Search

Monday, 27 June 2011

گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 27th June 2011
عفیف احسن
اٹل بہاری باجپئی جی کو جب بھی موقعہ ملا انہوں نے اپنے پڑوسی ممالک سے رشتے استوار کرنے کی کوشش کی۔ 1977میں جب جنتا پارٹی کی حکومت میں وہ وزیرخارجہ بنے تو انہوں نے پاکستان آنے جانے کی سہولیات بڑھائیں۔ اس کے بعد جب 1998میں وہ ملک کے دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کی اور بذات خود ایک عوامی ڈیلیگیشن کے ہمراہ 20فروری 1999کو دہلی۔ لاہور بس کی افتتاحی سروس سے پاکستان تشریف لے گئے ۔ اس سروس کو صدائے سرحد کا نام دیا گیا تھا۔ اس سفر میں وہ اپنے ہمراہ پرتاپ کے ایڈیٹر مرحوم کے نریندرکو بھی لے گئے تھے، جسے وہ ایک یادگار سفر بتایا کرتے تھے۔
اس سفر میں اپنے ہمراہ جانے کے لئے انہوں نے علی سردارجعفری کو بھی مدعو کیا تھا مگر کیونکہ ان کی طبیعت اس وقت علیل تھی اس لئے انہوں نے اپنی معذوری ظاہر کی مگراپنی البم’ سرحد‘ کی 10کیسٹیں باجپئی جی کو بھیجیں تاکہ وہ اسے پاکستان کے شاعروں اور قلم کاروں کو محبت اور دوستی کے پیغام کے طور پر دے سکیں۔
اس البم میں پانچ نظمیں ہیں جو کہ ہند پاک کے عوام کے محبت اور بھائی چارے کے جذبے کے نام کی گئیں ہیں جن میں سے ایک کچھ اس طرح ہے:

گفتگو بند نہ ہو ، بات سے بات چلے
صبح تک شمع ملاقات چلے
ریگزاروں سے عداوت کے گزر جائیں گے
خون کے دریاؤں سے ہم پار اتر جائیں گے

باجپئی صاحب نے اورپاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف صاحب نے اس سفر کے دوران لاہور اعلامیہ پر دستخط کئے جس میں تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے،تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور آپسی دوستی کو وسیع کرنے پر زور دیا گیا جس سے 1998کے ایٹمی تجربہ کے بعد پیدا ہوئی تلخی کو کم کرنے میں مدد ملی۔اس کے بعد نہ صرف دونوں ممالک نے راحت کی سانس لی بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اور پوری دنیانے اس کا خیر مقدم کیا۔
مگر جہاں ایک طرف نواز شریف اور باجپئی گلے مل رہے تھے وہیں دوسری طرف پاکستانی فوج، جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں دوسرے ہی محاز پر کار فرما تھی۔ پاکستان آرمی نے کارگل میں دراندازی شروع کردی تھی اوراس در اندازی میں دہشت گرد اور پاکستان کے سادے کپڑوں میں ملبوس فوجی شامل تھے جو کہ پاکستانی افواج کے روائتی ہتھیاروں سے مسلح تھے اور وہ تیزی کے ساتھ پہاری چوٹیوں پرقبضہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔حالانکہ یہ مہم کارگل پر مرکوز تھی مگر اس میں بالٹک اور اخنور سیکٹر بھی شامل تھا اور سیاچن میں بھی آرٹلری فائرنگ ہوئی۔ اس حملہ کا ہندوستان نے منہ توڑ جواب دیا اور پاکستانی افواج کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس حملے کے لئے پاکستانی انتظامیہ نے بعد میں معافی مانگی مگر پرویز مشرف نے جو نقصان کرنا تھا وہ تو وہ کرہی چکے تھے۔ پھر 1998 میں ایک فوجی تختہ پلٹ میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معذول کرکے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور اس کے بعدایسا لگا کہ بات چیت کے تمام راستے مسدود ہوگئے ہیں۔
مگر پھر15اور 16جولائی 2001کو باجپئی اور مشرف کے درمیان آگرا میں امن مزاکرات ہوئے اور دودنوں کے درمیان یہ بات چیت ناکام ہوگئی اور کوئی باقاعدہ سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ بات چیت ناکام ہونے کے باوجود باجپئی اور مشرف نے دونوں ملکوں سے پرانی کدورتیں بھلانے کی اپیل کی اورکہا کہ ہند پاک کے درمیان مسائل کافی پیچیدا ہیں اور اتنے کم وقت میں انہیں حل نہیں کیا جاسکتا۔ مشرف نے باجپئی کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
مگر13دسمبر2001کوجیش محمد اور لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے جن کی پشت پناہی مبینہ طور پر پاکستان کررہا تھا ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ کردیا اس کے بعد ہند پاک تعلقات میں بہت بڑی خلیج حائل ہوگئی۔ ہندوستانی عوام کے زبردست دباؤکے آگے ہندوستان نے اپنی فوجیں ہند پاک سرحد اور کشمیر میں ایل او سی پر لگادیں اور پاکستان نے بھی اپنی فوجیں سرحد پر لگادیں۔
کافی دنوں تک دونوں طرف کی افواج جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار سرحد پر تعینات رہیں۔اس کے بعد تھوڑا جھکتے ہوئے 12جنوری 2002کو جنرل مشرف نے ہندوستان کو تسلی دینے کے لئے یہ بیان جاری کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے نپٹے گا۔ مگر پھر بھی وہ کشمیر کا راگ الاپنے سے نہیں چوکے۔
اگست 2003میں باجپئی جی نے پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے ایک آخری قدم کی وکالت کی۔ چاروں طرف سے پڑنے والے دباؤ کے بعد مشرف نے25ستمبر2003کو اقوام متحدہ کے اجلاس عام میں ہند پاک کے درمیان سیزفائر کی مانگ اٹھائی۔ کافی تگ و دو کے بعد25 دسمبر2003کو دونوں ممالک نے سیز فائر کا اعلان کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی سارک سمٹ میں دونوں ممالک کے سربراہان نے 5جنوری 2004کو ملاقات کی اوربات چیت اور اعتماد سازی کا دوردوبارہ شروع ہوا۔
2004میں الیکشن جیتنے کے بعد منموہن سنگھ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے اور انہوں نے بھی بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھااور اعتماد سازی کے کئی قدم اٹھائے جن میں نیا ریل روٹ،اور کشمیر سے متعلق کئی اعتماد سازی کے قدم شامل ہیں جیسے کے ٹرپل اینٹری پرمٹ جاری کرنا تاکہ ایل او سی کو پار کرنے میں سہولت ہوسکے،دونوں ممالک کے وزراء نے کئی تجارتی راستوں کو کھولنے پر بھی اتفاق کیا جس میں واگہ۔اٹاری روڈ لنک اور کھوکراپار۔مناباؤ ریل لنک اور کشمیر میں سرینگر۔مظفرآباد اور پونچھ ۔راولکوٹ روڈلنک بھی شامل ہیں۔
مگر26نومبر2008کو ہوئے ممبئی حملہ میں یہ پائے جانے کے بعد کے اس حملہ میں جس میں تقریباً180شہری اور پولیس والے شہید ہوگئے تھے ملوث لوگوں کا تعلق پاکستان سے تھااور ان کے درپردہ مدد کرنے والے لوگ بھی پاکستان میں ہی ہیں اور قصاب کی گرفتاری کے بعد جس نے ساری کہانی تفصیل سے بتائی ہندوستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں پھر سے ایک خلیج پیدا ہوگئی اور اس کے بعد بات چیت ایک بار پھر ٹوٹ گئی کیونکہ پاکستان نے اپنے ملک میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے ہینڈلرس کو ہندوستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور یہ کہا کہ وہ ان کو اپنے ملک میں ہی سزا دلائے گا۔
اس کے بعد جولائی 2009میں مصر کی گرمی سے ہند پاک تعلقات کی برف اس وقت پگھلی جب دونوں ممالک کے وزیر اعظم نے نان الائنڈ سمٹ کے دوران ایک دوسرے سے علاحدہ سے ملاقات کی اور یہ بیان دیا کہ وہ ہند پاک تعلقات کو آگے بڑھانے کے لئے راہ ہموارکریں گے۔
بعد میں ہندوستانی وزیر خارجہ نے جولائی 2010میں اسلام آباد میں پاکستان کے اپنے ہم منصب قریشی سے ملاقات کی، ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بلاوے پرورلڈ کپ کرکٹ سیمی فائنل میچ دیکھنے موہالی آئے پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات اور بات چیت ہوئی۔
گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں اختتام پذیرہوئی سیکریٹری لیول کی بات چیت کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگرہندوستان پاکستان کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ہند پاک تعلقات میں فوجی ٹکراؤ کی کوئی جگہ نہیں ہے اوربندوق کی نوک نیچی ہونی چاہئے۔
اس پیش رفت کی پہلی نشانی مشتر کہ پریس کانفرنس تھی اور دسری مشترکہ بیان۔ پاکستانی خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے خاموشی سے ہندوستانی خارجہ سیکریٹری کے دہشت گردی سے متعلق بیان کو سنا۔ نروپما راؤ نے 26/11حملہ میں ملوث ملزمین کے دھیمے ٹرائل اور دھیمی رفتار سے چل رہی جانچ کا مدع اٹھایا اورشکاگو میں تہور رانا کے ٹرائل میں سامنے آئے ثبوتوں کا معاملہ اٹھایا۔ راؤ نے لشکر اور آئی ایس آئی کے درمیان رشتے کی جانچ کی مانگ بھی رکھی۔ حالانکہ بشیر نے یہ وعدہ تو نہیں کیا کہ وہ ٹرائل کو تیزی سے آگے بڑھوائیں گے یا یہ کے ہندوستان کی طرف سے مہیا کرائے گئے ثبوتوں کو گہرائی سے لیا جائے گا مگرماحول گرم نہیں ہونے پایا۔
اس ملاقات نے دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات کے لئے کافی مواد فراہم کردیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ بات چیت کس راہ پر آگے بڑھتی ہے ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیاکا بڑے سے بڑا مسئلہ بات چیت سے ہے حل ہوا ہے اور بات چیت کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔
Tags: 26/11, Afif Ahsen, Atal Behari Vajpayee, Daily Pratap, Geelani, ISI, Krishna, Manmohan Singh, Nawz Sharif, Pakistan, Parvez Musharraf, Vir Arjun

गुफतगू बंद न हो बात से बात चले

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 27th June 2011
अफ़ीफ़ अहसन
अटल बिहारी वाजपेयी जी को जब भी मौका मिला उन्होंने अपने पड़ोसी देशों से रिश्ते बहतर करने की कोशिश की. 1977 में जब जनता पार्टी की सरकार में वह विदेशमंत्री बने तो उन्होंने पाकिस्तान आने जाने की सुविधायें बढ़ाएँ. इसके बाद जब 1998 में वह दूसरी बार देश के प्रधानमंत्री बने तो उन्होंने पाकिस्तान के साथ बातचीत शुरू की और स्वयं एक सार्वजनिक डेलीगेशन के साथ 20 फरवरी 1999 को दिल्ली-लाहौर बस की उद्घाटन सेवा से पाकिस्तान तशरीफ़ ले गए. इस सेवा को सदा ऐ सरहद का नाम दिया गया. इस यात्रा में वह अपने साथ प्रताप के संपादक स्वर्गीय के नरेंद्र जी को भी ले गए थे, जिसे के नरेंद्र जी एक यादगार यात्रा बताया करते थे.
इस यात्रा में अपने साथ जाने के लिए उन्होंने अली सरदार जाफरी को भी आमंत्रित किया था लेकिन क्योंकि उनकी तबियत उस समय खराब थी इसलिए उन्होंने अपनी अक्षमता जताई मगर अपनी एलबम 'सरहद' की 10 केस्टें बाजपई जी को भेजीं ताकि वह उनहें पाकिस्तान के कवियों और लेखकों को प्यार और दोस्ती के संदेश के रूप में दे सकें.
इस एलबम में पांच कविताएँ थीं जो भारत और पाकिस्तान की जनता के प्रेम और भाईचारे की भावना के नाम की गई थीं जिनमें से एक कुछ इस प्रकार है:
गुफतगू बंद न हो, बात से बात चले

सुबह तक शम्मे मुलाकात चले

रेगज़ारों से अदावत के गुजर जाएंगे

खून के दरियाओं से हम पार उतर जायेंगे


बाजपेयी साहब ने और पाकिसतान के तत्कालीन प्रधानमंत्री नवाज़ शरीफ़ साहब ने इस यात्रा के दौरान लाहौर घोषणापत्र पर हस्ताक्षर किए जिसमें सभी समस्याओं को बातचीत से हल करने, व्यापारिक संबंधों को बढ़ाने और आपसी दोस्ती को विस्तृत करने पर बल दिया गया जिससे 1998 के परमाणु परिक्षण के बाद पैदा हुई कड़वाहट को कम करने में मदद मिली. इसके बाद न केवल दोनों देशों ने राहत की सांस ली बल्कि दक्षिण एशिया के अन्य देशो और दुनिया ने इसका स्वागत किया.
मगर जहां एक तरफ नवाज शरीफ और वाजपेयी गले मिल रहे थे वहीं दूसरी ओर पाकिस्तानी सेना परवेज़ मुशर्रफ़ के नेतृत्व में दूसरे महाज़ पर काम कर रही थी. पाकिस्तानी सेना ने कारगिल में घुसपैठ शुरू कर दी थी और दरअंदाज़ों में आतंकवादी और पाकिस्तान के साधारण कपड़ों में सैनिक शामिल थे जो पाकिस्तानी सेना के पारंपरिक हथियारों से लेस थे और वे तेजी के साथ पहाड़ी चोटियों पर कबज़ा करते हुए आगे बढ़ रहे थे. हालांकि यह अभियान कारगिल पर केंद्रित था लेकिन इसमें बालटक और अखनुर सेक्टर भी शामिल था और सियाचिन में आरटीलरी गोलीबारी हुई. इस हमले का भारत ने मुंह तोड़ जवाब दिया और पाकिस्तानी सेना को मुंह की खानी पड़ी. इस हमले के लिए पाकिस्तानी प्रशासन ने बाद में माफी मांगी लेकिन मुशर्रफ ने जो नुकसान करना था वह तो कर ही चुके थे. फिर 1998 में एक सैनिक तख्ता पलट में परवेज़ मुशर्रफ़ ने नवाज़ शरीफ़ को हटा कर पाकिस्तान की सत्ता पर कब्जा कर लिया और उसके बाद एसा लगा कि बातचीत के सभी रास्ते बन्द हो गए हैं.
फिर 15 और 16 जुलाई 2001 को बाजपई और मुशर्रफ के बीच आगरा में शांति बातचीत हुइ दो दिनों में ही बातचीत असफल हो गई और कोई औपचारिक समझौता नहीं हो सका. बातचीत विफल होने के बावजूद बाजपई और मुशर्रफ़ ने दोनों देशों से पुराने मन मुटाव भुलाने की अपील की और कहा कि भारत और पाकिस्तान के बीच समस्याऐं काफी पैचीदा हैं और इतने कम समय में उन्हें हल नहीं किया जा सकता. मुशर्रफ़ ने बाजपेयी को पाकिस्तान आने का निमंत्रण भी दिया.
लेकिन 13 दिसंबर 2001 को जेशेमोहम्मद और लश्कर के आतंकवादियों ने जिन के पीछे मदद कथित तौर पर पाकिस्तान कर रहा था भारतीय संसद पर हमला कर दिया उसके बाद भारत पाक संबंधों में बहुत बड़ी खाई आड़े आ गई. भारतीय जनता के भारी दबाओ के आगे भारत ने अपनी सैना भारत पाक सीमा और कश्मीर में एलओसी पर लगा दी और पाकिस्तान ने भी अपनी सेनाएं सीमा पर लगा दीं.
काफी दिनों तक दोनों ओर की सेना युद्ध के लिए पूरी तरह से तैयार सीमा पर तैनात रहीं. इसके बाद थोड़ा झुकते हुए 12 जनवरी 2002 को जनरल मुशर्रफ़ ने भारत को सांत्वना देने के लिए यह बयान जारी किया कि पाकिस्तान अपनी धरती पर आतंकवाद से निपटे गा. मगर फिर भी वह कश्मीर का राग अलापने से नहीं चूके.े
अगस्त 2003 में बाजपेयी जी ने पाकिस्तान के साथ शांति स्थापित करने की एक अंतिम कोशिश की वकालत की. चारों ओर से पड़ने वाले दबाव के बाद मुशर्रफ ने 25 सितंबर 2003 को संयुक्त राष्ट्र की आम सभा में भारत और पाकिस्तान के बीच सीज़ फ़ाइर की मांग उठाई. काफी तग व दो के बाद 25 दिसंबर 2003 को दोनों देशों ने सीज़ फायर की घोषणा की.
इस्लामाबाद में होने वाले सार्क शिखर सम्मेलन में दोनों देशों के प्रमुखों ने 5 जनवरी 2004 को मुलाकात की तत्पशचात बातचीत और विश्वास बनाने का दोर दोबारह शुरू हुआ.
2004 में चुनाव जीतने के बाद मनमोहन सिंह प्रधानमंत्री की कुर्सी पर बैठे और उन्होंने भी बातचीत के सिलसिले को जारी रखा और विश्वास बनाने के कई कदम उठाए जिनमें नया रेल रूट और कश्मीर से जुड़े कई विश्वास बनाने के कदम शामिल हैं जैसे के तिहरा इनट्री परमिट जारी करना ताकि एलओसी पार करने में सुविधा हो सके, दोनों देशों के मंत्रियों ने कई व्यापारिक रास्तों को खोलने पर भी सहमति जताई जिसमें वाघा-अटारी रोड लिंक और खोकरापार-मनाबाउ रेल लिंक और कश्मीर में श्रीनगर-मुज़फ़्फ़राबाद और पुंछ-रावलकोट रोड लिंक भी शामिल हैं.
मगर 26 नवंबर 2008 को हुए मुंबई हमले में यह पाए जाने के बाद कि इस हमले में जिसमें लगभग 180 नागरिक और पुलिसकर्मी शहीद हो गए थे शामिल लोगों का संबंध पाकिस्तान से था और उनकी दरपरदा मदद करने वाले लोग भी पाकिस्तान में ही हैं और कसाब की गिरफ्तारी के बाद जिसने सारी कहानी विस्तार से बताई भारत और पाकिस्तान के कूटनीतिक संबंधों में फिर से एक खाड़ी पैदा हो गई और इसके बाद बातचीत एक बार फिर टूट गई क्योंकि पाकिस्तान ने अपने देश में बैठे हुए आतंकवादियों के हैंडलरस को भारत के हवाले करने से इनकार कर दिया और कहा कि वह उन्हें अपने देश में ही सजा दिलाये गा.
इसके बाद जुलाई 2009 में मिस्र की गर्मी से भारत पाक संबंधों की बर्फ उस समय पिघली जब दोनों देशों के प्रधानमंत्री ने नोन अलाईंड सिमट के दौरान एक दूसरे से अलग से मुलाकात की और यह बयान दिया कि वह भारत पाक संबंधों को आगे बढ़ाने के लिए राह हमवार कर रहे हैं.
बाद में भारतीय विदेश मंत्री ने जुलाई 2010 में इस्लामाबाद में पाकिस्तान के अपने समकक्ष कुरैशी से मुलाकात की, भारतीय प्रधानमंत्री मनमोहन सिंह के बुलावे पर विशव कप का सेमीफाइनल मैच देखने मोहाली आए पाकिस्तानी प्रधानमंत्री गिलानी की मुलाकात और बातचीत हुई.
पिछले शुक्रवार को इस्लामाबाद में संपन्न हुई सचिव स्तर की बातचीत के बारे में यह कहा जा रहा है कि इसमें कोई खास प्रगति नहीं हुई है मगर हिन्दोस्तान, पाकिस्तान को यह संदेश देने में सफल रहा है कि भारत पाक संबंधों में सैन्य टकराव की कोई जगह नहीं है और बनदूक की नोक नीची होनी चाहिए.
इस प्रगति की पहली निशानी साझा प्रेस कांफ्रेंस थी और दूसरी साझा बयान. पाकिस्तानी विदेश सचिव सलमान बशीर ने खामोशी से भारतीय विदेश सचिव निरूपमा राव के आतंकवाद से संबंधित बयान को सुना. निरुपमा राव ने 26/11 हमले में शामिल आरोपियों के धीमे ट्रायल और धीमी गति से चल रही जांच की मद्दा उठाया और शिकागो में तहव्वुर राणा के ट्रायल में सामने आए सबूतों का मामला उठाया. राव ने लश्कर और आईएसआई के बीच रिश्ते की जांच की मांग भी रखी. हालांकि बशीर ने यह वादा तो नहीं किया कि वह ट्रायल को तेजी से आगे बढ़वाएँ गे या भारत की ओर से उपलब्ध कराए गए सबूतों को गहराई से लिया जाएगा मगर माहोल गर्म नहीं होने पाया.
इस मुलाकात ने दोनों देशों के विदेश मंत्रीयों के बीच संभावित बातचीत के लिए पर्याप्त सामग्री उपलब्ध करा दी है और अब यह देखना है कि बातचीत किस राह पर आगे बढ़ती है.
इतिहास बताता है कि दुनिया की बड़े से बड़ी समस्या बातचीत से हल हुई है और बातचीत का कोई दूसरा विकल्प नहीं है.
Tags: 26/11, Afif Ahsen, Atal Behari Vajpayee, Daily Pratap, ISI, Krishna, Manmohan Singh, Nawz Sharif, Pakistan, Parvez Musharraf, Vir Arjun

Monday, 20 June 2011

लोकपाल पर कौनसा पाल ओर कब?


Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 20th June 2011
अफ़ीफ़ अहसन
सभी संस्थानों में भ्रष्टाचार के खिलाफ आज हम लोकपाल बना रहे हैं. इसमें हम इन संस्थाओं को भी शामिल करने जा रहे हैं जिनकी खुद की यह जिम्मेदारी है कि वह भ्रष्टाचार पर लगाम लगाएँ ओर भ्रष़्ट लोगों को सज़ा दें या दिलाएँ. ऐसा इसलिए हुआ है कि हम इन संस्थाओं पर अपना विश्वास खो बैठे हैं जिन पर भ्रष्टाचार की रोकथाम की जिम्मेदारी थी क्योंकि इन संस्थाओं ने अपनी जिम्मेदारी को सही रूप में नहीं निभाया. यही नहीं उन्हीं संस्थाओं पर भ्रष्टाचार के आरोप लगने लगे जो कि इस को रोकने के जिम्मेदार थे. हालांकि कोर्ट के जजों के खिलाफ कुछ कहना, लिखना या उन पर कोई आरोप लगाना न्यायपालिका की अवमान्ना की श्रेणी में आता है, मगर नयायाल्यों के खिलाफ भी आरोप लगाने वालो लोगों की कोई कमी नहीं है. आज से कुछ साल पहले तक कोई न्यायपालिका में भ्रष्टाचार के बारे में सोच भी नहीं सकता था, मगर अब खुलेआम न्यायपालिका पर भ्रष्टाचार और परिवारवाद के आरोप लगाए जा रहे हैं.
एक घटना तो मेरे अपने साथ हुइ. यह शायद 1996-97 की बात है जब मैं एक मामले की पैरवी के सिलसिले में सुप्रीम कोर्ट के चक्कर लगा रहा था. यह एक ऐसा मामला था जिसमें हाईकोर्ट की दो लगातार बैन्चों ने हमारे खिलाफ फैसला दे रखा था. पहले एकल बेंच ने ओर फिर डबल बेंच ने एकल बेंच के फैसले पर मुहर साबित कर दी थी और जो रही सही कसर थी उसे भी पूरा कर दिया था. इस मामले की अपील सुप्रीम कोर्ट में सुनी जारही थी. हमें कई लोगों से खासकर वकीलों से दबे शब्दों में यह सुनने को मिलता था कि आपके विरोधी ने जज से सेटिंग कर ली थी इसलिए ये दोनों निर्णय आपके खिलाफ आये हैं वरना केस तो आपको ही जीतना चाहिए था. इसका सबूत तब मिला जब सुप्रीम कोर्ट की दोहरी बेंच के एक जज ने पूरी कोर्ट को यह कहते हुए आश्चर्य में डाल दिया कि मुझे अप्रोच किया गया है. उन्होंने कहा कि “यह बड़े खेद की बात है कि ऐसी चीज़ यहाँ भी हो रही है”” और फिर उन्होंने इस मामले से अपने आपको अलग कर लिया. इसके बाद हमारे संपादक साहब ने हिंदुस्तान टाइम्स को एक पत्र भेजा जिसमें उन्होंने जिम्मेदार अधिकारियों का ध्यान इस ओर केंद्रित करते हुए यह मांग भी की कि इस घटना की जांच होनी चाहिए, इस पत्र के प्रकाशित होने के बावजूद इस दिशा में कोई कार्रवाई नहीं हुई. बाद के दिनों में एक के बाद एक सुप्रीम कोर्ट के जजों ने इस मामले को सुनने से इनकार कर दिया. वह यही कहते, “नॉट बीफोर मी” या कहते कि “टो बी लिसटेड बीफोर ए बेंच ऑफ विच आई एम नॉट ए मेम्बर” आपको यह जानकर हैरानी होगी के हमारे विरोधी की पैरवी करने वाले वकील ओर कोई नहीं बाप बेटे की मशहूर जोड़ी ही थी. खैर इस बात का लब्बोलुबाब यह है कि तब तक यह बात आम थी कि सुप्रीम कोर्ट को छोड़कर सभी निचली अदालतों में भ्रष्टाचार पनप रहा था जो एक आम बात थी लेकिन उसका सुप्रीम कोर्ट तक पैर पसार लेना एक हैरानी और दुख की बात थी. आपको यह जानकर खुशी होगी के दो-दो अदालतों से मुकदमा हारने के बावजूद, और इतना सब कुछ होने के बावजूद इस मामले में न्याय की ही जीत हुई और हम यह मामला जीत गए. इस सब का लब्बोलुबाब यह है उस समय सुप्रीम कोर्ट ही न्याय का एक आसरा थी और हर एक को यह विश्वास था कि अगर उसे निचली अदालतों से न्याय न भी मिला तो सुप्रीम कोर्ट से तो न्याय मिल ही जाएगा.
ऐक समय प्रधानमंत्री का पद भी बहुत ही मुतबरिक समझा जाता था मगर इसके बावजूद और बावजूद इसके कि वर्तमान प्रधानमंत्री मनमोहन सिंह स्वयं बहुत ही ईमानदार व्यक्ति हैं उन पर भी भ्रष्टाचार या इस में लिप्त लोगों पर लगाम न लगाने यानी मनमानी करने की खुली छूट देने के आरोप लगाने वालों की कोई कमी नहीं है.
अतीत में जजों, मंत्रियों और प्रधानमंत्री पर आरोप लगे. एक नहीं दोदो प्रधानमंत्रीयों पर आरोप लगे, एक तो वह जिस पर पहले आरोप लगाया गया था दूसरा वह जिस ने आरोप लगाया था ओर इस आरोप पर सवारी करते हुए जब वह खुद प्रधानमंत्री की गद्दी पर बिराजमान हो गया तो उस पर भी भ्रष्टाचार का आरोप लगाया गया, पहले पर तो कोई भी आरोप साबित नहीं हो सका तो दूसरे पर लगाया गया आरोप गलत साबित हुआ और उसके बाद गलत आरोप लगाने के लिए जाली दस्तावेज तैयार करने वालों के खिलाफ मामले स्थापित किए गए.
इसी तरह कुछ समय बाद यह भी हो सकता है कि लोकपाल समिति के दस में से एक सदस्य या कई सदस्यों के खिलाफ भ्रष्टाचार के आरोपों लगने लगें, यह झूठे भी हो सकते हैं और सच्चे भी. ऐसे में हम क्या करेंगे. क्या हम प्रधानमंत्री से शिकायत करेंगे, नहीं क्योंकि हो सकता है कि प्रधानमंत्री के खिलाफ कुछ अ‍र्ज़‍ियाँ लोकपाल के पास विचाराधीन हों, तब यह कहा जाएगा कि क्योंकि प्रधानमंत्री के खिलाफ याचिका विचाराधीन हैं इसलिए उनको लोकपाल के खिलाफ कार्रवाई करने का कोई नैतिक अधिकार नहीं है. ऐसे में क्या हम सुप्रीम कोर्ट का रुख करेंगे, लेकिन हो सकता है कि उस समय सुप्रीम कोर्ट के किसी जज के खिलाफ और यह भी हो सकता है कि कइ जजों या मुख्य न्यायधीश के खिलाफ कोई शिकायत लोकपाल के पास विचाराधीन हो, अगर ऐसा हुआ तो लोग यही कहेंगे कि सुप्रीम कोर्ट को इस मामले पर विचार करने का कोई नैतिक अधिकार नहीं है क्योंकि इसके जज पहले ही शक के दायरे में हैं जिनकी जांच खुद लोकपाल कर रहा है, यह भी हो सकता है कि लोकपाल के खिलाफ लगाए गए आरोप बेबुनियाद पाए जाएं और सुप्रीम कोर्ट लोकपाल को किसी शिकायत में क्लीन चिट दे दे, तो लोग (सिविल सोसाइटी) यह कह सकती है कि सुप्रीम कोर्ट ने लोक पॉल को शायद इसलिए क्लीन चिट दे दी है क्योंकि उसके ओर लोक पाल के बीच सौदा हो चुका है कि बाद में लोकपाल भी सुप्रीम कोर्ट के जज को क्लीन चिट दे देगा. यह भी हो सकता है कि सुप्रीम कोर्ट को लगे कि लोकपाल के खिलाफ शिकायत में कुछ दम हे और उसके खिलाफ लगाए गए आरोप सही हों ऐसी स्थिति में क्या यह नहीं कहा जाएगा कि लोकपाल के खिलाफ सुप्रीम कोर्ट का फैसला द्वेश से प्रेरित है क्योंकि लोकपाल ने सुप्रीम कोर्ट के किसी जज के खिलाफ कोई मामला दर्ज करने के लिए कह दिया.
आजकल हम सीबीआई जांच की मांग करते हुए नहीं थकते, रोज यह मांग उठती है कि अमुक मामले में स्थानीय पुलिस से जांचा हटाकर सीबीआई के सुपुर्द की जाए. मगर क्या सीबीआई दूध की धुली है, क्या वह दबाव, लालच और प्रभाव में नहीं आती, बेशक आती है. सीबीआई जाँच का हाल तो आप जानते ही है, और अधिकतर बड़े बड़े मामलों में इसकी सजा दिला पाने का रेट न के बराबर हे. बड़े बड़े बयान देने के बावजूद ट्रायल के समय वकीले सफाइ सीबीआई के मामले की धज्जयां उड़ा देते हैं और सीबीआई के गवाहों को या तो खरीद लिया जाता है या खदेड़ दिया जाता है या वह अपने बयानों से मुकर जाते हैं.
सरकार और सिविल सोसाइटी सदस्यों के बीच विवाद का कारण यह है कि सरकार यह चाहती है कि लोकपाल के दायरे से प्रधानमंत्री को बाहर रखा जाए क्योंकि उनके पद की मर्यादा हे और ऐसा करने से प्रधानमंत्री कोई भी ज़िम्मेदारी खुलकर निभाने से ‍हिचकाएगा और देश के सारे कामकाज ठप हो जाएंगे. जबकि सिविल सोसाइटी यह चाहती है कि लोकपाल के दायरे में मुख्य न्यायाधीश और प्रधानमंत्री सहित सभी लोग आने चाहिए, लेकिन हम लोकपाल एक दो दिन या एक दो साल के लिए या मोजूदा स्थिति या मौजूदा प्रधानमंत्री और मुख्य न्यायाधीश को घेरने के लिए तो बना नही रहे हैं, लोकपाल तो अगले सभी वर्षों के लिए बनाया जा रहा है, और लोकपाल बन जाने के बावजूद अगर मुख्य न्यायाधीश की कुर्सी या प्रधानमंत्री की कुर्सी पर एक करपट आदमी पहुंच जाता है तो फिर ऐसे लोकपाल का क्या लाभ होगा, जिसके होते हुए भी एक करपट व्यक्ति दिन दोनी रात चौगनी तरक्की करते हुए इतने बड़े और मुतबरिक पद तक पहुंच सका.
आम लोगों का तो यह मानना ​​है कि लोकपाल की वजह से भ्रष्टाचार को जड़ से समाप्त किया जा सकेगा ओर यदि जड़ ही समाप्त हो जाएगी तो भ्रष्टाचार का पेड़ सूख कर मिट्टी में मिल जाएगा. अगर ऐसा होता है तो देश के इतने बड़े पदों तक भ्रष्ट लोग पहुंच ही नहीं पाएंगे और अगर पहुंच गए तो लोकपाल की क्या उपयोगिता रह जाएगी.
आज उन्हीं संस्थानों, जिन पर कभी भ्रष्टाचार की रोकथाम की जिम्मेदारी थी पर खुलेआम भ्रष्टाचार के आरोप लग रहे हैं, क्या पता कुछ समय बाद लोकपाल पर भी भ्रष्टाचार के आरोप लगने लगें. तब लोकपाल में भ्रष्टाचार को रोकने के लिए कौन सा पाल विधेयक लाया जाएगा. 
Tags: Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lok Pal Bill, Prashant Bhushan, Shanti Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

لوک پال پر کونسا پال اورکب؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 20th June 2011
عفیف احسن
سبھی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف آج ہم لوک پال بنارہے ہیں۔ اس میں ہم ان اداروں کوبھی شامل کرنے جارہے ہیں جن کی خود کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بدعنوانی پر لگام لگائیں اوربدعنوان لوگوں کو سزادیںیا دلائیں۔ ایسا اس لئے ہوا ہے کہ ہم ان اداروں پر اپنا اعتبار کھو بیٹھے ہیں جن پر بدعنوانی کی روک تھام کی ذمہ داری تھی کیونکہ ان اداروں نے اپنی ذمہ داری کو صحیح طورپر نہیں نبھایا۔یہی نہیں انہی اداروں پر بدعنوانی کے الزامات لگنے لگے جو کہ اس کو روکنے کے ذمہ دار تھے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف کچھ کہنا یا لکھنا یا ان پر کوئی الزام لگانا عدلیہ کی ہتک کے زمرے میں آتا ہے، مگرعدلیہ کے خلاف بھی الزامات لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔آج سے کچھ سال قبل تک کوئی عدلیہ میں بدعنوانی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، مگر اب کھلے عام عدلیہ پر بد عنوانی اور کنبہ پروری کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔
ایک واقعہ تو میرے اپنے ساتھ پیش آیا۔ یہ شاید97-1996کی بات ہے جب میں ایک کیس کی پیروی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے چکر لگارہا تھا۔یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ہائی کورٹ کی دو متواتربنچوں نے ہمارے خلاف فیصلہ صادر کررکھا تھا۔ پہلے سنگل بنچ نے اورپھرڈبل بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلہ پر مہر ثابت کردی تھی اور جو رہی سہی کسر تھی اسے بھی پوراکردیا تھا۔اس معاملہ کی اپیل سپریم کورٹ میں پینڈنگ تھی۔ ہمیں کئی لوگوں سے خاص کر وکلاء سے دبے الفاظ میںیہ سننے کو ملتا تھا کہ آپ کے مخالف نے جج صاحبان سے سیٹنگ کرلی تھی اسی لئے یہ دونوں فیصلے آپ کے خلاف صادر ہوئے ہیں ورنہ کیس تو آپ کو ہی جیتنا چاہئے تھا ۔ اس کا ثبوت تب ملا جب سپریم کورٹ کی دوہری بنچ کے ایک جج نے پوری کورٹ کو یہ کہتے ہوئے حیرت میں ڈال دیا کہ مجھے اپروچ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایسی چیز یہاں بھی ہورہی ہے‘‘ اور پھر انہوں نے اس کیس سے اپنے آپ کو الگ کرلیا۔اس کے بعد ہمارے ایڈیٹر صاحب نے ہندوستان ٹائمس کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے ذمہ داروں کی توجہ اس جانب مبدول کراتے ہوئے یہ مانگ بھی کی کہ اس واقعہ کی جانچ ہونی چاہئے،اس مراسلے کے شائع ہونے کے باوجود اس سمت کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔بعد کے دنوں میں ایک کے بعد ایک سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اس کیس کو سننے سے انکارکردیا۔ وہ یہی کہتے ’ناٹ بیفور می‘‘ یا یہ کہتے کہ ’’ٹوبی لسٹڈ بیفور اے بنچ آف وچ آئی ایم ناٹ اے ممبر‘‘ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کے ہمارے مخالف کی طرف سے پیروی کرنے والے وکلاء اورکوئی نہیں باپ بیٹے کی مشہورجوڑی ہی تھی۔خیر اس بات کا لب لباب یہ ہے کہ اس وقت تک یہ بات عام تھی کے سپریم کورٹ کو چھوڑ کر سبھی ذیلی عدالتوں میں کرپشن پنپ رہا تھا جوکہ ایک عام بات تھی مگر اس کاسپریم کورٹ تک پیر پسار لینا ایک حیرانی اور افسوس کی بات تھی۔آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کے دودوعدالتوں سے مقدمہ ہارنے کے باوجود، اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کیس میں انصاف کی ہی جیت ہوئی اورہم یہ کیس جیت گئے ۔اس کا لب لباب یہ ہے کے اس وقت سپریم کورٹ ہی انصاف کا ایک آسرا تھی اور ہر ایک کو یہ یقین تھاکہ اگر اسے ذیلی عدالتوں سے انصاف نہ بھی ملے گا تو سپریم کورٹ سے تو انصاف مل ہی جائے گا۔
ایک وقت وزیر اعظم کا عہدہ بھی بہت ہی متبرک سمجھا جاتا تھا مگر اس کے باوجود اور باوجود اس کے کہ موجودہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بذات خود بہت ہی ایماندار شخص ہیں ان پر بھی بدعنوانی یا اس میں ملوث لوگوں پر لگام نہ لگانے یعنی منمانی کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کے الزامات لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ماضی میں ججوں، وزراء اور وزیراعظم پر الزامات لگتے رہے ہیں ۔ایک نہیں دودووزیر اعظم پر الزامات لگے ، ایک تو وہ جس پر پہلے الزام لگایا گیا تھا اوردوسرا وزیر اعظم وہ جس نے الزام لگایا تھااوراس الزام پر سواری کرتے ہوئے جب وہ خود وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہوگیا تو اس پر بھی بدعنوانی کا الزام لگایا گیا،پہلے پر کوئی بھی الزام ثابت ہی نہیں ہو سکا تو دوسرے پرلگایا گیا ا لزام غلط ثابت ہوا اور اس کے بعد غلط الزام لگانے کے لئے جعلی دستاویز ات تیار کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے۔
اسی طرح کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کمیٹی کے دس میں سے کسی ایک ممبر یا کئی ممبران کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں ، یہ جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور سچے بھی۔ایسی حالت میں ہم کیا کریں گے۔کیا ہم وزیر اعظم سے شکایت کریں گے، نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف کچھ عرضیاں لوک پال کے پاس زیر غورہوں ، تب یہ کہا جائے گا کہ کیونکہ وزیر اعظم کے خلاف عرضیاں زیر غور ہیں اس لئے ان کو لوک پال کے خلاف کارروائی کرنے کا کو ئی اخلاقی اختیارنہیں ہے۔ ایسی حالت میں کیا ہم سپریم کورٹ کا رخ کریں گے، مگر ہو سکتا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ کنہی ججوں یا چیف جسٹس کے خلاف کوئی شکایت لوک پال کے پاس زیر غورہو، اگر ایسا ہوا تو لوگ یہی کہیں گے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کے جج پہلے ہی شک کے دائرے میں ہیں جن کی جانچ خود لوک پال کررہا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد پائے جائیں اور سپریم کورٹ لوک پال کو کسی شکایت میں کلین چٹ دے دے، تو لوگ (سول سوسائٹی ) یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ نے لوک پال کو شاید اس لئے کلین چٹ دے دی ہے کیونکہ اس کے اورلوک پال کے درمیان سودا ہوچکا ہے کہ بعد میں لوک پال بھی سپریم کورٹ کے جج کو کلین چٹ دے دے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کو لگے کہ لوک پال کے خلاف شکایت میں کوئی دم ہے اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں ایسی حالت میں کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ لوک پال کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ تفریق پر مبنی ہے کیونکہ لوک پال نے سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف کوئی معاملہ درج کرنے کے لئے کہہ دیاہے۔
ّآج کل ہم سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے نہیں تھکتے، روزانہ یہ مانگ اٹھتی ہے کہ فلاں معاملے میں لوکل پولیس سے چانچ ہٹا کر سی بی آئی کے سپرد کی جائے۔ مگر کیا سی بی آئی دودھ کی دھلی ہے، کیا وہ دباؤ اور لالچ کے اثر میں نہیں آتی،بے شک آتی ہے۔سی بی آئی جانچ کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے ،زیادہ تربڑے بڑے معاملات میں اس کا کنوکشن ریٹ نہ کے برابرہے۔ بڑے بڑے بیانات دینے کے باوجود ٹرائل کے وقت وکیل دفاع سی بی آئی کے کیس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور سی بی آئی کے گواہوں کو یا تو خرید لیا جاتا ہے یا کھدیڑ دیا جاتا ہے یا وہ اپنے بیانات سے مکر جاتے ہیں۔
سرکار اور سول سوسائٹی ممبران کے درمیان تنازعہ کا سبب یہ ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے سے وزیر اعظم کو باہر رکھا جائے کیونکہ ان کے عہدہ کی ایک مریادا ہے اور ایسا کرنے سے وزیر اعظم کوئی بھی ذمہ داری کھل کر نبھانے سے ہچکائے گا اور ملک کے سارے کام کاج ٹھپ ہو جائیں گے۔ جبکہ سول سوسائٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے میں چیف جسٹس اور وزیر اعظم سمیت سبھی لوگ آنے چاہئیں،مگر ہم لوک پال ایک دو دن یا ایک دو سال کے لئے یاموجودہ حالات یا موجودہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو گھیرنے کے لئے تو بنا نہیں رہے ہیں، لوک پال تو اگلے تمام برسوں کے لئے بنایا جارہا ہے، اور لوک پال بن جانے کے باوجود اگر چیف جسٹس کی کرسی پر یا وزیر اعظم کی کرسی پر ایک کرپٹ آدمی پہنچ جاتا ہے توپھر ایسے لوک پال کا کیا فائدہ ہوگا جس کے ہوتے ہوئے بھی ایک کرپٹ شخص دن دونی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اتنے بڑے اور متبرک عہدے تک پہنچ سکا۔
عام لوگوں کا تو یہ ماننا ہے کہ لوک پال کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جاسکے گااور اگر جڑ ہی ختم ہوجائے گی تو بدعنوانی کا پیڑ خود ہی سوکھ کر مٹی میں مل جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ملک کے اتنے بڑے عہدوں تک بدعنوان لوگ پہنچ ہی نہیں پائیں گے، اور اگر پہنچ ہی گئے تو پھر لوک پال کی کیا وقعت رہ جائے گی۔آج ان ہی اداروں، جن پر کبھی بدعنوانی کی روک تھام کی ذمہ داری تھی پر کھلے عام بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں کیا بعید کے کچھ عرصہ بعد لوک پال پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں۔تب لوک پال میں بدعنوانی کو روکنے کے لئے کونسا پال بل لایا جائیگا۔
 Tags: Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lok Pal Bill, Prashant Bhushan, Shanti Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

Monday, 13 June 2011

پاکستانی فوج کی قربانی

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 13th June 2011
عفیف احسن
پاکستان فوج نے ایک بیان میں فوجی امداد کی مد میں ملنے والی رقم کو معاشی ترقی کی لئے استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ بیان میں سویلین حکومت کے لیے فوج کی اس پیشکش کو قربانی کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’کانفرنس کے شرکاء پاکستانی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ فوج اپنی حتی الامکان کوشش کرے گی اور ملک کی سلامتی اور عام لوگوں کی بہبود کے لیے قربانیاں دیتی رہے گی‘۔
آزادی کے بعد بار بار فوجی آمروں کی حکمرانی اور جمہوریت کے فقدان ، دہشت گردی اور مسلکی حملوں اور طالبانی اثر میں اضافہ کے چلتے پاکستان کے معاشی مسائل میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب وہ معاشی دیوالیہ پن کے راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان کا معاشی نظام تباہ کرنے میں طالبانیوں،ضیاء الحق، پرویز مشرف اور ان سیاستدانوں کا ہاتھ ہے جو اگرچہ ابھی تک خود کو عوامی نمائندہ کہلاتے ہیں مگر درحقیقت اپنی جیبیں بھرنے کیلئے اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی زیر صدارت منعقد ہوئی اس کورکمانڈرز کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کیا‘ اْسے کسی حد تک غیر روایتی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس پریس ریلیز میں مختلف ایشوز پر فوج کا موقف جس واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے‘ اس کی ماضی میں مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ اگرچہ کورکمانڈرز کے اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی بحث ہوتی ہے اور اْس بحث سے فوجی قیادت کی ایک سوچ بھی سامنے آتی ہے تاکہ وہ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی حکمت عملی وضع کرسکے لیکن عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ فوج بعض ایسے معاملات پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتی ہے‘ جو لوگوں کے خیال میں غیر عسکری نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن آئی ایس پی آر کا حالیہ پریس ریلیز کچھ لوگوں کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا۔ پریس ریلیز میں زیادہ تر وہ باتیں کی گئی ہیں‘ جو بدلتے ہوئے حالات میں قوم فوج کی زبان سے سننا چاہتی تھی۔ پریس ریلیز میں فوج نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ امریکی فوجی امداد (کولیشن سپورٹ فنڈ) کی رقم عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ پریس ریلیز میں فوجی قیادت نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ امریکا کے ساتھ انٹیلی شیئرنگ (خفیہ معلومات کا تبادلہ) مکمل شفافیت اور دوطرفہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔ کسی بھی دوسرے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کو پاکستان کی سرزمین پر یکطرفہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ڈرون حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ پریس ریلیز میں قوم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔ امریکا کے تربیتی پروگرام بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کورکمانڈرز اجلاس میں ایبٹ آباد کے 2 مئی کے واقعہ اور پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کی روشنی میں پاک امریکا فوجی تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فوج کسی مخصوص سیاسی جماعت کی بجائے جمہوریت کی حمایت جاری رکھے گی اور اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن سیاسی قیادت کے اتفاق سے ہوگا۔
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں پاکستانی فوج کے لیے امریکی امداد کے لیے اکثر جو 13 سے 15 ارب ڈالر کے جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ بھی غلط ہیں۔کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ سے جو 13 ارب ڈالر ملنے تھے ان میں سے صرف 6ء 8 ارب ڈالر ملے ہیں۔ اسکے علاوہ پاکستانی حکومت کے توسط سے فوج کو ڈیڑھ ارب ڈالر ملے جبکہ نسبتاً کم رقم پاکستانی بحریہ اور فضائیہ کو ملی۔ باقی 6 ارب ڈالر حکومت پاکستان نے بجٹ میں استعمال کیے جو بہرحال پاکستانی عوام پر خرچ ہوئے‘۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فوج کی طرف سے ایسا بیان جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت اتنی ابتر ہے کہ اب زیادہ دیر تک عوام کے غصہ کو دبائے رکھنا ممکن نہیں ہے اور شاید فوج نے اس بات کا احساس دلایا ہے کہ سیاست داں صورت حال کا ادراک کریں۔جس عوام کو روٹی تک میثرنہ ہواس کو میزائل ، گولا بارود اور ایٹمی اسلحہ سے کب تک بہلا یا جاسکتا ہے۔ گولی سے سینے کی آگ تو بجھائی جاسکتی ہے مگر پیٹ کی آگ تو صرف روٹی سے ہی بجھائی جاسکتی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج ملک جس سنگین صورت حال سے دوچار ہے‘ اْس میں سب سے بڑا کردار سابقہ فوجی آمروں کا ہے‘ جنہوں نے اپنے اقتدار کی خاطر قومی مفادات کو داؤ پر لگادیا اور ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔ لیکن موجودہ فوجی قیادت کی سوچ بہت مختلف ہے اور اْس نے اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ سیاسی حلقے اپنی سوچ تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ آج بھی یہی چاہتے ہیں کہ پرانی سیاسی صف بندیاں قائم رہیں‘ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے اور سیاسی عدم استحکام کا فائدہ اْٹھا کر وہ اپنے مقاصد حاصل کریں۔
ابھی تک پاکستان کے عوام کایہی ماننا تھ کہ پاکستانی افواج ملک کو لوٹ کر کھارہی ہیں اور پاکستانی جنرل اپنا پیٹ بھرنے اور عیاشیوں پر لمبی چوڑی رقم خرچ کرنے میں ہی یقین رکھتے ہیں اورپاکستانی افواج کو دہشت گردی سے لڑنے کے لئے دی جانے والی کولیشن کی امداد صرف اورصرف فوجی حکام کو خوش کرنے اور ان کا پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔جنرل کیانی کا بیان اگر صرف بیان نہ ہوکر ایک کمٹمنٹ ہے تو یہ جہاں ایک طرف پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مددکرے گا وہیں دوسری طرف اس بر صغیر میں اسلحہ کی دوڑ کو بھی کم کرنے میں مدد گار ہوگا اور ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بھی خاطر خواہ بہتری آنے کی امید ہے۔پاکستانی جنرل کے اس بیان کی روشنی میں ایسا محصوص ہوتا ہے کہ جس طرح مشرف نے نوازشریف اور واجپئی کے امن مزاکرات پر کارگل میں پانی پھیر دیا تھا اسی طرح کا اقدام موجودہ چیف آف اسٹاف جنرل کیانی کے ذریعہ کئے جانے کی امیدیں بہت کم ہیں۔
 Tags: Afif Ahsen, Daily Pratap, General Kayani, Pakistan, Pakistan Army, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorism, Vir Arjun, Zia Ul Haque

पाकिस्तानी सेना की कुरबानी

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 13th June 2011
अफ़ीफ़ अहसन
पाकिस्तान सेना ने एक बयान में सैनिक सहायता के मद में मिलने वाली राशि को आर्थिक विकास के लिए उपयोग करने की सिफारिश की है. बयान में असैनिक सरकार के लिए सेना की इस पेशकश को कुरबानी का नाम दिया गया है. और इस बयान में कहा गया है कि 'सम्मेलन के भागीदार जनता को विश्वास दिलाते हैं कि सेना अपनी हर मुमकिन कोशिश करेगी और देश की सुरक्षा और आम लोगों के कल्याण के लिए बलिदान देती रहेगी.'
आज़ादी के बाद बार बार के सेनिक शासनो और लोकतंत्र के अभाव, आतंकवाद और मसलकी हमलों और तालाबानी प्रभाव में वृद्धि के चलते पाकिस्तान की आर्थिक समस्याओं में बहुत तेजी से बढ़ोतरी हुइ है और अब पाकिस्तान आर्थिक दिवालिया पन की राह पर चलने वाला हैं. पाकिस्तान की आर्थिक प्रणाली नष्ट करने में ता‍लिबा‍न, जिया उल हक, मुशर्रफ और राजनेताओं का हाथ है, हालाँकि वह खुद को सार्वजनिक प्रतिनिधि कहते हैं मगर वास्तव में अपनी जीबें भरने के लिए अपनी सभी ताकत खर्च करते रहते हैं.
पाकिस्तान के चीफ ऑफ आर्मी स्टाफ जनरल कियानी की अध्यक्षता में आयोजित हुई इस कोर कमांडर्स सम्मेलन के बाद आईएसपीआर ने जो प्रेस रिलीज जारी की है वह 'किसी हद तक गैर पारंपरिक कही जा सकती है क्योंकि इस प्रेस रिलीज में विभिन्न मुद्दों पर सेना का पक्ष जिस स्पष्ट अंदाज़ में पेश किया गया है 'उसका पूर्व में उदाहरण बहुत कम मिलता है़, हालांकि कोर कमांडर्स की बैठक में राष्ट्रीय और अंतर्राष्ट्रीय स्थिति पर विस्तृत चर्चा होती है और इस बहस से सैनिक नेतृत्व की सोच भी सामने आती है ताकि वे देश सुरक्षा और रक्षा के लिए अपनी रणनीति तैयार कर सके लेकिन आमतौर पर यह माना जाता है कि सेना कुछ ऐसे मुद्दों पर अपना मत प्रकट नहीं करती है 'जो लोगों के विचार में असकरी प्रकार के होते हैं. लेकिन अब एसपीआर का हालया प्रेस रिलीज कुछ लोगों के लिए बहुत अनपेक्षित था. प्रेस रिलीज में अधिकांश बातें की गई हैं 'जो बदलते हुए हालात में पाकिस्तानी राष्ट्र सेना की भाषा से सुनना चाहता था. प्रेस रिलीज में सेना ने सरकार को सिफारिश की है कि वह सैनिक सहायता (कोलीशन समर्थन फंड) की राशि जनता की बेहतरी के लिए इस्तेमाल करे. प्रेस रिलीज में सैन्य नेतृत्व ने दो टूक शब्दों में यह भी स्पष्ट किया है कि उत्तर वज़ीरिस्तान में कार्रवाई के बारे में कोई दबाव स्वीकार नहीं किया जाएगा. अमरीका के साथ ख़ुफ़िया शेयरिंग (खुफिया जानकारी का आदान प्रदान) पूरी पारदर्शिता और द्विपक्षीय आधार पर किया जाएगा. किसी भी अन्य देश के खुफिया संगठन को पाकिस्तान की धरती पर कार्रवाई की अनुमति नहीं दी जासकती और ड्रोन हमले किसी भी स्थिति में स्वीकार्य नहीं. प्रेस रिलीज में जनता को यह भी बताया गया है कि पाकिस्तान में अमेरिकी सैनिकों की संख्या में कमी की गई है. अमेरिका के प्रशिक्षण कार्यक्रम समाप्त करने का फैसला किया गया है. कोर कमांडर्स बैठक में ऐबट आबाद पाकिस्तान के 2 मई की घटना और पाक संसद के संयुक्त प्रस्ताव की रोशनी में पाक अमेरिका सेनिक सम्बंधों की समीक्षा की आवश्यकता पर भी बल दिया गया. बैठक में यह भी स्पष्ट किया गया कि सेना किसी राजनीतिक दल के बजाय लोकतंत्र का समर्थन जारी रखेगी अगर उत्तर वज़ीरिस्तान में कार्रवाई राजनीतिक नेतृत्व के सहमति से होगा.
बयान के अनुसार जनरल कियानी ने कहा कि पिछले दस सालों में पाकिस्तानी सेना के लिए अमेरिकी सहायता के लिए अक्सर जो 13 से 15 अरब डॉलर के जो आँकड़े पेश किए जाते हैं वह भी गलत है. कोलीशन समर्थन निधि की मद में अमेरिका से जो 13 अरब डॉलर मिलने थे उनमें से केवल 7 अरब डॉलर मिले हैं. साथ ही पाक सरकार के माध्यम से सेना को डेढ़ अरब डॉलर मिले जबकि अपेक्षाकृत कम राशि पाकिस्तानी नौसेना और वायु सेना को मिली. बाकी 6 अरब डॉलर पाकिस्तान सरकार ने बजट में प्रयोग किए जो कि पाकिस्तानी जनता पर खर्च हुए.
यह सवाल अपनी जगह है कि सेना की ओर से ऐसा बयान जारी करने की ज़रूरत क्यों महसूस हुई? इस प्रश्न का उत्तर यह है कि पाकिस्तान की आर्थिक हालत इतनी जर जर है कि अब ज्यादा देर तक लोगों के क्रोध को दबाये रखना संभव नहीं है और शायद सेना ने इस बात का अहसास दिलाया है कि राजनीतिज्ञ स्थिति का हल निकालें. जिस जनता को रोटी तक मयस्सर हो उस को मिसाइल, गोला बारूद और परमाणु हथियारों से कब तक बहलाया जा सकता है. गोली से सीने की आग तो बुझाई जा सकती है लेकिन पेट की आग तो केवल रोटी से ही बुझाई जा सकती है.
इस बात से इनकार नहीं किया जा सकता कि आज पाकिस्तान जिस गंभीर स्थिति से दोचार है 'इसमें सबसे बड़ी भूमिका पहले के सेनिक शासकों की है जिन्होंने अपने शासन के लिए राष्ट्रीय हितों को दांव पर लगा दिया और देश को संकट में धकेल दिया. लेकिन मौजूदा सैनिक नेतृत्व की सोच बहुत अलग है और उसने अपने व्यवहार से यह साबित किया है. दुर्भाग्य से कुछ राजनीतिक क्षेत्र अपनी सोच बदलने के लिए तैयार नहीं. वह आज भी यही चाहते हैं कि पुरानी राजनीतिक पंक्ति बंदियां स्थापित रहें ' सेना राजनीतिक मामलों में हस्तक्षेप करे और राजनीतिक अस्थिरता का फायदा उठाकर अपना लक्ष्य प्राप्त करें.
अभी तक पाकिस्तान की जनता का यह मानना ​​था कि पाकिस्तानी सेना देश को लूट कर खारही है और पाकिस्तानी जनरल अपना पेट भरने और अय्या‍शियों पर लंबी चौड़ी रकम खर्च करने में विश्वास रखते हैं ओर पाकिसतानी सैनिकों को आतंकवाद से लड़ने के लिए दी जाने वाली कोलीशन की सहायता केवल ओर केवल सैनिक अधिकारियों को खुश करने और उनका पेट भरने के काम आती है. जनरल कियानी का बयान यदि केवल बयान न होकर एक कमिटमेंट है तो जहां एक ओर पाकिस्तान की आर्थिक स्थिति को बेहतर बनाने में मददगार होगा वहीं दूसरी ओर इस सब कोनटीनेंट में हथियार की होड़ को कम करने में सहायक होगा और भारत और पाकिस्तान के संबंधों में पर्याप्त सुधार आने की उम्मीद है. पाकिस्तानी जनरल के इस बयान की रोशनी में ऐसा लगता है कि जिस तरह मुशर्रफ ने नवाज़ शरीफ और वाजपेयी की शांति वार्ता पर कारगिल कांड के द्वारा पानी फेर दिया था उसी तरह का कार्य मौजूदा चीफ ऑफ स्टाफ जनरल कियानी द्वारा किए जाने की उम्मीदें बहुत कम हैं. 
Tags: Afif Ahsen, Daily Pratap, General Kayani, Pakistan, Pakistan Army, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorism, Vir Arjun, Zia Ul Haque

Monday, 6 June 2011

ارے بابا!۔

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 6th June 2011
عفیف احسن
Letter Given By Baba Ramdev
بابارام دیو کا ہٹھ یوگ راج یوگ کے آگے نہیں ٹک سکا ۔ بابا کے ساتھی اور پارٹنر بالکرشن نے سرکار کو یہ لکھت اشواسن دیا تھا کہ وہ اپنا انشن ختم کردیں گے مگر جب حکومت کو یہ لگا کہ وہ اپنی بات سے مکر رہے ہیں اور ان کا انشن ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے توتقریباً چھ سو پولیس اہلکاروں نے رات تقریباً ایک بجے رام لیلا میدان میں موجود بابا رام دیو اور ان کے ہزاروں مداحوں کو منشتر کرنے کے لیے کارروائی کی جس میں آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔اس کارروائی میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آنے کی اطلاعات ہیں، پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں لاٹھی چارج نہیں کیا گیا اور جو بھی لوگ زخمی ہوئے ہیں وہ بھگدڑ کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
اس کارروائی میں بابا رام دیو کو شہر بدر کر دیا گیا اور دہلی میں ان کے داخلے پر پندرہ دن کے لئے روک لگا دی گئی۔ اس کے بعد ایک خصوصی طیارے سے انہیں دہرادون لے جایا گیااور دہرادون سے کار کے ذریعہ انہیں ہردوار میں واقعہ ان کے آشرم پتانجلی یوگ پیٹھ لے جایا گیا اور وہاں پر انہیں چھوڑدیا گیا۔بابا رام دیو کو رام لیلا میدان سے زبردستی لے جایا گیا کیونکہ پولیس سے بچنے کے لیے وہ اپنے مداحوں کی بھیڑ میں کود گئے تھے۔ اس کے بعد بھیڑ بھڑک گئی اور اس نے پولیس پر جو کچھ ہاتھ آیا پھینکنا شروع کردیا۔بعد میں پولیس نے اس ستیہ گرہ کے لیے لگائے گئے شاندار پنڈال کو بھی خالی کرالیا۔رام لیلا میدان کے علاقے میں جہاں یہ آندولن کیا جا رہا تھا اب لوگوں کو دوبارہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے۔
رام دیو نے سنیچر کی صبح بدعنوانی کی خلاف اپنی تحریک شروع کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہیں گے۔ اس تحریک میں بڑی تعداد میں ان کے مداح بھی شامل تھے۔حکومت نے بابا رام دیو کو بھوک ہڑتال کا ارادہ ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے ان سے طویل مذاکرات کی اور جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ دونوں کے درمیان تین تاریخ کو ہی مفاہمت ہو گئی تھی اور بابا کے ساتھی بال کشن نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اپنا انشن ختم کردیں گے مگر جب حکومت کو لگا کہ بابا اپنی بات سے مکر رہے ہیں تو کپل سبل نے ایک پریس کانفرنس بلاکر بالکرشن کے ذریعہ دئے گئے لکھت اشواسن کو عام کردیا۔ اس پر بابا اور زیادہ ناراض ہوگئے اور انہوں نے حکومت پر وشواس گھات کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے اپنا آندولن جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
بابا رام دیو بدعنوانی کے خلاف حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کا اہم مطالبہ ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن واپس لایا جائے اور بدعنوانی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔بابا رام دیو بدعنوانی کے خلاف حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا اہم مطالبہ ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن واپس لایا جائے اور بدعنوانی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔لیکن حکمراں کانگریس کا الزام تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی جماعتیں بابا رام دیو کو استعمال کرکے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں تھا اور حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ بابا رام دیو کو صرف یوگا کیمپ لگانے کی اجازت دی گئی تھی اور جب انہوں نے وہاں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو شہری انتظامیہ نے یہ اجازت منسوخ کر دی تھی۔حقیقت بھی یہی ہے کہ بابا رام دیو کو رام لیلا میدان میں بیس دن کے لئے یوگ شور لگانے کی اجازت پولیس کے ذریعہ دی گئی تھی اور کہا یہ گیا تھا کہ اس شور میں روزانہ پانچ ہزارلوگ آئیں گے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف پانچ ہزار آدمی کے آنے کی بات کرکے بابا نے یوگ شور کی اجازت کیوں لی؟ کیوں نہیں،انہوں نے ستیہ گرہ کرنے کی باقائدہ اجازت طلب کی؟
یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بابا اور حکومت کے درمیان باقاعدہ مفاہمت ہوگئی تھی تو بابا نے ستیہ گرہ واپس کیوں نہیں لیا؟کہیں ایسا تو نہیں کے ان کے پاس ستیہ گرہ واپس لینے کی کوئی طاقت نہیں تھی اور وہ صرف ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کررہے تھے جس کی ڈور کوئی اور پردے کے پیچھے سے ہلا رہا تھا؟
تمام حالات اور گھٹنا کرم کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو شطرنج کی چال کی طرح کھیلا۔ پہلے تو عوام کو یہ تائثر دیا گیا کہ حکومت کرپشن کو ختم کرنے کے لئے بہت فکر مند ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے اس نے اپنے بڑے بڑے وزراء کو ائر پورٹ پر بابا رام دیو سے ملنے کے لئے بھیج دیا اور دوسری طرف اپنے اس قدم کو میڈیا میں خوب اچھالا اور لوگوں کو یہاں تک کہنے پر مجبور کردیا کہ حکومت کا بابا کے آگے اتنا جھک جانا بالکل غیر ضروری ہے اوریہ حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ا س کے بعد حکومت نے بابارام دیو کی ساری جائز مانگیں مان لیں اور ان کے ساتھی بال کرشن سے یہ لکھواکر لے لیا کہ وہ اپنا انشن واپس لے لیں گے اور اس کا جلد اعلان کردیں گے۔مگر اس کے بعد کانگریس نے بابا رام دیو پر سیدھا حملہ بول دیا سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ بابا رام دیو آر ایس ایس کے اور بھاجپا کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں، اور ان کے آندولن میں سادھوی رتھمبرا جیسے لیڈر کا ہونا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔کانگریس کا کھل کر بابا رام دیو کی مخالفت میں آنا بہت ہی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ابھی تک کو صرف دگوجے سنگھ ہی بابا رام دیو کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے۔ اس کے بعدکپل سبل نے حکومت کی طرف سے حملہ بولا اور بابا پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے بال کرشن کے ذریعہ دی گئی اس چٹھی کی کاپی پریس والوں کو دکھائی اورکہا کہ بابا نے وعدہ خلافی کی ہے ۔
اس چٹھی کو دکھائے جانے کے بعد بابا پہلے تو کھسیا گئے اور بعد میں انہوں نے حکومت پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا اورکہا کہ یہ چٹھی تو صرف منموہن سنگھ کو دکھانے کے لئے دی گئی تھی اور اس کا عام کیا جانا ان کے ساتھ دھوکے بازی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بابا نے حکومت کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کرہی لیا تھا تو وہ بھولی بھالی جنتا کو کیوں بیوقوف بناتے رہے کہ ابھی تک حکومت نے ان کی مانگیں نہیں مانی ہیں۔ایسی کون سی مانگ تھی جونہیں مانی گئی تھی؟ کہیں کوئی ایسی ذاتی خواہش تو نہیں تھی جسے حکومت نے نہ مانا ہو؟ آخر کب تک یہ بابا لوگ بھولی بھالی جنتا کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟ کب جنتا بیدار ہوگی ؟
ہم ایک طرف تو ہر جگہ شفافیت اور ٹرانسپرنسی کی بات کرتے ہیں مگر جب حکومت کے اور باباؤں اور دوسرے لیڈروں کے درمیان بات چیت ہوتی ہے تو اس میں صرف چند لوگ ہی شامل ہوتے ہیں اور وہ باہر آکر غلط صحیح جو چاہے بیان دے کر عوام کو گمراہ کردیتے ہیں۔ایسی بات چیت جس سے عام آدمی جڑا ہوا ہو اس کی ہرایک بات بند کمرے کے بجائے ٹیلی ویژن کیمرے پر ہونی چاہے تاکہ بعد میں کوئی بھی فریق یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے یہ بات نہیں کہی تھی، اور اس طرح سے میٹنگ میں جانے والے لوگ اپنے نجی مفادات اور ہتوں کی بات کرنے کے بجائے عام آدمی کے ہتوں کی ہی بات کرے گا۔ 
Tags: Afif Ahsen, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Digijay Singh, Kapil Sibbal, Lok Pal Bill, Manmohan Singh, Singhvi, Vir Arjun

अरे बाबा!

Vir Arjun, Hindi Daily Newspaper Published from Delhi
Published on 6th June 2011
अफ़ीफ़ अहसन

Letter Given By Baba Ramdev
बाबा रामदेव का हठ योग राज योग के आगे नहीं टिक सका. बाबा के साथी और सहयोगी बाल कृष्ण ने सरकार को लि‍खित आश्वासन दिया था कि वह अपना अनशन खत्म कर देंगे लेकिन जब सरकार को यह लगा कि वह अपनी बात से मुकर रहे हैं और उनका अनशन समाप्त करने का कोई इरादा नहीं है तब लगभग छह सौ पुलिसकर्मियों ने रात एक बजे राम लीला मैदान में बाबा राम देव और उनके हजारों प्रशंसकों को तितर बितर करने के लिए कार्रवाई की जिसमें आंसू गैस का भी प्रयोग किया गया. इस कार्रवाई में कुछ लोगों को मामूली चोटें आने की ख़बर है, पुलिस ने अपने एक बयान में कहा कि इस कार्रवाई में लाठी चार्ज नहीं किया गया और जो भी लोग घायल हुए हैं, भगदड़ के कारण हुए हैं.
इस कार्रवाई में बाबा रामदेव को शहर बद्र कर दिया गया और दिल्ली में उनके प्रवेश पर पंद्रह दिन के लिए रोक लगा दी गई. इसके बाद एक विशेष विमान से उन्हें देहरादून ले जाया गया ओर देहरादून से कार द्वारा उन्हें हरिद्वार में स्थित उनके आश्रम पातांजलि योग पीठ ले जाया गया और वहां पर उन्हें छोड दिया गया. बाबा रामदेव को राम लीला मैदान से जबरदस्ती ले जाया गया क्योंकि पुलिस से बचने के लिए वह अपने प्रशंसकों की भीड़ में कूद गए थे. इसके बाद भीड़ भड़क गई और उसने पुलिस पर जो कुछ हाथ आया फेंकना शुरू कर दिया. बाद में पुलिस ने सत्याग्रह के लिए लगाए गए शानदार पंडाल को भी खाली करा लिाया. राम लीला मैदान के क्षेत्र में जहां यह आंदोलन किया जा रहा था अब लोगों को फिर से जमा होने से रोकने के लिए धारा एक सौ चौवालीस लगा दी गई है.
रामदेव ने शनिवार की सुबह भ्रष्टाचार के खिलाफ अपनी आन्दोलन शुरू किया था और उन्होंने कहा कि जब तक सरकार उनके मांगें स्वीकार नहीं करती वह भूख हड़ताल पर बैठे रहेंगे. इस आन्दोलन में बड़ी संख्या में उनके प्रशंसक भी शामिल थे. सरकार ने बाबा राम देव को भूख हड़ताल का इरादा छोड़ने पर राजी करने के लिए लंबी बातचीत की और जैसा कहा जा रहा है कि दोनों के बीच तीन तारीख को ही समझौता हो गया था और बाबा के साथी बालकृष्ण ने लिखकर दिया था कि वह अपना अनशन खत्म कर देंगे लेकिन जब सरकार को लगा कि बाबा अपनी बात से मुकर रहे हैं तो कपिल सिब्बल ने एक प्रेस कांफ्रेंस बुलाकर बालकृष्ण द्वारा दिए गए लिखित आश्वासन को सार्वजनिक कर दिया. इस पर बाबा और ज्यादा नाराज हो गए और उन्होंने सरकार पर विश्वास घात का आरोप लगाते हुए अपना आंदोलन जारी रखने की घोषणा कर दी.
बाबा राम देव भ्रष्टाचार के खिलाफ सरकार द्वारा कड़ी कार्रवाई की मांग कर रहे थे और उनकी मुख्य मांग है कि विदेशी बैंकों में जमा भारतीय नागरिकों का काला धन वापस लाया जाए और भ्रष्टाचार के शामिल पाए जाने वालों के खिलाफ बहुत सख्त कार्रवाई की जाए. लेकिन सत्तारूढ़ कांग्रेस का आरोप हे कि भाजपा और आरएसएस जैसे दल बाबा रामदेव का इस्तेमाल करके सरकार को अस्थिर करने की कोशिश कर रहे हैं.
सिविल सोसायटी के प्रतिनिधियों ने सरकार की कार्रवाई की निंदा करते हुए कहा है कि शांतिपूर्ण प्रदर्शनकारियों के खिलाफ बल प्रयोग का कोई औचित्य नहीं था और सरकार को इस्तीफा दे देना चाहिए. लेकिन सरकार का कहना है कि बाबा रामदेव को केवल योग शिविर लगाने की अनुमति दी गई थी और जब उन्होंने वहां प्रदर्शन का सिलसिला शुरू किया तो प्रशासन ने यह अनुमति रद्द कर दी. सच्चाई भी यही है कि बाबा राम देव को राम लीला मैदान में बीस दिन के लिए योग शिविर लगाने की अनुमति पुलिस द्वारा दी गई थी और कहा यह गया था कि इस शिविर में दैनिक पांच हज़ार लोग आएंगे. अब सवाल यह उठता है कि केवल पाँच हजार आदमी के आने की बात कर बाबा ने योग शिविर की अनुमति क्यों ली? क्यों नहीं, उन्होंने सत्याग्रह करने की विधिवत अनुमति मांगी?
यह भी सवाल पैदा होता है कि जब बाबा और सरकार के बीच समझौता हो गया था तो बाबा ने सत्याग्रह वापस क्यों नहीं लिया? कहीं ऐसा तो नहीं उनके पास सत्याग्रह वापस लेने की कोई ताकत नहीं थी और वह एक कठ पुतली की तरह काम कर रहे थे जिसकी डोर कोई पर्दे के पीछे से हिला रहा था?
सभी हालात और घटना क्रम को देख कर यही लगता है कि सरकार ने इस मामले को शतरंज की चाल की तरह खेला है. पहले तो जनता को यह दिखाया गया कि सरकार भ्रष्टाचार को समाप्त करने के लिए बहुत चिंतित है और इसे साबित करने के लिए उसने अपने बड़े बड़े मंत्रियों को एयरपोर्ट पर बाबा रामदेव से मिलने के लिए भेज दिया और दूसरी ओर इस कदम को मीडिया में खूब उछाला और लोगों को यहाँ तक कहने पर मजबूर कर दिया कि सरकार का बाबा के आगे इतना झुक जाना बिल्कुल गैर जरूरी है और यह सरकार की कमजोरी को प्रदर्शित करता है. इसके बाद सरकार ने बाबा रामदेव की सारी वैध मांगें मान लीं और उनके साथी बाल कृष्ण से लिखवाकर ले लिया कि वह अपना आन्दोलन वापस ले लेंगे और उसकी जल्द घोषणा कर देंगे. मगर उसके बाद कांग्रेस ने बाबा राम देव पर सीधा हमला बोल दिया सिंघवी ने एक संवाददाता सम्मेलन करके यह आरोप लगाया कि बाबा राम देव आरएसएस और भाजपा के हाथों खेल रहे हैं, और उनके आंदोलन में साध्वी रितम्भरा जैसे नेता का शामिल होना इस बात का जीता जागता सबूत है. कांग्रेस का खुलकर बाबा रामदेव के विरोध में आना बहुत ही महत्वपूर्ण था क्योंकि अभी तक केवल दिग्विजय सिंह ही बाबा रामदेव के खिलाफ मोर्चा खोले हुए थे. इसके बाद कपिल सिब़्बल ने सरकार की ओर से हमला बोला और बाबा पर वादा खिलाफी का आरोप लगाते हुए बाल कृष्ण द्वारा दी गई इस पत्र की प्रति प्रेस को दिखाई ओर कहा कि बाबा ने वादा खिलाफी की है.
इस पत्र को दिखाने के बाद बाबा पहले तो खिसया गए और बाद में उन्होंने सरकार पर धोखाधड़ी का आरोप लगाया ओर कहा कि यह पत्र तो केवल मनमोहन सिंह को दिखाने के लिए दिया गया था और उसका सार्वजनिक किया जाना उनके साथ धोखे बाज़ी है. मगर सवाल यह पैदा होता है कि जब बाबा ने सरकार के साथ एक गुप्त समझौता कर ही लिया था तो वह भोली भाली जनता को क्यों बेवकूफ बनाते रहे कि अभी तक सरकार ने उनकी मांगें नहीं मानी हैं? ऐसी कौन सी मांग थी जो नहीं मानी गई थी? कहीं कोई व्यक्तिगत इच्छा तो नहीं थी जिसे सरकार ने न माना हो? आखिर कब तक यह बाबा लोग भोली भाली जनता को बेवकूफ बनाते रहेंगे? कब जनता जागरूक होगी?
हम एक तरफ तो हर जगह पारदर्शिता की बात करते हैं मगर जब सरकार और बाबाउो और अन्य नेताओं के बीच बातचीत होती है तो इसमें केवल कुछ लोग ही शामिल होते हैं और बाहर आकर गलत सही जो चाहे बयान देकर जनता को गुमराह करते हैं. ऐसा मुद्दा जिससे आम आदमी जुड़ा हो उसकी हरेक बात बंद कमरे के बजाय टीवी कैमरे पर होना चाहिये ताकि बाद में कोई भी पक्ष यह न कह सके कि मैंने यह बात नहीं कही थी, और इस तरह से बैठक में जाने वाले लोग अपने निजी हितों की बात करने के बजाय आम आदमी के हितों की ही बात करेगा.
Tags: Afif Ahsen, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Digijay Singh, Kapil Sibbal, Lok Pal Bill, Manmohan Singh, Singhvi, Vir Arjun