Search

Monday, 27 June 2011

گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 27th June 2011
عفیف احسن
اٹل بہاری باجپئی جی کو جب بھی موقعہ ملا انہوں نے اپنے پڑوسی ممالک سے رشتے استوار کرنے کی کوشش کی۔ 1977میں جب جنتا پارٹی کی حکومت میں وہ وزیرخارجہ بنے تو انہوں نے پاکستان آنے جانے کی سہولیات بڑھائیں۔ اس کے بعد جب 1998میں وہ ملک کے دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کی اور بذات خود ایک عوامی ڈیلیگیشن کے ہمراہ 20فروری 1999کو دہلی۔ لاہور بس کی افتتاحی سروس سے پاکستان تشریف لے گئے ۔ اس سروس کو صدائے سرحد کا نام دیا گیا تھا۔ اس سفر میں وہ اپنے ہمراہ پرتاپ کے ایڈیٹر مرحوم کے نریندرکو بھی لے گئے تھے، جسے وہ ایک یادگار سفر بتایا کرتے تھے۔
اس سفر میں اپنے ہمراہ جانے کے لئے انہوں نے علی سردارجعفری کو بھی مدعو کیا تھا مگر کیونکہ ان کی طبیعت اس وقت علیل تھی اس لئے انہوں نے اپنی معذوری ظاہر کی مگراپنی البم’ سرحد‘ کی 10کیسٹیں باجپئی جی کو بھیجیں تاکہ وہ اسے پاکستان کے شاعروں اور قلم کاروں کو محبت اور دوستی کے پیغام کے طور پر دے سکیں۔
اس البم میں پانچ نظمیں ہیں جو کہ ہند پاک کے عوام کے محبت اور بھائی چارے کے جذبے کے نام کی گئیں ہیں جن میں سے ایک کچھ اس طرح ہے:

گفتگو بند نہ ہو ، بات سے بات چلے
صبح تک شمع ملاقات چلے
ریگزاروں سے عداوت کے گزر جائیں گے
خون کے دریاؤں سے ہم پار اتر جائیں گے

باجپئی صاحب نے اورپاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف صاحب نے اس سفر کے دوران لاہور اعلامیہ پر دستخط کئے جس میں تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے،تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور آپسی دوستی کو وسیع کرنے پر زور دیا گیا جس سے 1998کے ایٹمی تجربہ کے بعد پیدا ہوئی تلخی کو کم کرنے میں مدد ملی۔اس کے بعد نہ صرف دونوں ممالک نے راحت کی سانس لی بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اور پوری دنیانے اس کا خیر مقدم کیا۔
مگر جہاں ایک طرف نواز شریف اور باجپئی گلے مل رہے تھے وہیں دوسری طرف پاکستانی فوج، جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں دوسرے ہی محاز پر کار فرما تھی۔ پاکستان آرمی نے کارگل میں دراندازی شروع کردی تھی اوراس در اندازی میں دہشت گرد اور پاکستان کے سادے کپڑوں میں ملبوس فوجی شامل تھے جو کہ پاکستانی افواج کے روائتی ہتھیاروں سے مسلح تھے اور وہ تیزی کے ساتھ پہاری چوٹیوں پرقبضہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔حالانکہ یہ مہم کارگل پر مرکوز تھی مگر اس میں بالٹک اور اخنور سیکٹر بھی شامل تھا اور سیاچن میں بھی آرٹلری فائرنگ ہوئی۔ اس حملہ کا ہندوستان نے منہ توڑ جواب دیا اور پاکستانی افواج کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس حملے کے لئے پاکستانی انتظامیہ نے بعد میں معافی مانگی مگر پرویز مشرف نے جو نقصان کرنا تھا وہ تو وہ کرہی چکے تھے۔ پھر 1998 میں ایک فوجی تختہ پلٹ میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معذول کرکے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور اس کے بعدایسا لگا کہ بات چیت کے تمام راستے مسدود ہوگئے ہیں۔
مگر پھر15اور 16جولائی 2001کو باجپئی اور مشرف کے درمیان آگرا میں امن مزاکرات ہوئے اور دودنوں کے درمیان یہ بات چیت ناکام ہوگئی اور کوئی باقاعدہ سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ بات چیت ناکام ہونے کے باوجود باجپئی اور مشرف نے دونوں ملکوں سے پرانی کدورتیں بھلانے کی اپیل کی اورکہا کہ ہند پاک کے درمیان مسائل کافی پیچیدا ہیں اور اتنے کم وقت میں انہیں حل نہیں کیا جاسکتا۔ مشرف نے باجپئی کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
مگر13دسمبر2001کوجیش محمد اور لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے جن کی پشت پناہی مبینہ طور پر پاکستان کررہا تھا ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ کردیا اس کے بعد ہند پاک تعلقات میں بہت بڑی خلیج حائل ہوگئی۔ ہندوستانی عوام کے زبردست دباؤکے آگے ہندوستان نے اپنی فوجیں ہند پاک سرحد اور کشمیر میں ایل او سی پر لگادیں اور پاکستان نے بھی اپنی فوجیں سرحد پر لگادیں۔
کافی دنوں تک دونوں طرف کی افواج جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار سرحد پر تعینات رہیں۔اس کے بعد تھوڑا جھکتے ہوئے 12جنوری 2002کو جنرل مشرف نے ہندوستان کو تسلی دینے کے لئے یہ بیان جاری کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے نپٹے گا۔ مگر پھر بھی وہ کشمیر کا راگ الاپنے سے نہیں چوکے۔
اگست 2003میں باجپئی جی نے پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے ایک آخری قدم کی وکالت کی۔ چاروں طرف سے پڑنے والے دباؤ کے بعد مشرف نے25ستمبر2003کو اقوام متحدہ کے اجلاس عام میں ہند پاک کے درمیان سیزفائر کی مانگ اٹھائی۔ کافی تگ و دو کے بعد25 دسمبر2003کو دونوں ممالک نے سیز فائر کا اعلان کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والی سارک سمٹ میں دونوں ممالک کے سربراہان نے 5جنوری 2004کو ملاقات کی اوربات چیت اور اعتماد سازی کا دوردوبارہ شروع ہوا۔
2004میں الیکشن جیتنے کے بعد منموہن سنگھ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے اور انہوں نے بھی بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھااور اعتماد سازی کے کئی قدم اٹھائے جن میں نیا ریل روٹ،اور کشمیر سے متعلق کئی اعتماد سازی کے قدم شامل ہیں جیسے کے ٹرپل اینٹری پرمٹ جاری کرنا تاکہ ایل او سی کو پار کرنے میں سہولت ہوسکے،دونوں ممالک کے وزراء نے کئی تجارتی راستوں کو کھولنے پر بھی اتفاق کیا جس میں واگہ۔اٹاری روڈ لنک اور کھوکراپار۔مناباؤ ریل لنک اور کشمیر میں سرینگر۔مظفرآباد اور پونچھ ۔راولکوٹ روڈلنک بھی شامل ہیں۔
مگر26نومبر2008کو ہوئے ممبئی حملہ میں یہ پائے جانے کے بعد کے اس حملہ میں جس میں تقریباً180شہری اور پولیس والے شہید ہوگئے تھے ملوث لوگوں کا تعلق پاکستان سے تھااور ان کے درپردہ مدد کرنے والے لوگ بھی پاکستان میں ہی ہیں اور قصاب کی گرفتاری کے بعد جس نے ساری کہانی تفصیل سے بتائی ہندوستان اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں پھر سے ایک خلیج پیدا ہوگئی اور اس کے بعد بات چیت ایک بار پھر ٹوٹ گئی کیونکہ پاکستان نے اپنے ملک میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے ہینڈلرس کو ہندوستان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور یہ کہا کہ وہ ان کو اپنے ملک میں ہی سزا دلائے گا۔
اس کے بعد جولائی 2009میں مصر کی گرمی سے ہند پاک تعلقات کی برف اس وقت پگھلی جب دونوں ممالک کے وزیر اعظم نے نان الائنڈ سمٹ کے دوران ایک دوسرے سے علاحدہ سے ملاقات کی اور یہ بیان دیا کہ وہ ہند پاک تعلقات کو آگے بڑھانے کے لئے راہ ہموارکریں گے۔
بعد میں ہندوستانی وزیر خارجہ نے جولائی 2010میں اسلام آباد میں پاکستان کے اپنے ہم منصب قریشی سے ملاقات کی، ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے بلاوے پرورلڈ کپ کرکٹ سیمی فائنل میچ دیکھنے موہالی آئے پاکستانی وزیر اعظم گیلانی کی ملاقات اور بات چیت ہوئی۔
گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں اختتام پذیرہوئی سیکریٹری لیول کی بات چیت کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگرہندوستان پاکستان کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ہند پاک تعلقات میں فوجی ٹکراؤ کی کوئی جگہ نہیں ہے اوربندوق کی نوک نیچی ہونی چاہئے۔
اس پیش رفت کی پہلی نشانی مشتر کہ پریس کانفرنس تھی اور دسری مشترکہ بیان۔ پاکستانی خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے خاموشی سے ہندوستانی خارجہ سیکریٹری کے دہشت گردی سے متعلق بیان کو سنا۔ نروپما راؤ نے 26/11حملہ میں ملوث ملزمین کے دھیمے ٹرائل اور دھیمی رفتار سے چل رہی جانچ کا مدع اٹھایا اورشکاگو میں تہور رانا کے ٹرائل میں سامنے آئے ثبوتوں کا معاملہ اٹھایا۔ راؤ نے لشکر اور آئی ایس آئی کے درمیان رشتے کی جانچ کی مانگ بھی رکھی۔ حالانکہ بشیر نے یہ وعدہ تو نہیں کیا کہ وہ ٹرائل کو تیزی سے آگے بڑھوائیں گے یا یہ کے ہندوستان کی طرف سے مہیا کرائے گئے ثبوتوں کو گہرائی سے لیا جائے گا مگرماحول گرم نہیں ہونے پایا۔
اس ملاقات نے دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات کے لئے کافی مواد فراہم کردیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ بات چیت کس راہ پر آگے بڑھتی ہے ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیاکا بڑے سے بڑا مسئلہ بات چیت سے ہے حل ہوا ہے اور بات چیت کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔
Tags: 26/11, Afif Ahsen, Atal Behari Vajpayee, Daily Pratap, Geelani, ISI, Krishna, Manmohan Singh, Nawz Sharif, Pakistan, Parvez Musharraf, Vir Arjun

No comments:

Post a Comment