Search

Monday, 28 November 2011

خبر کہاں گم ہوگئی؟


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 28th November 2011
عفیف احسن
گذشتہ بدھ کو ٹیلی ویژن پر ایک خبر دیکھی جس میں بتایا گیا تھا کہ انکم ٹیکس کے ایک چھاپے میں جھاڑکھنڈ کے ایک کوئلہ ٹھیکیدار کے پاس سے75کروڑ کی نقدی برآمد ہوئی ہے۔اگلی صبح یعنی کے جمعرات کے اخبارات میں جب مزید تفصیلات کے لئے تلاش کیا تو خبر نظر نہیں آئی ۔بہت تلاش کرنے کے بعد اندرونی صفحات پر ایک چھوٹی سی خبر چھپی ہوئی نظرآئی۔ جس خبر کو صفحہ اول کی زینت بننا چاہئے تھا اور وہ بھی’’ مین لیڈ‘‘ اسے اس طرح دبادیاگیاتھاکہ جیسے کچھ ہو ا ہی نہ ہو۔ یہ چھاپے جمعرات کو بھی جاری رہے اور تب تک برآمد کی گئی رقم بڑھ کر 125کروڑ روپئے ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ 75کروڑ کی رقم ہمارے ملک کے بڑے بڑے اخبار والوں کومعمولی لگی ہو گی اس لئے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ اب مجھے امید تھی کے دیش کے بڑے بڑے اخبارات اس خبر کو صفحہ اوّل کی زینت بنائیں گے۔ ٹھیکیدار اور اس کے کس کس سے تعلقات تھے کے بارے میں ایک ایک تفصیل دی جائیگی۔ یہ بھی رقم کیاجائے گا کے وہ فلاں دکان سے جس کو کے چورسیا چلاتا ہے روزانہ پان کھاتا تھا، یہی نہیں چورسیا تک کے انٹرویو بمع تصویر دئے جائیں گے۔
مگر اگلے د ن تو مجھے پہلے سے بھی بڑا جھٹکا لگا۔ زیادہ تر اخبار نے اس خبر پر چپّی سادھ لی ، اوراپنے مؤخر اخبار کی ایک سطر بھی ضائع کرنا گوارا نہ کیا اور کچھ اخباروں نے خبر سے انصاف کرتے ہوئے یا یوں کہئے کہ صحافت کے تقاضہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے آخرے صفحات میں ایک چھوٹی سی خبر چھاپ دی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہمارے ملک کے بڑے بڑے اخبارات ’’ٹائمس ناؤ‘‘ کے خلاف دئے گئے سو کروڑ کے ذیلی عدالت کے فیصلے اور اس کی اپیل پر ہائی کورٹ کے اس چینل کو بیس کروڑ نقد جمع کرانے اور اسّی کروڑ کی بینک گارنٹی دینے کی شرط سے سکتے میں ہیں،جس کو کہ سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ یاپھر شاید وہ اس چھاپے پر اور اس سے برآمد رقم پر یقین نہیں رکھتے ہیں اوراس لئے اس پر کچھ زیادہ کہنے اور لکھنے سے ڈر رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اس کو خبر ہی نہ سمجھ رہے ہوں۔
اس لئے آئیے تھوڑا سا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ’خبر‘ کیا چیزہوتی ہے ۔ جب سے ہوش سنبھالا تب سے ایک بات یہ سنی کہ بھئی خبر یہ نہیں کہ کتے نے انسان کو کاٹ لیا، خبر یہ ہے کہ انسان نے کتے کو کاٹ لیا ۔ حیرانی کی بات نہیں کہ ابھی بھی یہ بات اِدھر اْدھر سننے کو مل جاتی ہے ۔یہ ڈائیلاگ ایک دو فلموں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ تھا صحافت کا وہ پرانا مکتبِ فکر جس کے نزدیک کسی بات کے خبر ہونے کا پیمانہ اس کا نیا پن، انوکھا پن، خاص پن ہوتا تھا ۔ یہ الگ ہے کہ اب خبر اس پیمانے پر جانچی یا بنائی جاتی ہے یا نہیں، تاہم اتنا ضرور ہے کہ ابھی تک ذہنوں کے سانچوں میں یہی پیمانہ جاگزیں ہے ۔
شاید اسی لئے جمعہ کے اخبارات شرد پوارپر ایک سر پھرے کے حملہ کی خبروں سے پٹے پڑے تھے۔ خبر صفحہ اوّل سے شروع ہوکر اندر کے صفحات تک پھیلی ہوئی تھی۔ اخبارات کے رپورٹر جب حملہ آور کے گھر اس کے خاندان کے بارے میں تفصیلات جاننے پہنچے تو انہیں گھر کے باہر موٹا سا تالہ لٹکا ہواملا۔ کچھ فوٹو گرافروں نے گھر پر لٹکے تالے کی تصویر کھینچنے پر ہی اکتفا کیا مگر دوسرے زیادہ سمجھدار اور چالاک رپورٹر وں نے پڑوسیوں کو ہی گھیر لیا اور انکے لمبے چوڑے انٹرویو چھاپے اورپڑوسیوں کی تصاویر سے ہی اخبارات کے صفحات کو پاٹ دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اخبارات کے پاس شائع کرنے کے لئے کوئی اور اہم خبر تھی ہی نہیں۔ دیش کے جانے مانے صحافیوں اور کالم نگاروں نے اس حملہ پر ڈھکے چھپے انداز میں چٹکی لینے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اس حملہ پر بڑے بڑے کالم لکھے گئے۔ حالانکہ اس حملہ پر ہر طرف سے مذمت کی آواز بلند ہوئی مگر فیس بک اور دوسری سوشل نیٹورکنگ سائٹس پر بھی یہ حملہ ہی گفتگو کا موضوع بنا رہا اور یاروں نے خوب خوب مزالیا۔
یہی نہیں جانے مانے نام نہاد گاندھی وادی بھی اس میں بہہ گئے اور انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ’’ بس ایک ہی تھپڑ مارا‘‘۔حالانکہ بعد میں انہوں نے این سی پی کے ڈر سے اپنا بیان بدل لیا مگر اس سے ان کے وقار میں مزید زوال آیا اور ان کی طرف سے بیان دے کر پلٹنے کے واقعات میں ایک اورکا اضافہ ہوگیا۔ ملک کا ہرشخص گاندھی وادی تو بننا چاہتا ہے مگر گاندھی جی کے اسولوں اور ان کے معیار زندگی پر کھرا نہیں اترپاتا۔جو چیز گاندھی جی کو مہاتما یعنی کہ ایک عزیم ہستی بناتی ہے اور سب سے منفرد کرتی ہے وہ ہے صبر واستقامت، حق و صداقت، ایثاراور قربانی جوکہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ چرخہ تو ہر کوئی چلا سکتا ہے مگر کپاس کاتنا اور دھاگا بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔وہ بھی پریم کا ایسا دھاگا جو ہر ایک کو جوڑ سکے ۔ہر شخص انشن کر سکتا ہے، ستیہ گرہ کرسکتا ہے، مگر گاندھی نہیں بن سکتا۔
لگتا ہے کہ میں بھی اپنے برادری والوں کی طرح اصل خبر سے بھٹک گیا ہوں اس لئے آئیے واپس چلتے ہیں اصل خبر کی طرف وہ ہے جھارکھنڈ کے جھریا میں بی سی سی ایل کے ایک کوئلہ کاروباری کے پاس سے بدھ کو محکمہ انکم ٹیکس کو حاصل ہوئی کالی کمائی اور جائداد۔ چھاپے ماری کے بعد سے اب تک کوئلہ کاروباری کے پاس سے تقریبا 125کروڑ روپے کی برآمدگی کی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے بدھ کو کوئلہ ٹھیکیدار لال بابو کے گھر اور آفس میں چھاپے ماری شروع کی تھی ۔ زیادہ تر رقم بینک اکاؤنٹس میں ہی جمع تھی جبکہ کچھ رقم گھر اور دفتروں سے بھی برآمد کی گئی۔ حالانکہ محکمہ انکم ٹیکس کو ان کے نام پر کوئی بھی اکاؤنٹ نہیں ملا ہے، لیکن ان کی بیوی اور گھر کے دوسرے ارکان کے نام پررقم جمع تھی ۔
جب بینک آف انڈیاکے اعلیٰ افسران کی نظر بابو سنگھ کے اکاؤنٹس میں بھاری بھرکم رقم کے ٹرانزیکشن پر گئی تو اس نے محکمہ انکم ٹیکس کو اس بات کی اطلاع دی ۔ جس کے بعد حرکت میں آئے محکمہ انکم ٹیکس کے افسران نے لال بابو کے گھر اور آفس میں چھاپے ماری کی۔ ویسے اگر ان پورے واقعات کو دیکھا جائے تو اسے محکمہ انکم ٹیکس کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس کی ریکوری کا ریکارڈ صرف45 کروڑ روپے تھا، لیکن لال بابو کے پاس سے برآمد کیے 125 کروڑ نے محکمہ انکم ٹیکس کے اس ریکارڈ کو توڑ دیا ہے ۔ محکمہ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ کروڑوں روپیہ لال بابو کو کہاں سے حاصل ہوا ہے۔ ملک میں نہ جانے ایسے کتنے ہی لال بابو ہوں گے جن کے پاس کروڑوں کا غیر اعلانیہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ موجود ہے، لیکن محکمہ انکم ٹیکس کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں کالی کمائی کے خلاف زور شور سے بولنے والے اور مہم چلانے والے نیتا، ابھینیتا، اور سادھو سنتوں کو بھی جیسے اس بارے میں کچھ پتا ہی نہ چلا ہے۔ کیونکہ کسی نے بھی اس بارے میں نہ تو کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی انکم ٹیکس محکمہ کی ستائش کی ہے اور نہ ہی حکومت کے بلیک منی روکنے کے اس قدم کی تعریف ہی کی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سیاست دانوں کے سوس بینک کھاتوں کی فرضی کہانیاں فیس بک اور انٹرنیٹ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
وکی لیکس کی سوس بینک کھاتوں کی جالی فہرستیں انٹرنیٹ پر عام ہیں، اور ایک یوگ گرو کی ویب سائٹ پر بھی اس کو دیکھا جاسکتاہے۔ مگر کوئی بھی کالے دھن کو روکنے کے اس قابل تعریف قدم کی ستائش کے لئے آگے نہیں آیاہے۔ اس خبر کو دبانے میں انکم ٹیکس محکمہ نے خود بھی کافی بڑا حصہ ادا کیا ہے۔ وہ اس لئے کہ اس کے پاس قومی سطح پر کوئی پی آراو نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اسے قطعی فعّال نہیں کہا جاسکتا ۔کوئی ایسا شخص جو کہ وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس کر کے اس قسم کی کارروائی کا بیورا پیش کرسکے۔چونکہ انکم ٹیکس کی چوری ،کالی کمائی اور اس سے لڑنا مرکز کے تحت آتاہے اس لئے قومی سطح پر اس کی وسیع پبلسٹی کی ضرورت ہے جس سے دوسرے لوگ بھی ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور کالے دھن سے توبہ کریں۔
نوٹ: یہ مضمون اوراس سے قبل کے تمام مضامین پڑھنے کے لئے http://afifahsen.blogspot.comپر جائیں۔

No comments:

Post a Comment