Search

Monday, 21 November 2011

منریگا سے پیدا ہوتی مزدوروں کی قلت


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 21st November 2011
عفیف احسن
 ایک سبق آموز کہانی ہے جسے ہم بچپن میں پڑھاکرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ کسی کسان کے کھیت میں ایک چڑیا نے اپنا گھونسلا بنایاہو ا تھا اور اس میں اس نے انڈے دئے، ان انڈوں سے ننے ننے بچے نکلے، جن کی وہ بہت دیکھ بھال کرتی تھی۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ کسان اپنے کھیت کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ ایک دن کسان اپنے کھیتوں پر آیا اور اس کو لگا کہ اب فصل تیا ر ہوگئی ہے، اس نے لہلہاتی ہوئی فصل کی طرف دیکھ کر بہت جوش سے کہا کہ اب فصل تیار ہوگئی ہے اور وہ جلد ہی اسے کاٹنے کی تیاری کرے گا۔ یہ بات چڑیا کہ ننے منے بچوں نے بھی سنی اور وہ پریشان ہوگئے کہ اب ہمارا آشیانہ اجڑ جائے گا، جب چڑیا شام کو واپس لوٹی تو ننے منے بچوں نے یہ بات اسکو بتائی کہ کسان آیا تھا اور وہ فصل کاٹنے کی بات کررہا تھا،اس پر چڑیا نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ابھی فصل نہیں کٹے گی۔ ایسا ہی ہوا کئی دن تک کسان کا کوئی اتا پتہ نہیں چلا اور کوئی بھی فصل کاٹنے نہیں آیا۔کچھ دن بعد کسان پھر کھیت پر آیا اور اس نے فصل دیکھ کر کہا کہ میں کل ضرور گاؤں کے لوگوں کے ساتھ آکر فصل کٹوالوں گا۔ جب شام کو چڑیا آئی تو بچوں نے اس کو کسان کے دوبارہ آنے کے بارے میں بتایااس پر چڑیا نے کہا کہ ابھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دن اسی طرح گزرتے چلے گئے اور کوئی فصل کاٹنے نہیں آیا۔ کچھ روز بعد پھر کسان کھیت پر آیا اور اس نے کہا کہ کل میں اپنے دوستو ں کے ساتھ فصل کاٹنے آؤں گا ۔ اس دن بھی جب شام کو چڑیا واپس آئی تو اس کے بچوں نے یہ روداد اس کو سنائی اس نے کہا کے ابھی بھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسی طرح مزید دن گزرتے چلے گئے اور فصل نہ کٹی، کچھ دن بعد کسان پھر کھیتوں پر آیا اور اس کو اس بات پر بہت تشویش ہوئی کے ابھی تک فصل نہیں کٹ سکی ہے ، اس نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے فصل کاٹے گا اور یہ کہتے ہوئے کھیت سے چلا گیا کہ وہ کل خود ہی آکر فصل کاٹے گا اور کسی کا انتظار نہیں کرے گا۔ جب شام کو چڑیا لو ٹ کر آئی تو اس کے بچوں نے یہ بات اس کو بتائی کہ کسان کہہ گیا ہے کہ وہ کل خودآکر فصل کاٹے گا۔ یہ سنتے ہی چڑیا نے کہا کہ اب ہم کو فوراً یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے اور کہیں اور بسیرا کرنا چاہئے۔ اب تک چڑیا کے بچے بڑے ہوگئے تھے اور وہ اس لائق ہوگئے تھے کہ اڑ سکیں اس لئے چڑیا اپنے بچوں کو لیکر اڑگئی اور کہیں اور چلی گئی۔ اس کہانی کو سبق یہ تھا کہ جب تک کوئی کام خود نہیں کروگے وہ کام نہیں ہوسکتا۔
اس وقت میں اس کہانی کے سبق آموز پہلو سے زیادہ اس بات پر حیران ہوا کرتا تھا کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں اتنی بیروزگاری ہے کیسے کسان کو فصل کاٹنے کے لئے لوگ نہیں مل رہے تھے۔اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ یہ کہانی من گھڑنت ہے۔ ہندوستان میں تو کام کا اکال ہے مزدورں کی تو بھرمارہے۔ مگر گزشتہ دنوں واشنگٹن پوسٹ کی ایک کہانی پڑھی جس میںیہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح منریگا کے چلتے کھیتی کے مزدوروں کی قلت ہوگئی ہے۔یہی نہیں صنعتوں اور تعمیراتی پروجیکٹوں کو بھی مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے۔
کانگریس پارٹی نے پورے دیش میں منریگا پروگرام چلایا ہوا ہے۔ یہ پروگرام بہت محبوب ہے اور اس کا سارا زور اسی پروگرام پر ہے کیونکہ اسی پروگرام کے سہارے کانگریس پارٹی دو بار برسراقتدار آئی ہے ۔ اور اس کو لگتا ہے کہ اس کے سہارے وہ یوپی میں بھی اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ سکتی ہے شاید اسی لئے دیہی ترقی کی وزیر جیرام رمیش اس اسکیم میں مایاوتی حکومت کے دوران ہورہی دھاندلیوں پر ایک کے بعد ایک تیر چھوڑ رہے ہیں۔ اس میں ان کا زیادہ مقصد تو شاید یہ ہی لگتا ہے کے یوپی کے لوگوں کو یہ پتا چلے کے یہ اسکیم مرکز ی حکومت کی مرہون منّت ہے اور اسی کے چلتے یوپی حکومت کو آٹھ ہزار کروڑ سے زیادہ رقم اس مد میں خرچ کرنے کو مل رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے ہندوستان کے ایک گاؤں میں کوئیں کی کھدائی اورگڈھوں میں مٹی بھرنے میں لگی ایک درجن سے زیادہ خواتین کی مثال دی ہے جن میں سے ہرکوئی ایک دن میں کم از کم دو ڈالر یعنی کے سورروپیہ سے زیادہ کمائی کررہی ہے، جوکہ دیہی غریبوں کے لئے سرکاری مزدوری پروگرام کی وجہ سے ہے ممکن ہوسکا ہے۔ ’’یہ کام مجھے میری روزانہ کی دال دلیا اور وقار دیتا‘‘ 42سالہ چناسوامی ایشوری نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندہ کو بتایا۔ جنوب کی تامل ناڈو ریاست میں خواتین کی ایک قطارمیں مٹی بھرا تسلا ایک سے دوسرے کو دیتے ہوئے اس نے مزید کہا’’مجھے اب بھوکے نہیں سونا پڑتا، اور میں اب بڑے کھیت مالکان سے کم ادائیگی پر کام دینے کے لئے بھیک نہیں مانگتی ہوں‘‘۔کھیتی کے لئے مزدوروں کی کمی کو دیکھتے ہوئے ہی ر زراعت کی وزارت نے گذشتہ جولائی میں یہ درخواست کی تھی کہ اس پروگرام کو کھیتی کے موسم کے دوران روکا جانا چاہئے۔
چھ سال پہلے قومی سطح پر شروع کی گئی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم نے کسی بھی خاندان کے لاکھوں بے سہارا، غریب اور نادار لوگوں کو سال میں100دن کا کام دیکر ان لوگوں کی مدد کی ہے جو کہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام مزدوروں کوکاہل بنا دیا ہے ، زراعت اور صنعتی شعبوں میں مزدوروں کی کمی پیدا کرتا ہے اوراس پیسے کی بربادی ہوتی ہے جس کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں سرمایہ کاری ہوسکتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی ایک اقتصادی سپر پاور بننے کی رفتار سست ہوجائے گی کیونکہ دیہی علاقوں میں کام کی عمر کے ہندوستانی روزگار کے نئے مواقع کے لیے ضروری مہارت نہیں سیکھیں گے ۔
ان کا کہنا ہے کہ غریبوں کے لئے دیہی روزگارپروگرام آخری اقدام ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے یہ ایک پسندیدہ کام بن گیا ہے کیونکہ اس میں آسانی سے پیسہ مل جاتا ہے اور یہاں وہاں کھدائی کا معمولی سا کام کرنا پڑتا ہے۔ انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز(فکی) میں زراعتی شعبہ کے سربراہ ایس بھاسکر ریڈی نے کہا۔’’ یہی وقت ہے جب ہمیں ان کو نئے ہنر کے لیے تربیت دینا چاہئے تھا، مگر ہم ان کے ہنر کو ختم کررہے ہیں۔‘‘
مزدوروں کی کمی کے مسئلہ سے دیہی کاموں اور صنعتی کاموں میں ضروری تناسب پیدا کرکے ہی نپٹا جاسکتا ہے۔چین میں کھیتی کے سیزن میں تودیہی لوگ کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اورجس دوران کھیتوں میں کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ اسبیچ فیکٹریوں اور تعمیراتی پرجیکٹوں میں کام کرتے ہیں جہاں پر ان کے لئے عبوری طور پر رہنے اورکھانے پینے کا انتظامبھی کیا جاتا ہے۔ اس طرح صنعتی کام اور کھیتی باڑی میں برابر تناسب بنا رہتا ہے۔ اور دونوں شعبوں کو مزدوروں کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ منریگا کو ایک بہت بڑے لیبر ایکسچینج کے طور پر استعمال کرے ۔ اس میں یہ ہوگا کہ اگر کسی فیکٹری ، کنسٹرکشن کمپنی وغیرہ کو مزدوروں کی ضرورت ہوگی تو وہ منریگا سے رابطہ قائم کرے گا جو کہ اپنے یہا ں رجسٹرڈ مزدوروں میں سے ضرورت کے مطابق مزدور ان نجی اداروں کو دے گااور ان اداروں سے معیار کے مطابق اجرت وصولے گا اس سے مزدوروں کا استحصال رکے گا اور منریگا کو آمدنی بھی ہونے لگے گی۔
حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ اس بات کو لازمی بنائے کہ اس کے ذریعہ دئے گئے بڑے بڑے ٹھیکوں میں مزدورں کی بازیابی منریگا سے ہوگی اور ٹھیکیدار منریگا کو معیار کے مطابق مزدوری ادا کرے گا۔ اس سے جو زائد آمدنی حاصل ہوگی اس کو منریگا میں دوسرے کاموں پر لگایاجاسکتا ہے۔ اس طرح وہ مزدور جو کہ ابھی تک غیر منظم تھا منظم ہوجائے گا۔ آگے چل کر منریگا کے مزدوروں اور ان کے خاندان کومنریگا کے تحت طبّی سہولیات بہم پہنچائی جاسکتی ہیں۔ ان کی انشورنس کی جاسکتی ہے اور سوشل سیکیورٹی کے ایسے ہی کئے دوسرے فوائد ان کو بہم پہنچائے جاسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کے منریگا کو نیارنگ روپ دیاجائے اورنجی شعبہ کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جاسکے اور ان کو اس سے فائدہ دلایا جاسکے۔

No comments:

Post a Comment