Search

Monday, 2 May 2011

کانگریس الیون بنام بھاجپا ٹین

عفیف احسن
مرلی منوہر جوشی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی معیاد کے آخری دن یعنی کہ 30اپریل کو 2جی اسپیکٹرں م بدعنوانی معاملے میں اپنی رپورٹ لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کے دفتر میں جمع کرادی ،وہ یہ رپورٹ میرا کمارکودست بہ دست نہیں پیش کرسکے کیونکہ وہ موجود نہیں تھیں۔
اس سے قبل سیف الدین سوزنے گزشتہ جمعرات کو مسودہ رپورٹ کو مسترد کرنے کی لئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ایک قرارداد پیش کی تھی۔اس کے بعد کمیٹی دو حصوں میں بٹ گئی تھی اور دونوں ہی گٹ اپنا اپنا بیان دے رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دونوں ایک ہی کمیتی کا حصہ نہ ہوکر کرکٹ کی دو ٹیمیں ہوں۔ ایک ٹیم کی رہنمائی سیف الدین سوز کے ہاتھ آئی اس ٹیم میں کانگریس کے سات، ڈی ایم کے کے دو اور بی ایس پی اور ایس پی کا ایک ایک رکن تھااور اس کی کل تعداد گیارہ تھی جو کہ ایک کرکٹ ٹیم کے لیے ضروری ہے اور مرلی منوہر جوشی کی رہنمائی والی کمیٹی میں صرف دس ممبر تھے جن میں بی جے پی کے چار،اے آئی اے ڈی ایم کے کے دو، جنتادل یو، بی جے ڈی ،شیو سینا اور سی پی آئی ایم کا ایک ایک ممبر تھا۔
جب جوشی صاحب کو یہ محسوس ہوا کہ انکی ٹیم کانگریس کی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں سے ٹکر نہیں لے پائے گی تو انہوں نے اس میں ہی عافیت سمجھی کے یہ میچ نہ کھیلا جائے اور اس کے بعد ان کی پوری ٹیم میدان چھوڑ کر چلی گئی۔یعنی کے کھیل سے سبکدوش ہوگئی۔اس کے بعدمیدان میں ڈٹی ہوئی ٹیم فاتح قرار پائی۔
جب یہ میٹنگ شروع ہوئی توبلا تفریق تمام ممبران کو اس بات پر تشویش تھی کہ کس طرح یہ رپورٹ جو کہ صرف کمیٹی کے ممبران کوجوشی جی کے ذریعہ دی گئی تھی لیک ہوگئی ۔کچھ ممبران نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس لیک کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے کیونکہ یہ اخلاقیات کا معاملہ ہے۔
پی اے سی کی ہر میٹنگ میں جوشی جی نے تمام ممبران کو تفصیل سے اپنی بات کہنے کا موقع دیاتھااور شروعات میں تو میٹنگیں بہت خوشگوار ماحول میں چلیں مگرجیسے جیسے کانگریس کو لگنے لگا کہ اس رپورٹ میں منموہن سنگھ اور چدمبرم کو پھنسایا جارہا ہے تو کانگریس نے جوشی پر حملے شروع کردئے اوریہ الزام لگایا کہ وہ حکومت کو گرانے کی فراق میں ہیں۔اور اس کمیٹی کی میٹنگ کو پٹری سے اتارنے کی کوششیں شروع کردیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ ایسا کرنے کا حکم انہیں ہائی کمانڈ کی طرف سے ملا تھا۔
حالانکہ رول یہ کہتے ہیں کہ اگر کمیٹی کی اکثریت کسی بھی فائننشل رپورٹ کو اسپیکر کو سونپے جانے کے خلاف ہے تو چیرپرسن کو میجورٹی کی بات کو ماننا ہوگا۔ اس بات سے ایسی کمیٹیوں اور ان کی رپورٹ پر سوال پیدا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر کوئی رپورٹ عام رائے ہا اکثریت کی رائے سے ہی بنائی جانی ہے تو پھر گواہیوں، بیانات اور بحث مباحثے کی کیا ضرورت ہے، کیوں نہیں آپس میں مل جل کے یہ فیصلہ کرلیاجائے کہ کیا رپورٹ دینی ہے اور بغیر کوئی کارروائی کے رپورٹ گڑھ کر پیش کردی جائے۔
عام طور پر سبھی کمیٹیوں میں برسر اقتدار پارٹی کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی بھی رپورٹ اس کے خلاف جاتی ہے تو وہ اس کو روک سکتی ہے، اور ایسی صورت میں ان کمیٹیوں کا وجود بے معنی ہوجاتاہے۔
اگر جوشی جی چاہتے تو وہ یہ رپورٹ کوئی مصالحتی فارمولہ نکال کر بھی تیار کرسکتے تھے مگر اس میں ہوتا یہ کہ انہیں کئی باتوں پر خاموش رہنا پڑتا اور کئی سمجھوتے کرنے پڑتے اس طرح سے جو بھی رپورٹ تیار ہوتی وہ سب کے لئے قابل قبول تو ہو سکتی تھی مگر اس میں کسی کو بھی اپنی روٹی سینکنے کے لئے نہیں ملتی۔ اور اس رپورٹ کو لیکر سیاست کرنے کو نہیں ملتی۔
اب ہوگا یہ کہ کیونکہ جورپورٹ مرلی منوہر جوشی نے لوک سبھا اسپیکر کے دفتر مین داخل کی ہے اورجس کوپی اے سی کی میجوریٹی نے نامنظور کردیا ہے اس لئے اسپیکر ’رول‘ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسے لوک سبھا میں پیش کرنے سے انکار کردیں گی اور اس کے بعد بھاجپا اور اس کے گھٹک دل پورا مانسون سیشن اس مانگ کو لیکردھرنے اور بائی کاٹ میں نکال دیں گے کہ اس رپورٹ کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے اور تمام دوسرے کاموں کو درکنار کرکے اس رپورٹ پر فی الفور بحث کی جائے ۔
اس سے پہلے ایک پوراونٹر سیشن بھاجپا اور اس کے الائز نے اس مانگ میں برباد کردیا تھا کہ جے پی سی قائم کی جائے اور مجبور ہوکر حکومت کو جے پی سی کے لئے راضی ہونا پڑا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جے پی سی کا بھی وہی حال ہوگا جو پی اے سی کاہوا ہے، کیونکہ جے پی سی میں ایک بڑی تعداد کانگریس اور اس کے الائز کی ہے۔
تیس ممبر والی جے پی سی میں لوک سبھا سے بیس اورراجیہ سبھا سے دس ممبرلئے گئے ہیں۔اس پینل میں لوک سبھا سے کانگریس کے آٹھ اور بی جے پی کے چھے ممبران ہیں،اور ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، بی ایس پی اور ایس پی کے ایک ایک ممبر ہیں۔جبکہ راجیہ سبھا کے دس ممبران میں سے کانگریس کے تین، ڈی ایم کے، این سی پی اور بی ایس پی کے ایک ایک ممبرہیں۔اس طرح سے جے پی سی میں کانگریس اور اس کے الائزکے سولہ ممبران ہیں جوکہ میجوریٹی کے لئے کافی ہیں۔ اور جے پی سی میں تو چیرپرسن بھی کانگریس کا ہی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب پی اے سی رپورٹ کا انجام یہ ہوا ہے تو ان حالات میں اور اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ جے پی سی میں بھی میجوریٹی کانگریس اور اس کے الائز کی ہے ایسی صورت میں جے پی سی رپورٹ کا انجام کیاہوگاآپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔
ایک بہت ہی مشہور قانونیمثل ہے کہ’ کوئی بھی شخص اپنے مقدمہ کا جج نہیں ہوسکتا‘تو پھر ایسے معاملے میں جس میں کے این ڈی اے اور یو پی اے دونوں کے ہی دور میں 2جی اسپیکٹرم کے بنٹوارے کو لیکر کی گئی بے ضابطگیوں کی جانچ ہونی ہے تو اس کا ذمہ ان ہی لوگوں پر کیسے چھوڑا جاسکتا ہے جوکہ اس دور میں بر سر اقتدار رہے ۔
ان حالات میں سول سوسائٹی کا سیاست دانوں اور سیاسی اداروں پر اعتبار نہ کرناسمجھ میں آجاتا ہے۔کیونکہ اگر سب سیاست داں پھنس رہے ہونگے تو وہ آپس میں مل کر کوئی مصالحتی راستہ نکال لیں گے اور ایسی رپورٹ پیش کردیں گے کہ اپنی جان بچا لیں۔
ان حالات میں کیا یہ بہتر نہیں ہوگااس معاملہ پر سیاست کرنے کے بجائے تمام پارٹیاں اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے ماتحت سی بی آئی کو آزادانہ طور پر کرنے کی کھلی چھوٹ دے دیں اور سی بی آئی کو بغیر کسی دباؤ کے اپنا کام کرنے دیاجائے۔

No comments:

Post a Comment