Search

Monday, 25 April 2011

پہلا پتھر وہی پھینکے جس نے کوئی پاپ نہ کیا ہو

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
عفیف احسن
سنیچر کوآبی وسائل اور مائینارٹی معاملات کے مرکزی وزیرسلمان خورشید نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے لوک پال بل تیار کرنے والی کمیٹی سے استعفیٰ دینے کی کرناٹک کے لوک آیکت کی دھمکی کے سلسلے میں کہا کہ حکومت بل کی تیاری کے سلسلے میں ان کے مفید مشورے کی منتظر ہے۔ مسٹر خورشید نے کہا کہ وہ ہیگڑے کی خدمات کی قدر کرتے ہیں اور ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کمیٹی میں بنے رہیں گے اور ان کے مفید مشوروں کی ضرورت ہے اور حکومت کو ان کے مفید مشوروں کا انتظار ہے۔
سلمان خورشید نے کمیٹی کے اراکین میں تبدیلی کے امکانات کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ ان کا کام جامع لوک پال بل تیار کرنے تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے کردار پر بحث کرنے کے بجائے بل کی صلاحیت کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے بعد کرناٹک کے لوک آیکت اور لوک پال بل ڈرافٹنگ کمیٹی کے سول سوسائٹی کو طرف سے رکن این سنتوش ہیگڑے بھی انّا ہزارے کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد کمیٹی میں بنے رہنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف کانگریس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اس کے کسی لیڈر اور حکومت کی جانب سے انّا ہزارے کی کمیٹی کے کسی بھی ممبر پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ سو نیا گاندھی کو انّا ہزارے کے ذریعہ لکھے گئے خط اور قومی صلاح کار کونسل کی حیثیت سے مسز گاندھی کے ذریعہ دئے گئے جواب کی روشنی میں طے کیا گیا کہ پارٹی کے تمام لیڈروں کو اس معاملے سے الگ رہنے کی صلاح دی جائے۔
یہی نہیں اس سے پہلے دگوجے سنگھ نے ہیگڑے سے اپنے بیان کے لئے معافی مانگ لی تھی اور صفائی بھی پیش کردی تھی۔جب تک دگوجے سنگھ، شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن پر زبانی حملے کرتے رہے تب تک تو ٹھیک تھا مگر جس دن انہوں نے اپنے حملوں کا رخ سنتوش ہیگڑے کی طرف موڑا تو یہ ان کو الٹا پڑ گیا کیونکہ سنتوش ہیگڑے بہت ہی صاف ستھری شبیہہ کے شخص ہیں اور وہ کسی بھی لالچ اور دباؤمیں نہیں آتے۔
اس سے پہلے بھی انہوں نے 2010میں کرناٹک کے لوک پال کے عہدے سے کرناٹک کی بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کے خلاف جنگ میں مدد نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔مگر بعد میں ایل کے ایڈوانی کی اپیل پر انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا، اس کے بعد ان کی مانگوں کو کچھ حد تک مانتے ہوئے کرناٹک کی یدیورپا حکومت نے انہوں از خودتمام سرکاری نوکروں اور افسروں یہاں تک کے چیف سیکریٹری کے خلاف شکایتوں کی جانچ کے اختیارات دے دئے۔ کچھ شرائط کے ساتھ وزیراعلیٰ، وزراء اور تمام کارپوریشنوں اور بورڈوں اور سرکاری کمپنیوں کے خلاف شکایتوں کی جانچ کے اختیارات بھی دے دئے۔
ہندوستان میں کرناٹک ہی ایک ایسی ریاست تھی جہاں پر مرحوم راجیو گاندھی کے ایماء پرسب سے پہلے ایک قانون کے ذریعہ1984 میں لوک پال بل پاس کیا گیا تھا، حالانکہ پہلے لوک پال کی تقرری 1986میں ہی کی جاسکی۔ یہی نہیں کرناٹک کو پہلے سی وی سی کی تقرری کابھی اعزاز حاصل ہے۔ملک کے پہلے سی وی سی کی تقرری 1964میں کرناٹک میں ہی ہوئی تھی۔
1984کے لوک آیکت بل میں لوک آیکت کو چیف منسٹر تک کے خلاف جانچ کا اختیار تھا اور وہ ازخود ہی کوئی بھی جانچ شروع کرسکتا تھا مگر پہلے لوک آیکت کی تقرری کے چھے مہینے کے اندر ہی اندر اس سے ازخود جانچ کرنے اور چیف منسٹر کے خلاف جانچ کرنے کے اختیارات چھین لئے گئے تھے۔
سنتوش ہیگڑے کے برخلاف شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن دونوں ہی پروفیشنل وکیل ہیں اور فیس کی خاطر کام کرتے ہیں۔ جب ان کے خلاف مختلف قسم کے الزامات لگنے لگے جن میں ایک سی ڈی بھی شامل تھی جس میں شانتی بھوشن کو ملائم سنگھ اور امر سنگھ سے ایک کیس کے سلسلے میں کسی جج کو مرعوب کرنے کے لئے باتیں کرتے اور شانتی بھوشن کو چار کروڑ کی رقم کی بات کرتے ہوئے سنا گیا تو انّا ہزارے نے اپنے ایک بیان میں اپنے علاوہ کسی اور کی ایمانداری کی گارنٹی لینے سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنے علاوہ کسی اور کی ایمانداری کی گارنٹی لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان سے یہ اشارہ محسوس کیا گیا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین نہیں ہے کہ شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن پوری طرح سے پاک اور صاف ہیں۔ حالانکہ اروند کیجریوال بھوشن باپ بیٹوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے رہے۔ پھر ان پر سوا کروڑ کی اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری کا الزام لگا، یہی نہیں ان کو خوش کرنے کے لئے شانتی بھوشن اور انکے دوسرے بیٹے جینت بھوشن کو یوپی حکومت کے ذریعہ کروڑوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ دینے کا بھی الزام لگا۔ کہا یہ جارہا ہے کہ جینت بھوشن مایاوتی کے پارک کے خلاف مقدمہ لڑرہے ہیں اورکہیں ایسا تو نہیں کہ اس مقدمہ کو متائثر کرنے کے لئے ان دونوں باپ بیٹوں کو یہ زمین دی گئی ہو۔پرشانت بھوشن نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ الاٹمنٹ کینسل ہوجاتی ہے تو وہ اس کو چنوتی نہیں دیں گے مگر انہوں نے اس زمین کو خود واپس کرنے سے انکارکردیاہے۔
حالانکہ پرشانت بھوشن نے بہت ہی کم وقت میں سی ڈی کی دو دو نجی لیب سے فورینسک رپورٹ حاصل کرلی تھی جن میں یہ کہا گیا تھا کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور وہ چھیڑ چھاڑ صرف اتنی سی ہے کہ چھ جگہ پر بات چیت میں بریک کے نشانات ہیں۔ مگر انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس میں ان کے والد کی آواز نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی صفائی پیش کی کہ ان کے والد نے چار کروڑ کی رقم کی بات کہیں اور کہی ہوگی جسے یہاں استعمال کیا گیا ہے، اگر ایسا ہے تو کیا ان کے والد کی بات چیت بھی الگ سے ریکارڈ کی جارہی تھی۔ اس کے برخلاف سرکاری فورنسک لیب سے ملی رپورٹ جو کہ پرشانت بھوشن کی شکایت کے ساتھ پولیس کو سونپی گئی سی ڈی پر مبنی ہے کچھ اور ہی کہتی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں یہ بات صاف کی گئی ہے کہ اس سی ڈی کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے اور اس میں جو بھی بات چیت ریکارڈہے وہ ایک ہی وقت میں کی گئی ہے اور الگ الگ جگہ سے لیکر نہیں جوڑی گئی ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجودبھوشن باپ بیٹوں کا یہ مکرر انکار کے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ہیگڑے کا ذرا سی بات پر استعفیٰ دے دینا باپ بیٹوں کوشرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
ان تمام لن ترانیوں کا حکومت اور کانگریس کو بہت فائدہ ملا ہے ۔ایک فائدہ تو یہ ملا ہیکہ کانگریس نے اس بات کو صحیح ثابت کردیا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اس طرح اس نے انّا ہزارے کی تحریک کی ہوا نکال دی ہے اور سول سوسائٹی کو اپنے ہی ممبران کے طرف شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
ان حالات میں ایسا لگتا ہیکہ اگر اس قسم کی مہم دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کو عوام الناس کی ایسی زبردست تائید اور حمایت نہیں ملے گی جیسی کہ حال کے دنوں میں دیکھی گئی ہے کیونکہ اب ہر کوئی یہ مانگ کرے گا کہ ’’پہلا پتھر وہی پھینکے جس نے کوئی پاپ نہ کیا ہو‘‘۔

No comments:

Post a Comment