گزشتہ جمعرات کو انفورسمینٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) نے حسن علی اور کاشی ناتھ تاپوریاکی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی شروع کردی جس کی مالیت تقریباً 50کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ای ڈی کے ذریعہ اس کو ایک بڑی کامیابی بتایا جارہا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے معاملے میں جس میں انکم ٹیکس محکمہ نے ٹیکس کی 50,000کروڑ روپئے کی ڈیمانڈ نکال رکھی ہواور اگر اس میں صود کی رقم کو شامل کرلیا جائے تو یہ رقم بڑھ کراب تک 80,000کروڑ روپئیہوگئی ہو گی، یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ سال راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ مانا تھا کہ حسن علی پر واجب الادا ٹیکس کی رقم سود سمیت 70 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے جس کے عوض صرف 50کروڑ کی مالیت کی جائداد ہی ضبط کی گئی ہے وہ بھی اتنے برسوں کے بعد۔
ای ڈی حسن علی خان اورتاپوریا کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔اوراس نے پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کرکے ان دونوں کی جائداد کی قرقی کی کارروائی کو شروع کردیا۔ ای ڈی افسران نے خان کی پونہ اور ممبئی کی جائدادیں ضبط کی ہیں اور تاپوریا کی دہلی کی جائداد قرق کی ہیں۔ اس میں خان کا دس ہزار مربع فٹ کا پونہ کا بنگلہ اور ممبئی کے پیڈر روڈ کا عالیشان بنگلہ اورمہنگی کاروں کا ایک پورا بیڑا اور تاپوریا کی دہلی کے پاش علاقہ پرتھوی راج روڈ پر واقع جائداد شامل ہیں۔حالانکہ ای ڈی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں ان دونوں کی اور جائدادوں کی قرقی بھی عمل میں آئے گی ۔
حسن علی کی شروعات بہت ہی معمولی تھی۔ اس نے 1970 میں اینٹیک کا کام بند کرکے کار رینٹل سروس شروع کی اور پھر 1988 میں وہ یہ کام چھوڑ کر دبئی چلاگیا اور وہاں اس نے کباڑ(میٹل اسکریپ)کا کاروبار شروع کیا۔1990 سے 93 تک اس کے خلاف دھوکہ دہی کے 6 معاملے درج ہوئے جس کے بعد اس کا نام ’چور حسن‘ پڑ گیا۔1993میں اس نے ممبئی کے ریس کورس میں ریس میں پیسہ لگانا شروع کیا۔1995 تک اس نے گھڑدوڑ کا اپنا کاروبار چنئی ، پونہ ، دہلی اور بنگلور تک بڑھا لیا۔پتا نہی ایسا کیا ہوا کہ اس گھوڑوں کے سوداگر کی دولت 6 برسوں میں سو گنا بڑھ گئی ۔کیگ نے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حسن علی خان کی آمدنی 2001-02 میں 528.9 ملین تھی جو محض 6 سالوں میں سو گنا سے بھی زیادہیعنی 54268.6 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ہزاروں کروڑ کمانے کے باوجود اس نے نہ تو کوئی ریٹرن فائل کی اور نہ ہی کوئی ٹیکس ہی ادا کیاہے۔
خفیہ ایجنسیاں حسن علی پر ایک عرصے سے نظر رکھے ہوئیتھیں۔ اسی دوران خفیہ ایجنسیوں نے ایک ٹیلی فون بات چیت ٹیپ کی جس میں حسن علی یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ کے اپنے پورٹ فولیو منیجر سے بات کر رہا تھا۔ اس پورٹ فولیو منیجر سے جتنی بڑی رقم کی منتقلی کی بات سنی گئی، اس سے ٹیلی فون سننے والے چکرا گئے۔ پھراس ٹیلی فون بات چیت کو خفیہ ایجنسیوں کی مانیٹرنگ ایجنسی کو سونپ دیا گیا۔ افسران کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ حسن علی پر کیسے ہاتھ ڈالاجائے؟ تب جاکے یہ کام محکمہ انکم ٹیکس کو سونپا گیااور یہ فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ انکم ٹیکس حسن علی کے گھر چھاپا مارے۔ انکم ٹیکس افسران جب حسن علی کے گھر پر چھاپہ مارنے پہنچے تو اس کے مکان میں 8.04 بلین ڈالر (تقریبا 38 ہزار کروڑ روپے) یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (یوبی ایس بینک) میں جمع ہونے کی دستاویزات ملے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے یہاں سے بھاری مقدار میں نقدی اور کروڑوں روپے کے زیور ات بھی برآمد کئے ۔ حسن علی خان کے لین دین میں بھارتی بینکنگ قانون کی شدید خلاف ورزی پائی گئی ۔ محکمہ انکم ٹیکس کے اس چھاپے کے بعد پہلی بار حسن علی کا نام شہ سرخیوں میں آیا۔
انکم ٹیکسقانوں کچھ ایسا ہے کہ چھاپے کے دوران محکمہ انکم ٹیکس جب کوئی کاغذات ضبط کرتا ہے تو وہ اس وقت تک فائل بند نہیں کر سکتا جب تک کہ متعلقہ شخص خود یہ ثابت نہ کر دے کہ اس کے یہاں سے ملے کاغذ ات بے معنیٰ ہیں۔ اگر متعلقہ شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا ہے تو اس کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کارروائی کرنے کامجاز ہوتا ہے۔محکمہ انکم ٹیکس نے حسن علی پر الزام لگایا کہ حسن علی غیر ملکی بینکوں میں کالا روپیہ جمع کرنے والے ہندوستانیوں کے لئے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے بدلے وہ ایسے لوگوں سے کمیشن وصول کرتا تھا۔
حسن پریہ الزام بھی ہے کہ اس نے عدنان خشوگی کی غیر قانونی رقم کی سرمایہ کاری میں مدد کی اور بڑے پیمانے پر اس کے رقم کی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی۔ خفیہ ایجنسیوں کو یہ شک بھی ہے کہ خان کے تعلقات داؤد سے بھی ہیں۔سرکاری ایجنسیوں کے مطابق حسن کے کاروباری کام کاج سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کا ارادہ کالی کمائی کو بیرونی ممالک میں جمع کرنے کاتھا۔ دہشت گرد سرگرمیوں اور اس غیر قانونی رقم کے درمیان کسی تعلق کی گہری جانچ کی بات بھی ای ڈی نے کی تھی۔ای ڈی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا حسن نے اربوں ڈالر کا کالادھن پارٹسپیٹری نوٹ کے ذریعے ہندوستان کے حصص بازاروں میں لگایا ہے۔ اور اگر ہاں ، تو وہ رقم کتنی ہے؟اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حسن علی آزاد گھومتا رہا اور اپنے خلاف ثبوتوں کو مٹا تا رہا۔
حسن علی پربرسوں سے نظر رکھ رہی کئی سرکاری ایجنسیاں اگر اسے گرفتار نہ کر سکیں تو یہ صرف ان کی ناکامی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کی وجہ کچھ اور ہے۔ حسن کو کئی بڑے قائدین کی پناہ ملی ہوئی تھی۔ ایک ویڈیو ریکارڈنگ جسکو خفیہ طور پر کرنے اور پریس کو لیک کرنے کاالزام ایک آئی پی ایس آفیسر اشوک دیشبھرپر لگایا جارہا ہے جس میں یہ ریکارڈ ہے کہ جب پولیس والے حسن سے اس کے سوئس بینک میں جمع روپے کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے تو وہ ان سے کہتاہے کہ تم لوگ پاسپورٹ کے بارے میں پوچھو، یوسف لکڑوالا کی دو قائدین سے بات چل رہی ہے ، سوئس بینک کا معاملہ سیٹل ہو جائے گا۔
مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے بھی اس پر تبھی ہاتھ ڈالاجب سپریم کورٹ نے کڑا رخ اپنایا۔سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا کہ ہتھیار کاروباری اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں سے رابطہ رکھنے کے الزام میں حسن علی کے خلاف پوٹا سمیت دیگر سخت قوانین کے تحت مقدمہ کیوں نہیں درج کیاگیا؟
ای ڈی کے ذرائع نے یہ بات لیک کی تھی کہ حسن علی نے تفتیش کے دوران کئی سابقہ وزراء اعلیٰ ،بڑے نوکر شاہوں اور صنعت کاروں کا نام لیا تھاجن کے لئے اس نے کالی کمائی کو سفید کیا تھا۔مگر جو چارج شیٹ اس نے فائل کی ہے اس میں کسی بھی سیاست داں ، افسر یا بڑے صنعت کار کا نام نہیں ہے۔ اور اس چارج شیٹ میں جو رقم بتائی گئی ہے وہ بھی کچھ سو کروڑ روپئے ہے۔جبکہ ابھی تک اسے کو بہت بڑا اسکیم بتایا جارہا تھا۔اصل جرم کے بجائے اس چارج شیٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکس چور نے کس طرح نظام کے جواہرات کو غیر قانونی طور پر بیچنے میں مدد کی۔
یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ ای ڈی کے لوگ سرکار کے ماتحت کام کرتے ہیں اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کی وہ کھل کر سیاست دانوں کے نام لیں ۔حسن علی کے کیس میں صرف دوقدر غیر اہم سیاست دانوں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے ان میں سے ایک ہیں بہار کانگریس کے املیندو پانڈے اور دوسے پڈوچیری کے گورنر اقبال سنگھ، مگر ان دونوں کا نام بھی چارج شیٹ ندارد ہے۔
ان حالات میں ایسا محصوص ہوتا ہے کہ اتنے بڑے معاملے میں اب صرف پچاس کروڑ کی جائداد کا ضبط کیا جانا بھی ایک خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور ایسا صرف سپریم کورٹ کوخوش کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔
ای ڈی حسن علی خان اورتاپوریا کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔اوراس نے پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کرکے ان دونوں کی جائداد کی قرقی کی کارروائی کو شروع کردیا۔ ای ڈی افسران نے خان کی پونہ اور ممبئی کی جائدادیں ضبط کی ہیں اور تاپوریا کی دہلی کی جائداد قرق کی ہیں۔ اس میں خان کا دس ہزار مربع فٹ کا پونہ کا بنگلہ اور ممبئی کے پیڈر روڈ کا عالیشان بنگلہ اورمہنگی کاروں کا ایک پورا بیڑا اور تاپوریا کی دہلی کے پاش علاقہ پرتھوی راج روڈ پر واقع جائداد شامل ہیں۔حالانکہ ای ڈی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں ان دونوں کی اور جائدادوں کی قرقی بھی عمل میں آئے گی ۔
حسن علی کی شروعات بہت ہی معمولی تھی۔ اس نے 1970 میں اینٹیک کا کام بند کرکے کار رینٹل سروس شروع کی اور پھر 1988 میں وہ یہ کام چھوڑ کر دبئی چلاگیا اور وہاں اس نے کباڑ(میٹل اسکریپ)کا کاروبار شروع کیا۔1990 سے 93 تک اس کے خلاف دھوکہ دہی کے 6 معاملے درج ہوئے جس کے بعد اس کا نام ’چور حسن‘ پڑ گیا۔1993میں اس نے ممبئی کے ریس کورس میں ریس میں پیسہ لگانا شروع کیا۔1995 تک اس نے گھڑدوڑ کا اپنا کاروبار چنئی ، پونہ ، دہلی اور بنگلور تک بڑھا لیا۔پتا نہی ایسا کیا ہوا کہ اس گھوڑوں کے سوداگر کی دولت 6 برسوں میں سو گنا بڑھ گئی ۔کیگ نے پارلیمنٹ میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حسن علی خان کی آمدنی 2001-02 میں 528.9 ملین تھی جو محض 6 سالوں میں سو گنا سے بھی زیادہیعنی 54268.6 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ہزاروں کروڑ کمانے کے باوجود اس نے نہ تو کوئی ریٹرن فائل کی اور نہ ہی کوئی ٹیکس ہی ادا کیاہے۔
خفیہ ایجنسیاں حسن علی پر ایک عرصے سے نظر رکھے ہوئیتھیں۔ اسی دوران خفیہ ایجنسیوں نے ایک ٹیلی فون بات چیت ٹیپ کی جس میں حسن علی یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ کے اپنے پورٹ فولیو منیجر سے بات کر رہا تھا۔ اس پورٹ فولیو منیجر سے جتنی بڑی رقم کی منتقلی کی بات سنی گئی، اس سے ٹیلی فون سننے والے چکرا گئے۔ پھراس ٹیلی فون بات چیت کو خفیہ ایجنسیوں کی مانیٹرنگ ایجنسی کو سونپ دیا گیا۔ افسران کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ حسن علی پر کیسے ہاتھ ڈالاجائے؟ تب جاکے یہ کام محکمہ انکم ٹیکس کو سونپا گیااور یہ فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ انکم ٹیکس حسن علی کے گھر چھاپا مارے۔ انکم ٹیکس افسران جب حسن علی کے گھر پر چھاپہ مارنے پہنچے تو اس کے مکان میں 8.04 بلین ڈالر (تقریبا 38 ہزار کروڑ روپے) یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ (یوبی ایس بینک) میں جمع ہونے کی دستاویزات ملے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ان کے یہاں سے بھاری مقدار میں نقدی اور کروڑوں روپے کے زیور ات بھی برآمد کئے ۔ حسن علی خان کے لین دین میں بھارتی بینکنگ قانون کی شدید خلاف ورزی پائی گئی ۔ محکمہ انکم ٹیکس کے اس چھاپے کے بعد پہلی بار حسن علی کا نام شہ سرخیوں میں آیا۔
انکم ٹیکسقانوں کچھ ایسا ہے کہ چھاپے کے دوران محکمہ انکم ٹیکس جب کوئی کاغذات ضبط کرتا ہے تو وہ اس وقت تک فائل بند نہیں کر سکتا جب تک کہ متعلقہ شخص خود یہ ثابت نہ کر دے کہ اس کے یہاں سے ملے کاغذ ات بے معنیٰ ہیں۔ اگر متعلقہ شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا ہے تو اس کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کارروائی کرنے کامجاز ہوتا ہے۔محکمہ انکم ٹیکس نے حسن علی پر الزام لگایا کہ حسن علی غیر ملکی بینکوں میں کالا روپیہ جمع کرنے والے ہندوستانیوں کے لئے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے بدلے وہ ایسے لوگوں سے کمیشن وصول کرتا تھا۔
حسن پریہ الزام بھی ہے کہ اس نے عدنان خشوگی کی غیر قانونی رقم کی سرمایہ کاری میں مدد کی اور بڑے پیمانے پر اس کے رقم کی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی۔ خفیہ ایجنسیوں کو یہ شک بھی ہے کہ خان کے تعلقات داؤد سے بھی ہیں۔سرکاری ایجنسیوں کے مطابق حسن کے کاروباری کام کاج سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کا ارادہ کالی کمائی کو بیرونی ممالک میں جمع کرنے کاتھا۔ دہشت گرد سرگرمیوں اور اس غیر قانونی رقم کے درمیان کسی تعلق کی گہری جانچ کی بات بھی ای ڈی نے کی تھی۔ای ڈی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا حسن نے اربوں ڈالر کا کالادھن پارٹسپیٹری نوٹ کے ذریعے ہندوستان کے حصص بازاروں میں لگایا ہے۔ اور اگر ہاں ، تو وہ رقم کتنی ہے؟اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حسن علی آزاد گھومتا رہا اور اپنے خلاف ثبوتوں کو مٹا تا رہا۔
حسن علی پربرسوں سے نظر رکھ رہی کئی سرکاری ایجنسیاں اگر اسے گرفتار نہ کر سکیں تو یہ صرف ان کی ناکامی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کی وجہ کچھ اور ہے۔ حسن کو کئی بڑے قائدین کی پناہ ملی ہوئی تھی۔ ایک ویڈیو ریکارڈنگ جسکو خفیہ طور پر کرنے اور پریس کو لیک کرنے کاالزام ایک آئی پی ایس آفیسر اشوک دیشبھرپر لگایا جارہا ہے جس میں یہ ریکارڈ ہے کہ جب پولیس والے حسن سے اس کے سوئس بینک میں جمع روپے کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے تو وہ ان سے کہتاہے کہ تم لوگ پاسپورٹ کے بارے میں پوچھو، یوسف لکڑوالا کی دو قائدین سے بات چل رہی ہے ، سوئس بینک کا معاملہ سیٹل ہو جائے گا۔
مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے بھی اس پر تبھی ہاتھ ڈالاجب سپریم کورٹ نے کڑا رخ اپنایا۔سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا کہ ہتھیار کاروباری اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں سے رابطہ رکھنے کے الزام میں حسن علی کے خلاف پوٹا سمیت دیگر سخت قوانین کے تحت مقدمہ کیوں نہیں درج کیاگیا؟
ای ڈی کے ذرائع نے یہ بات لیک کی تھی کہ حسن علی نے تفتیش کے دوران کئی سابقہ وزراء اعلیٰ ،بڑے نوکر شاہوں اور صنعت کاروں کا نام لیا تھاجن کے لئے اس نے کالی کمائی کو سفید کیا تھا۔مگر جو چارج شیٹ اس نے فائل کی ہے اس میں کسی بھی سیاست داں ، افسر یا بڑے صنعت کار کا نام نہیں ہے۔ اور اس چارج شیٹ میں جو رقم بتائی گئی ہے وہ بھی کچھ سو کروڑ روپئے ہے۔جبکہ ابھی تک اسے کو بہت بڑا اسکیم بتایا جارہا تھا۔اصل جرم کے بجائے اس چارج شیٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکس چور نے کس طرح نظام کے جواہرات کو غیر قانونی طور پر بیچنے میں مدد کی۔
یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ ای ڈی کے لوگ سرکار کے ماتحت کام کرتے ہیں اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کی وہ کھل کر سیاست دانوں کے نام لیں ۔حسن علی کے کیس میں صرف دوقدر غیر اہم سیاست دانوں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے ان میں سے ایک ہیں بہار کانگریس کے املیندو پانڈے اور دوسے پڈوچیری کے گورنر اقبال سنگھ، مگر ان دونوں کا نام بھی چارج شیٹ ندارد ہے۔
ان حالات میں ایسا محصوص ہوتا ہے کہ اتنے بڑے معاملے میں اب صرف پچاس کروڑ کی جائداد کا ضبط کیا جانا بھی ایک خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور ایسا صرف سپریم کورٹ کوخوش کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔
Tags: Adnan Khashogi, Afif Ahsen, Daily Pratap, Enforecement Directorate, Hasan Ali Khan, Kashi Nath Tapuria, Supreme Court, Swiss Bank Account, Vir Arjun

No comments:
Post a Comment