Search

Monday, 23 May 2011

امریکی صدر کی خدا لگتی

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 23rd May 2011
عفیف احسن
ایسا لگتا ہے کہ عرب ممالک کے انقلابات ، خاص کر انقلاب مصر نے امریکہ کو اپنی عرب ۔اسرائیل پالیسی بدلنے پر مجبور کردیا ہے، امریکی صدر بارک اوباما نے مشرق وسطٰی کیلئے امریکا کی پالیسی میں تبدیلی لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنی عرب پالیسی تبدیل کرنا ہو گی ، انہوں نے مزید کہا کہ تیونس سے شروع ہونے والے انقلاب کے بعد ثابت ہو گیاہے کہ اب زور زبردستی کی حکومتیں نہیں چل سکتیں، 1967ء کی سرحدی پوزیشن کے تحت آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، شام اور ایران رہنما انتقال اقتدار کی حمایت کریں، یمن اور بحرین میں حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کرے، شام کے صدر بشار الاسد سیاسی اصلاحات لائیں یا پھر جمہوریت کو راستہ دیں، معمر قذافی کو لیبیا چھوڑنا ہو گا، امریکی کمانڈوز نے اسامہ کیخلاف کاروائی کر کے القاعدہ تنظیم کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے، وہ شہید نہیں ہوا ہے بلکہ ہلاک ہواہے، اسامہ ایک قاتل تھا جس کا پیغام نفرت تھا۔ اس نے جمہوریت کو رد کر کے انسانی حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، اور وہ افغانستان سے جولائی میں انخلاء شروع کر دیں گے اور یہ کہ افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ کم کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کو محکمہ خارجہ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے کہا کہ مشرق وسطٰی کے انقلاب کی کہانی نئی نہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں وہ عوامی رائے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں طاقت کا توازن چند ہاتھوں میں ہے۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم تشدد کی بنیاد پر جمہوریت، ترقی، آزادی اظہار اور سیاسی اور معاشی تبدیلی کے حصول کے لیے ایک انقلابی راہ پر ہے جس کا سہرا اُن ممالک کے لوگوں کے سر ہے۔ اِس حوالے سے اوباما نے تیونس اور مصر میں کامیاب تبدیلی کا ذکر کیا اور کہا کہ معاشی اور سیاسی حالات کی بناء پر لوگ اکٹھے ہونے پر مجبور ہوئے اور پرامن احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ تشدد کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، جب کہ وہ اظہارکی آزادی اور مذہب کی آزادی،پرامن سیاسی اور معاشی تبدیلی کی حمایت کرتا ہے۔ صدر نے کہا کہ حالات جوں کا توں رہنا کوئی آپشن نہیں رہا، انقلاب کے حق میں آئی ہوئی لہر ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ عدم تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزیرہ نما عرب میں اِس سطح کی تبدیلی کا حصول کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کے کم مواقع وہ دیگر عوامل ہیں جو اِن مظاہروں کے پیچھے کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں نئی نسل تبدیلی کے نعرے لگار ہی ہے، عرب انقلاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال دیرپا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کو بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا ہے۔ صدر معمر قذافی نے اپنے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے، لیبیا میں امریکہ اور نیٹو کی کاروائی کی ضرورت ہے۔ قذافی کو لیبیا چھوڑنا ہو گا، امریکہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطٰی کیلئے امریکی پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے، مشرق وسطٰی میں تجارت اور سرمایہ کاری کی جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ مذہب اور اظہار رائے کی حمایت کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے عراق سے سیکھا ہے کہ کسی ملک میں قیادت بدلنا کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اپنے مسئلے کا خود حل نکالیں امریکہ یا کوئی اور ملک ان کی مدد نہیں کرسکتا، اسرائیل کو تسلیم کئے بغیر فلسطین امن حاصل نہیں کرسکتا۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بحالی امن کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ صدر اوباما نے الزام لگایا کہ ایران میں خواتین اور مردوں پر ظلم کیا جاتا ہے، ایرانی عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ شام کے عوام نے بھی اصلاحات کیلئے آواز بلند کر رکھی ہے، صدربشارالاسد اپنے لوگوں کے خلاف ایران سے مدد لے رہے ہیں، بحرین میں ایران کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ مشرق وسطٰی میں ایٹمی دوڑ سے کسی کو فائدہ نہیں۔
واشنگٹن میں امریکی اور غیرملکی سفارتکاروں سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کچھ شرائط کے ساتھ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے اْن خطوط پر ہونی چاہئیں جس طرح سے1967ء کی چھ روزہ جنگ سے قبل تھیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ الفتح اور حماس کے درمیان معاہدہ اسرائیل کیلئے بڑا سوال ہے۔
براک اوباما نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ میں تنہا کرنے کی کوشش کی صورت میں آزاد فلسطینی ریاست نہیں بن سکتی۔ ادھر اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی پوزیشن پر سرحدوں سے متعلق صدر اوباما کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو امریکی صدر بارک اوباما کی تقریرسے برا فروختہ ہو گئے اوراُنہوں نے اس فارمولے کو یکسر مسترد کر دیا ۔
مسٹر نیتن یاہو نے واشنگٹن کے لئے ایک جہازمیں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف وہ مسٹر اوباما کے امن قائم کرنے کے عزم کی تعریف کرتے ہیں ،وہ ’’صدر اوباما کواس اقرار کو دوہراتے سننے کی امید کرتے ہیں جس کا وعدہ امریکا نے 2004 ء میں اسرائیل سے کیا تھا اور جس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں کی طرف سے بے انتہاحمایت ملی تھی‘‘
اقوام متحدہ میں اسرائیلی کے ایک سابق سفیراور نیتن یاہو کے محرم راز ،ڈورے گولڈ نے مسٹر اوباما کی تقریرپر ان الفاظ مین افسوس کا اظہار کیا ’’یہ اسرائیل کی جانب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے‘‘
امریکہ پہنچنے کے بعد جمعہ کووائٹ ہاؤس میں ہونے والی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نتن یاہو نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے راستے میں اختلافات حائل ہیں۔اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر اپنی بات سے پلٹ سکتے ہیں۔
اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کچھ رعایتیں دینا چاہتا ہے ، تاہم وہ 1967ء کی حد تک جانے کے لیے تیار نہیں، جنھیں اْنھوں نے ’ناقابل دفاع‘ قرار دیا۔
جس وقت اوباما اور نتن یاہو کی ملاقات جاری تھی، چار ملکی بین الاقوامی مصالحت کاروں نے، جو کہ تقریباً ایک عشرے سے مشرق وسطیٰ میں سمجھوتے کے لیے کوشاں ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کے بارے میں اپنے ایک بیان میں مسٹر اوباما کی سوچ کی حمایت کی۔ امریکہ کے علاوہ چارملکی گروپ میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس شامل ہیں۔
دوسری طرف فلسطینی صدر محمود عباس نے تمام رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔حماس کا کہنا ہے نعروں کے بجائے صدر اوباما فلسطینیوں اور عرب عوام کے حقوق کیلئے عملی اقدامات کریں۔عرب ملکوں میں امریکی صدر براک اوباما کے خطاب کو بیان بازی قرار دیا جارہا ہے۔ مصری عوام کا کہنا ہے کہ براک اوباما خطے میں امن اور آزاد فلسطینی ریاست کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں اور خالی خولی باتیں نہ کریں۔ مگر فلسطینیوں نے جو اپنی ریاست کے لیے لابیئنگ کرتے رہے ہیں، اوباما کے اِس بیان کو سراہا ہے۔
فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کے لئے بنیاد ی طور پر 1967کی حدود کے استعمال کی حمایت کا اوباما کا بیان کسی امریکی صدر کے ذریعہ دیا گیا پہلا ایسا بیان ہے جس سے امن اور مصالحت کی کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
اگر مثبت تناظرمیں دیکھا جائے تو اوباما کا یہ بیان بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور نصف صدی سے زیادہ سے چلے آرہے تنازعہ کے حل کی جانب ایک زبردست چھلانگ ہے۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ امریکہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے صحیح معنوں میں کوشاں ہے اور جلد یا بدیر اس جانب مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے۔
Tags: Afif Ahsen, America, Egypt, Libya, Middle East, Israel, Palestine, Saudi Arab, Bahrain, Obama, Netan Yahoo, Vir Arjun, Daily Pratap

अमरीकी राष्ट्रपति के ख़ुदा लगती

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 23rd May 2011
अफ़ीफ़ अहसन
ऐसा लगता है कि अरब देशों की क्रांतियों, खासकर मिस्र की क्रांति ने अमेरीका को अरब-इसराइल नीति बदलने पर मजबूर कर दिया है, अमरीकी राष्ट्रपति बराक ओबामा ने मध्य पूर्व के लिए अमेरिका की नीति में परिवर्तन लाने की घोषणा करते हुए कहा कि अमरीका को अरब नीति बदलना होगा, उन्होंने कहा कि तुनिशिया से शुरू होने वाली क्रांति के बाद साबित हो गया है कि ज़ोर ज़बरदस्ती की सरकारें नहीं चल सकतीं, 1967 ई. की सीमा स्थिति के तहत स्वतंत्र फिलिस्तीनी राज्य की स्थापना की जाए, सीरिया और ईरानी नेता सत्ता हस्तांतरण का समर्थन करें, यमन और बहरीन में सरकार विपक्ष से बातचीत करे, सीरिया के राष्ट्रपति बशार अलअसद राजनीतिक सुधार लाएं या फिर लोकतंत्र को रास्ता दें, मोअम्मर कद्दाफ़ी को लीबिया छोड़ना होगा, अमेरिकी कमांडो ने ओसामा के खिलाफ कार्रवाई कर अलकायदा संगठन को भारी झटका पहुंचाया है, वह शहीद नहीं हुआ है बल्कि मारा गया है, ओसामा एक कातिल था जिसका संदेश नफरत था, उसने लोकतंत्र को अस्वीकार करके मानवाधिकार को स्वीकार करने से इनकार कर दिया था, और वह अफगानिस्तान से जुलाई में वापसी शुरू कर देंगे और यह कि अफ़ग़ानिस्तान में ता‍लिबान का प्रभाव कम कर दिया गया है.
गुरुवार को विदेश मंत्रालय में मध्य पूर्व और उत्तरी अफ्रीका में उत्पन्न होने वाले राजनीतिक परिवर्तन के विषय पर संबोधिन करते हुए राष्ट्रपति बराक ओबामा ने कहा कि मध्य पूर्व की क्रांति की कहानी नई नहीं है. पिछले छह महीने से मध्य पूर्व और उत्तरी अफ्रीका में परिवर्तन का सिलसिला जारी है, वह मध्य पूर्व और उत्तरी अफ्रीका में सार्वजनिक राय का समर्थन करते हैं क्योंकि मध्य पूर्व और उत्तरी अफ्रीका में शक्ति का संतुलन कुछ हाथों में है. राष्ट्रपति ओबामा ने कहा है कि मध्य पूर्व अहिंसा के आधार पर लोकतंत्र, विकास, स्वतंत्रता, अपनी बात कहने की आजादी और राजनीतिक और आर्थिक परिवर्तन की प्राप्ति के लिए एक क्रांतिकारी राह पर है जिसका श्रेय उन देशों के लोगों के सिर है. इस बारे में ओबामा ने तुनिशिया और मिस्र में सफल परिवर्तन का उल्लेख किया और कहा कि आर्थिक और राजनीतिक स्थिति की वजह से लोग इकट्ठा होने पर मजबूर हुए और शांतिपूर्ण विरोध प्रदर्शनों में हिस्सा लिया और ले रहे हैं.
उन्होंने कहा कि अमेरिका हिंसा के इस्तेमाल का विरोध करता है, जबकि वह अपनी बात कहने की स्वतंत्रता और धर्म की स्वतंत्रता, शांतिपूर्ण राजनीतिक और आर्थिक परिवर्तन का समर्थन करता है. राष्ट्रपति ने कहा कि हालात ज्यों का तयों रहने का कोई विकल्प नहीं रहा, क्रांति के अधिकार में आई हुई लहर हवा का एक ताज़ा झोंका है. राष्ट्रपति ओबामा ने कहा कि अहिंसा का प्रदर्शन करते हुए अरब महाद्वीप में इस स्तर के परिवर्तन का हासिल होना कोई मामूली कामयाबी नहीं है. गरीबी, बेरोजगारी, शिक्षा के कम अवसर वह अन्य कारक इन प्रदर्शनों के पीछे कार्यरित हैं. उन्होंने कहा कि अरब देशों में नई पीढ़ी परिवर्तन के नारे लगा रही है, अरब क्रांति से पता चलता है कि शक्ति का प्रयोग स्थिर नहीं.
अमेरिकी राष्ट्रपति ने कहा कि मध्य पूर्व के लिए अमेरिकी नीति में बदलाव ज़रूरी है, मध्य पूर्व में व्यापार और निवेश किया जाएगी. राष्ट्रपति ने कहा कि अमेरिका धर्म और व्यक्त की आजादी का समर्थन करता है. मध्य पूर्व में महिलाओं को पुरुषों के समान अधिकार मिलने चाहिए. हमने इराक से सीखा है कि किसी देश में नेतृत्व बदलना कितना मुश्किल है. उन्होंने कहा कि इस्राइल-फिलिस्तीनी अपने मुद्दों का स्वयं हल निकालेंगे, अमेरिका या कोई देश उनकी मदद नहीं कर सकता, इस्राइल को स्वीकार किए बिना फ़िलिस्तीन शांति प्राप्त नहीं कर सकता. इस्राइल और फ़िलिस्तीन के बीच शांति बहाली की आवश्यकता पहले से अधिक है. राष्ट्रपति ओबामा ने आरोप लगाया कि ईरान में महिलाओं और पुरुषों पर अत्याचार किया जाता है, वह ईरानी जनता के अधिकारों के लिए आवाज़ उठाते रहेंगे. शाम की जनता ने सुधार के लिए आवाज़ उठाई है, बशार अलअसद अपने लोगों के खिलाफ ईरान से मदद ले रहे हैं, बहरीन में ईरान का हस्तक्षेप अस्वीकार्य है. मध्य पूर्व में परमाणु होड़ से किसी को फायदा नहीं होगा.
वॉशिंगटन में अमेरिकी और विदेशी राजनयिकों को संबोधित करते हुये राष्ट्रपति ओबामा ने कहा कि भविष्य का फिलिस्तीनी राज्य कुछ शर्तों के साथ 1967 की सीमाओं की उन लकीरों पर होनी चाहिए जिस तरह से 1967 ई. के छह दिवसीय युद्ध से पहले था. राष्ट्रपति ने कहा कि फतह और हमास के बीच समझौता इस्राइल के लिए बड़ा सवाल है.
बराक ओबामा ने कहा कि इस्राइल को संयुक्त राष्ट्र में अकेला करने की कोशिश के रूप में स्वतंत्र फिलिस्तीनी राज्य नहीं बन सकता. उधर इस्राइल ने वर्ष 1967 की स्थिति पर सीमाओं के बारे में ओबामा का प्रस्ताव ठुकरा दिया है. इस्राइली प्रधानमंत्री बेंजामिन नितिन याहू अमरीकी राष्ट्रपति बराक ओबामा के तकरीर से सटपटा गए ओर उन्होंने इस फ़ॉर्मूले को एकदम ठुकरा दिया.
नितन याहू ने वॉशिंगटन के लिए एक वायूयान में सवार होते हुए कहा कि जहां एक ओर वह श्री ओबामा के शांति स्थापित करने के संकल्प की सराहना करते हैं, वह ''राष्ट्रपति ओबामा को उस इक़रार को दोहराते हुवे सुनने की उम्मीद करते हैं जिसका वादा अमेरिका ने 2004 में इस्राइल से किया थी और जिसे कांग्रेस के दोनों सदनों की भारी ‍हिमायत मिली थी''
संयुक्त राष्ट्र में इस्राइल के पूर्व राजनयिक ओर नितन याहू के राजदार, डोरे गोलड ने ओबामा के वक्तव्य पर इन शब्दों मैं खेद व्यक्त किया ''यह इस्राइल के बारे में संयुक्त राज्य अमेरिका की नीति में बुनियादी बदलाव है''
अमेरिका पहुंचने के बाद शुक्रवार को व्हाइट हाउस में होने वाली दोनों नेताओं की मुलाक़ात के बाद अमरीकी राष्ट्रपति बराक ओबामा और इस्राइली प्रधानमंत्री बेंजामिन नितिन याहू ने कहा कि मध्य पूर्व में शांति के रास्ते में मतभेद हैं. इस बयान से ऐसा लगता है कि अमेरिकी राष्ट्रपति अपनी बात से पलट सकते हैं.
अखबार के प्रतिनिधियों से बात करते हुए नितिन याहू ने कहा कि इस्राइल कुछ रियाआतें देना चाहता है, लेकिन वह 1967 ई. तक जाने के लिए तैयार नहीं, जिन्हें उन्होंने 'असमर्थ रक्षा' बताया.
जिस समय ओबामा और नितिन याहू मुलाकात जारी थी, चार-राष्ट्रीय अंतर्राष्ट्रीय सुलहकारों ने, जो लगभग एक दशक से मध्य पूर्व में समझौते के लिए प्रतिबद्ध हैं, मध्य पूर्व में शांति के बारे में अपने एक बयान में ओबामा की सोच का समर्थन किया. अमेरिका के अलावा चार-राष्ट्रीय समूह में संयुक्त राष्ट्र, यूरोपीय संघ और रूस शामिल हैं.
दूसरी ओर फ़लस्तीनी राष्ट्रपति महमूद अब्बास ने सभी नेताओं की आपात बैठक तलब की है. हमास का कहना है बयानों की बजाय ओबामा ईरान और अरब जनता के अधिकारों के लिए ठोस प्रयास करें. अरब देशों में अमेरिकी राष्ट्रपति बराक ओबामा के भाषण को केवल टिप्पणी भर करार दिया जा रहा है. मिस्री लोगों का कहना है कि बराक ओबामा क्षेत्र में शांति और स्वतंत्र फिलिस्तीनी राज्य के लिए इस्राइल पर दबाव डालें और खाली खूली बातें न करें. मगर फलस्तीनियों ने जो अपने राज्य के लिए लाबेयिंग करते रहे हैं, ओबामा के इस बयान को सराहा है.
फ़िलिस्तीन और इस्राइल मसले के समाधान के लिए आधार रूप में 1967 की सीमाओं के उपयोग के समर्थन का ओबामा का बयान किसी अमरीकी राष्ट्रपति द्वारा दिया गया एसा पहला बयान है जिससे शांति और समझोते की कुछ उम्मीदें पैदा हुई हैं और इसका स्वागत किया जाना चाहिए.
यदि सकारात्मक परीपेक्ष में देखा जाए तो ओबामा का यह बयान बहुत ही महत्व रखता है और आधी सदी से अधिक से चले आ रहे विवाद के समाधान की ओर एक जबर्दस्त छलांग है. ऐसा महसूस होता है कि अमेरिका फ़िलिस्तीनी समस्या के समाधान के लिए सही मायनों में प्रतिबद्ध है और जल्द या देर से इस में सक्रात्मक प्रगति हो सकती है. 
Tags: Afif Ahsen, America, Egypt, Libya, Middle East, Israel, Palestine, Saudi Arab, Bahrain, Obama, Netan Yahoo, Vir Arjun, Daily Pratap

Monday, 16 May 2011

ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارہ

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
16مئی 2011کو شائع
عفیف احسن
بنگال میں ممتا بینرجی کی جارہانہ روش، شاندار جیت کو دیکھ کر دشینت کمار کی یاد آگئی۔دشینت کمارتھے کی غزلوں نے نہ صرف خواص کو متاثر کیا بلکہ عوام کے ذہنوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ہندی کے اولیں غزل گو شاعر دشینت کمار نے ہندی غزل میں عوام کے دکھ درد کو پیش کیا اسی لیے ان کے اشعار عوام کے دل کو چھو جاتے ہیں۔
دشینت کمار کی مقبولیت کا سبب ان کے اشعار میں سیاست کی آمیزش ہے۔ انہوں نے ہندی شاعری کو عوام کے جذبات و احساسات سے نہ صرف قریب کیا بلکہ عصری مسائل کو بہت شدت سے پیش کیا۔ انہوں نے عام انسان کے دکھ درد کو ہی اپنے اشعار کا موضوع بنایا۔ان کی ایک بہت ہی مقبول غزل ہے:
ہو گئی ہے پیر پربت سی پگھلنی چاہئیے
اس ہمالہ سے کوئی گنگا نکلنی چاہئیے
آج یہ دیوار پردوں کی طرح ہلنے لگی
شرط لیکن تھی کہ یہ دیوار گرنی چاہئیے
اس سڑک پر ہر گلی ہر گاؤں میں
ہاتھ لہراتے ہوئے ہر لاش چلنی چاہئیے
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئیے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئیے

جیسا کہ اس غزل میں بیان ہے بالکل یہی ہال اس وقت مغربی بنگال کا بھی ہورہا تھا۔ اسی لئے شائددیدی نے دشینت کمار کی اس غزل سے تحریک لیتے ہوئے لیفٹ فرنٹ کے خلاف لگاتار ایک مہم جاری رکھی اور کبھی بھی ہار نہیں مانی۔ آخر کاربنگال میں دیدی ممتا نے کمیونسٹوں کا 34سالہ راج اکھاڑ پھینکا۔بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت اپنے 34سالوں میں پہلی بار اتنی غیر مقبول ثابت ہوئی کہ وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹا چارجی بھی اپنی سیٹ ہار گئے ۔ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی اس شاندار کامیابی اور بایاں محاذ کی حکومت سے نجات کو بنگال کی آزادی کا دن قرار دیااور ملک کی دوسری آزادی سے تعبیر کیا۔
گزشتہ برسوں میں کمیونسٹوں کا قلعہ اتنا مظبوط ہوگیا تھا کے کوئی بھی اس میں سیندھ لگانے کی نہیں سوچ سکتا تھا۔ 1984میں بھی جب کہ پورے ملک میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس اور راجیو گاندھی کے حق میں ہمدردی کی ایک لہر چل رہی تھی اس وقت بھی کانگریس کو بنگال میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی ۔
مغربی بنگال انتخابات میں بھاری اکثریت سے وزیر اعلی بننے جا رہیں ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی دیدی نے آخر کار اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ جیت لی۔ سچ پوچھیے تو یہ لڑائی کسی جنگ سے کم نہیں ، کیونکہدیدی نے اس جیت سے 34 سال پرانے بائیں بازوکی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ انہیں اس جیت کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑی ۔
ممتا بنرجی نے اپنا سیاسی سفرکا آغاز کانگریس کے ساتھ 1970کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ بہت جلد ہی وہ مہیلا کانگریس کی سیکریٹری بن گئیں۔1984 کے عام انتخابات میں وہ مغربی بنگال سے سب سے نوجوان ایم پی کے طور پرابھریں۔ تب انہوں نے جادھوپور سیٹ سے سومناتھ چٹرجی کو کراری شکست دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کی قومی سیکریٹری جنرل بن گئیں۔
1989 میں اسی سیٹ سے انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 1996 ، 1998 ، 1999 ، 2004 اور 2009 میں وہ لگاتارعام انتخابات میں کولکتا ساؤتھ سیٹ سے جیتیں اور پارلیمنٹ میں اس سیٹ سے نمائندگی کرتی رہیں۔ 1991 میں نرسمہا راؤ کی حکومت میں ممتا انسانی وسائل ، کھیل اور خاتون اور بال بہبود وزیر بنیں۔ اسی دوران انہوں نے حکمراں حکومت کو دھمکی دے ڈالی کہ اگرملک میں کھیل کو فروغ نہیں دیا گیا ، تو وہ وزارت سے استعفی دے دیں گی۔دسمبر 1992میں ممتا بنرجی کے مرکزی وزیر رہتے ہوئے انہیں اس وقت بالوں سے پکڑ کر کھینچا گیا، انکی بے عزت کی گئی اور اس کے بعد انہیں رائٹرس بلڈنگ سے باہر پھینک دیا گیا، جب کہ وہ جیوتی باسو سے ایک گونگی لڑکی کے ایک سی پی ایم ورکر کے ذریعہ کئے گئے زنا بالجبر کی شکایت کرنے گئیں۔اس کے بعد ممتا بنرجی نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ جب تک مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نہیں بن جاتیں رائٹرس بلڈنگ میں قدم نہیں رکھیں گی۔ مگر بعد میں 1993 میں نرسمہا راؤ نے ان سے تمام وزارتیں واپس لے لیں۔
1996 میں حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے سیاہ شال اوڑھ کر پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا۔ ہمیشہ سے تیز طرار رہنما رہیں ممتا نے ایک بار پارلیمنٹ کے اندر سماج وادی ایم پی کا کالر پکڑ لیا تھا۔ 1997 میں ریل بجٹ کے دوران ممتا نے اپنی سیاہ شال اس وقت کے ریل وزیر رام ولاس پاسوان کی طرف پھینک کر احتجاج درج کیاتھا۔
تمام تنازعات کے بعد 1997 میں ممتا نے کانگریس چھوڑ دی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کا قیام کیا۔ اس پارٹی نے مارکسوادی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ 11 دسمبر 1998 میں ایک تنازعہ کے دوران ممتا سماج وادی پارٹی کے ایم پی داروغا پرساد سروج کا کالر پکڑ کر باہر کھینچتی ہوئی لائیں ،کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر رہے تھے۔
1999 میں انہوں نے این ڈی اے کے ساتھ اتحاد میں حکومت بنائی اور ریلوے کے وزیر بنیں ، لیکن این ڈی اے کے ساتھ ان کی زیادہ عرصہ نہیں پٹی۔
لیفٹ کی ہار میں 2008 میں مرکز کی یو پی اے حکومت سے بائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت واپسی کے فیصلے نے بھی بہت بڑا اثر دکھایا ہے۔ حالانکہ اس وقت مغربی بنگال کے کمیونسٹ یو پی اے سے حمایت واپس لینے کے حق میں نہیں تھے۔لیکن پرکاش کرات کی زور زبردستی کی وجہ سے انہیںیہ فیصلہ لینا پڑا۔ لیکن اس کا اثر پارٹی فورم پر بہت برا ہوا۔ اگر اس وقت لیفٹ فرنٹ یو پی اے سے حمایت واپس نہیں لیتا تو کانگریس کبھی بھی ممتا بنرجی کے ساتھ نہیں جاتی۔ ایسی حالت میں بائیں بازو کی جماعتیں کم سے کم مغربی بنگال میں اتنے کمزورثابت نہیں ہوتیں اور ممتا بنرجی بھی اتنی مضبوط نہیں ہو پاتیں۔
اس کے علاوہ کچھ اور بھی وجوہات ہیں جو مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت کا سبب بنیں۔ اس میں نندی گرام اور سنگور کے واقعات سر فہرست ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں بعد میں بدھا دیو بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن جب تک انہوں نے ایسا کہا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ نندی گرام اور سنگور کی وجہ سے دانشور اور فنکارکمیونسٹوں سے دور ہو گئے۔ نندی گرام اور سنگور کے معاملے پر جس طرح سے سی پی ایم نے اڑیل رخ اپنایا اس کے مخالفت میں پہلے تو ان کلاکاروں نے احتجاج کیا لیکن جب لیڈرشپ نے انکی ایک نہیں سنی تو وہ کمیونسٹوں کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور آخر کار وہ لوگ ممتا بنرجی کے پالے میں جا کھڑے ہوئے۔
ممتا بنرجی کی مغربی بنگال میں جیتکی ایک اور اہم وجہ پولیس انتظامیہ ، تعلیم ،غیرسرکاری اداروں میں کمیونسٹوں کی دراندازی اور دادا گیری بھی ہے۔ اس دراندازی کی وجہ سے ممتا ریاست میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ ممتا کا یہی جارحانہ انداز آج انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی تک لے آیا ہے۔راجیوگاندھی کا ایک اہم خواب مغربی بنگال سے کمیونسٹوں کا صفایا تھا، جسے اب ممتا بنرجی نے پورا کر دکھایا ہے ۔شاید اسی لئے ممتا بنرجی سونیا گاندھی کی چہیتی ہیں۔
دشینت کمار ہی کی ایک غزل کی یہ اشعارہیں:
رہنماؤں کی اداؤں پہ فدا ہے دنیا
اس بہکتی ہوئی دنیا کو سنبھالو یارو
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو

एक पत्थर तो तबीयत से अछालो यारो

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
प्रकाशित: 16 मई 2011
 अफ़ीफ़ अहसन
बंगाल में ममता बनर्जी की जारहाना रविश, ओर शानदार जीत को देखकर दुशयंत कुमार की याद आ गई. दुशयंत कुमार की गज़लों ने न केवल वशिष्ठ लोगों को प्रभावित किया बल्कि आम लोगों के ज़हनों को झंझोड़ कर रख दिया. हिन्दी के पहले ग़ज़ल गो शायर दुशयंत कुमार ने हिन्दी ग़ज़ल में जनता के दुख दर्द को पेश किया इसलिए उनके शेर लोगों के दिल को छू जाते हैं.
दुशयंत कुमार की लोकप्रियता का कारण उनके शेरों में राजनीति की बातें हैं. उन्होंने हिन्दी कविता को जनता की भावनाओं और आकांक्षाओं से न केवल पास किया बल्कि मोजूदा मुद्दों को बहुत शिद्दत से पेश किया. उन्होंने साधारण व्यक्ति के दुख दर्द को ही अपने शायरी का विषय बनाया. उनकी एक बहुत ही लोकप्रिय ग़ज़ल है:
हो गई है पीर परबत सी पिघलनी चाहिए
इस हिमालय से कोई गंगा निकलनी चाहिए
आज यह दीवार पर्दों की तरह हिलने लगी
शर्त लेकिन थी कि यह दीवार गिनी चाहिए
इस सड़क पर हर गली हर गांव में
हाथ लहराते हुए हर लाश चलनी चाहिए
सिर्फ हंगामा खड़ा करना मेरा मक़सद नहीं
मेरी कोशिश है कि ये सूरत बदलनी चाहिए
मेरे सीने में नहीं तो तेरे सीने में सही
हो कहीं भी आग लेकिन आग जलनी चाहिए
जैसा कि इस ग़ज़ल में वर्णित है बिल्कुल यही हाल इस समय पश्चिम बंगाल का भी हो रहा था. इसलिए शायद दीदी ने दुशयंत कुमार की इस ग़ज़ल से तहरीक लेते हुए लेफ्ट फ्रंट के खिलाफ लगातार अभियान जारी रखा और कभी भी हार नहीं मानी. अंत्त: बंगाल मैं दीदी ममता ने कम्युनिस्टों का 34 वर्षीय राज उखाड़ फेंका. बंगाल में कम्युनिस्टों की सरकार अपने 34 वर्षों में पहली बार इतनी गैर लोकप्रिय साबित हुई कि मुख्यमंत्री बुद्धदेब भी अपनी सीट हार गए. ममता बनर्जी ने अपनी पार्टी की शानदार सफलता और वाम मोर्चे की सरकार से मुक्ति को बंगाल की स्वतंत्रता का दिन घोषित किया ओर ‍इसे देश की दूसरी स्वतंत्रता से ताबीर किया.
पिछले वर्षों में कम्युनिस्टों का किला इतना मज़बूत हो गया था की कोई भी इसमें सेंध लगाने की नहीं सोच सकता था. 1984 में जब पूरे देश में इंदिरा गांधी की हत्या के बाद कांग्रेस और राजीव गांधी के पक्ष में सहानुभूति की लहर चल रही थी तब भी कांग्रेस को बंगाल में सफलता प्राप्त नहीं हो सकी थी.
पश्चिम बंगाल चुनाव में भारी बहुमत से मुख्यमंत्री बनने जा रहीं तिरन्मूल कांग्रेस अध्यक्ष और पश्चिम बंगाल की दीदी ने आखिरकार अपने जीवन की सबसे बड़ी जंग जीत ली. सच पूछिए तो यह लड़ाई किसी युद्ध से कम नहीं, क्यों कि दीदी ने इस जीत से 34 साल पुराने वाम मोर्चा की सरकार को जड़ से उखाड़ फेंका है. उन्हें इस जीत के लिए काफी संघर्ष करना पड़ा.
ममता बनर्जी ने अपने राजनीतिक सफर की शुरुआत कांग्रेस के साथ 1970 के दशक में शुरू की थी. बहुत जल्द ही वग महिला कांग्रेस की सचिव बन गई. 1984 के चुनाव में पश्चिम बंगाल से सबसे युवा सांसद के रूप में उभरीं, जब उन्होंने जाधुपुर सीट से सोमनाथ चटर्जी को करारी शिकस्त दी थी. देखते ही देखते वह अखिल भारतीय युवा कांग्रेस की राष्ट्रीय महासचिव बन गई.
1989 में इसी सीट से उन्हें हार का सामना करना पड़ा. लेकिन 1996, 1998, 1999, 2004 और 2009 में वह लगातार चुनावों में कोलकत्ता साउथ सीट से जीतीं और संसद में इस सीट का प्रतिनिधित्व करती रहीं. 1991 में नरसिंह राव सरकार में ममता मानव संसाधन, खेल और महिला और बाल कल्याण मंत्री बनीं. इसी दौरान उन्होंने सत्तारूढ़ सरकार को धमकी दे डाली कि अगर मुल्क में खेल को बढ़ावा नहीं दिया जाता है तो वह मंत्रीपद से इस्तीफा दे देंगी. दिसंबर 1992 में ममता बनर्जी को केंद्रीय मंत्री रहते हुए उन्हें उस समय बालों से पकड़ कर खींचा गया, उनकी बे इज्जती की गयी और उसके बाद उन्हें राइटर्स बिल्डिंग से बाहर फेंक दिया गया, जबकि वह ज्योति बसु से एक गूंगी लड़की के सी पी एम कार्यकर्ता द्वारा किए गए बलात्कार की शिकायत करने गईं. इसके बाद ममता बनर्जी ने कसम खा ली थी कि जब तक वह पश्चिम बंगाल की मुख्यमंत्री नहीं बन जातीं राइटर्स बिल्डिंग में कदम नहीं रखें गी. मगर बाद में 1993 में नरसिंह राव ने उन से सभी मंत्रालय वापस ले लिये.
1996 में सरकार में रहते हुए उन्होंने काली शाल ओड़ कर पेट्रोल की बढ़ती कीमतों के खिलाफ बड़ा प्रदर्शन किया. हमेशा तेज तर्रार नेता रहीं ममता ने एक बार संसद में समाजवादी सांसद का कॉलर पकड़ लिया था. 1997 में रेल बजट के दौरान ममता ने काली शाल उस समय के रेल मंत्री राम विलास पासवान की ओर फेंक कर विरोध दर्ज किया था.
सभी विवादों के बाद 1997 में ममता ने कांग्रेस छोड़ दी और अखिल भारतीय तिरन्मूल कांग्रेस की स्थापना की. इस पार्टी ने मार्क्सवादी सरकार के खिलाफ जिहाद छेड़ दिया. 11 दिसम्बर 1998 में एक विवाद के दौरान ममता समाजवादी पार्टी के सांसद दरोगा प्रसाद सररोज का कॉलर पकड़ कर बाहर खींचते हुए ले आयीं, क्योंकि वे संसद में महिला आरक्षण बिल का विरोध कर रहे थे.
1999 में उन्होंने एनडीए के साथ गठबंधन सरकार बनाई और रेल मंत्री बनीं, लेकिन एनडीए के साथ उनकी अधिक समय तक नहीं पटी.
लेफ्ट की हार में 2008 में केन्द्र की यूपीए सरकार से वामपंथी पार्टियों के समर्थन वापसी के फैसले ने भी बहुत बड़ा असर दिखाया है. हालांकि उस समय पश्चिम बंगाल के कम्युनिस्ट यूपीए से समर्थन वापस लेने के पक्ष में नहीं थे लेकिन प्रकाश करात की ज़ोर ज़बरदस्ती की वजह से उनहें यह निर्णय लेना पड़ा. लेकिन इसका असर पार्टी मंच पर बहुत बुरा हुआ. यदि उस समय लेफ्ट फ्रंट यूपीए से समर्थन वापस नहीं लेता तो कांग्रेस कभी ममता बनर्जी के साथ नहीं जाती. ऐसी स्थिति में वामपंथी दल कम से कम पश्चिम बंगाल में इतने कमज़ोर साबित नहीं होते और ममता बनर्जी भी इतनी मजबूत नहीं हो पातीं.
इसके अलावा कुछ और भी कारण हैं जो पश्चिम बंगाल में ममता बनर्जी की जीत का कारण बनीं. इसमें नंदीग्राम और सिंगूर की घटनाओं सूची में सब से उपर हैं. इन घटनाओं के बारे में बाद में बुधादेव भट्टाचार्य ने कहा कि कुछ त्रुटियाँ हुई हैं. लेकिन जब तक उन्होंने ऐसा कहा तब तक बहुत देर हो चुकी थी. नंदीग्राम और सिंगूर के कारण बुद्धिजीवी और कलाकार वर्ग वामपंथियों से दूर हो गया. नंदीग्राम और सिंगूर के मामले में जिस तरह से सीपीएम ने अड़ीयल रुख अपनाया इस के विरोध में पहले तो इन कलाकारों ने विरोध किया लेकिन जब लीडरिशिप ने उनकी एक नहीं सुनी तो वह कम्युनिस्टों के विरोध में खड़े हो गए और आखिरकार वे ममता बनर्जी के पाले में जा खड़े हुए.
ममता बनर्जी के पश्चिम बंगाल में जीतका एक मुख्य कारण पुलिस प्रशासन, शिक्षा, ग़ीरिसर्कारी संस्थानों में कम्युनिस्टों की घुसपैठ और दादा गैरी है. इस घुसपैठ के कारण ममता राज्य में नंदीग्राम और सिंगूर आंदोलन में हमेशा पेश पेश रहीं. ममता का यही आक्रामक अंदाज़ आज उन्हें मुख्यमंत्री की कुर्सी तक ले आया है. राजीव गांधी का एक सपना पश्चिम बंगाल से कम्युनिस्टों का सफाया था, जिसे अब ममता बनर्जी ने पूरा कर दिखाया है. शायद इसी लिए ममता बनर्जी सोनिया गांधी के चहीती हैं.
दुशयंत कुमार ही एक ग़ज़ल के यह शेर हें:
नेताओं की अदाओं पर फिदा है दुनिया
इस बदमस्त दुनिया को संभालो यारो
कैसे आकाश में छेद नहीं हो सकता
एक पत्थर तो तबीयत से अछालो यारो

Monday, 9 May 2011

تمہارا خون خون، ہمارا خون پانی!

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
۹ مئی ۲۰۱۱ کو شائع
عفیف احسن
 امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونرایک بیان میں یہ کہا ہے کہ 9/11اور 26/11میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ اس کے ذریعہ ایبٹ آباد میں کی گئی کارروائی کی طرز پر ہندوستان کے ذریعہ کی گئی کسی بھی ممکنہ کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اسامہ بن لادین کا مارا جانا امریکہ اور پوری دنیا کے لئے ایک بے مثال واقعہ ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص کو امریکہ نے مارگرایا ہے۔مارک ٹونر اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا امریکہ کی اپنے دفاع کے حق کی پالیسی ہندوستان جیسے ملک پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے آرمی چیف نے آپریشن اسامہ کے بعد کہا تھا کہ ہندوستانی فوج ایبٹ آباد جیسی کارروائی کرنے کی اہل ہے۔ہندوستان میں ایک عرصہ سے یہ مانگ ہورہی ہے کہ پاکستان میں چل رہے دہشت گردی کے کیمپوں پر براہ راست حملہ کیاجائے اور ان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ اور اب ہندوستان خود کیوں نہیں اسی طرح کی کارروائی کرتا جیسی کے امریکہ نے ایبٹ آباد میں کی ہے۔ یہی نہیں ہندوستان بار بار پاکستان کو دہشت گردی میں مطلوب افراد کی فہرست سپرد کرتا رہا ہے مگر پاکستان نے ان کی حوالگی کے لئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے۔
اب پاکستان پر سفارتی دباؤ بنانے کے لئے ہندوستان نے ہندوستان میں دہشت گردانہ اورمجرمانہ سرگرمیوں میں مطلوب 25افراد کی فہرست پاکستان کو سونپ دی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ سبھی ہندوستان کی عدالتوں میں مطلوب ہیں اوریہ سبھی پاکستان کی سرزمین کا استعمال ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کے لئے کررہے ہیں۔ اس فہرست میں داؤدابراہیم، چھوٹا شکیل، ٹائیگرمیمن کے علاوہ مولانا مسعود اظہر، حافظ سعید سمیت دو درجن لوگوں کے نام ہیں۔
بتایاجاتا ہے کہ چھوٹا شکیل اور داؤد کو آئی ایس آئی اور فوج نے کراچی سے کسی نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔مگرحافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے لوگ کھلے عام گھوم رہے ہیں اور پورے پاکستان میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان اس سلسلے میں لسٹ سونپنے سے زیادہ کوئی اور مزید کارروائی نہیں کرے گا، جیسا کے ماضی میں ہوتاآیاہے۔کیونکہ اس کو ہمیشہ اس بات کا خطرہ بنا رہتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو امریکہ کیا کہے گا۔
ایک موقع پر تو ایسا لگا تھا کہ ہندوستان پاکستان پر سرجکل اسٹرائیک کرنے جارہا ہے مگر امریکہ نے ہندوستان کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لئے تمام طاقت جھونک دی حالانکہ ہندوستانی ا فواج کافی عرصہ تک ہند پاک سرحد پر جمی رہیں اوربعد میں ہندوستان کو اپنی ا فواج کو سرحد سے خالی ہاتھ واپس بلانا پڑا۔
امریکہ خود کو سپر پاور کہلانا پسند کرتا ہے، وہ خودچاہے تو پاکستان میں جاکر بن لادین کو قتل کردے مگر یہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک پاکستان پر اسی قسم کا حملہ کرے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ پاکستان پر اس کی یک تنہا اجارہ داری ہے اور وہ چاہے یہ کرے چاہے وہ کرے پاکستان کی قیادت میں اس کی مخالفت کرنے کی کوئی سکت نہیں ہے۔
اب سے قبل پاکستان یہ دھمکیاں دیتے ہوئے نہیں تھکتا تھاکہ’’دفاع ناقابل تسخیر بنادیا گیاہے‘‘، ’’کسی نے اگر ہماری طرف غلط نظروں سے دیکھا تو انجام اچھا نہ ہوگا‘‘، ’’ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھوں سے آہنی شکنجے سے نمٹا جائیگا‘‘ ، ’’ہماری فضائیہ دنیا کی نمبر ون ائیرفورس ہے‘‘ ، وغیر وغیرہ لیکن یکم اور دو مئی کی رات کو ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا اس پرایک طرف تو پاکستانی فوج اپنے دفاع میں پاکستان میڈیامیں کہانیاں پلانٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ حکمراں طبقہ برابر متضاد بیانات دینے میں لگا ہوا ہے۔
دومئی کی رات اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر جس جگہ اور جس طرح سے ہلاک کیا گیا اس نے پاکستان فوج سے متعلق پاکستانی عوام کے اعتماد کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے اورپاکستان میں یہ خدشات پائے جارہے ہیں کے کیاپاکستان کا دفاع اس قابل ہے کہ اسکے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کر سکے،’’راڈار جام ہو گئے تھے‘‘،‘ ’راڈاران ایکٹیوتھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز اسٹیلتھ تھے جو راڈار پر نظر ہی نہیں آسکتے تھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز نے ٹیرین ماسکنگ کی یعنی پہاڑوں کی اوٹ لے کر بگرام سے ایبٹ آباد پہنچے‘ وغیرہ وغیرہ، کیا کوئی ان دلائل پر یقین کر سکتا ہے ۔
اوسامہ کی ہلاکت سے کچھ روز قبل ہی القائدہ نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ اگر اسامہ مارا گیا تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کردے گا۔ ان حالات میں یہی لگتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیارالقائدہ کی دسترس کے اندر ہیں اور وہ کسی بھی وقت ان کو حاصل کرکے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی ملک کے خلاف کرسکتا ہے اوربلکہ ان ایٹمی ہتھیاروں سے پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ڈلیوری سسٹم تک معقول دسترس نہ ہونے کی صورت میں دہشت گرد کسی بھی نزدیکی ٹارگیٹ کو چن سکتے ہیں۔
امریکہ اسامہ کو ہلاک کرکے اتنا خوش ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ اس نے اسامہ کو ہلاک کرکے بھڑ کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اور اب دنیا کوالقاعدہ اور دہشت گردی سے خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیاہے۔القاعدہ نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی ہلاکت کا انتقام لیں گے۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اسامہ کا خون ہمارے لئے بیش بہا تھا اور اس کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور اس کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا‘۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اسامہ بن لادین کی موت اللہ کی جانب سے تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہم عذاب کی طرح پیچھا کریں گے۔ پیغام میں مزید کہا گیا کہ دشمنان اسلام کی خوشی بہت جلد ان کے غم میں بدل جائے گی اور خون آنسوؤں کی شکل میں ان کی آنکھوں سے رواں ہوں گے۔ القاعدہ کے پیغام میں پاکستانی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اسامہ بن لادین کی ہلاکت کے واقعہ کا داغ اپنے دامن سے چھڑائیں اور بن لادین کی موت کا انتقام لیں۔
اس لئے دہشت گرد اب کسی بھی کمزور حدف کو کسی بھی ملک میں نشانہ بناسکتے ہیں۔اس لئے وقت کا تقاضہ یہی ہے کے چھوٹے بڑے کسی بھی دہشت گرد کو نہ بخشا جائے اور امریکہ پاکستان کو اس بات کے لئے مجبور کرے کے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوب دہشت گردوں کو فوراً ہندوستان کے حوالے کرے ورنہ ہندوستان کو بھی اس بات کی آزادی ہونی چاہئے کہ وہ پاکستان میں بھیتر تک گھس کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ ٹھیک اسی طرح کی کارروائی جیسی کہ امریکہ نے کی ہے۔
امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ صرف اسی کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی کھلی آزادی ہے،کیونکہ القاعدہ نے امریکہ پر 9/11 کو حملہ کیا تھا اورہندوستان جو کہ مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر ہے چاہے ممبئی کے 26/11حملہ سمیت دوسرے کئی حملے ہوں، پارلیمنٹ پر حملہ ، اکشردھام مندر پر حملہ،قندھار ہائی جیک، اوردوسرے تمام حملے، ان سبھی کے تار پاکستان سے جڑے ہوئے پائے گئے ہیں اور پاکستان براہ راست اور پس پشت ان تمام دہشت گردوں کی مددکررہاہے۔
شاید امریکہ کا یہ ماننا ہے کہ اس کے خلاف دہشت گردانہ حملہ کو انجام دینے والا دہشت گرد ہی سب سے بڑا دہشت گردہے اور دوسرے ممالک پر حملہ کرنے والے دہشت گردمعمولی کیڑے مکوڑے ہیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ یہ سوچتا ہے کہ اس کا خون تو خون ہے اور ہندوستان کا خون پانی ہے، شاید اسی لئے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوبہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اندر کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پرزور مخالفت کرتا رہتاہے ۔

तुम्हारा खून खून, हमारा खून पानी!

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
प्रकाशित: 09 मई 2011
अफ़ीफ़ अहसन
अमेरिकी विदेश मंत्रालय के प्रवक्ता मार्क टोनर ने एक बयान में कहा है कि 9/11 और 26/11 में कोई समांता नहीं है. और वे उसके द्वारा ऐबटाबाद पाकिस्तान में की गई कार्रवाई की तर्ज़ पर भारत द्वारा की गई किसी भी संभावित कार्रवाई का समर्थन नहीं करेगा. उन्होंने कहा कि ओसामा बिन लादेन का मारा जाना अमेरिका और पूरी दुनिया के लिए एक बेमिसाल घटना है जिसमें दुनिया के सबसे वांछित व्यक्ति को अमेरिका ने मार ‍गिराया है. मार्क टोनर इस सवाल का जवाब दे रहे थे कि क्या अमेरिका की अपनी रक्षा आप की नीति भारत जैसे देश पर भी लागू होती है.
उल्लेखनीय है कि भारत के सेनाध्यक्ष ने ऑपरेशन ओसामा के बाद कहा था कि भारतीय सेना ऐबटाबाद पाकिस्तान जैसी कार्रवाई करने को सक्षम हैं. भारत में एक समय से यह मांग रही है कि पाकिस्तान में चल रहे आतंकवादी शिविर पर सीधा हमला किया और उनको तहस नहस और बर्बाद कर दिया जाए. और अब भारत खुद क्यों नहीं इसी तरह की कार्रवाई करता जैसी के अमेरिका ने पाकिस्तान में की है. यही नहीं भारत बार बार पाकिस्तान को आतंकवाद में वांछित लोगों की सूची सुपुर्द करता रहा है लेकिन पाकिस्तान ने उनके प्रत्यापण के लिए कोई भी ठोस कार्रवाई नहीं की है.
अब पाकिस्तान पर कूटनीतिक दबाव बनाने के लिए भारत ने भारत में आतंकवादी गतिविधियों में वांछित 25 लोगों की सूची पाकिस्तान को सौंप दी है जिसमें यह कहा गया है कि यह सभी भारतीय अदालतों में वांछित हैं और यह सभी पाकिस्तान की धरती का इस्तेमाल भारत के खिलाफ आतंकवादी कार्रवाई के लिए कर रहे हैं. इस सूची में दाउद इब्राहीम, छोटा शकील, टाइगर मेमन के अलावा मौलाना मसूद अज़हर, हफीज़ सईद सहित दो दर्जन लोगों के नाम हैं. बताया जाता है कि छोटा शकील और दाऊद को आईएसआई और सेना द्वारा कराची से किसी अज्ञात सुरक्षित स्थान पर पहुंचाया गया है. मगर हाफिज़ सईद और मसूद अज़हर जैसे लोग खुले आम घूम रहे हैं और पूरे पाकिस्तान में घूम घूम कर हिन्दुसतान के खिलाफ ज़हर अगल रहे हैं. ऐसा लगता है कि भारत इस संबंध में सूची सौंपने से अधिक कोई और कार्रवाई नहीं करेगा, जैसा के पहले होता रहा है. क्योंकि उसे हमेशा इस बात का खतरा बना रहता है कि अगर उसने ऐसा किया तो अमेरिका क्या कहेगा.
एक अवसर पर तो ऐसा लगा था कि हिंदुसतान पाकिस्तान पर सर्जिकल स्ट्राइक करने जा रहा है मगर अमरीका ने हिंदुसतान को ऐसा करने से बाज़ रखने के लिए सारी शक्ति झोंक दी हालांकि हिंदुसतानी सेना काफी समय तक ‍हिंद-पाक सीमा पर जमी रही और बाद में हिंदुसतान को अपनी सेना को सीमा से खाली हाथ वापस बुलाने पड़ा.
अमेरिका खुद को सुपर पावर कहलाना पसंद करता है वह खुद चाहे तो पाकिस्तान में जाकर ‍बिन लादेन की हत्या कर आऐ मगर यह कभी नहीं चाहेगा कि अन्य देश पाकिस्तान पर उसी प्रकार का हमला करें क्योंकि उसे लगता है कि पाकिस्तान पर उसकी अकेली इ्जारहदारी है और वह चाहे यह करे चाहे वह करे पाकिस्तान के नेतृत्व में उसका विरोध करने की कोई सकत नहीं है.
अब से पहले पाकिस्तान यह धमकी देते हुए नहीं थकता था कि ''सुरक्षा को अभेदय बना दिया गया हे'', ''किसी ने यदि हमें गलत नज़रों से देखा तो अंजाम अच्छा नहीं होगा'', ''हमारी तरफ बढ़ने वाले हाथों से लोहे के शिकंजे से निपटा जाएगा'', ''हमारी वायु सेना विश्व की नंबर वन वायु सेना है'', आदि-आदि लेकिन एक और दो मई की रात को पाकिस्तान में जो कुछ हुआ, इस पर एक ओर तो पाकिस्तानी सेना अपने बचाव में पाकिस्तान मीडया में कहानियाँ प्लांट करने में लगी हुई है जबकि सत्तारूढ़ वर्ग बराबर परस्पर विरोधी बयान देने में लगा हुआ है.
दो मई की रात ओसामा बिन लादेन की कथित तौर पर जिस जगह और जिस तरह से हत्या की गई उस ने पाकिस्तान सेना के बारे में पाकिस्तानी जनता के विश्वास को चकनाचूर कर के रख दिया है और पाकिसतान में यह शक पाया जा रहा है कि आया पाकिस्तान अपनी रक्षा में इतना सक्षम है कि अपने परमाणु हथियारों की सुरक्षा कर सके, ''राडार जाम हो गए थे'', ''राडा्रा इनएकटीव थे'', ''हेलिकाप्टर स्टेल्थ थे जो राडार पर ही नहीं आ सकते थे'', ''हेलिकाप्टर ने टेरेन मासकिंग की यानी पहाड़ों की ओट लेकर बगराम से ऐबटआबाद पाकिस्तान पहुंचे' आदि आदि, क्या कोई इन दलीलों पर विश्वास कर सकता है.
उसामा की मौत से कुछ दिन पहले ही अलकायदा ने यह बयान जारी किया था कि अगर ओसामा मारा गया तो वह परमाणु हथियारों से हमला कर देगा. ऐसे में यही लगता है कि पाकिस्तान के परमाणु हथयार कहीं अलकायदा के हाथों में न हों या वह किसी भी समय उन्हें हासिल कर परमाणु हथियारों का इस्तेमाल किसी भी देश के खिलाफ कर सकता है बल्की उनके परमाणु हथियारों से पाकिस्तान और उसके पड़ोसी देशों को अधिक खतरा है क्योंकि डिलीवरी सिस्टम तक पहुंच न होने पर आतंकवादी किसी भी नजदीकी लक्ष्य को चुन सकते हैं.
अमेरिका ओसामा को मार कर इतना खुश है कि वह यह नहीं समझ रहा है कि उसने ओसामा की हत्या कर भिड़ के छत्ते को छेड़ दिया है और अब दुनिया को अलकायदा और आतंकवाद से खतरा पहले से अधिक बढ़ गया है. अलकायदा ने अपने प्रमुख की मौत की पुष्टि करते हुए पाकिस्तान और अमेरिका सहित सभी पश्चिमी देशों को चेतावनी दी है कि वह अपने प्रमुख की हत्या का बदला लेगा. अलकायदा ने अपने संदेश में कहा है कि 'ओसामा का खून हमारे लिए बहुत कीमती था और उसके खून के एक-एक कतरे का हिसाब लिया जाएगा और उसके बलिदान को बर्बाद नहीं होने दिया जाएगा. 'अलकायदा ने अपने संदेश में कहा कि ओसामा बिन लादेन की मौत अल्लाह के द्वारा थी. अमरीका और उसके घटक दलों का हम अज़ाब की तरह पीछा करेंगे. संदेश में कहा गया कि दुश्मनाने इस्लाम की खुशी बहुत जल्दी उनके ग़म में बदल जाएगी और रक्त आँसू के रूप में उनकी आंखों से बहेंगे. अलकायदा के संदेश में पाकिस्तानी जनता से अपील की गयी है कि ओसामा बिन लादेन की मौत की घटना का दाग अपने दामन से छुड़ाएँ और बिन लादेन की मौत का बदला लें.
इसलिए आतंकवादी अब किसी भी कमजोर टार्गेट को किसी भी देश में निशाना बना सकते हैं. इसलिए समय की आवश्यकता यही है कि छोटे बड़े किसी भी आतंकवादी को न बखशा जाए और अमेरिका पाकिस्तान को इस बात के लिए मजबूर करे कि वह भारत द्वारा वांछित आतंकवादियों को तुरंत भारत के हवाले करे वरना भारत को भी इस बात की स्वतंत्रता होनी चाहिए कि वह पाकिस्तान में भीतर तक घुस कर आतंकवादियों के खिलाफ कार्रवाई कर सके. ठीक उसी तरह की कार्रवाई जैसी कि अमरीका ने की है.
अमेरिका यह समझता हे कि केवल उसी को आतंकवादियों के खिलाफ कार्रवाई करने की खुली आज़ादी है, क्योंकि अलकायदा ने अमेरिका पर 9/11 को हमला किया था और ‍हिंदोस्तान जो लगातार आतंकवादियों के निशाने पर है चाहे मुंबई के 26/11 हमले सहित अन्य कई हमले हों, संसद पर हमला, अकशरधामि मंदिर पर हमला, कंधार अपहरण काण्ड, और दूसरे सभी हमले, इन सभी के तार पाकिस्तान से जुड़े हुए पाए गए हैं और पाकिस्तान सीधे और पीठ पीछे आतंकवादियों की मदद करता रहा है.
शायद अमेरिका का यह मानना ​​है कि उसके खिलाफ आतंकवादी हमले को अंजाम देने वाला आतंकवादी ही सबसे बड़ा आतंकवादी है और अन्य देशों पर हमला करने वाले आतंकवादी मामूली कीड़े म्कोड़े हैं या यह भी हो सकता है कि अमेरिका यह सोचता हो कि उसका खून तो खून है और हिंदुसता‍न का खून पानी है, शायद इसलिए वह भारत द्वारा वांछित आतंकवादियों के खिलाफ पाकिस्तान के भीतर किसी भी संभावित कार्रवाई का जोरदार विरोध करता रहता है.

Monday, 2 May 2011

کانگریس الیون بنام بھاجپا ٹین

عفیف احسن
مرلی منوہر جوشی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی معیاد کے آخری دن یعنی کہ 30اپریل کو 2جی اسپیکٹرں م بدعنوانی معاملے میں اپنی رپورٹ لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کے دفتر میں جمع کرادی ،وہ یہ رپورٹ میرا کمارکودست بہ دست نہیں پیش کرسکے کیونکہ وہ موجود نہیں تھیں۔
اس سے قبل سیف الدین سوزنے گزشتہ جمعرات کو مسودہ رپورٹ کو مسترد کرنے کی لئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ایک قرارداد پیش کی تھی۔اس کے بعد کمیٹی دو حصوں میں بٹ گئی تھی اور دونوں ہی گٹ اپنا اپنا بیان دے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دونوں ایک ہی کمیتی کا حصہ نہ ہوکر کرکٹ کی دو ٹیمیں ہوں۔ ایک ٹیم کی رہنمائی سیف الدین سوز کے ہاتھ آئی اس ٹیم میں کانگریس کے سات، ڈی ایم کے کے دو اور بی ایس پی اور ایس پی کا ایک ایک رکن تھااور اس کی کل تعداد گیارہ تھی جو کہ ایک کرکٹ ٹیم کے لیے ضروری ہے اور مرلی منوہر جوشی کی رہنمائی والی کمیٹی میں صرف دس ممبر تھے جن میں بی جے پی کے چار،اے آئی اے ڈی ایم کے کے دو، جنتادل یو، بی جے ڈی ،شیو سینا اور سی پی آئی ایم کا ایک ایک ممبر تھا۔
جب جوشی صاحب کو یہ محسوس ہوا کہ انکی ٹیم کانگریس کی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں سے ٹکر نہیں لے پائے گی تو انہوں نے اس میں ہی عافیت سمجھی کے یہ میچ نہ کھیلا جائے اور اس کے بعد ان کی پوری ٹیم میدان چھوڑ کر چلی گئی۔یعنی کے کھیل سے سبکدوش ہوگئی۔اس کے بعدمیدان میں ڈٹی ہوئی ٹیم فاتح قرار پائی۔
جب یہ میٹنگ شروع ہوئی توبلا تفریق تمام ممبران کو اس بات پر تشویش تھی کہ کس طرح یہ رپورٹ جو کہ صرف کمیٹی کے ممبران کوجوشی جی کے ذریعہ دی گئی تھی لیک ہوگئی ۔کچھ ممبران نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس لیک کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے کیونکہ یہ اخلاقیات کا معاملہ ہے۔
پی اے سی کی ہر میٹنگ میں جوشی جی نے تمام ممبران کو تفصیل سے اپنی بات کہنے کا موقع دیاتھااور شروعات میں تو میٹنگیں بہت خوشگوار ماحول میں چلیں مگرجیسے جیسے کانگریس کو لگنے لگا کہ اس رپورٹ میں منموہن سنگھ اور چدمبرم کو پھنسایا جارہا ہے تو کانگریس نے جوشی پر حملے شروع کردئے اوریہ الزام لگایا کہ وہ حکومت کو گرانے کی فراق میں ہیں۔اور اس کمیٹی کی میٹنگ کو پٹری سے اتارنے کی کوششیں شروع کردیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ ایسا کرنے کا حکم انہیں ہائی کمانڈ کی طرف سے ملا تھا۔
حالانکہ رول یہ کہتے ہیں کہ اگر کمیٹی کی اکثریت کسی بھی فائننشل رپورٹ کو اسپیکر کو سونپے جانے کے خلاف ہے تو چیرپرسن کو میجورٹی کی بات کو ماننا ہوگا۔ اس بات سے ایسی کمیٹیوں اور ان کی رپورٹ پر سوال پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر کوئی رپورٹ عام رائے ہا اکثریت کی رائے سے ہی بنائی جانی ہے تو پھر گواہیوں، بیانات اور بحث مباحثے کی کیا ضرورت ہے، کیوں نہیں آپس میں مل جل کے یہ فیصلہ کرلیاجائے کہ کیا رپورٹ دینی ہے اور بغیر کوئی کارروائی کے رپورٹ گڑھ کر پیش کردی جائے۔
عام طور پر سبھی کمیٹیوں میں برسر اقتدار پارٹی کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی بھی رپورٹ اس کے خلاف جاتی ہے تو وہ اس کو روک سکتی ہے، اور ایسی صورت میں ان کمیٹیوں کا وجود بے معنی ہوجاتاہے۔
اگر جوشی جی چاہتے تو وہ یہ رپورٹ کوئی مصالحتی فارمولہ نکال کر بھی تیار کرسکتے تھے مگر اس میں ہوتا یہ کہ انہیں کئی باتوں پر خاموش رہنا پڑتا اور کئی سمجھوتے کرنے پڑتے اس طرح سے جو بھی رپورٹ تیار ہوتی وہ سب کے لئے قابل قبول تو ہو سکتی تھی مگر اس میں کسی کو بھی اپنی روٹی سینکنے کے لئے نہیں ملتی۔ اور اس رپورٹ کو لیکر سیاست کرنے کو نہیں ملتی۔
اب ہوگا یہ کہ کیونکہ جورپورٹ مرلی منوہر جوشی نے لوک سبھا اسپیکر کے دفتر مین داخل کی ہے اورجس کوپی اے سی کی میجوریٹی نے نامنظور کردیا ہے اس لئے اسپیکر ’رول‘ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسے لوک سبھا میں پیش کرنے سے انکار کردیں گی اور اس کے بعد بھاجپا اور اس کے گھٹک دل پورا مانسون سیشن اس مانگ کو لیکردھرنے اور بائی کاٹ میں نکال دیں گے کہ اس رپورٹ کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے اور تمام دوسرے کاموں کو درکنار کرکے اس رپورٹ پر فی الفور بحث کی جائے ۔
اس سے پہلے ایک پوراونٹر سیشن بھاجپا اور اس کے الائز نے اس مانگ میں برباد کردیا تھا کہ جے پی سی قائم کی جائے اور مجبور ہوکر حکومت کو جے پی سی کے لئے راضی ہونا پڑا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جے پی سی کا بھی وہی حال ہوگا جو پی اے سی کاہوا ہے، کیونکہ جے پی سی میں ایک بڑی تعداد کانگریس اور اس کے الائز کی ہے۔
تیس ممبر والی جے پی سی میں لوک سبھا سے بیس اورراجیہ سبھا سے دس ممبرلئے گئے ہیں۔اس پینل میں لوک سبھا سے کانگریس کے آٹھ اور بی جے پی کے چھے ممبران ہیں،اور ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، بی ایس پی اور ایس پی کے ایک ایک ممبر ہیں۔جبکہ راجیہ سبھا کے دس ممبران میں سے کانگریس کے تین، ڈی ایم کے، این سی پی اور بی ایس پی کے ایک ایک ممبرہیں۔اس طرح سے جے پی سی میں کانگریس اور اس کے الائزکے سولہ ممبران ہیں جوکہ میجوریٹی کے لئے کافی ہیں۔ اور جے پی سی میں تو چیرپرسن بھی کانگریس کا ہی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب پی اے سی رپورٹ کا انجام یہ ہوا ہے تو ان حالات میں اور اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ جے پی سی میں بھی میجوریٹی کانگریس اور اس کے الائز کی ہے ایسی صورت میں جے پی سی رپورٹ کا انجام کیاہوگاآپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔
ایک بہت ہی مشہور قانونیمثل ہے کہ’ کوئی بھی شخص اپنے مقدمہ کا جج نہیں ہوسکتا‘تو پھر ایسے معاملے میں جس میں کے این ڈی اے اور یو پی اے دونوں کے ہی دور میں 2جی اسپیکٹرم کے بنٹوارے کو لیکر کی گئی بے ضابطگیوں کی جانچ ہونی ہے تو اس کا ذمہ ان ہی لوگوں پر کیسے چھوڑا جاسکتا ہے جوکہ اس دور میں بر سر اقتدار رہے ۔
ان حالات میں سول سوسائٹی کا سیاست دانوں اور سیاسی اداروں پر اعتبار نہ کرناسمجھ میں آجاتا ہے۔کیونکہ اگر سب سیاست داں پھنس رہے ہونگے تو وہ آپس میں مل کر کوئی مصالحتی راستہ نکال لیں گے اور ایسی رپورٹ پیش کردیں گے کہ اپنی جان بچا لیں۔
ان حالات میں کیا یہ بہتر نہیں ہوگااس معاملہ پر سیاست کرنے کے بجائے تمام پارٹیاں اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے ماتحت سی بی آئی کو آزادانہ طور پر کرنے کی کھلی چھوٹ دے دیں اور سی بی آئی کو بغیر کسی دباؤ کے اپنا کام کرنے دیاجائے۔

कांग्रेस इलेवन बनाम भाजपा टेन

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi

अफ़ीफ़ अहसन

मुरली मनोहर जोशी ने लोक लेखा समिती के अंतिम दिन यानी कि 30 अप्रैल को 2 जी स्पैक्ट्र्म भ्रष्टाचार मामले में अपनी रिपोर्ट लोकसभा अध्यक्ष मीरा कुमार के कार्यालय में जमा करा दी, वह यह रिपोर्ट मीरा कुमार को स्वयं नहीं पेश कर सके क्योंकि वे मोजूद नहीं थीं.
इससे पहले सैफउद्दीन सोज़ ने पिछले गुरुवार को मसौदा रिपोर्ट को खारिज करने की लिए लोक लेखा समिती में प्रस्ताव पेश किया था. इसके बाद समिति दो भागों में बट गयी था और दोनों ही गुट्ट अपना अपना अपना बयान दे रहे थे. ऐसा लग रहा था कि ये दोनों एक ही समीती का हिस्सा न होकर क्रिकेट की दो टीमें हों. एक टीम का मार्गदर्शन सोज़ के हाथ आया, इस टीम में कांग्रेस के सात, डी एम के दो और बसपा और एसपी का एक एक सदस्य था और उनकी कुल संख्या ग्यारह थी, जो कि एक टीम के लिए जरुरी है और मुरली मनोहर जोशी के नेतृत्व वाली समिति में केवल दस सदस्य थे जिनमें भाजपा के चार, एआईएडीएमके, जनतादल यू, बीजेडी, शिव सेना और सीपीआई एम का एक सदस्य था.
जब जोशी साहब को यह महसूस हुआ कि उनकी टीम कांग्रेस की टीम के ग्यारह खिलाड़ियों से टक्कर नहीं ले पाए गी तो उन्होंने यही आफियत समझी के ये मैच न खेला जाए और उसके बाद उनकी पूरी टीम मैदान छोड़ कर चली गई. यानी के खेल से सेवानिवृत्त हो गई. इसके बाद मेदान में डटी हुई टीम विजेता घोषित पाई.
जब यह बैठक शुरू हुई तो किसी भेदभाव के बिना सभी सदस्यों को इस बात पर चिंता थी कि कैसे यह रिपोर्ट जो केवल समिति के सदस्यों को जूशी जी द्वारा दी गई थी लीक हो गई. कुछ सदस्यों ने यह मांग भी कि की लीक की जांच सीबीआई से कराई जाए क्योंकि यह इखलाक़ का मामला है.
पीएसी की हर बैठक में जोशी जी ने सभी सदस्यों को विस्तार से अपनी बात कहने का अवसर दिया था ओर शुरुआत में तो मीटिंगें बहुत खुशगवार माहौल में चली मगर जैसे जैसे कांग्रेस को लगने लगा कि इस रिपोर्ट में मनमोहन सिंह और चिदंबरम को फंगाया जा रहा है तो कांग्रेस ने जोशी पर हमले शुरू कर दिए और यह आरोप लगाया कि वह सरकार को गिराने की फिराक में हैं. और इस समिति की बैठक को पटरी से उतारने की कोशिश शुरू कर दी. ब्यान किया जाता है कि ऐसा करने का आदेश उन्हें हाई कमांड से मिला था.
हालांकि रूल्स यह कहते हैं कि अगर समिति का बहुमत किसी भी फ़ाइननशल रिपोर्ट लोकसभा अध्यक्ष को सौंपी जाने के खिलाफ है तो च्यरपरसन को बहुमत की बात को मानना होगा. इस बात से ऐसी समितियों और उनकी रिपोर्ट पर सवाल पैदा होता है. क्योंकि अगर कोई रिपोर्ट आम सहमति या बहुमत की राय से ही बनाई जानी है तो फिर गवाहयों, बयानों और चर्चा की क्या जरूरत है, क्यों नहीं आपस में मिलजुल कर यह निर्णय कर लिया जाये कि किया रिपोर्ट देनी है और बिना कोई कार्रवाई रिपोर्ट गढ़ कर पेश कर दी जाए.
आमतौर पर सभी समितियों में सत्ता पक्ष का बर्चस्व होता है, इसलिए अगर कोई भी रिपोर्ट खिलाफ जाती है तो वह उसको रोक सकता है, और इस स्थिति में समितियों का अस्तित्व अर्थहीन होजाता है.
अगर जोशी जी चाहते तो वे रिपोर्ट कोई बीच का फार्मूला निकाल कर भी तैयार कर सकते थे पर इसमें होता यह कि उन्हें कई बातों पर चुप रहना पड़ता और कई समझौते करने पड़ते इस तरह से जो भी रिपोर्ट तैयार होती वह सबके लिए स्वीकार्य तो हो सकती थी पर इसमें किसी को भी अपनी रोटी सेकने के लिए नहीं मिलती. और उस रिपोर्ट को लेकर राजनीति करने को नहीं मिलती.
अब होगा यह कि क्योंकि जो रिपोर्ट मुरली मनोहर जोशी ने लोकसभा अध्यक्ष के कार्यालय मैं जमा की ओर जिस को पीएसी के बहूमत ने अस्वीकार कर दिया है, इसलिए अध्यक्ष 'रुल' को ध्यान में रखते हुए इसे लोकसभा में पेश करने से इनकार कर सकती हैं और उसके बाद भाजपा और उसके घटक दलों ने पूरा मानसून सत्र भी इस मांग को लेकर धरने और बाईकाट में निकाल देंगे कि इस रिपोर्ट को लोकसभा में पेश किया जाए और सभी अन्य कामों को छोड कर इस रिपोर्ट पर तुरंत बहस की जाए.
इससे पहले पुरा शीत कालीन सत्र भाजपा और उसके घटक दलों ने इस मांग में बर्बाद कर दिया था कि जेपीसी की स्थापना की जाए और मजबूर होकर सरकार को जेपीसी के लिए राजी होना पड़ा था. अब सवाल यह पैदा होता है कि क्या जेपीसी का भी वही हाल होगा जो पीएसी का हुवा है, क्योंकि जेपीसी में एक बड़ी संख्या कांग्रेस और उसके घटक दलों की है.
तीस सदस्य की जेपीसी में लोकसभा से बीस ओर राज्यसभा से दस सदस्य है. इस पैनल में लोकसभा से कांग्रेस के आठ और भाजपा के छु: सदस्य हैं औरडीएमके, टीएमसी, बसपा और एसपी के एक-एक सदस्य हैं. जबकि राज्यसभा के दस सदस्यों में से कांग्रेस के तीन, डीएमके, राकांपा और बसपा के एक-एक सदस्य हें. इस तरह से जेपीसी में कांग्रेस और उसके सहायक दलों के सोलह सदस्य हैं जो बहुमत के लिए काफी हैं. और जेपीसी में तो च्यरपरसन भी कांग्रेस का ही है. अब आप ही बताइए कि जब पीएसी रिपोर्ट का परिणाम यह हुआ है तो ऐसे में इस बात को ध्यान में रखते हुए कि जेपीसी में बहुमत कांग्रेस और उसके साथियों का है ऐसी स्थिति में जेपीसी रिपोर्ट का अंजाम ‍क्या होगा इस का बखूबी अनुमान लगाया जासकता है.
एक बहुत ही प्रसिद्ध कानूनी व्यवसथा है कि 'कोई भी व्यक्ति अपने मामले का जज नहीं हो सकता' तो ऐसे मामले में जिसमें के एनडीए और यूपीए दोनों के ही दौर में 2 जी स्पैक्ट्र्म के बंटवारे को लेकर की गई अनियमितता की जांच होनी है तो इसका जिम्मा इन्हीं लोगों पर कैसे छोड़ा जा सकता है जो इस दौर में सत्ता में रहे.
इन परिस्थितियों में सिविल सोसाइटी का राजनीतिगियों और राजनीतिक संस्थाओं पर विश्वास न करना समझ में आ जाता है. क्योंकि अगर राजनीतिज्ञ फंस रहे होंगे तो वह आपस में मिलकर कोई बीच का रासता निकाल लें गे ओर ऐसी रिपोर्ट पेश कर देंगे के अपनी जान बचा लें.
इन हालात में क्या यह बेहतर नहीं होगा के ‍इस मामले पर राजनीति करने के बजाय सभी दल इस मामले की जांच सुप्रीम कोर्ट के तहत सीबीआई को स्वतंत्र रूप से करने की खुली छूट दे दें और सीबीआई को बिना किसी दबाव के अपना काम करने दिया जाए.