![]() |
| Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily |
۹ مئی ۲۰۱۱ کو شائع
عفیف احسن
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونرایک بیان میں یہ کہا ہے کہ 9/11اور 26/11میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ وہ اس کے ذریعہ ایبٹ آباد میں کی گئی کارروائی کی طرز پر ہندوستان کے ذریعہ کی گئی کسی بھی ممکنہ کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اسامہ بن لادین کا مارا جانا امریکہ اور پوری دنیا کے لئے ایک بے مثال واقعہ ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص کو امریکہ نے مارگرایا ہے۔مارک ٹونر اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا امریکہ کی اپنے دفاع کے حق کی پالیسی ہندوستان جیسے ملک پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے آرمی چیف نے آپریشن اسامہ کے بعد کہا تھا کہ ہندوستانی فوج ایبٹ آباد جیسی کارروائی کرنے کی اہل ہے۔ہندوستان میں ایک عرصہ سے یہ مانگ ہورہی ہے کہ پاکستان میں چل رہے دہشت گردی کے کیمپوں پر براہ راست حملہ کیاجائے اور ان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ اور اب ہندوستان خود کیوں نہیں اسی طرح کی کارروائی کرتا جیسی کے امریکہ نے ایبٹ آباد میں کی ہے۔ یہی نہیں ہندوستان بار بار پاکستان کو دہشت گردی میں مطلوب افراد کی فہرست سپرد کرتا رہا ہے مگر پاکستان نے ان کی حوالگی کے لئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے۔
اب پاکستان پر سفارتی دباؤ بنانے کے لئے ہندوستان نے ہندوستان میں دہشت گردانہ اورمجرمانہ سرگرمیوں میں مطلوب 25افراد کی فہرست پاکستان کو سونپ دی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ سبھی ہندوستان کی عدالتوں میں مطلوب ہیں اوریہ سبھی پاکستان کی سرزمین کا استعمال ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کے لئے کررہے ہیں۔ اس فہرست میں داؤدابراہیم، چھوٹا شکیل، ٹائیگرمیمن کے علاوہ مولانا مسعود اظہر، حافظ سعید سمیت دو درجن لوگوں کے نام ہیں۔
بتایاجاتا ہے کہ چھوٹا شکیل اور داؤد کو آئی ایس آئی اور فوج نے کراچی سے کسی نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔مگرحافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے لوگ کھلے عام گھوم رہے ہیں اور پورے پاکستان میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان اس سلسلے میں لسٹ سونپنے سے زیادہ کوئی اور مزید کارروائی نہیں کرے گا، جیسا کے ماضی میں ہوتاآیاہے۔کیونکہ اس کو ہمیشہ اس بات کا خطرہ بنا رہتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو امریکہ کیا کہے گا۔
ایک موقع پر تو ایسا لگا تھا کہ ہندوستان پاکستان پر سرجکل اسٹرائیک کرنے جارہا ہے مگر امریکہ نے ہندوستان کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لئے تمام طاقت جھونک دی حالانکہ ہندوستانی ا فواج کافی عرصہ تک ہند پاک سرحد پر جمی رہیں اوربعد میں ہندوستان کو اپنی ا فواج کو سرحد سے خالی ہاتھ واپس بلانا پڑا۔
امریکہ خود کو سپر پاور کہلانا پسند کرتا ہے، وہ خودچاہے تو پاکستان میں جاکر بن لادین کو قتل کردے مگر یہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک پاکستان پر اسی قسم کا حملہ کرے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ پاکستان پر اس کی یک تنہا اجارہ داری ہے اور وہ چاہے یہ کرے چاہے وہ کرے پاکستان کی قیادت میں اس کی مخالفت کرنے کی کوئی سکت نہیں ہے۔
اب سے قبل پاکستان یہ دھمکیاں دیتے ہوئے نہیں تھکتا تھاکہ’’دفاع ناقابل تسخیر بنادیا گیاہے‘‘، ’’کسی نے اگر ہماری طرف غلط نظروں سے دیکھا تو انجام اچھا نہ ہوگا‘‘، ’’ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھوں سے آہنی شکنجے سے نمٹا جائیگا‘‘ ، ’’ہماری فضائیہ دنیا کی نمبر ون ائیرفورس ہے‘‘ ، وغیر وغیرہ لیکن یکم اور دو مئی کی رات کو ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا اس پرایک طرف تو پاکستانی فوج اپنے دفاع میں پاکستان میڈیامیں کہانیاں پلانٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ حکمراں طبقہ برابر متضاد بیانات دینے میں لگا ہوا ہے۔
دومئی کی رات اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر جس جگہ اور جس طرح سے ہلاک کیا گیا اس نے پاکستان فوج سے متعلق پاکستانی عوام کے اعتماد کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے اورپاکستان میں یہ خدشات پائے جارہے ہیں کے کیاپاکستان کا دفاع اس قابل ہے کہ اسکے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کر سکے،’’راڈار جام ہو گئے تھے‘‘،‘ ’راڈاران ایکٹیوتھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز اسٹیلتھ تھے جو راڈار پر نظر ہی نہیں آسکتے تھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز نے ٹیرین ماسکنگ کی یعنی پہاڑوں کی اوٹ لے کر بگرام سے ایبٹ آباد پہنچے‘ وغیرہ وغیرہ، کیا کوئی ان دلائل پر یقین کر سکتا ہے ۔
اوسامہ کی ہلاکت سے کچھ روز قبل ہی القائدہ نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ اگر اسامہ مارا گیا تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کردے گا۔ ان حالات میں یہی لگتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیارالقائدہ کی دسترس کے اندر ہیں اور وہ کسی بھی وقت ان کو حاصل کرکے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی ملک کے خلاف کرسکتا ہے اوربلکہ ان ایٹمی ہتھیاروں سے پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ڈلیوری سسٹم تک معقول دسترس نہ ہونے کی صورت میں دہشت گرد کسی بھی نزدیکی ٹارگیٹ کو چن سکتے ہیں۔
امریکہ اسامہ کو ہلاک کرکے اتنا خوش ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ اس نے اسامہ کو ہلاک کرکے بھڑ کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اور اب دنیا کوالقاعدہ اور دہشت گردی سے خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیاہے۔القاعدہ نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی ہلاکت کا انتقام لیں گے۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اسامہ کا خون ہمارے لئے بیش بہا تھا اور اس کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور اس کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا‘۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اسامہ بن لادین کی موت اللہ کی جانب سے تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہم عذاب کی طرح پیچھا کریں گے۔ پیغام میں مزید کہا گیا کہ دشمنان اسلام کی خوشی بہت جلد ان کے غم میں بدل جائے گی اور خون آنسوؤں کی شکل میں ان کی آنکھوں سے رواں ہوں گے۔ القاعدہ کے پیغام میں پاکستانی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اسامہ بن لادین کی ہلاکت کے واقعہ کا داغ اپنے دامن سے چھڑائیں اور بن لادین کی موت کا انتقام لیں۔
اس لئے دہشت گرد اب کسی بھی کمزور حدف کو کسی بھی ملک میں نشانہ بناسکتے ہیں۔اس لئے وقت کا تقاضہ یہی ہے کے چھوٹے بڑے کسی بھی دہشت گرد کو نہ بخشا جائے اور امریکہ پاکستان کو اس بات کے لئے مجبور کرے کے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوب دہشت گردوں کو فوراً ہندوستان کے حوالے کرے ورنہ ہندوستان کو بھی اس بات کی آزادی ہونی چاہئے کہ وہ پاکستان میں بھیتر تک گھس کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ ٹھیک اسی طرح کی کارروائی جیسی کہ امریکہ نے کی ہے۔
امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ صرف اسی کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی کھلی آزادی ہے،کیونکہ القاعدہ نے امریکہ پر 9/11 کو حملہ کیا تھا اورہندوستان جو کہ مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر ہے چاہے ممبئی کے 26/11حملہ سمیت دوسرے کئی حملے ہوں، پارلیمنٹ پر حملہ ، اکشردھام مندر پر حملہ،قندھار ہائی جیک، اوردوسرے تمام حملے، ان سبھی کے تار پاکستان سے جڑے ہوئے پائے گئے ہیں اور پاکستان براہ راست اور پس پشت ان تمام دہشت گردوں کی مددکررہاہے۔
شاید امریکہ کا یہ ماننا ہے کہ اس کے خلاف دہشت گردانہ حملہ کو انجام دینے والا دہشت گرد ہی سب سے بڑا دہشت گردہے اور دوسرے ممالک پر حملہ کرنے والے دہشت گردمعمولی کیڑے مکوڑے ہیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ یہ سوچتا ہے کہ اس کا خون تو خون ہے اور ہندوستان کا خون پانی ہے، شاید اسی لئے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوبہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اندر کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پرزور مخالفت کرتا رہتاہے ۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے آرمی چیف نے آپریشن اسامہ کے بعد کہا تھا کہ ہندوستانی فوج ایبٹ آباد جیسی کارروائی کرنے کی اہل ہے۔ہندوستان میں ایک عرصہ سے یہ مانگ ہورہی ہے کہ پاکستان میں چل رہے دہشت گردی کے کیمپوں پر براہ راست حملہ کیاجائے اور ان کو نیست و نابود کردیا جائے۔ اور اب ہندوستان خود کیوں نہیں اسی طرح کی کارروائی کرتا جیسی کے امریکہ نے ایبٹ آباد میں کی ہے۔ یہی نہیں ہندوستان بار بار پاکستان کو دہشت گردی میں مطلوب افراد کی فہرست سپرد کرتا رہا ہے مگر پاکستان نے ان کی حوالگی کے لئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے۔
اب پاکستان پر سفارتی دباؤ بنانے کے لئے ہندوستان نے ہندوستان میں دہشت گردانہ اورمجرمانہ سرگرمیوں میں مطلوب 25افراد کی فہرست پاکستان کو سونپ دی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ سبھی ہندوستان کی عدالتوں میں مطلوب ہیں اوریہ سبھی پاکستان کی سرزمین کا استعمال ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کے لئے کررہے ہیں۔ اس فہرست میں داؤدابراہیم، چھوٹا شکیل، ٹائیگرمیمن کے علاوہ مولانا مسعود اظہر، حافظ سعید سمیت دو درجن لوگوں کے نام ہیں۔
بتایاجاتا ہے کہ چھوٹا شکیل اور داؤد کو آئی ایس آئی اور فوج نے کراچی سے کسی نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔مگرحافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے لوگ کھلے عام گھوم رہے ہیں اور پورے پاکستان میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان اس سلسلے میں لسٹ سونپنے سے زیادہ کوئی اور مزید کارروائی نہیں کرے گا، جیسا کے ماضی میں ہوتاآیاہے۔کیونکہ اس کو ہمیشہ اس بات کا خطرہ بنا رہتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو امریکہ کیا کہے گا۔
ایک موقع پر تو ایسا لگا تھا کہ ہندوستان پاکستان پر سرجکل اسٹرائیک کرنے جارہا ہے مگر امریکہ نے ہندوستان کو ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لئے تمام طاقت جھونک دی حالانکہ ہندوستانی ا فواج کافی عرصہ تک ہند پاک سرحد پر جمی رہیں اوربعد میں ہندوستان کو اپنی ا فواج کو سرحد سے خالی ہاتھ واپس بلانا پڑا۔
امریکہ خود کو سپر پاور کہلانا پسند کرتا ہے، وہ خودچاہے تو پاکستان میں جاکر بن لادین کو قتل کردے مگر یہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک پاکستان پر اسی قسم کا حملہ کرے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ پاکستان پر اس کی یک تنہا اجارہ داری ہے اور وہ چاہے یہ کرے چاہے وہ کرے پاکستان کی قیادت میں اس کی مخالفت کرنے کی کوئی سکت نہیں ہے۔
اب سے قبل پاکستان یہ دھمکیاں دیتے ہوئے نہیں تھکتا تھاکہ’’دفاع ناقابل تسخیر بنادیا گیاہے‘‘، ’’کسی نے اگر ہماری طرف غلط نظروں سے دیکھا تو انجام اچھا نہ ہوگا‘‘، ’’ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھوں سے آہنی شکنجے سے نمٹا جائیگا‘‘ ، ’’ہماری فضائیہ دنیا کی نمبر ون ائیرفورس ہے‘‘ ، وغیر وغیرہ لیکن یکم اور دو مئی کی رات کو ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا اس پرایک طرف تو پاکستانی فوج اپنے دفاع میں پاکستان میڈیامیں کہانیاں پلانٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ حکمراں طبقہ برابر متضاد بیانات دینے میں لگا ہوا ہے۔
دومئی کی رات اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر جس جگہ اور جس طرح سے ہلاک کیا گیا اس نے پاکستان فوج سے متعلق پاکستانی عوام کے اعتماد کو چکنا چور کر کے رکھ دیا ہے اورپاکستان میں یہ خدشات پائے جارہے ہیں کے کیاپاکستان کا دفاع اس قابل ہے کہ اسکے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کر سکے،’’راڈار جام ہو گئے تھے‘‘،‘ ’راڈاران ایکٹیوتھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز اسٹیلتھ تھے جو راڈار پر نظر ہی نہیں آسکتے تھے‘‘،’ ’ہیلی کاپٹرز نے ٹیرین ماسکنگ کی یعنی پہاڑوں کی اوٹ لے کر بگرام سے ایبٹ آباد پہنچے‘ وغیرہ وغیرہ، کیا کوئی ان دلائل پر یقین کر سکتا ہے ۔
اوسامہ کی ہلاکت سے کچھ روز قبل ہی القائدہ نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ اگر اسامہ مارا گیا تو وہ ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کردے گا۔ ان حالات میں یہی لگتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیارالقائدہ کی دسترس کے اندر ہیں اور وہ کسی بھی وقت ان کو حاصل کرکے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی ملک کے خلاف کرسکتا ہے اوربلکہ ان ایٹمی ہتھیاروں سے پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ڈلیوری سسٹم تک معقول دسترس نہ ہونے کی صورت میں دہشت گرد کسی بھی نزدیکی ٹارگیٹ کو چن سکتے ہیں۔
امریکہ اسامہ کو ہلاک کرکے اتنا خوش ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ اس نے اسامہ کو ہلاک کرکے بھڑ کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اور اب دنیا کوالقاعدہ اور دہشت گردی سے خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیاہے۔القاعدہ نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی ہلاکت کا انتقام لیں گے۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اسامہ کا خون ہمارے لئے بیش بہا تھا اور اس کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور اس کی قربانی کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا‘۔القاعدہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ اسامہ بن لادین کی موت اللہ کی جانب سے تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ہم عذاب کی طرح پیچھا کریں گے۔ پیغام میں مزید کہا گیا کہ دشمنان اسلام کی خوشی بہت جلد ان کے غم میں بدل جائے گی اور خون آنسوؤں کی شکل میں ان کی آنکھوں سے رواں ہوں گے۔ القاعدہ کے پیغام میں پاکستانی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اسامہ بن لادین کی ہلاکت کے واقعہ کا داغ اپنے دامن سے چھڑائیں اور بن لادین کی موت کا انتقام لیں۔
اس لئے دہشت گرد اب کسی بھی کمزور حدف کو کسی بھی ملک میں نشانہ بناسکتے ہیں۔اس لئے وقت کا تقاضہ یہی ہے کے چھوٹے بڑے کسی بھی دہشت گرد کو نہ بخشا جائے اور امریکہ پاکستان کو اس بات کے لئے مجبور کرے کے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوب دہشت گردوں کو فوراً ہندوستان کے حوالے کرے ورنہ ہندوستان کو بھی اس بات کی آزادی ہونی چاہئے کہ وہ پاکستان میں بھیتر تک گھس کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ ٹھیک اسی طرح کی کارروائی جیسی کہ امریکہ نے کی ہے۔
امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ صرف اسی کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی کھلی آزادی ہے،کیونکہ القاعدہ نے امریکہ پر 9/11 کو حملہ کیا تھا اورہندوستان جو کہ مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر ہے چاہے ممبئی کے 26/11حملہ سمیت دوسرے کئی حملے ہوں، پارلیمنٹ پر حملہ ، اکشردھام مندر پر حملہ،قندھار ہائی جیک، اوردوسرے تمام حملے، ان سبھی کے تار پاکستان سے جڑے ہوئے پائے گئے ہیں اور پاکستان براہ راست اور پس پشت ان تمام دہشت گردوں کی مددکررہاہے۔
شاید امریکہ کا یہ ماننا ہے کہ اس کے خلاف دہشت گردانہ حملہ کو انجام دینے والا دہشت گرد ہی سب سے بڑا دہشت گردہے اور دوسرے ممالک پر حملہ کرنے والے دہشت گردمعمولی کیڑے مکوڑے ہیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ یہ سوچتا ہے کہ اس کا خون تو خون ہے اور ہندوستان کا خون پانی ہے، شاید اسی لئے وہ ہندوستان کے ذریعہ مطلوبہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اندر کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پرزور مخالفت کرتا رہتاہے ۔

amrica hamesh sirf apne sheriyon kai bare main soochta hai, mummbai me aur hindustan main deegar jagah aatankvhdiyon ke zariya halak kiye gai masoom hindustaniyon ke rooh aaj bhi pakistan main bethai qatilon ko saza diye jane ki aas lagai bethi hain.
ReplyDelete