![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 13th June 2011
عفیف احسن
پاکستان فوج نے ایک بیان میں فوجی امداد کی مد میں ملنے والی رقم کو معاشی ترقی کی لئے استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ بیان میں سویلین حکومت کے لیے فوج کی اس پیشکش کو قربانی کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’کانفرنس کے شرکاء پاکستانی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ فوج اپنی حتی الامکان کوشش کرے گی اور ملک کی سلامتی اور عام لوگوں کی بہبود کے لیے قربانیاں دیتی رہے گی‘۔آزادی کے بعد بار بار فوجی آمروں کی حکمرانی اور جمہوریت کے فقدان ، دہشت گردی اور مسلکی حملوں اور طالبانی اثر میں اضافہ کے چلتے پاکستان کے معاشی مسائل میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب وہ معاشی دیوالیہ پن کے راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان کا معاشی نظام تباہ کرنے میں طالبانیوں،ضیاء الحق، پرویز مشرف اور ان سیاستدانوں کا ہاتھ ہے جو اگرچہ ابھی تک خود کو عوامی نمائندہ کہلاتے ہیں مگر درحقیقت اپنی جیبیں بھرنے کیلئے اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کی زیر صدارت منعقد ہوئی اس کورکمانڈرز کانفرنس کے بعد آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کیا‘ اْسے کسی حد تک غیر روایتی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس پریس ریلیز میں مختلف ایشوز پر فوج کا موقف جس واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے‘ اس کی ماضی میں مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ اگرچہ کورکمانڈرز کے اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی بحث ہوتی ہے اور اْس بحث سے فوجی قیادت کی ایک سوچ بھی سامنے آتی ہے تاکہ وہ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی حکمت عملی وضع کرسکے لیکن عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ فوج بعض ایسے معاملات پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتی ہے‘ جو لوگوں کے خیال میں غیر عسکری نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن آئی ایس پی آر کا حالیہ پریس ریلیز کچھ لوگوں کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا۔ پریس ریلیز میں زیادہ تر وہ باتیں کی گئی ہیں‘ جو بدلتے ہوئے حالات میں قوم فوج کی زبان سے سننا چاہتی تھی۔ پریس ریلیز میں فوج نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ امریکی فوجی امداد (کولیشن سپورٹ فنڈ) کی رقم عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ پریس ریلیز میں فوجی قیادت نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ امریکا کے ساتھ انٹیلی شیئرنگ (خفیہ معلومات کا تبادلہ) مکمل شفافیت اور دوطرفہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔ کسی بھی دوسرے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کو پاکستان کی سرزمین پر یکطرفہ کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ڈرون حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ پریس ریلیز میں قوم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔ امریکا کے تربیتی پروگرام بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کورکمانڈرز اجلاس میں ایبٹ آباد کے 2 مئی کے واقعہ اور پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کی روشنی میں پاک امریکا فوجی تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فوج کسی مخصوص سیاسی جماعت کی بجائے جمہوریت کی حمایت جاری رکھے گی اور اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن سیاسی قیادت کے اتفاق سے ہوگا۔
بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا کہ پچھلے دس سالوں میں پاکستانی فوج کے لیے امریکی امداد کے لیے اکثر جو 13 سے 15 ارب ڈالر کے جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ بھی غلط ہیں۔کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ سے جو 13 ارب ڈالر ملنے تھے ان میں سے صرف 6ء 8 ارب ڈالر ملے ہیں۔ اسکے علاوہ پاکستانی حکومت کے توسط سے فوج کو ڈیڑھ ارب ڈالر ملے جبکہ نسبتاً کم رقم پاکستانی بحریہ اور فضائیہ کو ملی۔ باقی 6 ارب ڈالر حکومت پاکستان نے بجٹ میں استعمال کیے جو بہرحال پاکستانی عوام پر خرچ ہوئے‘۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فوج کی طرف سے ایسا بیان جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت اتنی ابتر ہے کہ اب زیادہ دیر تک عوام کے غصہ کو دبائے رکھنا ممکن نہیں ہے اور شاید فوج نے اس بات کا احساس دلایا ہے کہ سیاست داں صورت حال کا ادراک کریں۔جس عوام کو روٹی تک میثرنہ ہواس کو میزائل ، گولا بارود اور ایٹمی اسلحہ سے کب تک بہلا یا جاسکتا ہے۔ گولی سے سینے کی آگ تو بجھائی جاسکتی ہے مگر پیٹ کی آگ تو صرف روٹی سے ہی بجھائی جاسکتی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج ملک جس سنگین صورت حال سے دوچار ہے‘ اْس میں سب سے بڑا کردار سابقہ فوجی آمروں کا ہے‘ جنہوں نے اپنے اقتدار کی خاطر قومی مفادات کو داؤ پر لگادیا اور ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔ لیکن موجودہ فوجی قیادت کی سوچ بہت مختلف ہے اور اْس نے اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ سیاسی حلقے اپنی سوچ تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ آج بھی یہی چاہتے ہیں کہ پرانی سیاسی صف بندیاں قائم رہیں‘ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے اور سیاسی عدم استحکام کا فائدہ اْٹھا کر وہ اپنے مقاصد حاصل کریں۔
ابھی تک پاکستان کے عوام کایہی ماننا تھ کہ پاکستانی افواج ملک کو لوٹ کر کھارہی ہیں اور پاکستانی جنرل اپنا پیٹ بھرنے اور عیاشیوں پر لمبی چوڑی رقم خرچ کرنے میں ہی یقین رکھتے ہیں اورپاکستانی افواج کو دہشت گردی سے لڑنے کے لئے دی جانے والی کولیشن کی امداد صرف اورصرف فوجی حکام کو خوش کرنے اور ان کا پیٹ بھرنے کے کام آتی ہے۔جنرل کیانی کا بیان اگر صرف بیان نہ ہوکر ایک کمٹمنٹ ہے تو یہ جہاں ایک طرف پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مددکرے گا وہیں دوسری طرف اس بر صغیر میں اسلحہ کی دوڑ کو بھی کم کرنے میں مدد گار ہوگا اور ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بھی خاطر خواہ بہتری آنے کی امید ہے۔پاکستانی جنرل کے اس بیان کی روشنی میں ایسا محصوص ہوتا ہے کہ جس طرح مشرف نے نوازشریف اور واجپئی کے امن مزاکرات پر کارگل میں پانی پھیر دیا تھا اسی طرح کا اقدام موجودہ چیف آف اسٹاف جنرل کیانی کے ذریعہ کئے جانے کی امیدیں بہت کم ہیں۔
Tags: Afif Ahsen, Daily Pratap, General Kayani, Pakistan, Pakistan Army, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorism, Vir Arjun, Zia Ul Haque

No comments:
Post a Comment