Search

Monday, 6 June 2011

ارے بابا!۔

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 6th June 2011
عفیف احسن
Letter Given By Baba Ramdev
بابارام دیو کا ہٹھ یوگ راج یوگ کے آگے نہیں ٹک سکا ۔ بابا کے ساتھی اور پارٹنر بالکرشن نے سرکار کو یہ لکھت اشواسن دیا تھا کہ وہ اپنا انشن ختم کردیں گے مگر جب حکومت کو یہ لگا کہ وہ اپنی بات سے مکر رہے ہیں اور ان کا انشن ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے توتقریباً چھ سو پولیس اہلکاروں نے رات تقریباً ایک بجے رام لیلا میدان میں موجود بابا رام دیو اور ان کے ہزاروں مداحوں کو منشتر کرنے کے لیے کارروائی کی جس میں آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔اس کارروائی میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آنے کی اطلاعات ہیں، پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں لاٹھی چارج نہیں کیا گیا اور جو بھی لوگ زخمی ہوئے ہیں وہ بھگدڑ کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
اس کارروائی میں بابا رام دیو کو شہر بدر کر دیا گیا اور دہلی میں ان کے داخلے پر پندرہ دن کے لئے روک لگا دی گئی۔ اس کے بعد ایک خصوصی طیارے سے انہیں دہرادون لے جایا گیااور دہرادون سے کار کے ذریعہ انہیں ہردوار میں واقعہ ان کے آشرم پتانجلی یوگ پیٹھ لے جایا گیا اور وہاں پر انہیں چھوڑدیا گیا۔بابا رام دیو کو رام لیلا میدان سے زبردستی لے جایا گیا کیونکہ پولیس سے بچنے کے لیے وہ اپنے مداحوں کی بھیڑ میں کود گئے تھے۔ اس کے بعد بھیڑ بھڑک گئی اور اس نے پولیس پر جو کچھ ہاتھ آیا پھینکنا شروع کردیا۔بعد میں پولیس نے اس ستیہ گرہ کے لیے لگائے گئے شاندار پنڈال کو بھی خالی کرالیا۔رام لیلا میدان کے علاقے میں جہاں یہ آندولن کیا جا رہا تھا اب لوگوں کو دوبارہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے۔
رام دیو نے سنیچر کی صبح بدعنوانی کی خلاف اپنی تحریک شروع کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہیں گے۔ اس تحریک میں بڑی تعداد میں ان کے مداح بھی شامل تھے۔حکومت نے بابا رام دیو کو بھوک ہڑتال کا ارادہ ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے ان سے طویل مذاکرات کی اور جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ دونوں کے درمیان تین تاریخ کو ہی مفاہمت ہو گئی تھی اور بابا کے ساتھی بال کشن نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ اپنا انشن ختم کردیں گے مگر جب حکومت کو لگا کہ بابا اپنی بات سے مکر رہے ہیں تو کپل سبل نے ایک پریس کانفرنس بلاکر بالکرشن کے ذریعہ دئے گئے لکھت اشواسن کو عام کردیا۔ اس پر بابا اور زیادہ ناراض ہوگئے اور انہوں نے حکومت پر وشواس گھات کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے اپنا آندولن جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
بابا رام دیو بدعنوانی کے خلاف حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کا اہم مطالبہ ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن واپس لایا جائے اور بدعنوانی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔بابا رام دیو بدعنوانی کے خلاف حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا اہم مطالبہ ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن واپس لایا جائے اور بدعنوانی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے۔لیکن حکمراں کانگریس کا الزام تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی جماعتیں بابا رام دیو کو استعمال کرکے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں تھا اور حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ بابا رام دیو کو صرف یوگا کیمپ لگانے کی اجازت دی گئی تھی اور جب انہوں نے وہاں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو شہری انتظامیہ نے یہ اجازت منسوخ کر دی تھی۔حقیقت بھی یہی ہے کہ بابا رام دیو کو رام لیلا میدان میں بیس دن کے لئے یوگ شور لگانے کی اجازت پولیس کے ذریعہ دی گئی تھی اور کہا یہ گیا تھا کہ اس شور میں روزانہ پانچ ہزارلوگ آئیں گے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف پانچ ہزار آدمی کے آنے کی بات کرکے بابا نے یوگ شور کی اجازت کیوں لی؟ کیوں نہیں،انہوں نے ستیہ گرہ کرنے کی باقائدہ اجازت طلب کی؟
یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بابا اور حکومت کے درمیان باقاعدہ مفاہمت ہوگئی تھی تو بابا نے ستیہ گرہ واپس کیوں نہیں لیا؟کہیں ایسا تو نہیں کے ان کے پاس ستیہ گرہ واپس لینے کی کوئی طاقت نہیں تھی اور وہ صرف ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کررہے تھے جس کی ڈور کوئی اور پردے کے پیچھے سے ہلا رہا تھا؟
تمام حالات اور گھٹنا کرم کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ حکومت نے اس معاملے کو شطرنج کی چال کی طرح کھیلا۔ پہلے تو عوام کو یہ تائثر دیا گیا کہ حکومت کرپشن کو ختم کرنے کے لئے بہت فکر مند ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے اس نے اپنے بڑے بڑے وزراء کو ائر پورٹ پر بابا رام دیو سے ملنے کے لئے بھیج دیا اور دوسری طرف اپنے اس قدم کو میڈیا میں خوب اچھالا اور لوگوں کو یہاں تک کہنے پر مجبور کردیا کہ حکومت کا بابا کے آگے اتنا جھک جانا بالکل غیر ضروری ہے اوریہ حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ا س کے بعد حکومت نے بابارام دیو کی ساری جائز مانگیں مان لیں اور ان کے ساتھی بال کرشن سے یہ لکھواکر لے لیا کہ وہ اپنا انشن واپس لے لیں گے اور اس کا جلد اعلان کردیں گے۔مگر اس کے بعد کانگریس نے بابا رام دیو پر سیدھا حملہ بول دیا سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ بابا رام دیو آر ایس ایس کے اور بھاجپا کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں، اور ان کے آندولن میں سادھوی رتھمبرا جیسے لیڈر کا ہونا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔کانگریس کا کھل کر بابا رام دیو کی مخالفت میں آنا بہت ہی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ابھی تک کو صرف دگوجے سنگھ ہی بابا رام دیو کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے۔ اس کے بعدکپل سبل نے حکومت کی طرف سے حملہ بولا اور بابا پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے بال کرشن کے ذریعہ دی گئی اس چٹھی کی کاپی پریس والوں کو دکھائی اورکہا کہ بابا نے وعدہ خلافی کی ہے ۔
اس چٹھی کو دکھائے جانے کے بعد بابا پہلے تو کھسیا گئے اور بعد میں انہوں نے حکومت پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا اورکہا کہ یہ چٹھی تو صرف منموہن سنگھ کو دکھانے کے لئے دی گئی تھی اور اس کا عام کیا جانا ان کے ساتھ دھوکے بازی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بابا نے حکومت کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کرہی لیا تھا تو وہ بھولی بھالی جنتا کو کیوں بیوقوف بناتے رہے کہ ابھی تک حکومت نے ان کی مانگیں نہیں مانی ہیں۔ایسی کون سی مانگ تھی جونہیں مانی گئی تھی؟ کہیں کوئی ایسی ذاتی خواہش تو نہیں تھی جسے حکومت نے نہ مانا ہو؟ آخر کب تک یہ بابا لوگ بھولی بھالی جنتا کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟ کب جنتا بیدار ہوگی ؟
ہم ایک طرف تو ہر جگہ شفافیت اور ٹرانسپرنسی کی بات کرتے ہیں مگر جب حکومت کے اور باباؤں اور دوسرے لیڈروں کے درمیان بات چیت ہوتی ہے تو اس میں صرف چند لوگ ہی شامل ہوتے ہیں اور وہ باہر آکر غلط صحیح جو چاہے بیان دے کر عوام کو گمراہ کردیتے ہیں۔ایسی بات چیت جس سے عام آدمی جڑا ہوا ہو اس کی ہرایک بات بند کمرے کے بجائے ٹیلی ویژن کیمرے پر ہونی چاہے تاکہ بعد میں کوئی بھی فریق یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے یہ بات نہیں کہی تھی، اور اس طرح سے میٹنگ میں جانے والے لوگ اپنے نجی مفادات اور ہتوں کی بات کرنے کے بجائے عام آدمی کے ہتوں کی ہی بات کرے گا۔ 
Tags: Afif Ahsen, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, Digijay Singh, Kapil Sibbal, Lok Pal Bill, Manmohan Singh, Singhvi, Vir Arjun

No comments:

Post a Comment