تھے۔
899 ء میں قرامة، ایک ہزاری اسماعیلی فرقے نے بحرین پر قبضہ کر لیا، جنہوں نے ابتدا کرنے والوں کے درمیان یکساں طور پر تمام جائیداد کی تقسیم کی بنیاد پر ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد قرامتہ والوں نے بغداد کے خلیفہ سے خراج کی مانگ کی، اور 930 ءمیں قرون وسطی بحرین میں مکہ اور مدینہ کی حکومت کوبرطرف کرکے، مقدس حجر اسود کوتاوان کی شکل میں الاحسا ء میں اپنے مرکز پرلے آئے ۔ تاریخ داں الجوینی کے مطابق951ء میں بائیس سال بعد پتھر پراسرار حالات میں اپنی جگہ پر واپس آگیا تھا، ایک بوری میں لپٹا ہوا یہ پتھرعراق کے کوفہ کی جمعہ مسجد میں اس خط کے ساتھ پھینک دیا گیا تھا کہ ” حکم سے ہم نے اسے اٹھا لیا تھا، اور حکم سے ہم اسے واپس لے آئے ہیں“ حجر اسود کی چوری اورواپسی نے اسے مزید نقصان پہنچایا اور یہ پتھر سات ٹکڑوں میں منقصم ہوگیا۔

قرامتہ کے 976 ء میں عباسیوں سے ہارنے کے بعد بحرین الاحساءعرب یونید  خاندان کے ہاتھوں میں آگیا، جنہوں نے 1076ء میں بحرین کے مکمل علاقے پر قبضہ کرلیا۔ 1235ء تک بحرین جزائر ان کے کنٹرول میں رہا، جبکہ جزائرپر مختصرمدت کے لئے ایرانی حکمرانوں کا قبضہ ہو گیا۔ 1253 میں بدوعسفورید خاندان نے یونید حکومت کا خاتمہ کردیا اور اس طرح پورے مشرقی عرب پر قبضہ کر لیاجس میں بحرین کے جزائر بھی شامل تھے۔ 1330 میں جزائر ہرمزکے حکمرانوں کی ایک باج گزار ریاست بن گیا تاہم مقامی طور پراسے جزائر قطیف کی شیعہ جروانی خاندان کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا تھا۔

آخر قرون وسطی تک بحرین کے وسیع تر تاریخی علاقے میں الاحساء اور قطیف (اب دونوں مشرقی سعودی عرب کے صوبے) اوراوال جزائر (اب بحرین جزائر) شامل تھے۔ یہ علاقہ عراق میں بصرہ سے عمان میں آبنائے ہرمز تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ اقلیم البحرین کہلاتا تھا۔ صحیح تاریخ معلوم نہیں ہے جب سے اوال جزائرکو مکمل طورپر لفظ”بحرین“سے رجوع کیا جانا شروع ہوا۔ وسط پندرہویں صدی میں جزائرالاحساء جبوریوں کے، جوکہ ایک بدو خاندان ہی تھا زیر اقتدار آیا جنہوں نے مشرقی عرب پرسب سے طویل حکومت کی۔

پرتگالیوں نے 1521 میں ہرمز کے ساتھ اتحاد میں بحرین پر حملہ کردیا اوراسے جبرید حکمران مگرین ابن ظامل سے قبضہ میں لے لیا جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ پرتگالی اقتدار 80 سال چلا جس کے دوران وہ زیادہ تر سنی فارسی گورنروں پر انحصار کرتے تھے۔ پرتگالیوں کو 1602 میں جزیرے سے ایرانی صفٰوی خاندان کے محمود عباس نے بے دخل کردیا ، جس نے شعیہ اسلام کو بحرین کے سرکاری مذہب کے طور پر منظوری دی۔ ایران کے حکمرانوں نے بنا کسی رکاوٹ کے تقریبا دو صدیوں تک جزائر پر اپنی خود مختاری کو برقرار رکھا ، ماسوائے 1717 اور 1738کے جب جزائر کو عمان کے عبادھیوں کی طرف سے دو شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مدت میں سے اکثر میں وہ بحرین پربلاواسطہ طور سے کنٹرول کرتے تھے یا تو بوشہرا کے ذریعے یا تارکین وطن سنی عرب قبیلوں کے ذریعہ، 1753 میں حوالہ قبیلہ نے ایرانیوں کی جانب سے بحرین پر حملہ کیا اورسیدھے ایرانی حکومت کے کنٹرول کو بحالی کردیا۔
1783ءمیں نصر المضکورجوکہ بوشہرا اور بحرین کا حکمراں تھا کے ہاتھوں سے بنی عتبہ نے بحرین کا انتظام چھین لیا ۔
1797میں بنی عتبہ کے اقتدار حاصل کرنے کے چودہ سال بعد الخلیفہ خاندان بحرین میں وارد ہوا اور ’جو‘ کے مقام پر آباد ہوگیااور بعد میں رفاع منتقل ہوگیا۔ یہ لوگ بنیادی طور پر کویتی تھے جسے انہوں نے 1766میں خیرباد کہہ دیا تھا۔ الخلیفہ خاندان کا ماننا ہے کے وہ کویت میں ام القصر سے ترکوں کے ذریعہ ملک بدر کئے جانے کے بعد آئے تھے،جہاں وہ بصرہ کے کاروانوں کو لوٹا کرتے تھے اور شط العرب میں جہازوں کو لوٹا کرتے تھے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں عمانیوں اور السعود نے حملہ کیا۔ 1802میں اس پر ایک بارہ سالہ لڑکے کی حکومت قائم ہوئی جبکہ عمان کے فرماںروا سید سلطان نے اپنے لڑکے سلیم کوعرد قلع کا گورنر بنادیاتھا۔ (جاری ہے)

बहरीन का विरोध प्रदर्शन इतिहास के आईने में

अफीफ अहसन

बहरीन के विरोध प्रदर्शन ने फारस की खाडी के इस देश में प्रदर्शनों का सिलसिला शुरू कर दिया है. 2010-2011 मध्य पूर्व और उत्तरी अफ्रीका विरोध के भाग के रूप में बहरीन के विरोध का उद्देश्य शुरू में बहुल शिया आबादी के लिए व्यापक राजनीतिक स्वतंत्रता और समानता की प्राप्ती था. और 17 फरवरी को मनामह में पर्ल गोल चक्कर पर एक घातक रात को प्रदर्शनकारियों के खिलाफ छापे की कार्रवाई के बाद जिसमें सैकड़ों लोग मारे गए और घायल हुए थे, उसमें शाह हमाद की शाही सरकार का अंत करने की मांग शामिल हो गयी.

मनामह में प्रदर्शनकारी पर्ल गोल चक्कर के बाहर डेरा डाले हुए हैं जो प्रदर्शन के मुख्य बिंदु के रूप में जान जाता है. एक महीने बाद सरकार ने खाड़ी सहयोग परिषद से सेना और पुलिस सहायता का अनुरोध किया और 14 मार्च को वहां पर दुबई और सऊदी अरब की सेना ने पहुंचकर शांतिपूर्ण प्रदर्शनकारियों पर कार्रवाई शुरू कर दी जो अभी तक जारी है और सैकड़ों शांतिपूर्ण प्रदर्शनकारियों की मौत और हजारों घायल हो गए, जिसकी अंतरराष्ट्रीय स्तर पर घोर निंदा की जा रही है.

बहरीन के राजा ने भी इस आंदोलन को कुचलने के लिए वही सुन्नी ओर शिया का पुराना फार्मूला अपनाया है जो कि किसी जमाने में ब्रिटेन ने बहरीन में अपने शासन को मजबूत करने के लिए अपनाया था.

एक तरफ तो संयुक्तराष्ट्र और पश्चिमी देश लीबिया में सेना भेज कर वहां पर लोकतांत्रिक व्यवस्था स्थापित करने की बात कर रहे हैं वहीं इसके उलट बहरेन के बहुसंख्यकों को उनका अधिकार दिलाने के लिए और वहां पर लोकतंत्र की बहाली के लिए कोई कुछ कहने और सुनने को तैयार नहीं है. जहां एक ओर लीबिया में लोकतंत्र की स्थापना के लिए पश्चिमी देश सेन्य कार्यवाही कर रहे हैं वहीं दूसरी ओर लोकतंत्र की आवाज़ को दबाने के लिए बहरीन के शाह दूसरे पड़ोसी राजाओं के साथ मासूम और निहत्थे लोगों पर सेन्य कार्यवाही कर रहा और निर्दोष लोगों की हत्या की जा रही है मगर इस पर किसी के सिर पर जूं तक नहीं रेंगती है.

बहरीन की तस्वीर को समझने के लिए हमें इस की तारीख़ का गहराई से अध्ययन करना होगा. बहरीन एक अरबी शब्द है उसका अर्थ "दो बहर" के हैं जो इस के मीठे पानी के इन चश्मों के कारण मिला है जिनके आसपास नमकीन सागर है. प्राचीन ज़माने से बहरीन में आबादी पाई जाती है. फारस की खाड़ी में उसके सामरिक महत्व के कारण इस पर आशु‍रियों, बॉबीलोनिया, फारस और अरब का असर रहा जिनके तहत द्वीप में इस्लामी का आगमन हुआ . बहरीन को दिलमून के साथ जोड़ कर देख सकते हैं जिसका मेसोपोटामिया संस्कृति में पता मिलता है.

इस इतिहास के विभिन्न चरणों में यह ईरानी साम्राज्य का हिस्सा था तब इस को विभिन्न नामों से पुकारा गया जैसे म्श्माल, छटी से तीसरी शताब्दी ईसा पूर्व तक बहरीन हख़मामंशी परिवार के तहत ईरान साम्राज्य में शामिल था. तीसरी सदी ईसा पूर्व से सातवीं शताब्दी में इस्लाम आने तक, बहरीन पारथिया और सासानी दो अन्य ईरानी परिवारों द्वारा नियंत्रित किया जाता था. लगभग 250 ईसा पूर्व तक पारथिया परिवार फारस की खाड़ी को पूरे नियंत्रण में ले आया और उसने अपना बर्चस्व और प्रभाव ओमान तक बढ़ा लिया.

फारस की खाड़ी के व्यापारिक मार्ग पर नियंत्रण करने के लिए पारथियों ने फारस की खाड़ी के दक्षिणी किनारे पर फ़ोजी चौकियों की स्थापित की. तीसरी शताब्दी में पारथिया के बाद सासानी काबिज़ हो गए ओर चार सदी बाद इसलाम के चरम तक इस क्षेत्र पर शासन किया. सासानी परिवार के पहले शासक आर्दशीर बाबकान ने ओमान और बहरीन पर चढ़ाई की और उसने सनातरक को हरा दिया, तब बहरीन में दक्षिण सासानी राज्य जिसमें फारस की खाड़ी का द‍िक्षणी किनारा और बहरीन के द्वीप समूह शामिल थे.

सासानी साम्राज्य के द‍िक्षणी राज्य तीन जिलों आशीर बाबकान (अब कातिफ, सऊदी अरब), हिगर (अब हफ़ोफ, सऊदी अरब) मशमाहिग में बंटा हुआ था, यहां तक ​​कि बहरीन के 629 ई. में इस्लाम को अपनाने तक यह नसतूरी ईसाई केन्द्र रहा. प्रारंभिक इस्लामी सूत्रों के अनुसार यह आबदुलकेस, तमीम और बकर कबीलों का आवास था जो अवाल की पूजा करते थे.

899 ई. में क़रामत, एक हजारा इस्माइल समुदाय ने बहरीन पर कब्जा कर लिया, जिन्होंने शुरुआत करने वालों के बीच समान रूप से सभी संपत्ति के विभाजन के आधार पर एक आदर्श समाज का निर्माण करने की कोशिश की. इसके बाद क़रामत वालों ने बगदाद के खलीफा से खिराज की मांग की, और 930 ई. में मध्य पूर्व बहरीन में मक्का और मदीना सरकार को बरतरफ करके, पवित्र हजरे असवद को तावान के रूप में अलअहसा में अपने केंद्र पर ले आए. इतिहासकार अलजवीनी के अनुसार 951 ई. में बाईस साल बाद पत्थर अबूझ स्थिति मैं अपनी जगह पर वापस आ गया था, एक बोरी में लिपटा हुआ यह पत्थर इराक़ के कूफ़ा की जामा मस्जिद में इस पत्र के साथ फेंक दिया गया था कि "आदेश से हमने उसे उठा लिया था, और आदेश से हम उसे वापस ले आए हैं" हजर असवद की चोरी ओर वापसी ने उसे ज्यादा नुकसान पहुंचाया और पत्थर सात टुकड़ों में टूट गया.

क़रामत के 976 ई. में आबासियों से हारने के बाद बहरीन अल अहसा अरब यूनिद परिवार के हाथों में आ गया, जिन्होंने 1076 ई. में बहरीन के पूरे क्षेत्र पर कब्जा कर लिया. 1235 ई. तक बहरीन द्वीप उनके नियंत्रण में रहा, जबकि दीप समुह पर थोडे समय के लिए ईरानी शासकों का कब्जा हो गया. 1253 में बद्दू असफवारीद परिवार ने यूनिद सरकार का अंत कर दिया और इस तरह पूरे पूर्वी अरब पर कब्जा कर लिया जिन में बहरीन के द्वीप भी शामिल थे. 1330 में द्वीप हरमुज़ के शासकों का बाजगुज़ार राज्य बन गया लेकिन स्थानीय तोर पर इसे क़तीफ के शिया जरवानी परिवार द्वारा नियंत्रित किया जाता था.

आखिर मध्य एशिया तक बहरीन के व्यापक ऐतिहासिक क्षेत्र में अलअहसा और कतीफ (अब दोनों पूर्वी सऊदी अरब के प्रांत) अवाल द्वीप (अब बहरीन द्वीप) शामिल थे. यह क्षेत्र इराक में बसरा से ओमान में हरमुज़ के पानी के रासतों तक फैला हुआ था. यह अकलीम उल बहरीन कहलाता था. सही तिथि मालूम नहीं है जब से अवाल द्वीप समूह को पूरण रूप से शब्द "बहरीन" से पुकारा जाना शुरू हुआ. मध्य पन्द्रहवी शताब्दी में अलाहसा द्वीप जबूरियों के, जो एक बद्दू परिवार ही था द्वारा शासित किया गया जिन्होंने पूर्वी अरब पर लंबे समय तक शासन किया.

पु्र्तगालियों ने 1521 में हुरमुज के साथ गठबंधन में बहरीन पर हमला कर दिया और जबरीद शासक मगरीन ‍इब्ने ज़ामिल से कब्ज़े में ले लिया जो युद्ध में मारा गया था. पुर्तगाली सत्ता 80 साल चली जिसके दौरान वह अधिकांश सुन्नी फ़ारसी गवर्नरों पर निर्भर रहे थे. पु्र्तगालियों को 1602 में द्वीप से ईरानी सफ़वी परिवार के महमूद अब्बास ने बाहर किया, जिसने शिया इस्लाम को बहरीन के सरकारी धर्म के रूप में मान्यता दी. ईरान के शासकों ने बिना किसी रुकावट के लगभग दो सदियों तक द्वीप पर स्वायत्ता को बनाए रखा, सिवाए 1717 और 1738 के जब द्वीप को ओमान के आबाधयों से दो गंभीर हमलों का सामना करना पड़ा. इस समय से कई में वह बहरीन पर अप्रत्यक्ष रूप से नियंत्रण करते थे या तो बूशहरा के द्वारा या विस्थापित सुनी अरब क़बीलें के द्वारा 1753 में हवाला क़बीले ने ईरान की ओर से बहरीन पर हमला किया ओर उस पर सीधा ईरानी सरकार का नियंत्रण बहाल कर दिया.

1783 में नसर अल मज़कूर बोशहर और बहरीन का शासक था के हाथों से बनी उत्बाह ने बहरीन प्रबंधन छीन लिया.

1797 में बनी उत्बाह के सत्ता हासिल करने के चौदह साल बाद अलखलीफा परिवार बहरीन में चला आया और 'जव्व' के स्थान पर बस गया बाद में रफाआ चला गया. ये लोग मुख्य रूप से कुवैती थे जिस को उन्होंने 1766 में अलविदा कह दिया था. अलखलीफा परिवार का मानना ​​है कि वह कुवैत में उमअलक़सर से तुर्कों द्वारा निशकासित किये जाने के बाद आए थे, जहां वह बसरा के कारवानों को लूटा करते थे और शत अल अरब में समुंदरी जहाज़ों को लुटा करते थे. उन्नीसवीं सदी के शुरू में ओमनियों और अलसउद ने हमला किया. 1802 में एक बारह वर्षीय लड़के की सरकार स्थापित हुई और ओमान के शासक सैयद सुल्तान ने अपने लड़के सलीम को आर्द किले का गवर्नर बनाया था. (जारी है)