سبھی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف آج ہم لوک پال بنارہے ہیں۔ اس میں ہم ان اداروں کوبھی شامل کرنے جارہے ہیں جن کی خود کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بدعنوانی پر لگام لگائیں اوربدعنوان لوگوں کو سزادیںیا دلائیں۔ ایسا اس لئے ہوا ہے کہ ہم ان اداروں پر اپنا اعتبار کھو بیٹھے ہیں جن پر بدعنوانی کی روک تھام کی ذمہ داری تھی کیونکہ ان اداروں نے اپنی ذمہ داری کو صحیح طورپر نہیں نبھایا۔یہی نہیں انہی اداروں پر بدعنوانی کے الزامات لگنے لگے جو کہ اس کو روکنے کے ذمہ دار تھے۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف کچھ کہنا یا لکھنا یا ان پر کوئی الزام لگانا عدلیہ کی ہتک کے زمرے میں آتا ہے، مگرعدلیہ کے خلاف بھی الزامات لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔آج سے کچھ سال قبل تک کوئی عدلیہ میں بدعنوانی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، مگر اب کھلے عام عدلیہ پر بد عنوانی اور کنبہ پروری کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔
ایک واقعہ تو میرے اپنے ساتھ پیش آیا۔ یہ شاید97-1996کی بات ہے جب میں ایک کیس کی پیروی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے چکر لگارہا تھا۔یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ہائی کورٹ کی دو متواتربنچوں نے ہمارے خلاف فیصلہ صادر کررکھا تھا۔ پہلے سنگل بنچ نے اورپھرڈبل بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلہ پر مہر ثابت کردی تھی اور جو رہی سہی کسر تھی اسے بھی پوراکردیا تھا۔اس معاملہ کی اپیل سپریم کورٹ میں پینڈنگ تھی۔ ہمیں کئی لوگوں سے خاص کر وکلاء سے دبے الفاظ میںیہ سننے کو ملتا تھا کہ آپ کے مخالف نے جج صاحبان سے سیٹنگ کرلی تھی اسی لئے یہ دونوں فیصلے آپ کے خلاف صادر ہوئے ہیں ورنہ کیس تو آپ کو ہی جیتنا چاہئے تھا ۔ اس کا ثبوت تب ملا جب سپریم کورٹ کی دوہری بنچ کے ایک جج نے پوری کورٹ کو یہ کہتے ہوئے حیرت میں ڈال دیا کہ مجھے اپروچ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایسی چیز یہاں بھی ہورہی ہے‘‘ اور پھر انہوں نے اس کیس سے اپنے آپ کو الگ کرلیا۔اس کے بعد ہمارے ایڈیٹر صاحب نے ہندوستان ٹائمس کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے ذمہ داروں کی توجہ اس جانب مبدول کراتے ہوئے یہ مانگ بھی کی کہ اس واقعہ کی جانچ ہونی چاہئے،اس مراسلے کے شائع ہونے کے باوجود اس سمت کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔بعد کے دنوں میں ایک کے بعد ایک سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اس کیس کو سننے سے انکارکردیا۔ وہ یہی کہتے ’ناٹ بیفور می‘‘ یا یہ کہتے کہ ’’ٹوبی لسٹڈ بیفور اے بنچ آف وچ آئی ایم ناٹ اے ممبر‘‘ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کے ہمارے مخالف کی طرف سے پیروی کرنے والے وکلاء اورکوئی نہیں باپ بیٹے کی مشہورجوڑی ہی تھی۔خیر اس بات کا لب لباب یہ ہے کہ اس وقت تک یہ بات عام تھی کے سپریم کورٹ کو چھوڑ کر سبھی ذیلی عدالتوں میں کرپشن پنپ رہا تھا جوکہ ایک عام بات تھی مگر اس کاسپریم کورٹ تک پیر پسار لینا ایک حیرانی اور افسوس کی بات تھی۔آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کے دودوعدالتوں سے مقدمہ ہارنے کے باوجود، اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کیس میں انصاف کی ہی جیت ہوئی اورہم یہ کیس جیت گئے ۔اس کا لب لباب یہ ہے کے اس وقت سپریم کورٹ ہی انصاف کا ایک آسرا تھی اور ہر ایک کو یہ یقین تھاکہ اگر اسے ذیلی عدالتوں سے انصاف نہ بھی ملے گا تو سپریم کورٹ سے تو انصاف مل ہی جائے گا۔
ایک وقت وزیر اعظم کا عہدہ بھی بہت ہی متبرک سمجھا جاتا تھا مگر اس کے باوجود اور باوجود اس کے کہ موجودہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بذات خود بہت ہی ایماندار شخص ہیں ان پر بھی بدعنوانی یا اس میں ملوث لوگوں پر لگام نہ لگانے یعنی منمانی کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کے الزامات لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ماضی میں ججوں، وزراء اور وزیراعظم پر الزامات لگتے رہے ہیں ۔ایک نہیں دودووزیر اعظم پر الزامات لگے ، ایک تو وہ جس پر پہلے الزام لگایا گیا تھا اوردوسرا وزیر اعظم وہ جس نے الزام لگایا تھااوراس الزام پر سواری کرتے ہوئے جب وہ خود وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہوگیا تو اس پر بھی بدعنوانی کا الزام لگایا گیا،پہلے پر کوئی بھی الزام ثابت ہی نہیں ہو سکا تو دوسرے پرلگایا گیا ا لزام غلط ثابت ہوا اور اس کے بعد غلط الزام لگانے کے لئے جعلی دستاویز ات تیار کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے۔
اسی طرح کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کمیٹی کے دس میں سے کسی ایک ممبر یا کئی ممبران کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں ، یہ جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور سچے بھی۔ایسی حالت میں ہم کیا کریں گے۔کیا ہم وزیر اعظم سے شکایت کریں گے، نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف کچھ عرضیاں لوک پال کے پاس زیر غورہوں ، تب یہ کہا جائے گا کہ کیونکہ وزیر اعظم کے خلاف عرضیاں زیر غور ہیں اس لئے ان کو لوک پال کے خلاف کارروائی کرنے کا کو ئی اخلاقی اختیارنہیں ہے۔ ایسی حالت میں کیا ہم سپریم کورٹ کا رخ کریں گے، مگر ہو سکتا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ کنہی ججوں یا چیف جسٹس کے خلاف کوئی شکایت لوک پال کے پاس زیر غورہو، اگر ایسا ہوا تو لوگ یہی کہیں گے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کے جج پہلے ہی شک کے دائرے میں ہیں جن کی جانچ خود لوک پال کررہا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد پائے جائیں اور سپریم کورٹ لوک پال کو کسی شکایت میں کلین چٹ دے دے، تو لوگ (سول سوسائٹی ) یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ نے لوک پال کو شاید اس لئے کلین چٹ دے دی ہے کیونکہ اس کے اورلوک پال کے درمیان سودا ہوچکا ہے کہ بعد میں لوک پال بھی سپریم کورٹ کے جج کو کلین چٹ دے دے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کو لگے کہ لوک پال کے خلاف شکایت میں کوئی دم ہے اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں ایسی حالت میں کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ لوک پال کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ تفریق پر مبنی ہے کیونکہ لوک پال نے سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف کوئی معاملہ درج کرنے کے لئے کہہ دیاہے۔
ّآج کل ہم سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے نہیں تھکتے، روزانہ یہ مانگ اٹھتی ہے کہ فلاں معاملے میں لوکل پولیس سے چانچ ہٹا کر سی بی آئی کے سپرد کی جائے۔ مگر کیا سی بی آئی دودھ کی دھلی ہے، کیا وہ دباؤ اور لالچ کے اثر میں نہیں آتی،بے شک آتی ہے۔سی بی آئی جانچ کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے ،زیادہ تربڑے بڑے معاملات میں اس کا کنوکشن ریٹ نہ کے برابرہے۔ بڑے بڑے بیانات دینے کے باوجود ٹرائل کے وقت وکیل دفاع سی بی آئی کے کیس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور سی بی آئی کے گواہوں کو یا تو خرید لیا جاتا ہے یا کھدیڑ دیا جاتا ہے یا وہ اپنے بیانات سے مکر جاتے ہیں۔
سرکار اور سول سوسائٹی ممبران کے درمیان تنازعہ کا سبب یہ ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے سے وزیر اعظم کو باہر رکھا جائے کیونکہ ان کے عہدہ کی ایک مریادا ہے اور ایسا کرنے سے وزیر اعظم کوئی بھی ذمہ داری کھل کر نبھانے سے ہچکائے گا اور ملک کے سارے کام کاج ٹھپ ہو جائیں گے۔ جبکہ سول سوسائٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے میں چیف جسٹس اور وزیر اعظم سمیت سبھی لوگ آنے چاہئیں،مگر ہم لوک پال ایک دو دن یا ایک دو سال کے لئے یاموجودہ حالات یا موجودہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو گھیرنے کے لئے تو بنا نہیں رہے ہیں، لوک پال تو اگلے تمام برسوں کے لئے بنایا جارہا ہے، اور لوک پال بن جانے کے باوجود اگر چیف جسٹس کی کرسی پر یا وزیر اعظم کی کرسی پر ایک کرپٹ آدمی پہنچ جاتا ہے توپھر ایسے لوک پال کا کیا فائدہ ہوگا جس کے ہوتے ہوئے بھی ایک کرپٹ شخص دن دونی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اتنے بڑے اور متبرک عہدے تک پہنچ سکا۔
عام لوگوں کا تو یہ ماننا ہے کہ لوک پال کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جاسکے گااور اگر جڑ ہی ختم ہوجائے گی تو بدعنوانی کا پیڑ خود ہی سوکھ کر مٹی میں مل جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ملک کے اتنے بڑے عہدوں تک بدعنوان لوگ پہنچ ہی نہیں پائیں گے، اور اگر پہنچ ہی گئے تو پھر لوک پال کی کیا وقعت رہ جائے گی۔آج ان ہی اداروں، جن پر کبھی بدعنوانی کی روک تھام کی ذمہ داری تھی پر کھلے عام بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں کیا بعید کے کچھ عرصہ بعد لوک پال پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں۔تب لوک پال میں بدعنوانی کو روکنے کے لئے کونسا پال بل لایا جائیگا۔
ایک واقعہ تو میرے اپنے ساتھ پیش آیا۔ یہ شاید97-1996کی بات ہے جب میں ایک کیس کی پیروی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے چکر لگارہا تھا۔یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ہائی کورٹ کی دو متواتربنچوں نے ہمارے خلاف فیصلہ صادر کررکھا تھا۔ پہلے سنگل بنچ نے اورپھرڈبل بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلہ پر مہر ثابت کردی تھی اور جو رہی سہی کسر تھی اسے بھی پوراکردیا تھا۔اس معاملہ کی اپیل سپریم کورٹ میں پینڈنگ تھی۔ ہمیں کئی لوگوں سے خاص کر وکلاء سے دبے الفاظ میںیہ سننے کو ملتا تھا کہ آپ کے مخالف نے جج صاحبان سے سیٹنگ کرلی تھی اسی لئے یہ دونوں فیصلے آپ کے خلاف صادر ہوئے ہیں ورنہ کیس تو آپ کو ہی جیتنا چاہئے تھا ۔ اس کا ثبوت تب ملا جب سپریم کورٹ کی دوہری بنچ کے ایک جج نے پوری کورٹ کو یہ کہتے ہوئے حیرت میں ڈال دیا کہ مجھے اپروچ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایسی چیز یہاں بھی ہورہی ہے‘‘ اور پھر انہوں نے اس کیس سے اپنے آپ کو الگ کرلیا۔اس کے بعد ہمارے ایڈیٹر صاحب نے ہندوستان ٹائمس کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں انہوں نے ذمہ داروں کی توجہ اس جانب مبدول کراتے ہوئے یہ مانگ بھی کی کہ اس واقعہ کی جانچ ہونی چاہئے،اس مراسلے کے شائع ہونے کے باوجود اس سمت کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔بعد کے دنوں میں ایک کے بعد ایک سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اس کیس کو سننے سے انکارکردیا۔ وہ یہی کہتے ’ناٹ بیفور می‘‘ یا یہ کہتے کہ ’’ٹوبی لسٹڈ بیفور اے بنچ آف وچ آئی ایم ناٹ اے ممبر‘‘ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کے ہمارے مخالف کی طرف سے پیروی کرنے والے وکلاء اورکوئی نہیں باپ بیٹے کی مشہورجوڑی ہی تھی۔خیر اس بات کا لب لباب یہ ہے کہ اس وقت تک یہ بات عام تھی کے سپریم کورٹ کو چھوڑ کر سبھی ذیلی عدالتوں میں کرپشن پنپ رہا تھا جوکہ ایک عام بات تھی مگر اس کاسپریم کورٹ تک پیر پسار لینا ایک حیرانی اور افسوس کی بات تھی۔آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کے دودوعدالتوں سے مقدمہ ہارنے کے باوجود، اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اس کیس میں انصاف کی ہی جیت ہوئی اورہم یہ کیس جیت گئے ۔اس کا لب لباب یہ ہے کے اس وقت سپریم کورٹ ہی انصاف کا ایک آسرا تھی اور ہر ایک کو یہ یقین تھاکہ اگر اسے ذیلی عدالتوں سے انصاف نہ بھی ملے گا تو سپریم کورٹ سے تو انصاف مل ہی جائے گا۔
ایک وقت وزیر اعظم کا عہدہ بھی بہت ہی متبرک سمجھا جاتا تھا مگر اس کے باوجود اور باوجود اس کے کہ موجودہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بذات خود بہت ہی ایماندار شخص ہیں ان پر بھی بدعنوانی یا اس میں ملوث لوگوں پر لگام نہ لگانے یعنی منمانی کرنے کی کھلی چھوٹ دینے کے الزامات لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ماضی میں ججوں، وزراء اور وزیراعظم پر الزامات لگتے رہے ہیں ۔ایک نہیں دودووزیر اعظم پر الزامات لگے ، ایک تو وہ جس پر پہلے الزام لگایا گیا تھا اوردوسرا وزیر اعظم وہ جس نے الزام لگایا تھااوراس الزام پر سواری کرتے ہوئے جب وہ خود وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہوگیا تو اس پر بھی بدعنوانی کا الزام لگایا گیا،پہلے پر کوئی بھی الزام ثابت ہی نہیں ہو سکا تو دوسرے پرلگایا گیا ا لزام غلط ثابت ہوا اور اس کے بعد غلط الزام لگانے کے لئے جعلی دستاویز ات تیار کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے۔
اسی طرح کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کمیٹی کے دس میں سے کسی ایک ممبر یا کئی ممبران کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں ، یہ جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور سچے بھی۔ایسی حالت میں ہم کیا کریں گے۔کیا ہم وزیر اعظم سے شکایت کریں گے، نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف کچھ عرضیاں لوک پال کے پاس زیر غورہوں ، تب یہ کہا جائے گا کہ کیونکہ وزیر اعظم کے خلاف عرضیاں زیر غور ہیں اس لئے ان کو لوک پال کے خلاف کارروائی کرنے کا کو ئی اخلاقی اختیارنہیں ہے۔ ایسی حالت میں کیا ہم سپریم کورٹ کا رخ کریں گے، مگر ہو سکتا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ کنہی ججوں یا چیف جسٹس کے خلاف کوئی شکایت لوک پال کے پاس زیر غورہو، اگر ایسا ہوا تو لوگ یہی کہیں گے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر غور کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کے جج پہلے ہی شک کے دائرے میں ہیں جن کی جانچ خود لوک پال کررہا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوک پال کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد پائے جائیں اور سپریم کورٹ لوک پال کو کسی شکایت میں کلین چٹ دے دے، تو لوگ (سول سوسائٹی ) یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ نے لوک پال کو شاید اس لئے کلین چٹ دے دی ہے کیونکہ اس کے اورلوک پال کے درمیان سودا ہوچکا ہے کہ بعد میں لوک پال بھی سپریم کورٹ کے جج کو کلین چٹ دے دے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کو لگے کہ لوک پال کے خلاف شکایت میں کوئی دم ہے اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں ایسی حالت میں کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ لوک پال کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ تفریق پر مبنی ہے کیونکہ لوک پال نے سپریم کورٹ کے کسی جج کے خلاف کوئی معاملہ درج کرنے کے لئے کہہ دیاہے۔
ّآج کل ہم سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے نہیں تھکتے، روزانہ یہ مانگ اٹھتی ہے کہ فلاں معاملے میں لوکل پولیس سے چانچ ہٹا کر سی بی آئی کے سپرد کی جائے۔ مگر کیا سی بی آئی دودھ کی دھلی ہے، کیا وہ دباؤ اور لالچ کے اثر میں نہیں آتی،بے شک آتی ہے۔سی بی آئی جانچ کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے ،زیادہ تربڑے بڑے معاملات میں اس کا کنوکشن ریٹ نہ کے برابرہے۔ بڑے بڑے بیانات دینے کے باوجود ٹرائل کے وقت وکیل دفاع سی بی آئی کے کیس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور سی بی آئی کے گواہوں کو یا تو خرید لیا جاتا ہے یا کھدیڑ دیا جاتا ہے یا وہ اپنے بیانات سے مکر جاتے ہیں۔
سرکار اور سول سوسائٹی ممبران کے درمیان تنازعہ کا سبب یہ ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے سے وزیر اعظم کو باہر رکھا جائے کیونکہ ان کے عہدہ کی ایک مریادا ہے اور ایسا کرنے سے وزیر اعظم کوئی بھی ذمہ داری کھل کر نبھانے سے ہچکائے گا اور ملک کے سارے کام کاج ٹھپ ہو جائیں گے۔ جبکہ سول سوسائٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک پال کے دائرے میں چیف جسٹس اور وزیر اعظم سمیت سبھی لوگ آنے چاہئیں،مگر ہم لوک پال ایک دو دن یا ایک دو سال کے لئے یاموجودہ حالات یا موجودہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو گھیرنے کے لئے تو بنا نہیں رہے ہیں، لوک پال تو اگلے تمام برسوں کے لئے بنایا جارہا ہے، اور لوک پال بن جانے کے باوجود اگر چیف جسٹس کی کرسی پر یا وزیر اعظم کی کرسی پر ایک کرپٹ آدمی پہنچ جاتا ہے توپھر ایسے لوک پال کا کیا فائدہ ہوگا جس کے ہوتے ہوئے بھی ایک کرپٹ شخص دن دونی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اتنے بڑے اور متبرک عہدے تک پہنچ سکا۔
عام لوگوں کا تو یہ ماننا ہے کہ لوک پال کی وجہ سے بدعنوانی کو جڑ سے ختم کیا جاسکے گااور اگر جڑ ہی ختم ہوجائے گی تو بدعنوانی کا پیڑ خود ہی سوکھ کر مٹی میں مل جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ملک کے اتنے بڑے عہدوں تک بدعنوان لوگ پہنچ ہی نہیں پائیں گے، اور اگر پہنچ ہی گئے تو پھر لوک پال کی کیا وقعت رہ جائے گی۔آج ان ہی اداروں، جن پر کبھی بدعنوانی کی روک تھام کی ذمہ داری تھی پر کھلے عام بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں کیا بعید کے کچھ عرصہ بعد لوک پال پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگنے لگیں۔تب لوک پال میں بدعنوانی کو روکنے کے لئے کونسا پال بل لایا جائیگا۔
Tags: Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lok Pal Bill, Prashant Bhushan, Shanti Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

No comments:
Post a Comment