Search

Tuesday, 27 December 2011

کیا مذہب ریزرویشن کی بنیاد ہوسکتا ہے؟


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 27th December 2011
عفیف احسن
مذہب ریزرویشن کی بنیاد نہیں ہو سکتا،تو پھر ریزرویشن کس بنیاد پر مانگا یا دیا جاسکتا ہے۔اس سوال کا قدرتی جواب یہ ہوگا کہ ریزرویشن کا حقدارنہ تو کوئی خاص طبقہ،نہ ہی کوئی خاص فرقہ اور نہ ہی کوئی مخصوص مذہبی یا لسانی اقلیت ہوسکتی ہے۔ریزرویشن تو صرف معاشی پچھڑے پن کی بنیاد پر دیا جانا چاہئے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کے ملک میں ریزرویشن کی شروعات کب ، کیسے اورکیو ں ہوئی۔ عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں ریزرویشن ڈاکڑ امبیڈکر اور کانگریس نے شروع کیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔دراصل ہندوستان میں ریزرویشن کی بنیاد انگریزوں نے ڈالی۔ریزرویشن کی پالیسی کی شروعات مدراس اور میسور پریسیڈنسیوں سرکاری نوکریوں میں برہمنوں کے غلبہ کے خلاف غیر برہمنوں کے احتجاج کے بعد ہوئی۔ برہمنوں نے اس کے خلاف کوئی سخت مزاحمت نہیں کی۔ اور ان علاقوں کو ہجرت کر گئے جہاں خوشحال کے مواقع میسر تھے۔
میسورپریسیڈنسی نے 1874 سے ہی غیر رسمی طور پر اپنی ریزرویشن پالیسی تیار کررکھی تھی۔ اسکی حکومت نے (1874 اور 1885 کے درمیان) برہمنوں کے لئے درمیانی اور نچلی سطح پر 20 فیصد اور باقی 80 فیصد نوکریاں دوسروں کے لئے ریزرو کیں۔ 1881 سے 1910 کے دوران ملازمتوں کے مطالبہ کی حوصلہ افزائی’’ماٹی کے لال‘‘ تحریک کے نتیجے میں ہوئی ۔
اس عملمیں برطانوی حکومت کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1858 میں چارج لینے کے بعد تیزی آئی۔ 1858 میں برطانوی حکومت نے ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی پالیسی اپنا ئی۔ اس پر عمل درآمد کے لئے انگریزوں سے جو بھی بن سکتا تھا انہوں نے کیا تاکہ تمام ہندوستانیوں کے اندر انگریزوں کے خلاف اتحادنہ پنپ سکے اور انگریز بلا کسی روک ٹوک کے ملک پر حکمرانی کرتے رہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک برطانوی سفیر یوٹس جے کٹس نے 1881 کی مردم شماری میں پچھڑی ذات اور قبائل کی پہچان کی۔ جس کا مقصد انہیں مقامی اور صوبائی سطح پر مالی مدددینا اور تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دینا تھا۔شاید اسی وجہ سے 1905 سے 1940 کے دوران ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی برطانوی پالیسی بہت زور شور سے پھلی پھولی۔اسی دور میں ریزرویشن کو جامع شکل ملی۔
کیونکہ ہمارے ملک میں وصائل محدود ہیں، جو کبھی آبادی کے تناسب میں میئسر نہیں رہے ، ہمارا ملک بیروزگار تو پیدا کرتارہا مگر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرپایا۔ تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس کورس میں ایپلائی کرنے کے لئے کم ازکم تعلیمی لیاقت 45 فیصد ہو تی ہے اس میں 98سے100فیصد نمبرلانے والوں ہی کو داخلہ مل پاتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہہیکہ باقی طالب علم نا اہل ہیں؟ایسا ہرگز نہیں۔ ہر 45فیصد نمبر حاصل کرنے والا اس کا ا ہل ہے ۔
اس کا ایک سبب یہ ہے کہ سرکارضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے نہیں بنا پارہی ہے۔ اور اس کے لئے ذمہ دار محدود وسائل کاٹھہرایا جاتا ہے۔صرف نجی شعبہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔جس کے پاس حاصل کرنے کے ذرائیوں کی کوئی کمی نہی ہے۔لیکن کیونکہ ہمارے ملک میں تعلیم میں اب بھی کوٹہ سسٹم اور لائسنس راج نافذ ہے، جس کی وجہ سے لائسنس جاری کرنے والی ایجنسیوں کو من مانی رشوت وصول کرنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ یہ رشوت منسٹر سے لیکر کلرک تک لی جاتی ہے۔شرائط ایسی لگائی جاتی ہیں کہ ان کو پورا کرناجوئے شیر لانے جیسا ہوتا ہے۔ اگر کسی طرح کوئی یونیورسٹی بن بھی جائے تو بعد میں اس کی منظوری کالعدم قرار دے دی جاتی ہے اور طالب علموں کو بیچ مجدھار میں چھوڑ دیا جاتاہے۔
ہمیں یہ تومنظور ہے کہ ہمارے بچے بیرون ملکی تعلیمی اداروں میں جاکر تعلیم حاصل کریں اور ملک کا لاکھو کروڑوں کا زرمبادلہ باہرچلا جائے مگر ان غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کو اس بات پر رازی کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا جس سے کہ وہ اندرون ملک اپنی شاخیں کھولیں اور اس کے لئے ان کو لبھانے کی ضرورت کو بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ایسا کیا گیا توایک تو بیروں ملک کے مقابلے تعلیم کم خرچ ہوگی اور دوسرے تعلیم کے معیا ر میں اضافہ ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کے انگریزوں کے ذریعہ شروع کیا گیا ریزرویشن بے بنیاد تھا ، دراصل ہوا یہ کے کچھ لوگوں نے اپنی طاقت اور پہنچ کی بنیاد پر نوکریوں اور سہولتوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ذات پات کی بنیاد پر ایک معاشرہ تشکی کیا ۔ جس میں یہ کہا گیا کہ راجہ کا بیٹا راجا، وزیر کا بیٹا وزیر، درباری کا بیٹا درباری، سپاہی کا بیٹا سپاہی ، اور اس طرح ہر دوسری ذیلی ذات کے لوگ بھی وہی کام کرتے رہیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ یعنی دھوبی کا بیٹا دھوبی، نائی کا بیٹا نائی، تیلی کا بیٹا تیلی،بھشتی کا بیٹا بھشتی، جلاہے کا بیٹا جلاہا،کسان کابیٹا کسان، جوتیاں گاٹھنے والے کا بیٹا جوتی گانٹھنے والاوغیرہ وغیرہ۔ یہ سماج میں خود غرضی کی ایک انتہاء تھی اور اس نے اجارہ داری کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح ایک خاص طبقہ ہمیشہ دبا اورکچلا رہا ، حالانکہ یہ اکثریت میں تھا۔اگر کسی ملک میں برسوں تک کسی خاص طبقہ، فرقہ یا گروپ کا استحصال کیا جائے گا تو وہ قدرتی طور پربغاوت پر آمادہ ہوجائے گا۔
جس طرح کچھ لوگو ں کو اچھوت بتاکرصدیوں تک اعلیٰ شاہی منصبوں سے دور رکھا گیا اور بعد میں ان لوگ کو ہریجن کہا گیا اور پھر وہی لوگ شیڈیولڈ کاسٹ کہلائے اسی طرح آزادی کے بعد مسلمانوں کو بھی طرح طرح سے پریشان کیا گیا اوراسے بھی اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ اب اس کو مائنارٹی کہا جارہا ہے۔ اس مائنارٹی میں بے شک مسلمان شامل ہیں مگر اس میں سکھ، عیسائی ،بودھ اور جینی بھی شامل ہیں۔ اس لئے اگر مائنارٹی کو کوئی بھی ریزرویشن دیا جاتا ہے تو وہ مذہب کی بنیاد پر دیا گیا نہیں مانا جاسکتا۔ کیونکہ دیش میں جس کسی کو بھی کوئی ریزرویشن ملے گا یاملا ہوا ہے اسکا اپنا کوئی ذاتی مذہب ضرور ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہے کے جن لوگوں کو شیڈول کاسٹ کے تحت ریزرویشن ملتا ہے وہ لامذہب ہیں۔یا لامذہبیت ریزرویشن کی بنیادہے۔ہا ں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی شیڈول کاسٹ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی (نیوکرسچن)یا اسلام مذہب اختیار کرلے (نیو مسلم)تو اس کو ریزرویشن حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی کہ ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہ دینے کی بات صرف شیڈیول کاسٹ کے لئے ہے اور یہ کسی اور قانون میں نہیں ہے کہ باقی کسی اورطبقہ ، فرقہ ، یا جماعت کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے روکا جاسکتا ہے۔
ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک بار بھی کسی بھی قسم کا ریزرویشن مل گیا تو اس کو اور اس کے بال بچوں کومستقبل میں ریزرویشن کا کوئی حق نہیں رہ جاناچاہئے کیونکہ جس طرح ہمارے ملک کے وسائل محدود ہیں اسی طرح ریزرویشن کی سیٹیں بھی محدود ہیں۔اور اس پر ایک ہی خاندان کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے نہیں تو ایک نیا پچھڑا طبقہ ابھر کے سامنے آجائے گا ۔ آج جو اوپر ہیں وہ کل نیچے ہو جائیں گے۔ ایک جوتی گانٹھنے والے کا لڑکاجب آئی اے ایس افسر بن جاتا ہے تو وہ جوتی گانٹھنے والا نہیں رہ جاتابلکہ اسکا شمار دیش کے اعلیٰ افسران میں ہوتا ہے اور وہ شیڈیول کاسٹ سے نکل کر ایک نئی کاسٹ میں شامل ہوجاتا ہے جوکہ ہے نوکر شاہوں کی ،مگر کیونکہ اب وہ طاقت ور ہے اس لئے وہ خود کو شیدیول کاسٹ میں بنائے رکھتا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس کافائدہ دلاتا رہتا ہے جوشیڈیول کاسٹ کے دوسرے کمزور لوگوں کی قیمت پر ہوتا ہے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آج تک ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔اسی طرح اگر ایک نائی کو ، تیلی کو، دھوبی کو، بھشتی کو، جس دن بھی ریزرویشن مل گیا وہ اس دن سے نائی، تیلی، دھوبی، بھشتی کے زمرے سے باہر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس کی آنے والی نسلیں ریزویشن سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔
مسلمانوں کو دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں دیا جانے والا ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کچھ نیا نہیں ہے۔یہ مانگ بھی ٹھیک اسی طرح کی ہے جس طرح کی مانگ گوجر ریزرویشن کے لئے کی جارہی ہے۔ کیونکہ گوجر دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور بہت پچھڑے ہونے کی سبب اور دوسری جاتیوں کی اجارہ داری کی سبب وہ ریزرویشن کا فائدہ نہیں حاصل کرپاتے ،اس لئے وہ اپنی جاتی کے لئے الگ سے ریزرویشن چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی جب تک کے ستّائیس فیصد میں ہی ان کی آبادی کے تناسب سے ان کوریزرویشن دیا جائے ، مگر الگ سے ان کو ریزرویشن دینا ابھی ممکن نہیں لگتا۔اسی طرح کی مانگ مسلمان دیگر پسماندہ ذاتوں کی بھی ہے، وہ کہتے ہیں کے دوسری ذاتیں ان کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں لینے دیتیں اس لئے ریزرویشن میں سے مسلم اوبی سی کو ان کے تناسب کے اعتبار سے حصہ مختص کیاجائے۔ ایسا ہی مرکزی حکومت نے کیا ہے۔ اس لئے یہ قطعی نہیں سمجھنا چاہئے کے مسلمانوں کو کوئی نیاریزرویشن مل گیا ہے، یا یہ کہ کانگریس نے ان پر کوئی بہت بڑا احسان کردیا ہے بلکہ یہ توانہیں پہلے سے ہی مل رہا تھا کانگریس نے تو صرف اس کو یقینی بنانے کا کام کیا ہے۔
Afif Ahsen, Ambedkar, Backward Classes, Britain, Congress, Daily Pratap, Muslim Reservation, Reservation, Scheduled Caste, Vir Arjun,

क्या धर्म आरक्षण का आधार होसकता है?


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 27th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
धर्म आरक्षण का आधार नहीं हो सकता, तो फिर आरक्षण किस आधार पर मांगा या दिया जा सकता है. इस सवाल का प्राकृतिक जवाब यह होगा कि आरक्षण का हकदार ना तो कोई खास वर्ग, न ही कोई खास समुदाय और न ही कोई विशेष धार्मिक या भाषाई अल्पसंख्यक हो सकता है. आरक्षण तो आर्थिक पिछड़े पन के आधार पर दिया जाना चाहिए.
इस मामले को समझने के लिए हमें पहले यह जानना चाहिए की देश में आरक्षण की शुरुआत कब, कैसे और क्यों हुई. आम विचार है कि हिंदुस्तान में आरक्षण डॉ. अंबेडकर और कांग्रेस ने शुरू किया. तथ्य इसके बिल्कुल विपरीत है. दरअसल हिंदुस्तान में आरक्षण का आधार अंग्रेजों ने डाला. आरक्षण की नीति की शुरुआत मद्रास और मैसूर प्रजीडेंसियों में सरकारी नौकरियों में ब्राह्मणों के बहुल के खिलाफ गैर ब्राह्मणों के विरोध के बाद हुई. ब्राह्मणों ने इसके खिलाफ कोई सख्त प्रतिरोध नहीं किया और उन क्षेत्रों को पलायन कर गए जहाँ समृद्धी के अवसर उपलब्ध थे.
मैसूर प्रजीडेंसी ने 1874 से ही अनौपचारिक तौर पर अपनी आरक्षण नीति तैयार कर रखी थी. उसकी सरकार ने (1874 और 1885 के बीच) ब्राह्मणों के लिए मध्यम और निचले स्तर पर 20 प्रतिशत और शेष 80 प्रतिशत नौकरियां दूसरों के लिए आरक्षित कीं. 1881 से 1910 के दौरान नौकरियों की मांग को “माटी के लाल” आंदोलन के कारण प्रोत्साहन प्राप्त हुआ.
इस कार्य में 1858 में ब्रिटिश सरकार के ईस्ट इंडिया कंपनी से चार्ज लेने के बाद तेजी आई. 1858 में ब्रिटिश सरकार ने “बांटो और राज करो” की नीति अपनाई. उस पर अमल करने के लिए अंग्रेजों से जो भी बन पड़ता था उन्होंने किया ताकि सभी हिदुस्तानियों में अंग्रेजों के खिलाफ ऐका न पनप सके और अंग्रेज बिना किसी रोक-टोक के देश पर शासन करते रहें. आज़मगढ़ में एक ब्रिटिश राजदूत यूटस जे किट्स ने 1881 की जनगणना में पिछड़ी जातियों और जनजातियों की पहचान की, जिसका उद्देश्य उन्हें स्थानीय और प्रांतीय स्तर पर माली मदद देना और शिक्षा और सरकारी नौकरियों में प्राथमिकता देना था. शायद इसी वजह से 1905 से 1940 के दौरान “बांटो और राज करो” की ब्रिटिश नीति बहुत जोर-शोर से फली-फूली. इसी दौर में आरक्षण को व्यापक रूप मिला.
क्योंकि हमारे देश में वसायल सीमित हैं, जो कभी आबादी के अनुपात में मेयसर नहीं रहे, हमारा देश बेरोज़गार तो पैदा करता रहा मगर रोजगार के अवसर पैदा नहीं कर पाता. शिक्षा व्यवस्था ऐसी है कि जिस कोर्स में अपलाई करने के लिए कम से कम योग्यता 45 प्रतिशत होती है उसमें 98 से 100 प्रतिशत नमबर लाने वालों को ही प्रवेश मिल पाता है. क्या इसका मतलब यह हे की बाकी छात्र पात्र नहीं हैं? ऐसा हरगिज़ नहीं. हर 45 प्रतिशत अंक प्राप्त करने वाला उसका पात्र है.
इसका एक कारण यह है कि सरकार ज़रूरत के अनुसार नए शैक्षणिक संस्थान नहीं बना पा रही है. और इसके लिए जिम्मेदार सीमित संसाधन को ठहराया जाता है. केवल निजी क्षेत्र के पास संसाधनों की कमी नहीं है. जिसके पास प्राप्त करने के ज़रायों की कोई कमी नहीं है. लेकिन क्योंकि हमारे देश में शिक्षा में अब भी कोटा सिस्टम और लाइसेंस राज लागू है, जिसकी वजह से लाइसेंस जारी करने वाली एजेंसियों को मनमानी रिश्वत प्राप्त करने की खुली छूट मिल जाती है. यह रिश्वत मिनिस्टर से लेकर क्लर्क तक ली जाती है. शर्तें ऐसी लगाई जाती हैं कि उन्हें पूरा करना जूए-शीर लाने जैसा है. अगर किसी तरह कोई विश्वविद्यालय बन भी जाए तो बाद में उसकी स्वीकृति वापस ले ली जाती है और छात्रों को बीच मजधार में छोड़ दिया जाता है .
हमें यह तो मंज़ूर है कि हमारे बच्चे विदेश जाकर वहां के शिक्षण संस्थानों में शिक्षा प्राप्त करें और देश की लाखों करोड़ों की विदेशी मूद्रा बाहर चली जाए मगर इन विदेशी विश्वविद्यालयों और संस्थाओं को इस बात पर राज़ी करने के लिए कोई काम नहीं किया जाता जिससे कि वह देश में ही अपनी शाखायें खोलें और इसके लिए उन्हें लूभाने की आवश्यकता को भी नहीं समझा जाता. अगर ऐसा किया गया तो एक तो विदेश के मुकाबले शिक्षा कम खर्च होगी और दूसरे शिक्षा के स्तर में इजाफा होगा.
ऐसा नहीं है के अंग्रेजों द्वारा शुरू किया गया आरक्षण निराधार था, दरअसल हुआ यह की कुछ लोगों ने अपनी शक्ति और पहुंच के आधार पर नौकरियों और सुविधाओं पर एकाधिकार स्थापित करने के लिए जाति के आधार पर एक समाज की संरचना की. जिसमें यह कहा गया कि राजा का बेटा राजा, मंत्री का बेटा मंत्री, दरबारी का बेटा दरबारी, सिपाही का बेटा सिपाही और इस तरह हर दूसरी उप जाति के लोग भी वही काम करते रहेंगे जो करते हैं. यानी धोबी का बेटा धोबी, नाई का बेटा नाई, तैली का बेटा तैली, भिशती का बेटा भिशती, जुलाहे का बेटा जुलाहा, किसान का बेटा किसान, जूते गांठने वाले का बेटा जूते गांठने वाला आदि आदि. यह समाज में स्वार्थ की हद थी और उसने एकाधिकार की नींव डाली. इसी कारण एक विशेष वर्ग हमेशा दबा व कुचला रहा, हालांकि यह बहुमत में था. अगर किसी देश में वर्षों तक किसी वर्ग, समुदाय या समूह का शोषण किया जाएगा तो वह स्वाभाविक रूप पर बगावत पर उतारू हो जाएगा.
जिस तरह कुछ लोगों को अछुत बताकर सदीयों तक उॅचे शाही निकायों से दूर रखा गया और बाद में इन लोग को हरिजन कहा गया और फिर वही लोग शेडयूलड जाति कहलाए इसी तरह स्वतंत्रता के बाद मुसलमानों को भी तरह तरह से परेशान किया गया और उनहें भी अछूत बना दिया गया. अब इसे माइनारिटी कहा जा रहा है. इस माइनारिटी में बेशक मुसलमान हैं मगर इसमें सिख, ईसाई, बौद्ध और जेनी भी शामिल हैं. इसलिए अगर माइनारिटी को कोई भी आरक्षण दिया जाता है तो वह धर्म के आधार पर दिया गया नहीं माना जा सकता. क्योंकि देश में जिस किसी को भी कोई आरक्षण मिलेगा या मिला है उसका अपना कोई व्यक्तिगत धर्म ज़रूर है. ऐसा तो नहीं हे की जिन लोगों को अनुसूचित जाति के तहत आरक्षण मिलता है वह किसी भी धर्म को नहीं मानते हैं. या धर्म को नहीं मानना ही आरक्षण की बुनियादा हो सकता है, हां यह ज़रूर है कि अगर कोई अनुसूचित जाति का व्यकती अपना धर्म बदल कर ईसाई (न्यू ‍िक्रसचन) या इस्लाम धर्म अपना कर (न्यू मुस्लिम) हो जाये तो केवल उसे ही आरक्षण प्राप्त करने का अधिकार नहीं है. यानी कि हमारे देश में धर्म के आधार पर आरक्षण न देने की बात केवल शेडयूल जाति के लिए है और ऐसा किसी और कानून में नहीं है कि बाकी किसी तबक़े, समुदाय या दल को धार्मिक आधार पर आरक्षण देने से रोका जा सकता है.
एक और बात जो ध्यान देने योग्य है वह यह है कि अगर किसी को एक बार भी किसी भी प्रकार का आरक्षण मिल गया तो उसे और उसके बाल बच्चों को भविष्य में आरक्षण का कोई अधिकार नहीं रह जाना चाहिये क्योंकि जिस तरह हमारे देश के संसाधन सीमित हैं उसी तरह आरक्षण की सीटें भी सीमित हैं. और उस पर एक ही परिवार का एकाधिकार नहीं होना चाहिए नहीं तो एक नया पिछड़ा वर्ग उभर के सामने आ जाएगा. आज जो ऊपर हैं वह कल नीचे हो जाएंगे. एक जूती गांठने वाले का लड़का जब आईएएस अधिकारी बन जाता है तो वह जूती गांठंने वाला नहीं रह जाता बल्की उसका शुमार देश के अधिकारी वर्ग में होता है और वह शेडयूल जाति से निकलकर एक नई जाति में शामिल हो जाता है जो है नौकरशाहों की, लेकिन क्योंकि अब वह शक्तिशाली है, इसलिए वह खुद को शेडयूल जाति में बनाए रखता है और अपनी आने वाली पीढ़ियों को भी फायदा दिलाता रहता है जो शेडयूल कास्ट के दूसरे कमजोर लोगों की कीमत पर होता है, बहुत से लोग हैं जो आज तक आरक्षण का लाभ उठाने में सफल नहीं हुए हैं. इसी तरह अगर एक नाई को तैली को धोबी को ‍भिशती को जिस दिन भी आरक्षण मिल गया वह उस दिन से नाई, तैली, धोबी, ‍भिशती वर्ग से बाहर हो जाता है मगर फिर भी उसकी आने वाली पीढ़ियां आरक्षण का लाभ उठाती रहती हैं.
मुसलमानों को अन्य पिछड़ी जातियों की श्रेणी में दिया जाने वाला साढ़े चार प्रतिशत आरक्षण कुछ नया नहीं है. यह मांग भी ठीक उसी तरह की है जिस तरह की मांग गुर्जर आरक्षण के लिए की जा रही है. क्योंकि गुर्जर अन्य पिछड़े जातियों की श्रेणी में आते हैं और बहुत पिछड़े होने की वजह से और अन्य जातियों के एकाधिकार के कारण वह आरक्षण का लाभ नहीं प्राप्त कर पाते, इसलिए वह अपनी जाती के लिए अलग से आरक्षण चाहते हैं. इसमें कोई बुराई नज़र नहीं आती जब तक सत्ताईस प्रतिशत में ही उन की जनसंख्या के अनुपात में आरक्षण दिया जाता हे, मगर अलग से उन्हें आरक्षण देना अभी संभव नहीं लगता. इसी तरह की मांग मुसलमान अन्य पिछड़े जातियों की है, वह कहते हैं के अन्य जातियां उन्हें आरक्षण का लाभ नहीं लेने देतीं इसलिए आरक्षण में मुस्लिम पिछडी जातियों को उनके अनुपात के आधार पर हिस्सा निर्धारित किया जाये. ऐसा ही केंद्र सरकार ने किया है. इसलिए यह कतई नहीं समझना चाहिए के मुसलमानों को कोई नया आरक्षण मिल गया है, या यह कि कांग्रेस ने उन पर कोई बहुत बड़ा एहसान किया है बल्कि यह तो उन्हें पहले से ही मिल रहा था कांग्रेस ने तो केवल उस को सुनिश्चित करने का काम किया है.
Afif Ahsen, Ambedkar, Backward Classes, Britain, Congress, Daily Pratap, Muslim Reservation, Reservation, Scheduled Caste, Vir Arjun,

Monday, 19 December 2011

لوک پال بل یا زندہ طلسمات




Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 19th December 2011
عفیف احسن
مجھے چند ماہ پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھاکے ملک جس راہ پر گامزن ہے اگراسی پرچلتا رہا تو معاشی تباہی بہت دور نہیں ہے۔جب مجھے لگا کہ ہمارا ملک اس سلسلے میں قطعی فکر مند نہیں لگ رہا تھا اس لئے حکام کی توجہ اس جانب منبدول کرانے کے لئے میں نے ایک مفصل آرٹیکل لکھا تھاجس کے ذریعہ میں نے اس بات کا خلاصہ کیا تھا کہ کیسے ہمارے ملک کی معیشت تباہی کی راہ پر گامزن ہے اور اگرجلد ہی اس کا کوئی سدباب نہ کیا گیاتو ہمارا ملک تباہی کے دہانے پرپہنچ جائے گا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ حکمراں طبقہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس مسئلہ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کو سیاست کے علاوہ نہ توکچھ اوردکھائی ہی دیتا ہے اور نہ ہی سنائی ہی دیتا ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کو کو ئی مسئلہ ماننے سے لگاتار انکار کررہے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں کی نیت تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ان کے مفادمیں ہوسکتا ہے کہ دیش کے حالات بد سے بدتر ہوجائیں۔ اور ملک کے عوام حکومت سے متنفر ہوجائیں اورپریشان ہوجائیں جس کے سبب ایک ایسی حکومت مخالف لہر چلے جس میں لوگ حکمرا ں طبقہ کو اقتدار سے بے دخل کردیں۔ کیونکہ جب عوام ناراض ہو تے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کے کون سی پارٹی ان کی پریشانیوں کو دور کرسکتی ہے بلکہ وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اسے حکمراں پارٹی کو ہٹانا ہے، کیونکہ وہ ہی ان کی ساری پریشانیوں کی جڑ ہے۔ ان کے ووٹ کے نتیجے میں چاہے کوئی بھی ایری غیری پارٹی برسر اقتدار آجائے، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
مگر ہماری حکمراں جماعت کو نہ جانے کیا ہوا ہے۔ وہ کیوں خواب غفلت سے بیدارنہیں ہوتی۔اور کیوں اس پریشانی کاسدباب نہیں کرتی۔ اس سب کی ایک بڑی وجہ تو لوک پال بل ہی ہے ۔ایسا ماحول بنایاجارہا ہے کہ جیسے ملک کی تمام پریشانیوں کا ایک اچوک اور رام بان علاج لوک پال بل ہی ہے۔یا یوں کہئے کہ یہ حیدرآباد کی مشہور دوا’’ زندہ طلسمات‘‘کی طرح ہے۔جس کو کہ آپ ہر بیماری میں استعمال کرسکتے ہیں۔ایک زمانے میں زندہ طلسمات کا استعمال بہت عام تھا اور اس کا استعمال ہر بیماری کے علاج میں کیا جاتا تھا۔ مگر وہ پرانا دور تھا جب بیماریاں کم تھیں یا یو ں کہئے کے لوگوں کو کم بیماریوں کے نام پتا تھے۔ اسلئے تمام بیماری کے لئے گنے چنے نام ہی تھے۔ مگر اب اسپیشلائزیشن کا دور ہے اور اس لئے ایک ایک بیماری میں کئی کئی بیماریاں نکل آئی ہیں۔اور ان بیماریوں کے الگ الگ اسپیشلسٹ اور ڈاکٹر ہو گئے ہیں۔ مگر ہم اسی پرانے زمانے میں جی رہے ہیں۔ہمیں اب بھی یہی یقین ہے کہ لوک پال بل ہی ہماری ساری پریشانیوں کا علاج ہے۔
حالانکہ تمام پارٹیاں انا کی سبھی باتوں سے متفق نہیں ہیں مگر کوئی بھی کھل کر اس کی مخالفت نہی کررہی ہے۔ بلکہ اپوزیشن پارٹیاں تو اس کی آگ میں اپنی روٹیاں سینکنے سے بھی نہیں چوک رہی ہیں ۔اور جتنا ہوسکے اس معاملے کو ہوا دے رہی ہیں۔بند کمروں میں ان پارٹیوں کا جو اسٹینڈ ہوتا ہے وہ ان کے اعلانیہ اسٹینڈ سے قطعی مختلف ہے۔
لوک پا ل بل پاس کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے اور سرمائی اجلاس کی مدت بڑھائے جانے تک کی بات ہو رہی ہے مگر دوسرے بہت ہی ضروری اور اہم بل ہیں جو دونوں ایوانوں میں پاس ہونے کے انتظار میں ہیں ان کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔اس کے علاوہ بہت سے ایسے بل ابھی ڈرافٹ اسٹیج پر ہی لٹکے ہوئے ہیں۔اور بہت سے ایسے بل ہیں جوکہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دئے گئے ہیں۔سرکار نے سرمائی اجلاس شروع ہونے سے پہلے 62ایسے نئے بلوں کی فہرست بنائی تھی جو کہ اس میں پاس کرائے جانے تھے۔ یہ ان بلوں کے علاوہ تھے جو پہلے ہی سے پینڈنگ ہیں۔ لیکن اب جب کے اس اجلاس کے ختم ہونے میں چند روز ہی بچے ہیں مگر حکومت ایک بھی بل پاس کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔اجلاس کا زیادہ تر وقت شور شرابے اور ہنگامے کی نظر ہو چکا ہے۔ پچھلے سال کے سرمائی اجلاس میں کوئی بھی بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ جبکہ بجٹ اجلاس میں کل پانچ بل ہی پاس ہوسکے اور مانسون اجلاس میں دس بل پاس ہوئے تھے۔
اس نا اہلی میں حکومت نے خوردہ میں ایف ڈی آئی پر لئے گئے اپنے فیصلے کو واپس لیکر اور اس پر عمل درآمد نہ کرکے اور بھی ناقص کام کیا ہے۔ اس سے حکومت اورزیادہ کمزور نظر آرہی ہے۔ اب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کے کیبنٹ میں لئے گئے فیصلے کی مخالفت کانگریس کے اتحادی پارلیمنٹ اور سڑک پر کرتے ہیں حالانکہ جس وقت یہ فیصلہ لیا جاتا ہے وہ کیبنٹ کی میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں اور تب وہ اس فیصلے کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ۔
یوپی اے کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں تک کو کسی بل کے لئے راضی نہیں کرپاتی ہے اور یوپی اے کے الائز ہی اس کے ہرفیصلے کی مخالفت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ رہی سہی کسر بی جے پی پوری کردیتی ہے اور وہ بھی کانگریس کے ہر قدم کی مخالفت کرنا شروع کردیتی ہے۔پینشن بل کو ہی لے لیجئے ۔ 2004میں بی جے پی اس بل کی پرزور حمایت کررہی تھی مگر اس وقت کمیونسٹ اس بل کی مخالفت کررہے تھے۔آج حالت یہ ہے کے کمیونسٹ اور بی جے پی دونو ں ہی مل کر اس کی پرزورمخالفت میں آگئے ہیں۔
آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ سرکار ی افسران اور وزرائچھوٹے سے چھوٹا فیصلہ لینے سے بھی ڈرتے ہیں کے کہیں ان پر بدعنوانی کا الزام نہ لگ جائے۔اور کئی اسکیمیں اور پروگراموں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔سرکاری خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے۔اور اس کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے۔
سرکار کے سبھی آنکڑے اور اعدادوشمار غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ صاف ہے کہ سرکار ابھی تک خوش فہمی میں جی رہی ہے اور موجودہ حقیقت اور آئندہ مشکلات سے نظر چرارہی ہے۔پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیرمین مونٹیک سنگھ اہلوالیہ نے بڑی بے شرمی سے اس بات کو قبول کرلیا ہے کے پلاننگ کمیشن نے مہنگائی درکا غلط اندازہ لگایا تھا۔مگر اس پر کوئی بھی ہنگامہ نہیں ہوا۔ ان سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ اپنابوریا بستر گول کریں کیوں کہ آپ کو کام کرنا نہیں آتا۔ حکومت کا کام کاج زیادہ تر انہیںآنکڑوں یا اعدادوشمار پر چلتا ہے۔ کیوں کہ غلط اعداد و شمار کا اندازہ حکومت کو غلط راہ پر لے جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اب یہ دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں کے مارچ 2012تک مہنگائی در سات سے آٹھ فیصد تک آجائے گی۔اور اسی کو بنیاد بنا کرپرنب مکھرجی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مارچ تک مہنگائی کم ہوجائے گی۔یہ اعداد وشمارجس بنیاد پر بنائے گئے تھے جب وہ بنیاد ہی ڈھے گئی ہو تو پھر کیسے ان نئے اعداد و شمار پر بھروسہ کیاجاسکتا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت ملک کی موجودہ معاشی حالت کانئے سرے سے جائزہ لے اور اس پر ایک وہائٹ پیپر جاری کرے اور اس کو درست کرنے کے لئے جلد سے جلد سدباب کرے اور سبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کے حالات بہتر بنانے کی سمت کام کرے۔
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, FDI in Retail, Parliament, UPA, Vir Arjun,

लोकपाल बिल या जिन्दा तिलस्मात


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

Published on 19th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
मुझे कुछ महीने पहले ही अनुमान हो गया था की देश जिस राह पर चल रहा है अगर उसी पर चलता रहा तो आर्थिक तबाही बहुत दूर नहीं है. जब मुझे लगा कि हमारा देश इस बारे में बिल्कुल चिंतित नहीं लग रहा हे, इसलिए सरकार का ध्यान इस ओर दिलाने के लिए मैंने एक विस्तृत लेख लिखा था जिस में मैंने इस बात का खुलासा किया था कि कैसे हमारे देश की अर्थव्यवस्था तबाही की राह पर आगे बढ़ रही हे और अगर जल्द ही इसका कोई उपाय नहीं किया गया तो हमारा देश तबाही की कगार पर पहुँच जाएगा. मगर ऐसा लगता है कि शासक वर्ग ही नहीं बल्कि हमारे देश का विपक्षी दल भी इस समस्या को लेकर गंभीर नहीं हैं. क्योंकि उन्हें राजनीति के अलावा न तो कुछ और दिखाई ही देता है और न ही सुनाई ही देता है. शायद इसीलिए वह उसे कोई समस्या मानने से लगातार इनकार कर रहे हैं.
विपक्षी दलों की नीयत तो समझ में आती है कि उनके हित में हो सकता है कि देश के हालात बद से बदतर हों. और देश की जनता सरकार से नाराज़ हो और परेशान हो जिसकी वजह से एक ऐसी सरकार विरोधी लहर चले जिसमें लोग सरकारी वर्ग को सत्ता से बेदखल कर दें. क्योंकि जब जनता नाराज़ होती है तो वह यह नहीं देखते के कौन सी पार्टी उनकी परेशानियों को दूर कर सकती है बल्कि वह तो केवल यह देखती है कि उसे शासक दल को हटाना है, क्योंकि वे ही सारी परेशानियों की जड़ नज़र आती है. उनके वोट के कारण चाहे कोई भी दल सत्ता में आ जाये उसकी उन्हें कोई परवाह नहीं होती.
मगर हमारे सत्ताधारी दल को न जाने क्या हुआ है? वह क्यों चिर निद्रा से नहीं जागता. और क्यों परेशानी का निवारण नहीं करती. इस सब की एक बड़ी वजह तो लोकपाल बिल ही है. ऐसा माहौल बनाया जारहा है कि जैसे देश की सभी समस्याओं का एकमात्र अचूक और रामबाण इलाज लोकपाल बिल ही है. या यूँ कहिए कि हैदराबाद की प्रसिद्ध दवा “जिन्दा तिलस्मात” की तरह है. जिसको कि आप हर बीमारी में उपयोग कर सकते हैं. एक समय “जिन्दा तिलस्मात” का उपयोग बहुत आम था और इसका उपयोग हर बीमारी के इलाज में किया जाता था. मगर वह पुराना दौर था जब बीमारियां कम थीं या यूं कहिए के लोगों को कम बीमारियों के नाम पता थे. इसलिए सभी बीमारी के लिए ‍गिने चुने नाम ही थे. मगर अब स्पेशलाईज़ेशन का दौर है और इसलिए एक-एक बीमारी में कई-कई बीमारियां निकल आई हैं. और इन बीमारियों के अलग अलग विशेषज्ञ और डॉक्टर हो गए हैं. मगर हम उसी पुराने ज़माने में जी रहे हैं. हमें अब भी यही विश्वास है कि लोकपाल बिल ही हमारी सारी परेशानियों का इलाज है.
हालांकि सभी पार्टियां अन्ना की सभी बातों से सहमत नहीं हैं, लेकिन कोई भी खुलकर इसका विरोध नही कर रही है. बल्कि विपक्ष पार्टियां तो उसकी आग में अपनी रोटियाँ सेंकने से भी नहीं चूक रही हैं. और जितना हो सके इस मामले को हवा दे रही हैं. बंद कमरों में इन पार्टियों का जो स्टैंड होता हे वह उनके खुले आम स्टैंड से बिल्कुल अलग है.
लोक पाल बिल पास कराने के लिए संसद का विशेष सत्र बुलाए जाने और चालू सत्र की अवधि बढ़ाए जाने तक की बात हो रही है मगर दूसरे बहुत ही आवश्यक और महत्वपूर्ण विधेयक हैं जो दोनों सदनों में पास होने के इंतजार में हैं उनकी कोई बात भी नहीं करता. इसके अलावा बहुत से ऐसे बिल अभी ड्राफ्ट स्टेज पर ही अटके हुए हैं. और बहुत से ऐसे बिल हैं जो ठंडे बस्ते में डाल दिए गए हैं. सरकार ने मोजूदा सत्र शुरू होने से पहले 62 ऐसे नए बिलों की सूची बनाई थी जो इसमें पारित कराए जाने थे. यह बिल उन के अलावा थे जो पहले से ही लम्बित हैं. लेकिन अब जब इस सत्र के खत्म होने में कुछ दिन ही बचे हैं सरकार एक भी बिल पास कराने में कामयाब नहीं हो सकी है. बैठक का अधिकांश समय शोर शराबे और हंगामे की नज़र हो चुका है. पिछले वर्ष शीत सत्र में कोई भी बिल पास नहीं हो सका था. जबकि बजट सत्र में कुल पांच बिल ही पास हो सके और मानसून सत्र में दस बिल पास हुए थे.
इस नाअहली में सरकार ने खुदरा में एफडीआई पर लिए गए अपने फैसले को वापस लेकर और उस पर अमल न करके ओर भी गलत काम किया है. इससे सरकार और ज़यादा कमज़ोर दिख रही है. अब तो हालात यहां तक ​​पहुंच गए हैं के केबिनेट में लिए गए निर्णय का विरोध कांग्रेस के सहयोगी दल संसद और सड़क पर करते हैं हालांकि जिस समय यह फैसला लिया जाता है वह केबनट की बैठक में मोजूद होते हैं और तब वह इस फैसले को रोकने के लिए कुछ नहीं करते.
यूपीए की स्थिति ऐसी हो गई है कि वह अपने सहयोगी दलों तक को किसी ‍विधेयक के लिए राज़ी नहीं कर पाता है और यूपीए के घटक दल ही उसके हर फ़ेसले का विरोध करना शुरू कर देते हैं. रही सही कसर भाजपा पूरी कर देती है और वह भी कांग्रेस के हर कदम का विरोध करना शुरू कर देती है. पेंशन बिल को ही ले लीजिए. 2004 में भाजपा इस विधेयक का समर्थन कर रही थी लेकिन उस समय कम्युनिस्ट इस विधेयक का विरोध कर रहे थे. आज हालत यह है कि कम्युनिस्ट और भाजपा दोनों मिल कर उसकी पुरज़ोर मुखाल्फ़त में आ गए हैं.
आज हालात यह हो गए हैं कि सरकारी अधिकारी और मंत्री छोटे से छोटा फैसला लेने से डरते हैं के कहीं उन पर भ्रष्टाचार का आरोप न लग जाए. और कई योजनाएं और कार्यक्रमों का क्रियान्वित नहीं हो सका है. सरकारी खजाना खाली होता जा रहा है. और आय कम होती जा रही है.
सरकार के सभी आँकड़े ग़लत साबित होते जा रहे हैं. जिसकी वजह साफ है कि सरकार अभी तक खुश फहमी में जी रही है और वर्तमान वास्तविकता और भविष्य के संकट से नज़रें चूरा रही है. योजना आयोग के उप-अध्यक्ष मोंटेक सिंह अहलूवालिया ने बड़ी बेशरमी से इस बात को स्वीकार कर लिया है की योजना आयोग ने महंगाई दर का ग़लत अनुमान लगाया था. मगर उस पर कोई भी हंगामा नहीं हुआ. उनसे किसी ने भी यह नहीं कहा कि आप अपना बोरिया बिस्तर गोल करें क्योंकि आपको काम करना नहीं आता. सरकार का अधिकांश कामकाज इनही आँकड़े पर चलता है. क्योंकि गलत आंकड़ों का आंकलन सरकार को गलत राह पर ले जा सकता है. इतना ही नहीं वह यह दावा करने से भी नहीं चूक रहे हैं के मार्च 2012 तक महंगाई दर सात से आठ प्रतिशत तक आ जाएगी. और इसी को आधार बनाकर प्रणब मुखर्जी यह दावा कर रहे हैं कि मार्च तक महंगाई कम हो जाएगी. यह आंकड़े जिस आधार पर बनाए गए थे जब वह आधार ही धराश्य हो गया हो तो फिर कैसे इन नए आंकड़ों पर भरोसा किया जासकता है.
अभी भी समय है कि सरकार देश की मौजूदा आर्थिक स्थिति की नए सिरे से आंकलन और समीक्षा क‍रे और उस पर एक व्हाइट पेपर जारी करे और उसको ठीक करने के लिए जल्द से जल्द कदम उठाये और सभी राजनीतिक दलों के साथ बैठ कर देश के हालात बेहतर बनाने की ओर काम करे.
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, FDI in Retail, Parliament, UPA, Vir Arjun,

Tuesday, 13 December 2011

अमेरिका और ईरान के बीच स्टार-वार


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

Published on 12th December 2011
अफ़ीफ़ अहसन
पिछले दिनों ईरान ने दावा किया कि उसने एक बिना पायलट के ड्रोन विमान को मार गिराया है जो ईरान के पूर्वी हिस्से पर उड़ान भर रहा था. ईरानी मीडिया का कहना है कि यह ड्रोन विमान जो जासूसी के उद्देश्य से प्रयोग किया जाता है नवीनतम RQ-170 श्रृंखला का है. ईरानी मीडिया पर यह दावा किया गया कि ड्रोन विमान को बहुत अधिक नुकसान नहीं पहुँचा है. राडार पर नज़र न आने वाले इस विमान को बनाने और प्रयोग करने की घोषणा अमेरिका ने दो साल पहले ही की थी. ईरानी सेना ने कहा है कि ईरान की वायु सीमा के इस तरह के उल्लंघन की प्रतिक्रिया केवल ईरानी हवाई सीमा तक सीमित नहीं रहेगी. अमेरिका ने हाल ही में ईरान पर परमाणु हथियार बनाने के आरोप में आर्थिक प्रतिबंधों को सख्त कर दिया था जिसके बाद पश्चिमी देशों ने भी ऐसे ही क़दम उठाए हैं. हालांकि ईरान का कहना है कि उसका पर्माणु कार्यक्रम शांतिपूर्ण उद्देश्यों के लिए है.
हालांकि अमेरिका ने शुरू में आधिकारिक तौर पर इस बात को स्वीकार नहीं किया. मगर बाद में अमेरिकी अधिकारी अपने ड्रोन के लापता होने की पुष्टि कर चुके हैं. अब ईरान के सरकारी टीवी ने अमेरिका के सबसे आधुनिक ड्रोन विमान की फुटेज प्रसारित की है. रिपोर्ट में बताया गया है कि यह विमान देश के पूर्वोत्तर क्षेत्र में बहुत अंदर तक घुस आया था. 2 मिनट से अधिक अवधि की वीडियो फुटेज में ईरानी सैन्य अधिकारियों को इस जासूसी विमान का निरीक्षण करते दिखाया गया है. सरकारी टीवी की फुटेज में RQ-170 सेनटैनल नामक यह जासूस विमान सही हालत में दिखाई दे रहा है. ईरानी क्रांतिकारी गार्ड के एयरोस्पेस डिवीज़न के प्रमुख जनरल अली हाजी ज़ादा ने दावा किया है कि जासूसी विमान को इलेक्ट्रॉनिक घात लगाकर क़ब्ज़े में किया गया जिसकी वजह से उसे कम से कम नुकसान पहुंचा. सरकारी टीवी के अनुसार इस विमान को कब्जे में लेने के लिए गार्ड और ईरान की रेगलर सेना ने संयुक्त कार्रवाई की. पर्यवेक्षकों का कहना है कि इस फुटेज का उद्देश्य अमेरिकी विमान को मार गिराने के दावे की पुष्टि के साथ-साथ प्रोपेगंडा है क्योंकि फुटेज में जहाज के नीचे की ओर लटकाए गए अमेरिकी झंडे में सितारों की जगह पर मानव खोपड़ियां नज़र आ रही हैं. इसके अलावा एक बैनर भी लगा है जिस पर सवालिया निशान के साथ लिखा है “अमेरिका यह हरकत नहीं कर सकता?”. अमेरिकी रक्षा विभाग पेन्टागन के एक प्रवक्ता ने इस फुटेज के हवाले से कहा है कि सेना इस फुटेज की समीक्षा कर रही है. लेकिन प्रवक्ता ने इस बारे में अधिक जानकारी उपलब्ध नहीं कराइ है.
जो तस्वीरें और वीडियो फुटेज जारी की गई है उसके विश्लेषण से ड्रोन के वास्तविक होने और उसे उतारे जाने या मार गिराए जाने के बारे में विभिन्न राय जताई जा रही हैं. कुछ बातें ऐसी हैं जिससे कि यह कहा जा सकता है कि यह फर्ज़ी है. एक रूपरेखा सबसे उपर एक्सेस पैनल के साथ कुछ ज्यादा ही लंबी चली गयी है और स्क्रू की तरह के निशान जो उसके किनारे के साथ हैं कुछ अधिक अजीब हैं. इस जहाज को नीचे से देख पाने में सक्षम नहीं. ईरान क्यों चाहेगा कि विमान को पहुँचने वाले नुकसान को प्रदर्शित करे? पंखों के अलग होने और फिर गलत ढंग से लगाए जाने की यह व्याख्या की जा सकती है कि यह एक चकमा है, हालांकि यह अच्छा कारीगरी का नमूना हो सकता क्योंकि शेष भाग बहतरीन हालत में है, लेकिन इस कमी पर विचार करने की जरूरत है.
ड्रोन गिरने की तुरंत बाद घटना स्थल की कोई फोटो उपलब्ध नहीं है. बिना यह जाने कि किस तरह उसे ज़मीन पर उतारा गया या गिर कर तबाह हो गया और ऐसे हादसे के बाद भी इतनी अच्छी हालत में बचा रहा. यह बात अधिकांश लोगों को यह सोचने पर मजबूर कर सकती है कि किया एसा बिलकुल असंभव है.
कुछ समाचार एजेंसियों ने अज्ञात अमेरिकी सरकारी सूत्रों के हवाले से कहा है कि केंद्रीय कमान द्वारा घटना स्थल की उपग्रह से खींची गई तस्वीरों में एक बड़े मैदान में ड्रोन का मलबा फैला हुआ देखा गया था. इस बात में कुछ वजन लगता है, क्योंकि किसी बेलगाम दुर्घटना की स्थिति में आमतौर पर धमाकेदार विस्फोट और तबाही होती है. मगर हमेशा ऐसा नहीं होता.
फोटो एक‍जि़फ डेटा (वह डेटा जो तस्व‍ीर खींचने के समय इसमें शामिल होजाता है) से पता चलता हे कि ड्रोन हमलों की तस्वीरें एक 5D मार्क II कैमरे से एक 28mm लेंस प्रयोग करके 17 सितंबर 2011 को ली गई थी. मगर किसी भी कैमरे में गलत तारीख सेट हो सकती है. ये ईरानी दावे के सही होने के खिलाफ अब तक की सब से मजबूत शहादत हो सकती है.
उसके सही होने के बारे में जो विवरण पेश किया जा रहा है वह यह है कि राडार ‍िडफयूज़र / मेष ‍िग्रल के पीछे एक मोटर दिखायी दे रहा है. यह एक बहुत बारीक विवरण है जिसकी जरूरत ईरान केवल फोटोग्राफी सबूत देने के लिए नहीं थी. यह तकनीक के इतिहास का हिस्सा है, कुछ जो “एक्सपैंडबल स्टेल्थ” की सोच से मेल रखता है और इंजन में किसी भी राडार की लहरों को टकराकर वापस जाने को कम करने में मदद करता है.
तसवीरों में सभी बारीक विवरण ठीक वहीं पर हैं जहां उन्हें होना चाहिए. कुछ विवरणों का संतुलन बहुत आश्चर्यजनक है. जिससे यह लगता है कि यह एक बेहतरीन और विश्वसनीय प्रतिलिपि नहीं है जिसके लिए ईरान के पास समय और पैसा दोनों की कोई कमी नहीं थी.
एक बड़ी तस्वीर जो दिखाए गए जहाज़ के बारे में सबसे अधिक प्रभावशाली है, और जो एक बड़ी बात है. कुल व्यास, किनारों की ढाल, उसकी चोंच की गोलाई, सब कुछ है और उसका बराबर हिसाब किताब है. विमान के मॉडल में सभी आवश्यक जानकारी मौजूद हो सकती हैं, लेकिन अगर एक भी लाइन गलत है या अजीब है या कोण ग़लत है तो सब कुछ एक खिलौने वाले जहाज की तरह दिखाई देगा हालांकि यह ऐसा नही है.
इसलिए चाहे किस्मत हो या कौशल, ईरान के कब्जे में एक पूरा RQ-170 सेनटैनल ड्रोन है जिसे कि लोकहीड स्कंक ने तैयार किया था. शुरूआत में तो यह लग रहा था कि जालसाजी का यह एक बेहतरीन नमूना है और फोटोशाप का कमाल है मगर नज़दीकी जांच, एक अनुसंधान और घंटों जमा घटा के बाद स्थिति स्पष्ट हो गयी है और पूरी तरह विश्वास किया जा सकता है कि जो कुछ आप को तस्वीर और ईरानी टीवी वीडियो में दिखाया गया है वह वास्तव में वही है जिसका दावा किया जा रहा है.
लोग ईरानी सेना को अधिक महत्व नहीं देते हैं, हालांकि ईरानी सेना बहुत व्यापक संसाधनों से सुसजिज्त है, विपरीत उसके जिस पर अधिकांश लोगों को विश्वास है. यदि ईरान की मानी जाए तो उन्होंने उसको इलेक्ट्रॉनिक घात लगाकर नीचे उतारा है जिसके दो अर्थ हो सकते हैं. पहला यह कि उन्होंने ड्रोन का जुड़ाव उसके कंट्रोल सेंटर से तोड़ दिया और इसके बाद वह खुद नीचे आगिरा. या फिर यह कि उसने अमेरिका का संपर्क तोड़ कर उसे अपने कंप्यूटर से नियंत्रित कर लिया और ठीक ठाक उतार लिया. यदि दूसरी बात सही है तो यह अमेरिका के लिए बहुत ही खतरनाक हो सकता है. क्योंकि अगर ईरान ने ऐसी तकनीक ईजाद कर ली है या हासिल कर ली है तो फिर किसी भी संभावित युद्ध में अमेरिका के मिसाइल का मुंह उस की ओर या उसके साथियों की ओर मोड़ा जासकता है. और अगर ऐसा होता है तो स्टार-वार जिसके अमेरिका और रूस के बीच लड़े जाने का अनुमान लगाया जाता था आने वाले दिनों में अमेरिका और ईरान के बीच लड़ी जाएगी.
Afif Ahsen, Daily Pratap, Vir Arjun, Iran, America, Drone,

Monday, 12 December 2011

امریکہ اور ایران کی اسٹار وار


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 12th December 2011
عفیف احسن
گزشتہ دنوں ایران نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے ایک بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے جوکہ ایران کے مشرقی حصہ پر پرواز کر رہا تھا ۔ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون طیارہ جو جاسوسی کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے جدید ترین70 RQ- سیریز کا ہے ۔ ایرانی ذرائع ابلاغ پر یہ دعوی بھی کیا گیا کہ ڈرون طیارہ کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ راڈار کو نظر نہ آنے والے اس طیارہ کوبنانے اور اس کو استعمال کرنے کا اعلان امریکہ نے دو سال قبل ہی کیا تھا۔ایرانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی حدود کی اس طرح کی خلاف ورزیوں کا رد عمل آئندہ ایران کی فضائی حدود تک محدود نہیں رہے گا۔ امریکہ نے حال ہی میں ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزام میں اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا جس کے بعد مغربی ممالک نے بھی ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔ حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
حالانکہ امریکہ کی طرف سے شروع شروع میں سرکاری طور پر اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ مگر بعد میں امریکی حکام اپنے ڈرون کے لاپتہ پونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اب ایران کے سرکاری ٹی وی نے امریکہ کے اس انتہائی جدید ڈرون طیارے کی فوٹیج نشر کی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں بہت اندر تک گھس آیا تھا۔ 2 منٹ سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو فوٹیج میں ایرانی فوجی اہلکاروں کو اس جاسوس طیارے کا معائنہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی اس فوٹیج میں بظاہر RQ-170سینٹنل نامی یہ جاسوس طیارہ درست حالت میں دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کے ایروسپیس ڈویژن کے سربراہ جنرل عمی علی حاجی زادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جاسوس طیارے کو الیکٹرونک گھات لگا کر قبضے میں کیا گیا جس کی وجہ سے اسے کم سے کم نقصان پہنچا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس طیارے کو قبضے میں لینے کے لیے گارڈز اور ایران کی ریگولر آرمی نے مشترکہ کارروائی کی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فوٹیج کا مقصد امریکی طیارے کو مار گرانے کے دعوے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا بھی ہے کیونکہ فوٹیج میں جہاز کے نیچے کی جانب لٹکائے گئے امریکی جھنڈے میں ستاروں کی جگہ پر انسانی کھوپڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بینر بھی آویزاں ہے جس پر سوالیہ نشان کے ساتھ تحریر ہے امریکہ یہ حرکت نہیں کر سکتا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن کے ایک ترجمان نے اس فوٹیج کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی حکام اس فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ترجمان نے اس بابت مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
جو تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے اس کے تجزیہ سے اس ڈرون کے اصلی ہونے اور اس کو اتارے جانے یا مار گرائے جانے کے بارے میں مختلف رائے ظاہر کی جارہی ہیں۔کچھ باتیں ایسی ہیں جس سے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ جعلی ہے۔ ایک خاکہ جو سب سے اوپرایکسس پینل کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ ہی طویل چلا گیا ہے اور اسکرو کی طرح کے نشانات جوکہ اس کے کنارے کے ساتھ ساتھ ہیں کچھ زیادہ عجیب ہیں۔ اس جہاز کو نیچے سے دیکھ پانے کے قابل نہیں۔ ایرانی کیوں چاہیں گے کہ طیارے کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر ہونے دیں؟پروں کے علا حدہ ہونے اور پھر بے ڈھنگے طریقہ سے لگائے جانے کی یہ تشریح کی جا سکتی ہے کہ یہ ایک چکما ہے ، اگرچہ یہ ناقص کاری گری کا نمونہ ہو سکتا ہے کیونکہ باقی ماندہ حصہ بہتبہترین حالت میں ہے، لیکن اس مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈرون گرنے کی فوراً بعد جائے حادثے کی کوئی تصویر فراہم نہیں کی گئی ہے۔ بغیر اس بات کو جانے کہ کس طرح اس کو زمین پر اتاراگیا یا گر کر تباہ ہو گیا اور ایسے عظیم حاد ثے کے بعد بھی اتنی اچھی حالت میں بچا رہا،یہ بات زیادہ تر لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے کہ ایسایکسر ناممکن ہے۔
کچھ خبر رساں ایجنسیوں نے نامعلوم امریکی سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ مرکزی کمان کے ذریعہ جائے حادثے کی مصنوعی سیارہ سے کھینچی گئی تصاویر میں ایک بڑے میدان میں اس ڈرون کا ملبہ پھیلا ہوا دیکھا گیا تھا۔ اس بات میں کچھ وزن لگتاہے، کیوںکہ کسی بھی بے لگام حادثے کی صورت میں عام طور پراس کا اختتام دھماکہ خیزتباہی کے ساتھ ہوتا ہے۔ مگرہمیشہ ایسا نہیںہوتا۔
تصاویر کا ایکزف ڈیٹا (وہ ڈیٹا جو تصویرکھینچنے کے وقت اس میں سرایت کرجاتا ہے)سے پتاچلتاہے کہ ڈرون حملوں کی تصاویر ایک 5D مارک II کیمرے سے ایک 28mm لینس استعمال کرتے ہوئے 17 ستمبر 2011 کو لی گئیں تھی۔ مگرکسی بھی کیمرے میں غلط تاریخ سیٹ ہوسکتی ہے۔ یہ ایرانی دعویٰ کے صحیح ہونے کے خلاف اب تک کی مضبوط ترین شہادت ہو سکتی ہے۔
اس کے صحیح ہونے کے بارے میں جو وضاحت پیش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ راڈار ڈفیوزر/ میش گرل کے پیچھے ایک موٹر نظرآرہی ہے۔ یہ ایک نہایت باریک تفصیل ہے جس کی ضرورت ایرانیوں کو صرف فوٹو گرافی ثبوت فراہم کرنے کے لئے نہیں تھی۔ یہ اس ٹیکنالوجی کی تاریخ کا حصہ ہے، کچھ جو ’’ایکسپینڈبل اسٹیلتھ‘‘ کی سوچ سے مطابقت  رکھتا ہے  اور انجن کے اندر کسی بھی راڈار کی لہروں کو ٹکراکر واپس جانے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
تصاویرمیں تمام باریک تفصیلات ٹھیک وہیں پر موجود ہیں جہاں انہیں ہونا چاہئے۔ پیش کی گئی چیز کی تفاصیل اور توازن بہت حیرت انگیز ہیں۔ جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ ایک بہترین اور قابل اعتماد نقل نہیں ہے جس کے لئے ایرانیوں کے پاس وقت اور پیسہ دونوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔
ایک بڑی تصویر جو کہ دکھائے گئے ہوائی جہاز کے بارے میں سب سے زیادہ متاثر کن ہے، اور جوکہ ایک بڑی بات ہے۔ مجموعی حجم، کناروں کی ڈھال، اس کی چونچ کی گولائی، سب کچھ موجود ہے اور اس کا برابر حساب کتاب ہے۔ ہوائی جہاز کے ماڈل میں تمام ضروری تفصیلات موجود ہوسکتی ہیں، لیکن اگر ایک بھی لائن غلط ہے یا عجیب ہے یا ایک زاویہ بھی غلط ہے توسب کچھ ایک کھلونے والے جہاز کی طرح نظر آئے گا حالانکہ یہ ایسا نہی ہے۔
  لہٰذا چاہے قسمت ہویا مہارت، ایران کے قبضہ میں ایک پورا 170 RQ-سینٹینل ڈرون ہے جسے کہ لوکہیڈ اسکنک نے تشکیل کیا ہے۔ شروع شروع میں تو یہ لگ رہا تھا کہ یہ جال سازی کا ایک بہترین نمونہ ہے اور فوٹوشاپ کا کمال ہے مگرنزدیکی جانچ، ایک چھوٹی سی تحقیق اور گھنٹوں کی جمع گھٹا کے بعد، حالات بالکل واضح ہو گئے ہیں اور اس بات کا مکمل طور یقین کیا جاسکتا ہے کہ جو کچھ آپ کوتصاویر میں اور ایرانی ٹی وی ویڈیو میں دکھایا گیاہے وہ واقعی وہی ہے جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
 لوگ ایرانی فوج کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں، حالانکہ ایرانی فوج بہت وسیع وسائل کی حامل ہے، برخلاف اس کے جس پر زیادہ تر لوگوں کو یقین ہے۔اگر ایران کی مانی جائے تو انہوں نے اس کو الیکٹرونک گھات لگاکر نیچے اتارا ہے جس کے دو معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ اول یہ کہ انہوں نے امریکی ڈرون کا رابطہ اس کے کمانڈ سینٹر سے منقطع کردیا اور اس کے بعد وہ نیچے آگرا۔ یا پھر یہ کہ اس نے امریکہ کا رابطہ منقطع کرکے اس کو اپنے کمپیوٹروں سے قابو میں کرلیا اور اس کوٹھیک ٹھاک اتار لیا۔ اگر دوسری بات صحیح ہے تو پھر یہ امریکہ کے لئے بہت ہی خطر ناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر ایران نے ایسی تکنیک ایجاد کرلی ہے یاحاصل کرلی ہے تو پھر کسی بھی ممکنہ جنگ میں وہ امریکہ کے میزائلوں کا ر خ خود اس کی طرف یا اس کے ساتھیوں کی طرف موڑ سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اسٹار وار جس کے امریکہ اور روس کے درمیان لڑے جانے کا قیاس لگایا جاتا تھا آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑی جائے گی

Monday, 28 November 2011

खबर कहाँ गुम होगयी?

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 28th November 2011
अफ़ीफ़ अहसन
पिछले बुधवार टीवी पर एक खबर देखी जिसमें बताया गया था कि आयकर के छापे में झारखंड के एक कोयला ठेकेदार के पास से 75 करोड़ की नकदी बरामद हुई है. अगली सुबह यानी के गुरुवार के अख़बारों में जब अधिक जानकारी के लिए खोजा तो खबर नज़र नहीं आई. बहुत खोजने के बाद अन्दर के पन्नों पर एक छोटी सी खबर छपी हुई नज़र आई. जिस खबर को मुखपृष्ठ की सज्जा बनना चाहिए था और वह भी “मैन लीड” उसे इस तरह दबा दिया गया था कि जैसे कुछ हुआ ही न हो. यह छापे गुरुवार को भी जारी रहे और तब तक बरामद की गई राशि बढ़कर 125 करोड़ रुपये हो गई.
मैंने सोचा कि हो सकता है कि 75 करोड़ की रकम हमारे देश के बड़े- बड़े अखबार वालों को मामूली लगी होगी इसलिए उसे अधिक महत्व नहीं दिया गया. अब तो मुझे उम्मीद थी कि देश के बड़े अखबार उस ख़बर को मुखपृष्ठ की सज्जा बनायेंगे. ठेकेदार और उसके किस किस से संबंध थे के बारे में वर्णन दिया जाएगा. यह भी लिखा जाएगा कि वह अमुक दुकान से जो के चोरसया चलाता है दैनिक पान खाता था, यही नहीं चोरसया तक का साक्षात्कार फोटो सहीत दिया जाएगा. मगर अगले दिन तो मुझे पहले से भी बड़ा झटका लगा. अधिकांश अख़बारों ने इस ख़बर पर चुप्पी साध ली, और अपने अखबार की एक पंक्ति भी बर्बाद करना गवारा नहीं कि और कुछ अखबारों ने खबर से न्याय करते हुए या यूं कहिए कि पत्रकारिता की आवश्यकता को ध्यान में रखते हुए अंतिम पन्नों में एक छोटी सी खबर छाप दी. ऐसा लग रहा था कि हमारे देश के बड़े अखबार “टाइम्स नाव” के खिलाफ दिए गए सौ करोड़ के निचली अदालत के फैसले और उसके विरुद्ध याचिका पर हाईकोर्ट की इस चैनल को बीस करोड़ नकद जमा कराने और अस्सी करोड़ की बैंक गारंटी देने की शर्त से सकते में हैं, जिस को कि सुप्रीम कोर्ट ने भी बरकरार रखा था. या फिर शायद वह इस छापे और इसमें बरामद राशि पर विश्वास नहीं करते हैं और शायद इसी लिए इस पर कुछ अधिक कहने और लिखने से डर रहे हैं. यह भी हो सकता है कि ये लोग उसे खबर ही न समझ रहे हों.
इसलिए आइए थोड़ा समझने की कोशिश करते हैं कि यह “खबर” क्या चीज़ होती है. जब से होश संभाला तब से एक बात यह सुनी कि भई खबर यह नहीं कि कुत्ते ने इंसान को काट लिया, खबर यह है कि इंसान ने कुत्ते को काट लिया. हैरानी की बात नहीं कि अभी भी यह बात इधर उधर सुनने को मिल जाती है. यह संवाद एक दो फ़िल्मों में भी इस्तेमाल हुआ है. यह था पत्रकारिता का वह पुरानी सोच जिसके पास किसी बात का खबर होने का माप दंड इसका नयापन, अनोखा पन, विशेषता होता था. यह अलग है कि अब खबर इस पैमाने पर जांची या बनाई जाती है या नहीं, लेकिन इतना ज़रूर है कि अभी तक मन के कोनों में यही पैमाना जीवंत है.
शायद इसी लिए शुक्रवार के अख़बार शरद पवार पर एक सिर फिरे के हमले की खबरों से पटे पड़े थे. समाचार मुखपृष्ठ से शुरू होकर अंदर के पन्नों तक फैला हुआ था. अखबारों के रिपोर्टर जब हमलावर के घर उसके परिवार के बारे में विवरण जानने पहुंचे तो उन्हें घर के बाहर मोटा सा ताला लटका हुआ ‍मिला. कुछ फ़ोटो ग्राफ़्रों ने घर पर लटके ताले की तस्वीर खींचने पर ही संतोष किया मगर दूसरे अधिक समझदार और चालाक रिपोर्टरों ने पड़ोसियों को घेर लिया और उनके लंबे चौड़े इंटरव्यू छापे और पड़ोसियों की तस्वीरों से ही अखबारों के पन्नों को पाट दिया. ऐसा लगता था कि समाचार पत्रों के पास प्रकाशित करने के लिए कोई महत्वपूर्ण खबर थी ही नहीं. देश के जाने माने पत्रकारों और कालम लिखने वालों ने इस हमले पर ढके छिपे अंदाज़ में चुटकी लेने में भी कोई कसर उठा न रखी. इस हमले पर बड़े-बड़े स्तम्भ लिखे गए. हालांकि इस हमले पर हर तरफ से निंदा की आवाज़ आई मगर फेसबुक और अन्य सोशल नेटवर्किंग साइटों पर भी हमला ही चर्चा का विषय बना रहा और यारों ने खूब खूब मज़ा लिया.
यही नहीं जाने माने तथाकथित गांधीवादी भी उसमें बह गए और उन्होंने चुटकी लेते हुए कहा कि “बस एक ही थप्पड़ मारा”. हालांकि बाद में इनहोंने एनसीपी के डर से अपना बयान बदल लिया लेकिन उनकी प्रतिष्ठा में ओर भी पतन आया और उनकी ओर से बयान देकर पलटने की घटनाओं में एक की और वृद्धि हो गयी. देश का हर व्यक्ति गांधीवादी तो बनना चाहता है मगर गांधी जी के उसूलों और उनके जीवन स्तर पर खरा नहीं उतर पाता. जो चीज़ गांधी जी को महात्मा यानी कि एक अज़ीम हसती बनाती है और सबसे अलग करती है वह है सब्र इसतेकामत, हक ओर सदाकत, इसार और कुरबानी, जो कि हर एक के बस की बात नहीं है. चर्खेा तो हर कोई चला सकता है मगर कपास कातना और धागा बनाना हर एक के बस की बात नहीं है. वह भी प्रेम का ऐसा धागा जो हर एक को जोड़ सके. प्रत्येक व्यक्ति अनशन कर सकता है, सत्याग्रह कर सकता है, लेकिन गांधी नहीं बन सकता.
लगता है कि मैं भी अपनी बिरादरी वालों की तरह असल खबर से भटक गया हूं इसलिए आइए वापस चलते हैं असल खबर की ओर, वह है झारखंड के झरिया में बीसीसीआईएल के एक कोयला व्यापारी के पास से बुधवार को आयकर विभाग को प्राप्त हुई काली कमाई और संपत्ति. छापे मारी के बाद से अब तक कोयला व्यापार के पास से लगभग 125 करोड़ रुपये की बरामदगी की गई है. आयकर विभाग ने बुधवार को कोयला ठेकेदार लाल बाबू के घर और कार्यालय में छापे मारी शुरू की थी. अधिकांश राशि बैंक खाते में ही जमा थी जबकि कुछ राशि घर और कार्यालयों से भी बरामद की गई. हालांकि आयकर विभाग को उनके नाम पर कोई भी खाता नहीं मिला है, लेकिन उनकी पत्नी और घर के दूसरे सदस्यों के नाम पर रकम जमा थी.
जब बैंक ऑफ इंडीया के अधिकारियों की नज़र बाबू सिंह के खातों में भारी भरकम राशि के लेनदेन पर गई तो उनहोंने आयकर विभाग को इस बात की जानकारी दी. जिसके बाद हरकत में आए आयकर विभाग के अधिकारियों ने लाल बाबू के घर और ऑफिस में छापे मारी की. वैसे अगर ‍इन पूरी घटनाओं को देखा जाए तो इसे आयकर विभाग के इतिहास की सबसे बड़ी सफलता कहा जा सकता है. इससे पहले आयकर विभाग की रीकवरी का रिकॉर्ड केवल 45 करोड़ रुपये था, लेकिन लाल बाबू के पास से बरामद किए 125 करोड़ ने आयकर विभाग के रिकॉर्ड को तोड़ दिया है. विभाग यह भी पता करने की कोशिश में लगा हुआ है कि यह करोड़ों रुपया लाल बाबू को कहाँ से मिला है. देश में न जाने ऐसे कितने ही लाल बाबू होंगे जिनके पास करोड़ों की अघोषित चल और अचल संपत्ति है, लेकिन आयकर विभाग को इस बारे में कोई जानकारी नहीं है.
हमारे देश में काली कमाई के खिलाफ जोर शोर से बोलने वाले और अभियान चलाने वाले नेता, अभिनेता और साधु-संतों को भी जैसे इस बारे में कुछ पता ही नहीं चला है. क्योंकि किसी ने भी इस बारे में न तो कोई बयान दिया है और न ही आयकर विभाग की प्रशंसा ही की है और न ही सरकार के ब्लैक मनी रोकने के इस कदम की सराहना की है. जबकि दूसरी ओर राजनीतिज्ञों के स्विस बैंक खातों की फर्जी कहानियाँ फेसबुक और इंटरनेट की सज्जा बनी हुई हैं.
विकी लीक्स की स्विस बैंक खातों की जाली सूचियां इंटरनेट पर आम हैं, और एक योग गुरु की वेबसाइट पर भी इसे देखा गया है. मगर कोई भी काले धन को रोकने के सराहनीय कदम की प्रशंसा के लिए आगे नहीं आया. इस खबर को दबाने में आयकर विभाग ने खुद भी काफी बड़ा हिस्सा निभाया है. वह इसलिए कि उसके पास राष्ट्रीय स्तर पर पीआरओ नहीं है और अगर है भी तो उसे कतई सक्षम नहीं कहा जा सकता. कोई ऐसा व्यक्ति जो समय समय पर प्रेस कॉन्फ्रेंस कर इस प्रकार की कार्यवाही का ब्योरा पेश कर सके. चूंकि आयकर की चोरी, काली कमाई और उससे लड़ना केंद्र के तहत आता है इसलिए राष्ट्रीय स्तर पर उसकी व्यापक प्रचार की जरूरत है जिससे दूसरे लोग भी इन घटनाओं से सबक हासिल करें और काले धन से तौबा करें.
नोट: आप यह लेख और पुराने सभी लेख http://afifahsen.blogspot.com पर भी पढ़ सकते हैं.

خبر کہاں گم ہوگئی؟


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 28th November 2011
عفیف احسن
گذشتہ بدھ کو ٹیلی ویژن پر ایک خبر دیکھی جس میں بتایا گیا تھا کہ انکم ٹیکس کے ایک چھاپے میں جھاڑکھنڈ کے ایک کوئلہ ٹھیکیدار کے پاس سے75کروڑ کی نقدی برآمد ہوئی ہے۔اگلی صبح یعنی کے جمعرات کے اخبارات میں جب مزید تفصیلات کے لئے تلاش کیا تو خبر نظر نہیں آئی ۔بہت تلاش کرنے کے بعد اندرونی صفحات پر ایک چھوٹی سی خبر چھپی ہوئی نظرآئی۔ جس خبر کو صفحہ اول کی زینت بننا چاہئے تھا اور وہ بھی’’ مین لیڈ‘‘ اسے اس طرح دبادیاگیاتھاکہ جیسے کچھ ہو ا ہی نہ ہو۔ یہ چھاپے جمعرات کو بھی جاری رہے اور تب تک برآمد کی گئی رقم بڑھ کر 125کروڑ روپئے ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ 75کروڑ کی رقم ہمارے ملک کے بڑے بڑے اخبار والوں کومعمولی لگی ہو گی اس لئے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اب مجھے امید تھی کے دیش کے بڑے بڑے اخبارات اس خبر کو صفحہ اوّل کی زینت بنائیں گے۔ ٹھیکیدار اور اس کے کس کس سے تعلقات تھے کے بارے میں ایک ایک تفصیل دی جائیگی۔ یہ بھی رقم کیاجائے گا کے وہ فلاں دکان سے جس کو کے چورسیا چلاتا ہے روزانہ پان کھاتا تھا، یہی نہیں چورسیا تک کے انٹرویو بمع تصویر دئے جائیں گے۔
مگر اگلے د ن تو مجھے پہلے سے بھی بڑا جھٹکا لگا۔ زیادہ تر اخبار نے اس خبر پر چپّی سادھ لی ، اوراپنے مؤخر اخبار کی ایک سطر بھی ضائع کرنا گوارا نہ کیا اور کچھ اخباروں نے خبر سے انصاف کرتے ہوئے یا یوں کہئے کہ صحافت کے تقاضہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے آخرے صفحات میں ایک چھوٹی سی خبر چھاپ دی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہمارے ملک کے بڑے بڑے اخبارات ’’ٹائمس ناؤ‘‘ کے خلاف دئے گئے سو کروڑ کے ذیلی عدالت کے فیصلے اور اس کی اپیل پر ہائی کورٹ کے اس چینل کو بیس کروڑ نقد جمع کرانے اور اسّی کروڑ کی بینک گارنٹی دینے کی شرط سے سکتے میں ہیں،جس کو کہ سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ یاپھر شاید وہ اس چھاپے پر اور اس سے برآمد رقم پر یقین نہیں رکھتے ہیں اوراس لئے اس پر کچھ زیادہ کہنے اور لکھنے سے ڈر رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اس کو خبر ہی نہ سمجھ رہے ہوں۔
اس لئے آئیے تھوڑا سا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ’خبر‘ کیا چیزہوتی ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا تب سے ایک بات یہ سنی کہ بھئی خبر یہ نہیں کہ کتے نے انسان کو کاٹ لیا، خبر یہ ہے کہ انسان نے کتے کو کاٹ لیا ۔ حیرانی کی بات نہیں کہ ابھی بھی یہ بات اِدھر اْدھر سننے کو مل جاتی ہے ۔یہ ڈائیلاگ ایک دو فلموں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ تھا صحافت کا وہ پرانا مکتبِ فکر جس کے نزدیک کسی بات کے خبر ہونے کا پیمانہ اس کا نیا پن، انوکھا پن، خاص پن ہوتا تھا ۔ یہ الگ ہے کہ اب خبر اس پیمانے پر جانچی یا بنائی جاتی ہے یا نہیں، تاہم اتنا ضرور ہے کہ ابھی تک ذہنوں کے سانچوں میں یہی پیمانہ جاگزیں ہے ۔
شاید اسی لئے جمعہ کے اخبارات شرد پوارپر ایک سر پھرے کے حملہ کی خبروں سے پٹے پڑے تھے۔ خبر صفحہ اوّل سے شروع ہوکر اندر کے صفحات تک پھیلی ہوئی تھی۔ اخبارات کے رپورٹر جب حملہ آور کے گھر اس کے خاندان کے بارے میں تفصیلات جاننے پہنچے تو انہیں گھر کے باہر موٹا سا تالہ لٹکا ہواملا۔ کچھ فوٹو گرافروں نے گھر پر لٹکے تالے کی تصویر کھینچنے پر ہی اکتفا کیا مگر دوسرے زیادہ سمجھدار اور چالاک رپورٹر وں نے پڑوسیوں کو ہی گھیر لیا اور انکے لمبے چوڑے انٹرویو چھاپے اورپڑوسیوں کی تصاویر سے ہی اخبارات کے صفحات کو پاٹ دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اخبارات کے پاس شائع کرنے کے لئے کوئی اور اہم خبر تھی ہی نہیں۔ دیش کے جانے مانے صحافیوں اور کالم نگاروں نے اس حملہ پر ڈھکے چھپے انداز میں چٹکی لینے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس حملہ پر بڑے بڑے کالم لکھے گئے۔ حالانکہ اس حملہ پر ہر طرف سے مذمت کی آواز بلند ہوئی مگر فیس بک اور دوسری سوشل نیٹورکنگ سائٹس پر بھی یہ حملہ ہی گفتگو کا موضوع بنا رہا اور یاروں نے خوب خوب مزالیا۔
یہی نہیں جانے مانے نام نہاد گاندھی وادی بھی اس میں بہہ گئے اور انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ’’ بس ایک ہی تھپڑ مارا‘‘۔حالانکہ بعد میں انہوں نے این سی پی کے ڈر سے اپنا بیان بدل لیا مگر اس سے ان کے وقار میں مزید زوال آیا اور ان کی طرف سے بیان دے کر پلٹنے کے واقعات میں ایک اورکا اضافہ ہوگیا۔ ملک کا ہرشخص گاندھی وادی تو بننا چاہتا ہے مگر گاندھی جی کے اسولوں اور ان کے معیار زندگی پر کھرا نہیں اترپاتا۔جو چیز گاندھی جی کو مہاتما یعنی کہ ایک عزیم ہستی بناتی ہے اور سب سے منفرد کرتی ہے وہ ہے صبر واستقامت، حق و صداقت، ایثاراور قربانی جوکہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ چرخہ تو ہر کوئی چلا سکتا ہے مگر کپاس کاتنا اور دھاگا بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔وہ بھی پریم کا ایسا دھاگا جو ہر ایک کو جوڑ سکے ۔ہر شخص انشن کر سکتا ہے، ستیہ گرہ کرسکتا ہے، مگر گاندھی نہیں بن سکتا۔
لگتا ہے کہ میں بھی اپنے برادری والوں کی طرح اصل خبر سے بھٹک گیا ہوں اس لئے آئیے واپس چلتے ہیں اصل خبر کی طرف وہ ہے جھارکھنڈ کے جھریا میں بی سی سی ایل کے ایک کوئلہ کاروباری کے پاس سے بدھ کو محکمہ انکم ٹیکس کو حاصل ہوئی کالی کمائی اور جائداد۔ چھاپے ماری کے بعد سے اب تک کوئلہ کاروباری کے پاس سے تقریبا 125کروڑ روپے کی برآمدگی کی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے بدھ کو کوئلہ ٹھیکیدار لال بابو کے گھر اور آفس میں چھاپے ماری شروع کی تھی ۔ زیادہ تر رقم بینک اکاؤنٹس میں ہی جمع تھی جبکہ کچھ رقم گھر اور دفتروں سے بھی برآمد کی گئی۔ حالانکہ محکمہ انکم ٹیکس کو ان کے نام پر کوئی بھی اکاؤنٹ نہیں ملا ہے، لیکن ان کی بیوی اور گھر کے دوسرے ارکان کے نام پررقم جمع تھی ۔
جب بینک آف انڈیاکے اعلیٰ افسران کی نظر بابو سنگھ کے اکاؤنٹس میں بھاری بھرکم رقم کے ٹرانزیکشن پر گئی تو اس نے محکمہ انکم ٹیکس کو اس بات کی اطلاع دی ۔ جس کے بعد حرکت میں آئے محکمہ انکم ٹیکس کے افسران نے لال بابو کے گھر اور آفس میں چھاپے ماری کی۔ ویسے اگر ان پورے واقعات کو دیکھا جائے تو اسے محکمہ انکم ٹیکس کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس کی ریکوری کا ریکارڈ صرف45 کروڑ روپے تھا، لیکن لال بابو کے پاس سے برآمد کیے 125 کروڑ نے محکمہ انکم ٹیکس کے اس ریکارڈ کو توڑ دیا ہے ۔ محکمہ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ کروڑوں روپیہ لال بابو کو کہاں سے حاصل ہوا ہے۔ ملک میں نہ جانے ایسے کتنے ہی لال بابو ہوں گے جن کے پاس کروڑوں کا غیر اعلانیہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ موجود ہے، لیکن محکمہ انکم ٹیکس کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں کالی کمائی کے خلاف زور شور سے بولنے والے اور مہم چلانے والے نیتا، ابھینیتا، اور سادھو سنتوں کو بھی جیسے اس بارے میں کچھ پتا ہی نہ چلا ہے۔ کیونکہ کسی نے بھی اس بارے میں نہ تو کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی انکم ٹیکس محکمہ کی ستائش کی ہے اور نہ ہی حکومت کے بلیک منی روکنے کے اس قدم کی تعریف ہی کی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سیاست دانوں کے سوس بینک کھاتوں کی فرضی کہانیاں فیس بک اور انٹرنیٹ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
وکی لیکس کی سوس بینک کھاتوں کی جالی فہرستیں انٹرنیٹ پر عام ہیں، اور ایک یوگ گرو کی ویب سائٹ پر بھی اس کو دیکھا جاسکتاہے۔ مگر کوئی بھی کالے دھن کو روکنے کے اس قابل تعریف قدم کی ستائش کے لئے آگے نہیں آیاہے۔ اس خبر کو دبانے میں انکم ٹیکس محکمہ نے خود بھی کافی بڑا حصہ ادا کیا ہے۔ وہ اس لئے کہ اس کے پاس قومی سطح پر کوئی پی آراو نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اسے قطعی فعّال نہیں کہا جاسکتا ۔کوئی ایسا شخص جو کہ وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس کر کے اس قسم کی کارروائی کا بیورا پیش کرسکے۔چونکہ انکم ٹیکس کی چوری ،کالی کمائی اور اس سے لڑنا مرکز کے تحت آتاہے اس لئے قومی سطح پر اس کی وسیع پبلسٹی کی ضرورت ہے جس سے دوسرے لوگ بھی ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور کالے دھن سے توبہ کریں۔
نوٹ: یہ مضمون اوراس سے قبل کے تمام مضامین پڑھنے کے لئے http://afifahsen.blogspot.comپر جائیں۔

Monday, 21 November 2011

मनरेगा से पैदा होती मजदूरों की कमी

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 21st November 2011
अफ़ीफ़ अहसन
एक सबक आमोज़ कहानी है जिसे हम बचपन में पढ़ा करते थे. कहते हैं कि किसी किसान के खेत में एक चिड़िया ने अपना घोंसला बनाया हुआ था जिस में उसने अंडे दिए, उन अंडों से नन्हे नन्हे बच्चे निकले, जिनकी वह बहुत देखभाल करती थी. ठीक उसी तरह जिस तरह कि किसान अपने खेत की देखभाल किया करता था. एक दिन किसान अपने खेतों पर आया और उसे लगा कि अब फसल तैयार हो गई है, उसने लहलहाती हुई फसल की तरफ देखकर बहुत जोश से कहा कि फसल तैयार हो गई है और वह जल्द ही उसे काटने की तैयारी करेगा. यह बात चिड़िया के नन्हे नन्हे बच्चों ने भी सुनी और वह परेशान हो गए कि अब हमारा आशियाना उजड़ जाएगा, जब चिड़िया शाम को वापस लौटी तो नन्हे नन्हे बच्चों ने यह बात उसको बताई कि किसान आया था और वह फसल काटने की बात कह रहा था, उस पर चिड़िया ने कहा कि घबराने की कोई बात नहीं है अभी फसल नहीं कटेगी. ऐसा ही हुआ कई दिन तक किसान का कोई आता पता नहीं चला और कोई भी फसल काटने नहीं आया. कुछ दिन बाद किसान फिर खेत पर आया और उसने फसल देखकर कहा कि मैं कल ज़रूर गांव के लोगों के साथ आकर फसल कटवालुंगा. जब शाम को चिड़िया आई तो बच्चों ने उसे किसान के फिर आने के बारे में बताया इस पर चिड़िया ने कहा कि अभी घबराने की कोई बात नहीं है. दिन इसी तरह गुज़रते चले गए और कोई फसल काटने नहीं आया. कुछ दिन बाद फिर किसान खेत पर आया और उसने कहा कि कल अपने मित्रों के साथ फसल काटने आऊँगा. उस दिन भी जब शाम को चिड़िया लौटी तो उसके बच्चों ने यह कहानी उसे सुनाई उसने कहा के अभी भी घबराने की कोई बात नहीं है. इसी तरह ज्यादा दिन गुजरते चले गए और फसल न कटी, कुछ दिन बाद किसान फिर खेतों पर आया और उसे इस बात पर बहुत चिंता हुई के अभी तक फसल नहीं कट सकी है, उसने यह फैसला किया कि अब वह खुद ही अपने हाथों से फसल काटेगा और यह कहते हुए खेत से चला गया कि वह कल खुद ही आकर फसल काटेगा और अब किसी का इंतजार नहीं करेगा. जब शाम को चिड़िया लोट कर आई तो उसके बच्चों ने यह बात उसे बताई कि किसान कह गया है कि वह कल खुद आकर फसल काटेगा. यह सुनते ही चिड़िया ने कहा कि अब हम को तुरंत यह जगह छोड़ देनी चाहिए और कहीं और बसेरा करना चाहिए. अब तक चिड़िया के बच्चे बड़े हो गए थे और वे इस लायक हो गए थे कि उड़ सकें इसलिए चिड़िया अपने बच्चों को लेकर उड़ गए और कहीं और चली गई. इस कहानी का सबक यह था कि जब तक कोई काम खुद नहीं करोगे वह काम नहीं हो सकता.
उस समय में इस कहानी के सबक आमोज़ पहलू से अधिक इस बात पर हैरान हुआ करता था कि हिंदुस्तान जैसे देश में जहां इतनी बेरोजगारी है कैसे किसान को फसल काटने के लिए लोग नहीं मिल रहे थे. इसलिए मेरा यह मानना ​​था कि यह कहानी मन घड़ंत है. हिंदुस्तान में तो काम का अकाल है मज़दुरों की तो भरमार हे. मगर पिछले दिनों वाशिंगटन पोस्ट की एक कहानी पढ़ी जिस में यह बताया गया है कि कैसे मनरेगा के चलते खेती के मजदूरों की किल्लत हो गई है. यही नहीं उद्योगों और निर्माण परियोजनाओं को भी मजदूरों की कमी का सामना है.
कांग्रेस ने पूरे देश में मनरेगा कार्यक्रम चलाया हुवा हे. यह कार्यक्रम बहुत लोकप्रिय है और पार्टी का सारा जोर इसी कार्यक्रम पर है क्योंकि इस कार्यक्रम के सहारे कांग्रेस पार्टी दो बार सत्ता में आई है. और उसे लगता है कि उसके सहारे वह उत्तर प्रदेश में सत्ता की सीढ़ियों चढ़ सकती है, शायद इसी लिए ग्रामीण विकास मंत्री जैराम रमेश इस योजना में मायावती सरकार के जरिये हो रही धान्दलियों पर एक के बाद एक तीर छोड़ रहे हैं. इसमें उनका उद्देश्य तो शायद यह ही लगता है के उत्तर प्रदेश के लोगों को यह पता चले की यह योजना केंद्र सरकार के रहम व करम पर है और इसी के चलते उत्तर प्रदेश सरकार को आठ हज़ार करोड़ से अधिक राशि इस मद में खर्च करने को मिल रही है.
वॉशिंगटन पोस्ट ने भारत के एक गांव में कुएँ की खुदाई और गडों में मिट्टी भरने में लगी एक दर्जन से अधिक महिलाओं का उदाहरण दिया है जिनमें से हर कोई एक दिन में कम से कम से कम दो डॉलर यानी के सो रूपये से अधिक कमाई कर रही हैं, जो ग्रामीण गरीबों के लिए सरकारी मजदूरी कार्यक्रम की वजह से ही संभव हो सका है. “यह काम मुझे रोज़ाना का दाल दलिया और आत्म सम्मान देता है” 42 वर्षीय ‍चिन्नासवामी ईश्वरी ने वॉशिंगटन पोस्ट के प्रतिनिधि को बताया. दक्षिण राज्य तमिलनाडु में उस ने महिलाओं की एक क़तार में मिट्टी भरा तसला एक से दूसरे को देते हुए कहा “मुझे भूखे नहीं सोना पड़ता, और मैं अब बड़े खेत मालिकों से कम भुगतान पर काम देने के लिए भीख नहीं माँगता हूँ.” खेती के लिए मजदूरों की कमी को देखते हुए ही कृषि मंत्रालय ने पिछले जुलाई में यह अनुरोध किया था कि इस कार्यक्रम को खेती के सीज़न के दौरान रोका जाना चाहिए.
छह साल पहले राष्ट्रीय स्तर पर शुरू की गई राष्ट्रीय ग्रामीण रोजगार गारंटी योजना ने किसी भी परिवार के लाखों असहाय, गरीब और नादार लोगों को साल में 100 दिन का काम देकर उन लोगों की मदद की है जो काम करना चाहते हैं. लेकिन आलोचकों का कहना है कि यह कार्यक्रम मजदूरों को का‍हिल बना रहा है, कृषि और औद्योगिक क्षेत्रों में मजदूरों की कमी पैदा करता है और पैसे की बर्बादी होती है जिसका आर्थिक विकास को बढ़ावा देने में निवेश हो सकता था. वह कहते हैं कि हिंदुस्तान की आर्थिक महाशक्ति बनने की गति धीमी हो जाएगी क्योंकि ग्रामीण क्षेत्रों में काम की आयु वाले लोग रोजगार के नए अवसरों के लिए आवश्यक कौशल नहीं सीख रहे हैं.
उनका कहना है कि ग़रीबों के लिए ग्रामीण रोज़गार प्रोग्राम अंतिम कदम होना चाहिए था. इसके बजाय यह एक पसंदीदा काम बन गया है क्योंकि इस में आसानी से पैसा मिल जाता है और यहां वहां खुदाई का मामूली सा काम करना पड़ता है. ‍इन्डीयन चेम्बरस ऑफ कामर्स और इंडस्ट्रीज (फिक्की) में कृषि विभाग के प्रमुख एस भास्कर रेड्डी ने कहा. “यही समय है जब हमें नए कौशल के लिए प्रशिक्षण देना चाहिए था, लेकिन हम उनके हुनर ​​को समाप्त कर रहे हैं.”
मजदूरों की कमी की समस्या से ग्रामीण कार्यों और औद्योगिक कार्यों में आवश्यक अनुपात पैदा करके ही निपटा जा सकता है. चीन में खेती के मौसम में तो ग्रामिण लोग खेती बाड़ी का काम करते हैं मगर जिस दौरान खेतों में कोई काम नहीं होता तो वह इस बीच फ़ैक्टरियों और निर्माण प्रोजैक्टों में काम करते हैं जहां उनके लिए अंतरिम रूप से रहने ओर खाने पीने का इंतज़ाम किया जाता है. इस तरह औद्योगिक कार्य और खेती बाड़ी में बराबर अनुपात बना रहता है. दोनों क्षेत्रों को मजदूरों की कमी का सामना नहीं करना पड़ता.
सरकार को चाहिए कि वे मनरेगा को एक बहुत बड़े मज़दूर एक्सचेंज के रूप में इस्तेमाल करे. इस से यह होगा कि अगर किसी फैक्टरी, कंस्ट्रक्शन कंपनी आदि को मजदूरों की जरूरत होगी तो वह मनरेगा से संपर्क करेगी जो अपने यहां पंजीकृत मजदूरों से आवश्यकतानुसार मजदूर इन निजी संस्थानों को देगा ओर इन संस्थाओं से मानक के अनुरूप वेतन प्राप्त होगा इससे मजदूरों का शोषण रुकेगा और मनरेगा को आय भी होने लगेगी.
सरकार यह कर सकती है कि यह अनिवार्य बनाए कि उसके द्वारा दिए गए बड़े ठेकों में मज़दूरों की आपूर्ती मनरेगा से होगी और ठेकेदार मनरेगा को मानक के अनुसार मजदूरी का भुगतान करेगा. इससे जो अधिक आय होगी उसे मनरेगा दूसरे कामों पर लगा सकता है. इस तरह वे मज़दूर जो अभी तक असंगठित था संगठित हो जाएगा. आगे चलकर मनरेगा के मजदूरों और उनके परिवार को मनरेगा के तहत चिकित्सा सुविधाओं का लाभ प्रदान किया जा सकता हैं. उनका बीमा किया जा सकता है और सामाजिक सुरक्षा के ऐसे ही कई अन्य लाभों का निष्पादन किया जा सकता है. अब समय आ गया है के मनरेगा को नया रंग रूप दिया जाए ओर निजी क्षेत्र को भी इसमें शामिल किया जाए ताकि अधिक से अधिक लोगों को इस योजना में शामिल किया जा सके और इसका लाभ दिलाया जा सके.
Afif Ahsen, Daily Pratap, Jairam Ramesh, MANREGA, Mayawati, Vir Arjun, Washington Post,

منریگا سے پیدا ہوتی مزدوروں کی قلت


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 21st November 2011
عفیف احسن
 ایک سبق آموز کہانی ہے جسے ہم بچپن میں پڑھاکرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ کسی کسان کے کھیت میں ایک چڑیا نے اپنا گھونسلا بنایاہو ا تھا اور اس میں اس نے انڈے دئے، ان انڈوں سے ننے ننے بچے نکلے، جن کی وہ بہت دیکھ بھال کرتی تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ کسان اپنے کھیت کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ ایک دن کسان اپنے کھیتوں پر آیا اور اس کو لگا کہ اب فصل تیا ر ہوگئی ہے، اس نے لہلہاتی ہوئی فصل کی طرف دیکھ کر بہت جوش سے کہا کہ اب فصل تیار ہوگئی ہے اور وہ جلد ہی اسے کاٹنے کی تیاری کرے گا۔ یہ بات چڑیا کہ ننے منے بچوں نے بھی سنی اور وہ پریشان ہوگئے کہ اب ہمارا آشیانہ اجڑ جائے گا، جب چڑیا شام کو واپس لوٹی تو ننے منے بچوں نے یہ بات اسکو بتائی کہ کسان آیا تھا اور وہ فصل کاٹنے کی بات کررہا تھا،اس پر چڑیا نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ابھی فصل نہیں کٹے گی۔ ایسا ہی ہوا کئی دن تک کسان کا کوئی اتا پتہ نہیں چلا اور کوئی بھی فصل کاٹنے نہیں آیا۔کچھ دن بعد کسان پھر کھیت پر آیا اور اس نے فصل دیکھ کر کہا کہ میں کل ضرور گاؤں کے لوگوں کے ساتھ آکر فصل کٹوالوں گا۔ جب شام کو چڑیا آئی تو بچوں نے اس کو کسان کے دوبارہ آنے کے بارے میں بتایااس پر چڑیا نے کہا کہ ابھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دن اسی طرح گزرتے چلے گئے اور کوئی فصل کاٹنے نہیں آیا۔ کچھ روز بعد پھر کسان کھیت پر آیا اور اس نے کہا کہ کل میں اپنے دوستو ں کے ساتھ فصل کاٹنے آؤں گا ۔ اس دن بھی جب شام کو چڑیا واپس آئی تو اس کے بچوں نے یہ روداد اس کو سنائی اس نے کہا کے ابھی بھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسی طرح مزید دن گزرتے چلے گئے اور فصل نہ کٹی، کچھ دن بعد کسان پھر کھیتوں پر آیا اور اس کو اس بات پر بہت تشویش ہوئی کے ابھی تک فصل نہیں کٹ سکی ہے ، اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے فصل کاٹے گا اور یہ کہتے ہوئے کھیت سے چلا گیا کہ وہ کل خود ہی آکر فصل کاٹے گا اور کسی کا انتظار نہیں کرے گا۔ جب شام کو چڑیا لو ٹ کر آئی تو اس کے بچوں نے یہ بات اس کو بتائی کہ کسان کہہ گیا ہے کہ وہ کل خودآکر فصل کاٹے گا۔ یہ سنتے ہی چڑیا نے کہا کہ اب ہم کو فوراً یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے اور کہیں اور بسیرا کرنا چاہئے۔ اب تک چڑیا کے بچے بڑے ہوگئے تھے اور وہ اس لائق ہوگئے تھے کہ اڑ سکیں اس لئے چڑیا اپنے بچوں کو لیکر اڑگئی اور کہیں اور چلی گئی۔ اس کہانی کو سبق یہ تھا کہ جب تک کوئی کام خود نہیں کروگے وہ کام نہیں ہوسکتا۔
اس وقت میں اس کہانی کے سبق آموز پہلو سے زیادہ اس بات پر حیران ہوا کرتا تھا کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں اتنی بیروزگاری ہے کیسے کسان کو فصل کاٹنے کے لئے لوگ نہیں مل رہے تھے۔اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ یہ کہانی من گھڑنت ہے۔ ہندوستان میں تو کام کا اکال ہے مزدورں کی تو بھرمارہے۔ مگر گزشتہ دنوں واشنگٹن پوسٹ کی ایک کہانی پڑھی جس میںیہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح منریگا کے چلتے کھیتی کے مزدوروں کی قلت ہوگئی ہے۔یہی نہیں صنعتوں اور تعمیراتی پروجیکٹوں کو بھی مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے۔
کانگریس پارٹی نے پورے دیش میں منریگا پروگرام چلایا ہوا ہے۔ یہ پروگرام بہت محبوب ہے اور اس کا سارا زور اسی پروگرام پر ہے کیونکہ اسی پروگرام کے سہارے کانگریس پارٹی دو بار برسراقتدار آئی ہے ۔ اور اس کو لگتا ہے کہ اس کے سہارے وہ یوپی میں بھی اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ سکتی ہے شاید اسی لئے دیہی ترقی کی وزیر جیرام رمیش اس اسکیم میں مایاوتی حکومت کے دوران ہورہی دھاندلیوں پر ایک کے بعد ایک تیر چھوڑ رہے ہیں۔ اس میں ان کا زیادہ مقصد تو شاید یہ ہی لگتا ہے کے یوپی کے لوگوں کو یہ پتا چلے کے یہ اسکیم مرکز ی حکومت کی مرہون منّت ہے اور اسی کے چلتے یوپی حکومت کو آٹھ ہزار کروڑ سے زیادہ رقم اس مد میں خرچ کرنے کو مل رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے ہندوستان کے ایک گاؤں میں کوئیں کی کھدائی اورگڈھوں میں مٹی بھرنے میں لگی ایک درجن سے زیادہ خواتین کی مثال دی ہے جن میں سے ہرکوئی ایک دن میں کم از کم دو ڈالر یعنی کے سورروپیہ سے زیادہ کمائی کررہی ہے، جوکہ دیہی غریبوں کے لئے سرکاری مزدوری پروگرام کی وجہ سے ہے ممکن ہوسکا ہے۔ ’’یہ کام مجھے میری روزانہ کی دال دلیا اور وقار دیتا‘‘ 42سالہ چناسوامی ایشوری نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندہ کو بتایا۔ جنوب کی تامل ناڈو ریاست میں خواتین کی ایک قطارمیں مٹی بھرا تسلا ایک سے دوسرے کو دیتے ہوئے اس نے مزید کہا’’مجھے اب بھوکے نہیں سونا پڑتا، اور میں اب بڑے کھیت مالکان سے کم ادائیگی پر کام دینے کے لئے بھیک نہیں مانگتی ہوں‘‘۔کھیتی کے لئے مزدوروں کی کمی کو دیکھتے ہوئے ہی ر زراعت کی وزارت نے گذشتہ جولائی میں یہ درخواست کی تھی کہ اس پروگرام کو کھیتی کے موسم کے دوران روکا جانا چاہئے۔
چھ سال پہلے قومی سطح پر شروع کی گئی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم نے کسی بھی خاندان کے لاکھوں بے سہارا، غریب اور نادار لوگوں کو سال میں100دن کا کام دیکر ان لوگوں کی مدد کی ہے جو کہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام مزدوروں کوکاہل بنا دیا ہے ، زراعت اور صنعتی شعبوں میں مزدوروں کی کمی پیدا کرتا ہے اوراس پیسے کی بربادی ہوتی ہے جس کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں سرمایہ کاری ہوسکتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی ایک اقتصادی سپر پاور بننے کی رفتار سست ہوجائے گی کیونکہ دیہی علاقوں میں کام کی عمر کے ہندوستانی روزگار کے نئے مواقع کے لیے ضروری مہارت نہیں سیکھیں گے ۔
ان کا کہنا ہے کہ غریبوں کے لئے دیہی روزگارپروگرام آخری اقدام ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے یہ ایک پسندیدہ کام بن گیا ہے کیونکہ اس میں آسانی سے پیسہ مل جاتا ہے اور یہاں وہاں کھدائی کا معمولی سا کام کرنا پڑتا ہے۔ انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز(فکی) میں زراعتی شعبہ کے سربراہ ایس بھاسکر ریڈی نے کہا۔’’ یہی وقت ہے جب ہمیں ان کو نئے ہنر کے لیے تربیت دینا چاہئے تھا، مگر ہم ان کے ہنر کو ختم کررہے ہیں۔‘‘
مزدوروں کی کمی کے مسئلہ سے دیہی کاموں اور صنعتی کاموں میں ضروری تناسب پیدا کرکے ہی نپٹا جاسکتا ہے۔چین میں کھیتی کے سیزن میں تودیہی لوگ کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اورجس دوران کھیتوں میں کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ اسبیچ فیکٹریوں اور تعمیراتی پرجیکٹوں میں کام کرتے ہیں جہاں پر ان کے لئے عبوری طور پر رہنے اورکھانے پینے کا انتظامبھی کیا جاتا ہے۔ اس طرح صنعتی کام اور کھیتی باڑی میں برابر تناسب بنا رہتا ہے۔ اور دونوں شعبوں کو مزدوروں کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ منریگا کو ایک بہت بڑے لیبر ایکسچینج کے طور پر استعمال کرے ۔ اس میں یہ ہوگا کہ اگر کسی فیکٹری ، کنسٹرکشن کمپنی وغیرہ کو مزدوروں کی ضرورت ہوگی تو وہ منریگا سے رابطہ قائم کرے گا جو کہ اپنے یہا ں رجسٹرڈ مزدوروں میں سے ضرورت کے مطابق مزدور ان نجی اداروں کو دے گااور ان اداروں سے معیار کے مطابق اجرت وصولے گا اس سے مزدوروں کا استحصال رکے گا اور منریگا کو آمدنی بھی ہونے لگے گی۔
حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ اس بات کو لازمی بنائے کہ اس کے ذریعہ دئے گئے بڑے بڑے ٹھیکوں میں مزدورں کی بازیابی منریگا سے ہوگی اور ٹھیکیدار منریگا کو معیار کے مطابق مزدوری ادا کرے گا۔ اس سے جو زائد آمدنی حاصل ہوگی اس کو منریگا میں دوسرے کاموں پر لگایاجاسکتا ہے۔ اس طرح وہ مزدور جو کہ ابھی تک غیر منظم تھا منظم ہوجائے گا۔ آگے چل کر منریگا کے مزدوروں اور ان کے خاندان کومنریگا کے تحت طبّی سہولیات بہم پہنچائی جاسکتی ہیں۔ ان کی انشورنس کی جاسکتی ہے اور سوشل سیکیورٹی کے ایسے ہی کئے دوسرے فوائد ان کو بہم پہنچائے جاسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کے منریگا کو نیارنگ روپ دیاجائے اورنجی شعبہ کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جاسکے اور ان کو اس سے فائدہ دلایا جاسکے۔

Sunday, 20 November 2011

Beware, threat is looming large

Afif Ahsen
India's economy is considered to be among world's fifteen largest economies. Following liberalization and economic reforms policy in 1991, development in India took on wings and India emerged as an economic super power in the world. Prior to reforms, especially Indian industry and business was reeling under government control. In the beginning, reforms were severely opposed, but the protest petered down to large extent after beneficial results of these reforms were visible. But there is still a large section, which has not been benefited with these reforms and is not happy with the reforms.
India's current account balance of payment has been negative since independence. Under the pressure of the balance of payment crisis, in the wake of economic reforms of 90s, Indian exports witnessed an increasing trend. Country's export during 2002-03 was 80.3 %, whereas it was only 66.2% in 1990-91. It, however, came down to 61.4 % only following the great recession in world trade due to global economic crisis. India's constant and fast increasing oil import bill is considered to be an important factor behind the widening current account deficit, which increased to 118.7 billion $ or 9.7% of GDP in 2008-09. India imported crude oil worth 82.1 billion $ during January to October 2010.
India's exports and imports registered a decline of 29.2% and 39.2% respectively during June 2009 due to the global recession towards the end of 2000. This sharp decline was due to the fact that US and EU countries were the most affected by the global financial markets, whose share in Indian exports amounted to more than 60%. But fortunately there were considerable decline in imports in comparison to the exports and due to this India's fiscal deficit was reduced to 25,250 crores of rupees. The decline in oil prices also played an important role in this. In view of worldwide recession, FII started to invest in India with the objective of exploring better sources of income and the resultant decline in exports was, to a large extent was compensated by FDI.
But, after US announcement of increasing the loan accepting limits, FII has started withdrawing its money from India and investing it in US, which has resulted in constant increase in price of dollar vis-à-vis rupee and foreign exchange reserve is constantly shrinking.
According to an RBI report, foreign exchange reserve was 15,43,811 crore rupees in week ending11th November 2011, which is 20,642 crore rupees less than previous week. Today, the rupee is at the lowest level vis-à-vis dollar in the last 30 months. It appears that a phase of recession has set in, in the Indian economy, which is clearly reflected by the 1.9% decline in industrial production, which is quite high in comparison to two years' decline. This decline in Industrial Production Index for September is quite high to the strong 6.1% for September last year. During this financial year, the Industrial Production Index was stationary at 5% during April to September, where it was 8.2% during the same period of last year. Principal Economic Adviser, Kaushik Basu said that IPI for September are subject of grave concern and he says that global economic situation is responsible for this. Commenting on IPI for September, released on Friday, General Secretary, FICCI, Rajiv Kumar said that the outlook for industrial development has worsen during last few months. Businesses have been adversely influenced by the uncertainty of the economic environ and the negative development in capital goods and non-durable goods sectors reflects the mistrust of consumers. There have been decline of 6.8% in capital goods sector. Negative development has been registered in the readymade garments and textile sector during last few months.
This will adversely affect jobs in the country, as after agriculture, this is the biggest sector providing employment to people. It appears that the reason for this biggest decline in two years is due to increase in interest rates by RBI and unbridled inflation, which has resulted in decline in purchasing power of people. It is surprising that this has happened immediately after the festival season, during which it was expected of people to spend more.
Tax collection by the government has also gone down considerably due to lesser industrial production and increase in production cost. Petrol-prices are being increased daily. This is being done with a view to directly increase the government revenue, resulting in the increase in government's income. Meanwhile, Moody has down-graded the ratings of Indian banks. Reacting irresponsibly, the government has said that this rating is meaningless, as domestic loan provider is in a better position in comparison to its global colleagues. He is not worried. We are not influenced by this downgrading. In view of performance of global banks, we are quite strong and ratings have no meaning for us. Secretary, Financial Services, DK Mittal said that Moody has said that increase in the recession in domestic and foreign economies has been influencing the capitalization of Banks' assets standard and profits. Moody has said in the report that in view of quality, we fear the situation will worsen within next 12 to 18 months. Thus there will be increase in problems of banks during 2012 and 2013 financial years.
Senior BJP leader and former Finance Minister, Yashwant Sinha has expressed concern over country's economic situation. BJP has announced its decision to demand debate in both the Houses on deteriorating economic condition of the country. Expressing dis-satisfaction and concern over industrial development statistics released by the government, Yashwant Sinha said that there is hardly a thing in our economy which could make us happy. He said that condition of our economy is causing concern and the revenue deficit declared in the statistics released by the government, is far from the budget target. He said that if we compare industrial development of this period of last year, with that of April, then we will see that there has been decline of more than five per cent. The former Finance Minister said that on one side the condition of our economy is very grave, while on the other hand our Prime Minister is certifying good work to Heads of the States of other countries.
In an advisory tone, the former Finance Minister has said that the nation expects Prime Minister would call a press conference and explain the country about the economic health of the country. Our country is reeling under grave industrial crisis and our government is not cutting unnecessary and unessential expenditure. It is possible that no road has been constructed in your village, but in cities a single road is being constructed again and again during a year. Old footpaths are demolished and new ones are constructed. Old parks are re-developed, new memorials of departed leaders are constructed, not only departed, but statues of living leaders are installed and whenever the issue of spending on very essential heads comes up, then every government, whether it is state government of the central government, shakes off its responsibility and starts lamenting for the paucity of funds. Our government is lacking funds for its own needs, but it is trying to please other countries and promising them large-hearted aid.
Manmohan Singh has declared aid for Maldives and Pranab Mukherjee is talking of helping Europe and of pulling them out of crisis. In order to improve its financial condition, the government is also trying to get the additional cash reserves with public undertakings transferred to it, so that it can meet its expenses. If the government does not awake to the situation, it appears the country would head from bad to worse and then India will have to face the situation, that is prevailing in US and Europe.
In a couplet, Vasim Barelavi says first priority is to save the house, its decoration comes at a later stage. This fits to the present situation of the country.

Tuesday, 15 November 2011

मुल्क की फिक्र कर नादां मुसीबत आने वाली है!

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 15th November 2011
अफ़ीफ़ अहसन
भारत की अर्थव्यवस्था दुनिया की पंद्रह सबसे बड़ी अर्थव्यवस्थाओं में से एक है. 1991 से जब के उदारीकरण और आर्थिक सुधार की नीति लागू की गई भारत में बहुत तेजी से आर्थिक विकास हुआ और भारत दुनिया की आर्थिक महाशक्ति के रूप में उभर कर सामने आया.
सुधारों से पहले विशेष रूप से भारतीय उद्योगों और व्यापार पर सरकारी नियंत्रण का बोलबाला था, सुधार लागू करने से पहले इसका जोरदार विरोध भी हुआ लेकिन आर्थिक सुधार के अच्छे परिणाम सामने आने के बाद विरोध में काफी हद तक कमी हुई. हालांकि मूल ढाँचों में तेज प्रगति न होने से एक बड़ा वर्ग अभी भी नाखुश है और इन सुधारों से अभी भी लाभांवित नहीं हुआ है.
आज़ादी के बाद से ही भारत का अपने चालू खाते में भुगतान संतुलन नकारात्मक रहा है. नब्बे के दशक में आर्थिक सुधारों के बाद भुगतान संकट के संतुलन के दबाव की वजह से भारतीय निर्यात में लगातार वृद्धि हुई, वर्ष 2002-03 में निर्यात देश के आयात के 80.3 प्रतिशत के बराबर था जोकि 1990-91 में केवल 66.2 प्रतिशत था. हालांकि, वैश्विक आर्थिक संकट के बाद विश्व व्यापार में आई एक आम मंदी के कारण 2008-09 में यह घटकर 61.4 प्रतिशत ही रह गया. भारत के लगातार और तेजी से बढ़ते तेल आयात बिल को चालू खाता के बढ़ते घाटे के पीछे एक महत्वपूर्ण तत्व के रूप में देखा जाता है. जो वर्ष 2008-09 में बढ़कर 118.7 अरब डॉलर, या कुल घरेलू उत्पाद का 9.7 प्रतिशत हो गया. जनवरी और अक्टूबर 2010 के बीच, भारत ने कच्चे तेल का 82.1 अरब डालर की कीमत का आयात किया.
2000 के अंत में विश्व मंदी की वजह से भारतीय निर्यात और आयात दोनों में जून 2009 में क्रमशः 29.2 प्रतिशत और 39.2 प्रतिशत की कमी आई. यह तेज़ गिरावट इसलिए थी क्योंकि वैश्विक वित्तीय बाजार की मार से सबसे प्रभावित देश अमेरिका और योरुपीये संघ सदस्य थे जिनका हिस्सा भारतीय निर्यात में 60 प्रतिशत से अधिक है. लेकिन इसे सौभाग्य ही कहेंगे कि इस दौर में आयात में निर्यातों की तुलना में पर्याप्त कमी आई और इस वजह से भारत का वित्तीय घाटा घट कर 25,250 करोड़ रुपये रह गया. जिसमें तेल के दाम में आइ कमी ने भी महत्वपूर्ण भूमिका निभाई.
वैश्विक बाजार में मंदी के चलते आय के बेहतर अवसर की तलाश में एफआईआई ने भारत में अपना पैसा लगाना शुरू कर ‍दिया और इससे निर्यात में आई कमी को एफडीआई ने कुछ हद तक पूरा कर दिया. मगर हाल में अमेरिका द्वारा अपने ऋण लेने की सीमा बढ़ाने के बाद से एफआईआई ने अपना पैसा निकाल कर अमेरिका में लगाना शुरू कर दिया जिसके चलते भारतीय रुपये के मुकाबले डॉलर की कीमत लगातार बढ़ रही है और विदेशी मुद्रा के भंडार में लगातार कमी आ रही है. रिजर्व बैंक की एक रिपोर्ट के अनुसार 11 नवम्बर 2011 को समाप्त सप्ताह में देश में विदेशी मुद्रा का भंडार 15,43,811 करोड़ रुपये का था जिसमें कि पिछले सप्ताह की तुलना 20,642 करोड़ रुपये की कमी दर्ज की गई है. आज हालत यह हे की रुपया डॉलर के मुकाबले तीस महीने के सबसे निचले स्तर पर है.
ऐसा लगता है की भारतीय अर्थव्यवस्था में मंदी का दौर शुरू हो चुका है जिस की स्पष्ट निशानियों में औद्योगिक उत्पादन में वृद्धि में 1.9 प्रतिशत की कमी है जो पिछले दो सालों के मुकाबले बहुत अधिक है. सितंबर के लिए औद्योगिक उत्पादन सूचकांक की यह डुबकी पिछले साल सितंबर के एक मजबूत 6.1 प्रतिशत के विपरीत है. अप्रैल से सितंबर की अवधि के दौरान इस वित्तीय वर्ष में औद्योगिक उत्पादन का सूचकांक 5 प्रतिशत पर खड़ा है जबकि पिछले साल की इसी अवधि में यह 8.2 प्रतिशत था.
मुख्य आर्थिक सलाहकार कौशिक बसु ने कहा कि सितम्बर के औद्योगिक उत्पादन सूचकांक के आंकड़े बड़ी चिंता का विष्य हैं और दावा किया कि वैश्विक आर्थिक स्थिति इस के लिए जिम्मेदार है. सितंबर के लिए औद्योगिक उत्पादन सूचकांक के आंकड़े जो शुक्रवार को जारी किये गये पर टिप्पणी करते हुए फिक्की के महासचिव राजीव कुमार ने कहा कि “देश में औद्योगिक विकास का आउटलुक पिछले कुछ महीनों में बिगड़ा है. आर्थिक माहौल में अनिश्चितता की स्थिति से कारोबार प्रभावित हुए हैं व के‍पिटल गुडस क्षेत्र और गैर ड्युरेबिल गुड्स क्षेत्र के नकारात्मक विकास से उपयोगकर्ताओं का अविश्वास प्रदर्शित होती है.
कैपिटल गुडस के क्षेत्र में 6.8 प्रतिशत की कमी हुई है. पिछले कुछ महीनों में सिले कपडों और कपड़ा उद्योग में लगातार नकारात्मक विकास दर्ज किया गया है. इससे देश में नौकरियों पर असर पड़ेगा क्योंकि खेती के बाद ‍इस उद्योग से ही सबसे अधिक लोग जुड़े हुए हैं.
ऐसा माना जाता है कि दो साल में सबसे बड़ी गिरावट का कारण रिजर्व बैंक द्वारा ब्याज दरों में वृद्धि और महंगाई में अनियंत्रत वृद्धि है जिसके कारण लोगों की खरीदने की शक्ति में कमी हुई है. आशचर्य की बात यह हे की ऐसा त्योहार के सीजन के तुरंत बाद हुआ है जिस में यह आशा की जाती थी कि लोग ज्यादा से ज्यादा खर्च करेंगे.
औद्योगिक उत्पादन कम होने और उत्पादन लागत में वृद्धि के चलते सरकार की कर वसूली में भी पर्याप्त कमी हुई है. मगर सरकारी खर्च में कोई कमी नहीं की जा रही है. पेट्रोल के दाम में रोज़बरोज़ वृद्धि की जा रही है. ऐसा इसलिए किया जा रहा है कियोंकी इस से सरकारी कर में सीधे वृद्धि होगी जिसके चलते सरकार की आय में वृद्धि हो जाएगी.
दूसरी ओर मोडीज़ ने भी भारतीय बैंकों की रेटिंग ‍गिरादी है. इस पर लापरवाही वाला बयान देते हुए सरकार ने कहा है कि इस रेटिंग का कोई महत्व नहीं है क्योंकि घरेलू ऋणदाता अपने विश्व साथियों की तुलना में बहतर हैं, “हम चिंतित नहीं हैं. हम डाउनग्रेड से प्रभावित नहीं हैं. वैश्विक बैंकों के प्रदर्शन को देखते हुए, हम बहुत मजबूत हैं और रेटिंग का कोई महत्व नहीं है.” वित्तीय सेवाओं के सचिव डीके मित्तल ने कहा.
रेटिंग एजेंसी मोडीज़ ने भारतीय बेंक प्रणाली के आउटलुक को “स्थिर” से कम करके “नकारात्मक” कर दिया है. एक “नकारात्मक” आउटलुक “उतार चढ़ाव” और “अनिश्चित स्थिति” को दिखाता है. मोडीज़ ने कहा है कि देश और विदेशी दोनों अर्थव्यवस्थाओं में मंदी में वृद्धि, बैंकों की सम्पत्ति के मानक का केपिटलाईज़ेशन और लाभ पर दबाउ पड रहा है. रिपोर्ट में मोडीज़ ने कहा, “संपत्ति की गुणवत्ता को देखते हुए हमें यह लगता है अगले 12 से 18 महीनों में हालात अधिक ‍बिगड़ जाएंगे, इस तरह वित्तीय वर्षा 2012 और वित्तीय वर्ष 2013 में बैंकों की समस्याओं में वृद्धि होगी.
“वीर अर्जुन” को एक बयान में भाजपा के वरिष्ठ नेता और पूर्व वित्तमंत्री यशवंत सिन्हा ने देश के आर्थिक हालात पर चिंता व्यक्त की है. भाजपा ने देश की बिगड़ती अर्थव्यवस्था पर संसद के दोनों सदनों में अलग-अलग बहस कराने की मांग करने की घोषणा की है. भाजपा के वरिष्ठ नेता और पूर्व वित्तमंत्री यशवंत सिन्हा ने सरकार द्वारा जारी औद्योगिक विकास के आंकड़ों में आई गिरावट पर खेद व दुख व्यक्त करते हुए कहा कि आज हमारी अर्थव्यवस्था में शायद ही ऐसी कोई बात हो जिस पर प्रसन्न हुआ जा सके. उन्होंने कहा कि हमारी अर्थव्यवस्था की हालत बहुत चिंता जनक है, सरकार द्वारा जारी आंकड़ों में आय घाटा अपने बजट लक्ष्य से काफी दूर है.
उन्होंने कहा कि जहां तक ​​औद्योगिक विकास के पिछले साल के इन दिनों की तुलना अप्रैल माह से करें तो इसमें लगभग पांच प्रतिशत से अधिक की कमी आई है. पूर्व वित्त मंत्री ने कहा की एक तरफ तो हमारे देश की अर्थव्यवस्था इतनी चिंताजनक हे जबकि दूसरी ओर हमारे प्रधानमंत्री दूसरे देशों के राष्ट्राध्यक्षों को अच्छे कामकाज का प्रमाणपत्र बाँट रहे हैं. पूर्व वित्तमंत्री ने प्रधानमंत्री को सलाह के अंदाज़ में कहा कि प्रधानमंत्री से राष्ट्र यह उम्मीद करता है कि वह एक संवाददाता सम्मेलन बुलाकर देश के आर्थिक स्वास्थ्य के बारे में विस्तार से बताएं.
एक तरफ तो हमारा देश और उद्योग गंभीर संकट से जूझ है और दूसरी ओर हमारी सरकार अनावश्यक और गैर जरूरी खर्चों में कटौती नहीं कर रही है. हो सकता है कि आपके गांव में वर्षों से सड़क ना बनी हो, मगर शहरों में एक ही सड़क को साल में कई कई बार बनाया जाता है. पुराने फुटपाथ तोड़कर नये फुटपाथ बनाए जाते हैं. पुराने पार्कों का कायाकल्प किया जाता है, दिवंगत राजनेताओं के लिए नए-नए समारक बनाए जाते हैं, दिवंगत की ही नहीं जीवितों की भी मूर्तियाँ लगाई जाती हैं और जब अतिआवश्यक मदों पर खर्च करने की बात आती है तो हर सरकार चाहे राज्य की हो या केंद्र की, अपने हाथ झाड़ कर खड़ी हो जाती है और फंडस की कमी का बहाना करने लग जाती है. हमारी सरकार तो दूसरे देशों को खुश करने के लिए उनको लंबी चौड़ी मदद देने का वादा करने से भी नहीं चूक रही है, जबकि खुद उसके पास अपना खर्च चलाने के लिए पैसे नहीं है. मनमोहन सिंह मालदीव को सहायता की घोषणा कर चुके हैं और प्रणब मुखर्जी यूरोप की मदद करके उसे वित्तीय संकट से उबारने की बात कर रहे हैं. अपनी वित्तीय स्थिति को बेहतर बनाने के लिए एक कोशिश यह भी हो रही है कि सरकारी कंपनियों के पास जो अतिरिक्त कैश रिजर्व है, उसे केंद्र सरकार अपने पास हस्तांतरित करा ले और अपने खर्च पूरे करे.
अगर सरकार अब भी नहीं चैती तो इन हालात को देखते हुए तो यही लगता है कि आने वाले दिनों में देश की आर्थिक स्थिति बद से बदतर होने के राह पर चल पडेगा और फिर भारती का भी वही हाल होगा जो अमेरिका और यूरोप का हो रहा है.
वसीम बरेलवी का एक प्रसिद्ध शेर है जो देश के मौजूदा हालात के लिए उपयुक्त है:
घर सजाने का तस्व्वर (कल्पना) तो बहुत बाद का है।
पहले यह तै तो हो इस घर को बचाएँ कैसे।।
नोट: आप यह लेख और पुराने सभी लेख http://afifahsen.blogspot.com पर भी पढ़ सकते हैं.
Afif Ahsen, Daily Pratap, Vir Arjun, inflation, Recession, Moodys's, Manmohan Singh, Pranab Mukherjee, india, America, Europe,

ملک کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 15th November 2011
عفیف احسن
ہندوستانی معیشت دنیا کی پندرہ سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ 1991 سے جب کہ لبرلائزیشن اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی لاگو کی گئی ہندوستان میں بہت تیز اقتصادی ترقی ہوئی اور ہندوستان دنیا کی ایک اقتصادی سپر پاور کے طور پر ابھرکرسامنے آیا۔ اصلاحات سے قبل خاص طور پر ہندوستانی صنعتوں اور کاروبار پر سرکاری کنٹرول کا بول بالا تھا اور اصلاحات لاگو کرنے سے پہلے اس کے خلاف پرزور احتجاجات بھی ہوئے لیکن اقتصادی اصلاحات کے اچھے نتائج سامنے آنے سے مخالفت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔حالانکہ بنیادی ڈھانچوں میں تیز پیش رفت نہ ہونے سے ایک بڑا طبقہ اب بھی ناخوش ہے اور ایک بڑاطبقہ ان اصلاحات سے ابھی تک مستفید نہیں ہوسکا ہے۔
آزادی کے بعد سے ہی ہندوستان کا اپنے چالو کھاتے پر ادائیگی کا توازن منفی رہا ہے۔نبّے کی دہائی میں، اقتصادی اصلاحات کے بعد ادائیگی کے بحران کے توازن کے دباؤ کی وجہ سے ہندوستان کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا،سال 2002-03میں برآمدات نے ملک کی درآمد کے 80.3 فیصد کا احاطہ کیا جوکہ 1990-91میں صرف 66.2فیصد تھا۔اگرچہ، عالمی اقتصادی بحران کے بعد عالمی تجارت میں آئی ایک عام مندی کی وجہ سے 2008-09میںیہ کم ہوکر 61.4 فیصد ہی رہ گیا۔ہندوستان کے لگاتار اور تیزی سے بڑھتے تیل درآمد کے بل کو بڑھتے چالو کھاتہ کے خسارہ کے پیچھے ایک اہم محرک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو سال 2008-09میں بڑھ کر118.7 ارب ڈالر، یا مجموعی ملکی پیداوار کا 9.7فیصد ہوگیا۔جنوری اور اکتوبر 2010 کے درمیان، ہندوستان نے خام تیل کا 82.1 ارب ڈالرکی قیمت کا درآمد کیا۔
2000کے اواخر کی عالمی کساد بازاری کی وجہ سے، ہندوستانی برآمدات اور درآمدات دونوں میں جون 2009میں بالترتیب 29.2 فیصد اور 39.2 فیصد کی کمی آئی۔یہ تیز گراوٹ اس وجہ سے تھی کیونکہ عالمی کساد بازاری کی مار سے سب سے زیادہ متائثر ممالک امریکہ اوریورپی یونین کے ارکان تھے جن کا حصہ ہندوستانی برآمدات میں 60 فیصد سے زیادہ کا ہے۔تاہم ،اس کو خوش قسمتی ہی کہیں گے کہ اس دور میں درآمدات میں برآمدات کے مقابلہ خاطر خواہ کمی آئی اور اس وجہ سے ہندوستانی کاتجارتی خصارہ کم ہوکر 25,250 کروڑ روپے ہی رہ گیا۔ جس میں تیل کے دام کم ہونے نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔
عالمی بازار میں کساد بازاری کے چلتے آمدنی کے بہتر مواقع کی تلاش میں ایف آئی آئی نے ہندوستان میں اپنا پیسہ لگانا شروع کردیااور اس سے برآمدات میں آئی کمی کو ایف ڈی آئی نے کچھ حد تک پورا کردیا۔مگرگذشتہ دنوں امریکہ کے ذریعہ اپنے قرض لینے کی حد کو بڑھانے کے بعد سے ایف آئی آئی نے اپنا پیسہ نکال کر امریکہ میں انویسٹ کرنا شروع کردیا ہے جس کے چلتے ہندوستانی روپیہ کے مقابلہ ڈالر کی قیمت لگاتار بڑھ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخیرہ میں لگاتار کمی آرہی ہے۔ ریزرو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق11نومبر 2011 کو ختم ہفتہ میں دیش میں زرمبادلہ کا ذخیرہ15,43,811کروڑ روپیہ کا تھا جس میں کہ سابقہ ہفتہ کے مقابلہ 20,642کروڑ روپیہ کی کمی درج کی گئی ہے۔یہی نہیں روپیہ ڈالر کے مقابلہ تیس ماہ کے سب سے کم نشان پر ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت میں سست روی کی شروعات ہوگئی ہے جس کی واضح نشانیوں میں ایک صنعتی پیداوار میں اضافہ میں 1.9 فیصد کی کمی ہے جوکہ پچھلے دو سالوں کے مقابلہ میں بہت نیچے ہے۔ ستمبر کے لئے صنعتی پیداوار کے انڈیکس کی یہ ڈبکی گزشتہ سال ستمبر کی ایک مضبوط 6.1 فی صد کے برخلاف ہے۔ اپریل سے ستمبر کی مدت کے دوران اس مالی سال میں صنعتی پیداوار کا انڈیکس 5 فی صد پر کھڑا ہے جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میںیہ 8.2 فی صدتھا۔
چیف اقتصادی مشیر کوشک بسو نے کہا ہے کہ ستمبرکے صنعتی پیداوار انڈیکس کے اعداد و شمار بڑی تشویش کا باعث ہیں اور دعویٰ کیا کہ عالمی اقتصادی صورتحال اس کے لیے ذمہ دارہے۔ ستمبر کے لئے صنعتی پیداوار کے انڈیکس کے اعداد و شمار جن کو جمعہ کو جاری کیا گیا تھا پر تبصرہ کرتے ہوئے فکّی کے سیکرٹری جنرل راجیو کمار نے کہا کہ ’’ملک میں صنعتی ترقی کی آؤٹ لک گزشتہ چند ماہ کے دوران بگڑی ہے۔اقتصادی ماحول میں غیر یقینی صورتحال سے کاروبار متاثر ہوئے ہیں اورکیپٹل گڈس کے شعبے اور نان ڈیوریبل گڈس کے شعبے کی منفی ترقی سے صارفین کے عدم اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘
کیپٹل گڈس کے شعبے میں 6.8فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔پچھلے چند مہینوں میں ملبوسات اور کپڑوں کی صنعت میں بھی لگاتار منفی ترقی درج کی گئی ہے۔اس سے ملک میں نوکریوں پر اثر پڑرہا ہے،کیونکہ کھیتی باڑی کے بعد اسی صنعت سے سب سے زیادہ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔
ایسا مانا جاتاہے کہ دو سال میں سب سے بڑی گراوٹ کی وجہ ریزرو بینک کے ذریعہ شرح سود میں اضافہ اور مہنگائی میں بے لگام اضافہ ہے جس کے سبب لوگوں کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسا تہواری سیزن کے فوراً بعد ہوا ہے جس میں کہ یہ امید کی جاسکتی تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ خرچ کریں گے۔
صنعتی پیداوار کم ہونے اورپیداور کی لاگت بڑھنے کے چلتے سرکار کی ٹیکس وصولی میں بھی خاطر خواہ کمی واقعہ ہوئی ہے۔مگرسرکاری اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی جارہی ہے۔ دوسری طرف پیٹرول کے دام میں روزبروز اضافہ کیاجارہا ہے۔ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کے اس سے سرکاری ٹیکس میں براہ راست اضافہ ہوجائے گا جس کے چلتے سرکار کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے گا۔
دوسری طرف موڈیز کی طرف سے ہندوستانی بینکوں کی ریٹنگ گرادی گئی ہے ۔اس پر لاپرواہی والا بیان دیتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ اس درجہ بندی کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ گھریلو قرض دہندہ اپنے عالمی ساتھیوں کے مقابلے میں بہتبہتر ہیں’’ہم فکر مند نہیں ہیں۔ ہم ڈاؤن گریڈ سے متاثر نہیں ہیں۔ عالمی سطح پر بینکوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، ہم بہت مضبوط ہیں اور درجہ بندی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘ مالیاتی خدمات کے سیکرٹری ڈی کے متّل نے کہا۔
ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھارتی بینک کاری نظام کے آؤٹ لک کو ’’مستحکم‘‘ سے کم کرکے ’’منفی‘‘ کر دیا ہے۔ ایک ’’منفی‘‘ آؤٹ لک اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی حالات کو دکھاتا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی دونوں معیشتوں میں سست اضافہ، بینکوں کے اثاثہ کا معیار، کیپٹلائزیشن، اور منافع پردباؤ ڈال رہا ہے۔ رپورٹ میں موڈیزنے کہا کہ، ’’اثاثہ کے معیار کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ لگتا ہے کے اگلے 12سے 18 ماہ کے دوران حالات مزیدبگڑ جائیں گے، اس طرح مالی سال2012 اورمالی سال 2013 میں بینکوں کی دشواریوں میں مزید اضافہ ہوگا۔‘‘
ویر ارجن کو ایک بیان میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے ملک کے اقتصادی حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے ملک کی بگڑتی معیشت پر پارلیمنٹ کے دونوں ادوار میں الگ الگ بحث کرانے کا مطالبہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے حکومت کی طرف سے جاری صنعتی ترقی کے اعداد و شمار میں آئی گراوٹ پرغم اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری معیشت میں شاید ہی ایسی کوئی بات ہو جس پر خوش ہوا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کی حالت بہتتشویش ناک ہے ، حکومت کی طرف سے جاری اعداد و شمار میں آمدنی گھاٹا اپنے بجٹ ہدف سے کافی دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک صنعتی ترقی کے گزشتہ سال کے ان ہی دنوں کا موازنہ اپریل کے مہینے سے کریں تو اس میں تقریبا پانچ فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا ایک طرف تو ہمارے ملک کی معیشت اتنی تشویش ناک ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم دوسرے ممالک کے سربراہوں کواچھے کام کاج کا خطاب بانٹ رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو مشورے والے انداز میں کہا کہ وزیر اعظم سیقوم یہ امید کرتی ہے کہ وہ ایک پریس کانفرنس بلا کر ملک کی اقتصادی صحت کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔
ایک طرف تو ہمارا ملک اور اس کی صنعت شدید بحران سے دوچار ہے اور دوسری طرف ہماری سرکار غیر ضروری اور غیر لازمی خرچوں میں کٹوتی نہیں کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے گاؤں میں برسوں سے سڑک نہ بنی ہو مگر شہروں میں ایک ہی سڑک کو سال میں کئی کئی بار بنایا جاتاہے۔ پرانے فٹ پاتھ توڑ کر نئی فٹ پاتھ بنائے جاتے ہیں۔پرانے پارکوں کی تزئین کاری کی جاتی ہے، مرحوم قائدین کے لئے نئے نئے سمارک بنائے جاتے ہیں،مرحومین کی ہی نہیں زندوں کی بھی مورتیاں لگائی جاتی ہیں اور جب اشد ضروری مدوں پر خرچ کی بات آتی ہے تو ہر حکومت چاہے وہ ریاستی ہو یامرکزی اپنے ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہوجاتی ہے اور فنڈس کی کمی کا بہانہ کرنے لگ جاتی ہے۔ہماری حکومت تودوسرے ممالک کو خوش کرنے کے لئے ان کو لمبی چوڑی امداددینے کا وعدہ کرنے سے بھی نہیں چوک رہی ہے، جبکہ خود اس کے پاس اپنا خرچ چلانے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔منموہن سنگھ مالدیپ کو امداد کااعلان کرچکے ہیں اور پرنب مکھرجی یوروپ کی مددکرکے اس کو مالی بحران سے ابھارنے کی بات کررہے ہیں۔اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ایک کوشش یہ بھی ہورہی ہے کہ سرکاری کمپنیوں کے پاس جو اضافی کیش ریزرو ہے اس کو مرکزی سرکار اپنے پاس منتقل کرلے اور اس سے اپنے اخراجات پورے کرے۔
اگر حکومت اب بھی نہیں جاگی تو ان حالات کو دیکھتے ہوئے تویہی لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہونے کے راہ پرتیزی سے گامزن ہوجائے گی اور پھر ہندوستان کا بھی وہی حال ہوگا جو امریکہ اور یوروپ کا ہورہاہے۔
وسیم بریلوی کا ایک مشہور شعر ہے جو ملک کے موجودہ حالات کے لئے موزوں ہے،
گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے تو ہو اس گھر کو بچائیں کیسے
نوٹ: یہ مضمون اوراس سے قبل کے تمام مضامین پڑھنے کے لئے http://afifahsen.blogspot.comپر جائیں۔
Afif Ahsen, America, Daily Pratap, Europe, india, inflation, Manmohan Singh, Moodys's, Pranab Mukherjee, Recession, Vir Arjun,