بحرین کی تاریخ نے کئی اتارچڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کچھ کو چھوڑ کر زیادہ تر ادوار میں اس پر ایران کا غلبہ رہا ہے اور یہ ایرانی مملکت کا ہی حصہ رہا ہے۔ مگر بحرین میں الخلیفہ خاندان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ الخلیفہ خاندان بہت چالاک ثابت ہوا، وہ کبھی ایران کے ساتھ ہوجاتا تھا تو کبھی برطانیہ کے ساتھ۔
جب 1820میں الخلیفہ خاندان بحرین میں اقتدار میں آیا تو اس نے اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کرلیا جو اس وقت خلیج فارس میں فوجی طاقت میں غالب تھا۔ اس معاہدہ نے الخلیفہ کو بحرین کے حکمران کے لقب سے نوازا۔
1830 میں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے جب مصر کے محمد پاشا نے جزیرہ نمائے عرب کو وہابیوں سے آزاد کرالیا توشیخ عبدالخلیفہ نے ایرانی حکومت کی بیعت کرلی تاکہ مصر کو بحرین پر قبضہ کرنے سے روکا جاسکے۔
1860 میں الخلیفہ کی حکومت نے اس وقت پھریہی حربہ اپنایا۔ جب برطانیہ بحرین پر غالب ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو شیخ محمد بن خلیفہ نے اس وقت کے ایران کے شاہ نصیرالدین کوایک خط لکھ کر خودکو اور ان کو بھائی بھائی بتایا اور بحرین کے تمام عوام کا ایران کی رعایہ ہونے کا اعلان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کو لکھے ایک دوسرے خط میں شیخ خلیفہ نے ایران کی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کے وہ ان کی براہ راست رہنمائی کرے اور برطانیہ کے دباؤ سے تحفظ دے۔
کرنل سرلیوس پیلی کے دباؤ کے بعد شیخ محمد نے ایران کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست کی، لیکن اس وقت ایران کی حکومت کے پاس برطانوی جارحیت سے بحرین کی حفاظت کرنے کی صلاحیت نہیں تھی، لہذا، برطانوی ہندوستانی افواج نے آخر میں بحرین کو مغلوب کرلیا اورمئی 1861 میں کرنل پیلی نے شیخ محمد کے ساتھ اور بعد میں اس کے بھائی شیخ علی کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے جس کے تحت بحرین کو برطانوی حکومت کے تحفظ میں دے دیا گیا۔ اس وقت جب برطانوی افواج بحرین میں داخل ہوئیں توانہوں نے محسوس کیا کہ شیخ محمدبن خلیفہ نے بحرین کی تمام میناروں اور قلعوں پر ایرانی پرچم لہرا دیا تھا۔
1868 میں برطانیہ کے نمائندوں نے الخلیفہ خاندان کے حکمرانوں کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کئے اور بحرین نے خلیج فارس میں برطانیہ کے اثروالے محفوظ علاقوں میں شمولیت اختیار کرلی۔
یہ معاہدہ خلیج فارس کی دوسری ریاستوں کے ساتھ برطانوی حکومت کی جانب سے کئے گئے ان معاہدوں کی طرح ہی تھاجن میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ حکمراں اس علاقے کو برطانیہ کے سوائے کسی دوسرے کے تصرف میں نہیں دے سکتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی حکومت کے ساتھ برطانیہ کی اجازت کے بغیر تعلقات میں داخل نہیں ہو سکتا ہے، اس کے بدلے میں برطانیہ نے سمندر کی طرف سے کسی بھی جارحیت سے بحرین کی حفاظت کرنے اور ملک پر زمینی حملے کی صورت میں اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، مزیدبرآں کہ برطانیہ بحرین میں الخلیفہ کی حکمرانی کی حمایت کرتا ہے اور ملک کے حکمراں کے طور پر اس کی غیر مستحکم پوزیشن کو مضبوط کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔
1880 اور 1892 کے دوسرے معاہدوں کی رو سے بحرین حکومت کو برطانیہ کی زیر حمایت حکومت کی مکمل حیثیت مل گئی۔ اور اس طرح بحرین جو عملی طور پر 1783 میں ایران کے ما تحت تھا سرکاری طور پر 1868 اور آخری بار 1892 کے سال کے درمیان ایران سے الگ ہوا۔
ہندوستان کے ساتھ بحرین کے کاروبار نے برصغیر کی ثقافت پر ڈرامائی اثر و رسوخ دکھایا، کپڑے، کھانا، اور تعلیم سمیت، ہر ایک چیز پر ہندوستانی رنگ نظر آنے لگا۔
1911 میں بحرین کے تاجروں کے ایک گروپ نے بحرین میں برطانیہ کے اثر و رسوخ اور دخل اندازی پرپا بندی لگانے کا مطالبہ کیا تواس تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا اورملک بدر کرکے ہندوستان بھیج دیا گیا۔ 1923 میں برطانیہ کی مخالفت کا الزام عائد کیا گیا اور شیخ عیسیٰ بن علی کومعزول کرکے بحرین میں ایک مستقل نمائندہ مقرر کردیا۔ یہ سب ایران کے بحرین پر ملکیت کے دعویٰ کی تجدید سے اتفاق کے ساتھ ہوا اوربرطانیہ نے شیخ عیسیٰ پر اس دعویٰ کا خیر مقدم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ بحرین پر ایران کی طرف سے ملکیت کے دعویٰ کی تجدید کی جانب لوگوں کی طرف سے دکھایاگیا الحاق برطانیہ کے لئے تشویش کا باعث بن گیا۔ ان مسائل کے حل کے لئے، برطانیہ نے اپنے سب سے زیادہ تجربہ کار کالونیل افسر، سر چارلس بیلگریو کو 1926 میں بحرین کے امیر کے مشیر کے طور پر بھیجا۔ اس نے انتہائی سخت اقدامات کئے جس سے لوگوں کی بڑھتی ہوئی نفرت میں اور اضافہ ہوا، جس کا نتیجہ 1957 میں بحرین سے ان کے اخراج کی صورت میں سامنے آیا۔
1927 ء میں رضا شاہ نے اتحادی متحدہ کمیونٹی کو ایک خط لکھ کر بحرین کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کا خیال تھا کہ بحرین پر اس کا کمزور تسلط خلیج فارس پر کنٹرول کھونے کا سبب بنے گا ، اوراس نے کسی بھی قیمت پربحرین کے لوگوں کے درمیان آپس میں منافرت پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کوانجام تک پہنچانے کے لئے برطانوی عناصر نے بحرین کے شیعہ اور سنی فرقہ کے درمیان تنازعات کو ہوا دی اور حوصلہ افزائی کی۔
بحرین میں برطانوی چارلس بیلگریو کے شیخ حماد ابن عیسیٰ الخلیفہ (1872۔1942) کی مشاورت کے دوران 1926 اور 1957 کے درمیان اہم سماجی اصلاحات کی بنیاد پڑی۔ 1919 میں امام ہدایۃ بوائز اسکول کے افتتاح کے ساتھ ملک کا پہلا جدید اسکول قائم کیا گیا ، جبکہ عرب خلیج فارس کا پہلا لڑکیوں کا اسکول 1928 ء میں کھلا۔ ڈچ ریفارم چرچ کی طرف سے امریکی مشن ہسپتال نے 1903 ء میں کام کرناشروع کر دیا۔ دیگر اصلاحات میں غلامی کا خاتمہ شامل ہیں، جبکہ سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت نے تیز رفتارسے ترقی کی۔
ان اصلاحات کی اکثر بحرین کے اندرطاقتور گروپوں کی طرف سے اورحکمران خاندان کے اندر، قبائلی افواج ، مذہبی حکام اور تاجروں سمیت بھرپورمخالفت کا سامنا رہا۔ قدامت پسندوں کا انسداد کرنے کے لیے برطانیہ نے امیر عیسیٰ بن علی الخلیفہ کوہٹا دیا اور 1923 میں ان کے بیٹے کو اس کی جگہ دے دی۔ کچھ سنی قبائل مثلاً الدوساری کو زبردستی بحرین سے باہر نکال دیا گیا اور عرب کی سرزمین پربھیج دیا گیا، جبکہ سماجی اصلاحات کے مخالف مولویوں کو سعودی عرب اور ایران بھیج دیا گیا اور کچھ تاجرگھرانوں اور اہم خاندانوں کے سربراہوں کو شہر بدر کیا گیا تھا۔ بحرین میں جدیدیت کے ان اقدامات کی برطانیہ کی سعودی وہابی اور ایران کے بحرین کے متعلق عزائم کے خدشات نے حوصلہ افزائی کی تھی۔
تہران سے جاری کئے جارہے بحرین کی شیعہ اکثریت کی حمایت کے بیانات سن کر کوئی بھی شخص یہ فرض کرسکتا ہے کہ شاید بحرین کی شیعہ اپوزیشن پڑوس کے اپنے ہم مسلکوں کی مدد پر منحصر ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ شیعہ حزب اختلاف تہران سے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہتا کہ وہ اس چھوٹی سے ریاست میں چل رہے فرقہ وارانہ تنازعہ سے باہر ہی رہے۔
مرکزی دھارے کی اپوزیشن پارٹی کی سب سے بڑی مانگ ایک آئینی بادشاہت کا قیا م ہے جیسا کہ یورپ کے کئی ممالک میں رائج ہے۔ دیگرمانگوں میں ایک منتخب حکومت ، ایک آزاد پریس، ایک کھلی سول سوسائٹی اور سنی اقلیت کو چھوڑ کر باقی دوسرے مذاہب اور مسلکوں کے خلاف برتی جارہی تفریق، جیسے روزگار کے نابرابر مواقع ، مال و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ہر قسم کی انتظامی اور مالی بدعنوانیوں کاخاتمہ شامل ہیں۔
اب جب کہ دنیا کی توجہ لیبیا پر مرکوز ہے، بحرین کے مرکزی دھارے کی حزب مخالف خود کو تہران کے حکمرانوں سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شیخ علی جوکہ الوفاق پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں جوکہ ایک اہم شیعہ حزب اختلاف ہے نے عوامی طور پر مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کی تنظیم ایرانی رہبراعظم والی ولایۃالفقیہ طرز کی حکمرانی کے تصور کو لاگو کرنے کی قطعی خواہش مند نہیں ہے۔ ان حقائق کو جانتے بوجھتے ہوئے تہران کی طرف سے نوجوان ایرانی لڑکوں کو حزب اختلاف کے شانہ بشانہ احتجاج بحرین میں شامل ہونے کے لئے بھیجنے کے بڑے بڑے وعدے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس بحران میں بحرین کے شیعہ کے ساتھ ہے۔
حقیقت میں بحرین اس علاقے میں سیاسی طور پر سب سے زیادہ آگاہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اصلاحات کے مطالبے صرف چند ہفتے قبل، جب سے بحرین میں بے چینی شروع ہوئی ہے، نہیں نکل آئے ہیں بلکہ اس کی تاریخ 1971 ء میں برطانیہ سے ریاست کی آزادی سے پہلے کی ہے۔
شیعہ اکثریت کے مقابلہ کے لئے پچھلے دنوں سعودی فوج کی بحرین میں آمد وہاں کے حکمرانوں کی محض ایک چال ہے تاکہ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور حزب اختلاف کی اس مانگ کو دبایا جاسکے کہ بلاتا خیر ایک مغربی طرز کی جمہوریت قائم کی جائے۔ جبکہ سعودی عرب کے لئے بحرین میں شیعہ مظاہرین کے خلاف فوجی طاقت کا مظاہرہ دراصل سعودی عرب کے مشرقی حصے میں شورش پسند شیعہ شہریوں کو جو اپنے ملک میں بھی جمہوری حکومت کی مانگ کر رہے ہیں ایک سخت پیغام دیناہے۔
سعودی عرب فوج کی بحرین میں موجودگی نے دو منفی نتائج پیدا کئے ہیں، ایک طرف تو سعودی عرب بحرین کے حکمرانوں پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ایرانی مداخلت کو کم سے کم کرنے اور اپنے شیعہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد کا استعمال کرے اوردوسرے طرف ایران اب سعودی عرب کے اس حملے کو بحرین کی سرکار کودھمکانے اور ایک پڑوسی ریاست میں اپنے شیعہ بھائیوں کی حفاظت کاہوا دکھانے میں استعمال کر رہا ہے۔
دکھ کی مگر سچ بات یہ ہے کہ خلیج میں کشیدگی میں اب ایک اہم اضافہ ہوا ہے جس کی مثال سالوں میں نے نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس سے بحرین اور سعودی عرب دونوں کو خطرات کا اندیشہ ہے لیکن ایران کو یقیناًکسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔
زیادہ تر شیعہ لوگوں کا سوچنا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کاخیال ہے کہ بعض عرب تاناشاہوں کو بچائے رکھنا اس کے مفاد میں ہیں اور وہ ایران کے ساتھ بحرین کے شیعہ کے اتحاد سے ڈرتا ہے۔ اصل میں واشنگٹن نے ہی سعودی عرب کو فوج بھیجنے کی ہری جھنڈی دی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ خود مداخلت کرکے بحرین کے حکمرانوں کو تحفظ دے کیونکہ ایسا کرنا جہاں ایک طرف اس کو جمہوریت مخالفین کی صف میں شامل کردے گا وہیں دوسری طرف اس کی لیبیا میں چل رہی جمہوریت حامی مہم پر بھی اثر پڑے گا اوراس کی منافقت سب کے سامنے آجائے گی۔ یہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے کہ بحرین میں استحکام قائم ہواور ایسی حکومت رہے جو اس کے اشارے پر چلے کیونکہ مناما میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا قیام ہے۔
بحرین کا بحران صرف اس صورت میں ختم ہوگا اگرسعودی عرب اور ایران اس اندرونی بحران سے باہر رہتے ہیں، بحرین کے حکمرانوں پر اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے دباؤڈالاجائے، اور امریکہ اس بات کو صاف کردے کہ وہ ایک پراکسی جنگ کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا کیونکہ اس میں کسی اورفریق سے زیادہ ایران کو فائدہ حاصل ہوگا۔

No comments:
Post a Comment