![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 23rd May 2011
عفیف احسن
عفیف احسن
ایسا لگتا ہے کہ عرب ممالک کے انقلابات ، خاص کر انقلاب مصر نے امریکہ کو اپنی عرب ۔اسرائیل پالیسی بدلنے پر مجبور کردیا ہے، امریکی صدر بارک اوباما نے مشرق وسطٰی کیلئے امریکا کی پالیسی میں تبدیلی لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنی عرب پالیسی تبدیل کرنا ہو گی ، انہوں نے مزید کہا کہ تیونس سے شروع ہونے والے انقلاب کے بعد ثابت ہو گیاہے کہ اب زور زبردستی کی حکومتیں نہیں چل سکتیں، 1967ء کی سرحدی پوزیشن کے تحت آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، شام اور ایران رہنما انتقال اقتدار کی حمایت کریں، یمن اور بحرین میں حکومت اپوزیشن سے مذاکرات کرے، شام کے صدر بشار الاسد سیاسی اصلاحات لائیں یا پھر جمہوریت کو راستہ دیں، معمر قذافی کو لیبیا چھوڑنا ہو گا، امریکی کمانڈوز نے اسامہ کیخلاف کاروائی کر کے القاعدہ تنظیم کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے، وہ شہید نہیں ہوا ہے بلکہ ہلاک ہواہے، اسامہ ایک قاتل تھا جس کا پیغام نفرت تھا۔ اس نے جمہوریت کو رد کر کے انسانی حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، اور وہ افغانستان سے جولائی میں انخلاء شروع کر دیں گے اور یہ کہ افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ کم کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کو محکمہ خارجہ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے کہا کہ مشرق وسطٰی کے انقلاب کی کہانی نئی نہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں وہ عوامی رائے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں طاقت کا توازن چند ہاتھوں میں ہے۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم تشدد کی بنیاد پر جمہوریت، ترقی، آزادی اظہار اور سیاسی اور معاشی تبدیلی کے حصول کے لیے ایک انقلابی راہ پر ہے جس کا سہرا اُن ممالک کے لوگوں کے سر ہے۔ اِس حوالے سے اوباما نے تیونس اور مصر میں کامیاب تبدیلی کا ذکر کیا اور کہا کہ معاشی اور سیاسی حالات کی بناء پر لوگ اکٹھے ہونے پر مجبور ہوئے اور پرامن احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ تشدد کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، جب کہ وہ اظہارکی آزادی اور مذہب کی آزادی،پرامن سیاسی اور معاشی تبدیلی کی حمایت کرتا ہے۔ صدر نے کہا کہ حالات جوں کا توں رہنا کوئی آپشن نہیں رہا، انقلاب کے حق میں آئی ہوئی لہر ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ عدم تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزیرہ نما عرب میں اِس سطح کی تبدیلی کا حصول کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کے کم مواقع وہ دیگر عوامل ہیں جو اِن مظاہروں کے پیچھے کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں نئی نسل تبدیلی کے نعرے لگار ہی ہے، عرب انقلاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال دیرپا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کو بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا ہے۔ صدر معمر قذافی نے اپنے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے، لیبیا میں امریکہ اور نیٹو کی کاروائی کی ضرورت ہے۔ قذافی کو لیبیا چھوڑنا ہو گا، امریکہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطٰی کیلئے امریکی پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے، مشرق وسطٰی میں تجارت اور سرمایہ کاری کی جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ مذہب اور اظہار رائے کی حمایت کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے عراق سے سیکھا ہے کہ کسی ملک میں قیادت بدلنا کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اپنے مسئلے کا خود حل نکالیں امریکہ یا کوئی اور ملک ان کی مدد نہیں کرسکتا، اسرائیل کو تسلیم کئے بغیر فلسطین امن حاصل نہیں کرسکتا۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بحالی امن کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ صدر اوباما نے الزام لگایا کہ ایران میں خواتین اور مردوں پر ظلم کیا جاتا ہے، ایرانی عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ شام کے عوام نے بھی اصلاحات کیلئے آواز بلند کر رکھی ہے، صدربشارالاسد اپنے لوگوں کے خلاف ایران سے مدد لے رہے ہیں، بحرین میں ایران کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ مشرق وسطٰی میں ایٹمی دوڑ سے کسی کو فائدہ نہیں۔
واشنگٹن میں امریکی اور غیرملکی سفارتکاروں سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کچھ شرائط کے ساتھ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے اْن خطوط پر ہونی چاہئیں جس طرح سے1967ء کی چھ روزہ جنگ سے قبل تھیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ الفتح اور حماس کے درمیان معاہدہ اسرائیل کیلئے بڑا سوال ہے۔
براک اوباما نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ میں تنہا کرنے کی کوشش کی صورت میں آزاد فلسطینی ریاست نہیں بن سکتی۔ ادھر اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی پوزیشن پر سرحدوں سے متعلق صدر اوباما کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو امریکی صدر بارک اوباما کی تقریرسے برا فروختہ ہو گئے اوراُنہوں نے اس فارمولے کو یکسر مسترد کر دیا ۔
مسٹر نیتن یاہو نے واشنگٹن کے لئے ایک جہازمیں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف وہ مسٹر اوباما کے امن قائم کرنے کے عزم کی تعریف کرتے ہیں ،وہ ’’صدر اوباما کواس اقرار کو دوہراتے سننے کی امید کرتے ہیں جس کا وعدہ امریکا نے 2004 ء میں اسرائیل سے کیا تھا اور جس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں کی طرف سے بے انتہاحمایت ملی تھی‘‘
اقوام متحدہ میں اسرائیلی کے ایک سابق سفیراور نیتن یاہو کے محرم راز ،ڈورے گولڈ نے مسٹر اوباما کی تقریرپر ان الفاظ مین افسوس کا اظہار کیا ’’یہ اسرائیل کی جانب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے‘‘
امریکہ پہنچنے کے بعد جمعہ کووائٹ ہاؤس میں ہونے والی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نتن یاہو نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے راستے میں اختلافات حائل ہیں۔اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر اپنی بات سے پلٹ سکتے ہیں۔
اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کچھ رعایتیں دینا چاہتا ہے ، تاہم وہ 1967ء کی حد تک جانے کے لیے تیار نہیں، جنھیں اْنھوں نے ’ناقابل دفاع‘ قرار دیا۔
جس وقت اوباما اور نتن یاہو کی ملاقات جاری تھی، چار ملکی بین الاقوامی مصالحت کاروں نے، جو کہ تقریباً ایک عشرے سے مشرق وسطیٰ میں سمجھوتے کے لیے کوشاں ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کے بارے میں اپنے ایک بیان میں مسٹر اوباما کی سوچ کی حمایت کی۔ امریکہ کے علاوہ چارملکی گروپ میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس شامل ہیں۔
دوسری طرف فلسطینی صدر محمود عباس نے تمام رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔حماس کا کہنا ہے نعروں کے بجائے صدر اوباما فلسطینیوں اور عرب عوام کے حقوق کیلئے عملی اقدامات کریں۔عرب ملکوں میں امریکی صدر براک اوباما کے خطاب کو بیان بازی قرار دیا جارہا ہے۔ مصری عوام کا کہنا ہے کہ براک اوباما خطے میں امن اور آزاد فلسطینی ریاست کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں اور خالی خولی باتیں نہ کریں۔ مگر فلسطینیوں نے جو اپنی ریاست کے لیے لابیئنگ کرتے رہے ہیں، اوباما کے اِس بیان کو سراہا ہے۔
فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کے لئے بنیاد ی طور پر 1967کی حدود کے استعمال کی حمایت کا اوباما کا بیان کسی امریکی صدر کے ذریعہ دیا گیا پہلا ایسا بیان ہے جس سے امن اور مصالحت کی کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
اگر مثبت تناظرمیں دیکھا جائے تو اوباما کا یہ بیان بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور نصف صدی سے زیادہ سے چلے آرہے تنازعہ کے حل کی جانب ایک زبردست چھلانگ ہے۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ امریکہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے صحیح معنوں میں کوشاں ہے اور جلد یا بدیر اس جانب مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے۔
جمعرات کو محکمہ خارجہ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے کہا کہ مشرق وسطٰی کے انقلاب کی کہانی نئی نہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں وہ عوامی رائے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں طاقت کا توازن چند ہاتھوں میں ہے۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عدم تشدد کی بنیاد پر جمہوریت، ترقی، آزادی اظہار اور سیاسی اور معاشی تبدیلی کے حصول کے لیے ایک انقلابی راہ پر ہے جس کا سہرا اُن ممالک کے لوگوں کے سر ہے۔ اِس حوالے سے اوباما نے تیونس اور مصر میں کامیاب تبدیلی کا ذکر کیا اور کہا کہ معاشی اور سیاسی حالات کی بناء پر لوگ اکٹھے ہونے پر مجبور ہوئے اور پرامن احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ تشدد کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، جب کہ وہ اظہارکی آزادی اور مذہب کی آزادی،پرامن سیاسی اور معاشی تبدیلی کی حمایت کرتا ہے۔ صدر نے کہا کہ حالات جوں کا توں رہنا کوئی آپشن نہیں رہا، انقلاب کے حق میں آئی ہوئی لہر ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ عدم تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزیرہ نما عرب میں اِس سطح کی تبدیلی کا حصول کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کے کم مواقع وہ دیگر عوامل ہیں جو اِن مظاہروں کے پیچھے کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں نئی نسل تبدیلی کے نعرے لگار ہی ہے، عرب انقلاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال دیرپا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کو بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا ہے۔ صدر معمر قذافی نے اپنے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے، لیبیا میں امریکہ اور نیٹو کی کاروائی کی ضرورت ہے۔ قذافی کو لیبیا چھوڑنا ہو گا، امریکہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطٰی کیلئے امریکی پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے، مشرق وسطٰی میں تجارت اور سرمایہ کاری کی جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ مذہب اور اظہار رائے کی حمایت کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے عراق سے سیکھا ہے کہ کسی ملک میں قیادت بدلنا کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین اپنے مسئلے کا خود حل نکالیں امریکہ یا کوئی اور ملک ان کی مدد نہیں کرسکتا، اسرائیل کو تسلیم کئے بغیر فلسطین امن حاصل نہیں کرسکتا۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بحالی امن کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ صدر اوباما نے الزام لگایا کہ ایران میں خواتین اور مردوں پر ظلم کیا جاتا ہے، ایرانی عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ شام کے عوام نے بھی اصلاحات کیلئے آواز بلند کر رکھی ہے، صدربشارالاسد اپنے لوگوں کے خلاف ایران سے مدد لے رہے ہیں، بحرین میں ایران کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ مشرق وسطٰی میں ایٹمی دوڑ سے کسی کو فائدہ نہیں۔
واشنگٹن میں امریکی اور غیرملکی سفارتکاروں سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کچھ شرائط کے ساتھ انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے اْن خطوط پر ہونی چاہئیں جس طرح سے1967ء کی چھ روزہ جنگ سے قبل تھیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ الفتح اور حماس کے درمیان معاہدہ اسرائیل کیلئے بڑا سوال ہے۔
براک اوباما نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ میں تنہا کرنے کی کوشش کی صورت میں آزاد فلسطینی ریاست نہیں بن سکتی۔ ادھر اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی پوزیشن پر سرحدوں سے متعلق صدر اوباما کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو امریکی صدر بارک اوباما کی تقریرسے برا فروختہ ہو گئے اوراُنہوں نے اس فارمولے کو یکسر مسترد کر دیا ۔
مسٹر نیتن یاہو نے واشنگٹن کے لئے ایک جہازمیں سوار ہوتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف وہ مسٹر اوباما کے امن قائم کرنے کے عزم کی تعریف کرتے ہیں ،وہ ’’صدر اوباما کواس اقرار کو دوہراتے سننے کی امید کرتے ہیں جس کا وعدہ امریکا نے 2004 ء میں اسرائیل سے کیا تھا اور جس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں کی طرف سے بے انتہاحمایت ملی تھی‘‘
اقوام متحدہ میں اسرائیلی کے ایک سابق سفیراور نیتن یاہو کے محرم راز ،ڈورے گولڈ نے مسٹر اوباما کی تقریرپر ان الفاظ مین افسوس کا اظہار کیا ’’یہ اسرائیل کی جانب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے‘‘
امریکہ پہنچنے کے بعد جمعہ کووائٹ ہاؤس میں ہونے والی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد امریکی صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نتن یاہو نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے راستے میں اختلافات حائل ہیں۔اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر اپنی بات سے پلٹ سکتے ہیں۔
اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کچھ رعایتیں دینا چاہتا ہے ، تاہم وہ 1967ء کی حد تک جانے کے لیے تیار نہیں، جنھیں اْنھوں نے ’ناقابل دفاع‘ قرار دیا۔
جس وقت اوباما اور نتن یاہو کی ملاقات جاری تھی، چار ملکی بین الاقوامی مصالحت کاروں نے، جو کہ تقریباً ایک عشرے سے مشرق وسطیٰ میں سمجھوتے کے لیے کوشاں ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کے بارے میں اپنے ایک بیان میں مسٹر اوباما کی سوچ کی حمایت کی۔ امریکہ کے علاوہ چارملکی گروپ میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس شامل ہیں۔
دوسری طرف فلسطینی صدر محمود عباس نے تمام رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔حماس کا کہنا ہے نعروں کے بجائے صدر اوباما فلسطینیوں اور عرب عوام کے حقوق کیلئے عملی اقدامات کریں۔عرب ملکوں میں امریکی صدر براک اوباما کے خطاب کو بیان بازی قرار دیا جارہا ہے۔ مصری عوام کا کہنا ہے کہ براک اوباما خطے میں امن اور آزاد فلسطینی ریاست کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں اور خالی خولی باتیں نہ کریں۔ مگر فلسطینیوں نے جو اپنی ریاست کے لیے لابیئنگ کرتے رہے ہیں، اوباما کے اِس بیان کو سراہا ہے۔
فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کے لئے بنیاد ی طور پر 1967کی حدود کے استعمال کی حمایت کا اوباما کا بیان کسی امریکی صدر کے ذریعہ دیا گیا پہلا ایسا بیان ہے جس سے امن اور مصالحت کی کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
اگر مثبت تناظرمیں دیکھا جائے تو اوباما کا یہ بیان بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور نصف صدی سے زیادہ سے چلے آرہے تنازعہ کے حل کی جانب ایک زبردست چھلانگ ہے۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ امریکہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے صحیح معنوں میں کوشاں ہے اور جلد یا بدیر اس جانب مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے۔
Tags: Afif Ahsen, America, Egypt, Libya, Middle East, Israel, Palestine, Saudi Arab, Bahrain, Obama, Netan Yahoo, Vir Arjun, Daily Pratap

No comments:
Post a Comment