Search

Monday, 18 July 2011

اگرماضی کے حملوں سے سبق سیکھا ہوتا

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 18th July 2011
عفیف احسن
جب بھی ملک میں کہیں بھی کوئی دہشت گردانہ واردات ہوتی ہے تو اس پر پورے ملک میں بہت ہو ہلہ ہوتاہے اور سیاسی جماعتیں مرنے والوں کی چتا کی آگ میں اپنے ہاتھ تاپنے میں لگ جاتی ہیں۔یہی نہیں سیاست داں بھی اس آگ میں ہاتھ تاپنے سے نہیں چوکتے۔ وہ اپنی مخالف پارٹی کے خلاف طرح طرح کے بیانات دینے میں لگ جاتے ہیں۔یہی نہیں وہ اپنے ساتھیوں کے خلاف بھی بیانات دینے سے نہیں چوکتے اور ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے، دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے، ایک خاص روش اپنانے ،دہشت گردی کے خلاف کوئی جامع پالیسی وضع نہ کرنے اور ایک دوسرے کو کوسنے کے علاوہ اور کوئی ٹھوس کام نہیں کرتے۔
حکومت سے باہر بیٹھے کچھ سیاست دانوں کی باتوں سے لگتا ہے کہ اگروہ اقتدار میں ہوتے تو دہشت گردی کو چٹکی بجاکرختم کردیتے اور دہشت گردوں کوپکڑنے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ذرا بھی وقت ضائع نہ کرتے۔غرض یہ کہ ہرسیاست داں ایسی واردات کے بعدخالی شوروشغب برپا کرنے کے علاوہ کو ئی ٹھوس کام نہیں کرتا۔ یہی نہیں ہر حملہ کے بعد دئے جانے والے بیانات اتنے گھسے پٹے ہوتے ہیں کے ایک عام شہری ان پرسرسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتاہے۔
بہت لے دے کے بعد ایک کمیٹی بنادی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کمیٹی اس بات کی جانچ کرے گی کے کیااس حملہ میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے اورایسے حملوں کو روکنے کے لئے دیرپااصول مرتب کرے گی اور سیکورٹی کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے سجھاؤ دے گی۔
جب 26نومبر2008کو ممبئی پر پاکستانی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھاتواس کے بعد ہندوستانی عوام میں بہت زبردست غصہ پھیل گیا تھااس کے بعد مرکزی سرکار نے اور صوبائی سرکار نے دہشت گردوں سے نپٹنے کے لئے کئی اعلانات کئے۔ مہاراشڑسرکار نے ایک سابق گورنر اورسابق یونین ہوم سیکریٹری رام پرھان کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی،جس میں سابق آئی پی ایس آفیسروی بالاچندرن بھی تھے ،جس کا کام یہ تھا کے وہ یہ پتا لگائے کہ پولیس اور انتظامیہ کے ردعمل میں کہاں کوتاہی ہوئی۔
کمیٹی نے دو حصوں میں اپنی رپورٹ پیش کی۔مگر اس رپورٹ کو بہت ہی حساس نوعیت کی بتا کر مہاراشٹر سرکار نے اسے عام کرنے سے انکار کردیا۔مگر اس نے یہ وعدہ کیا کہ اس رپورٹ پر پوری طرح سے عمل کیا جائے گا۔
مگراب پھرہندوستان کے اقتصادی مرکز ممبئی میں بدھ کی شام یکے بعد دیگرے تین بم دھماکے ہوئے جن میں اب تک19 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکے دہشت گرد تھے۔ لیکن انکی ذمہ داری کسی گروپ پر نہیں ڈالی گئی ہے۔ نہ ہی کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دو دھماکے جنوبی ممبئی میں معروف اوپرا ہاؤس اور زاویری بازار جب کہ تیسرا اس ساحلی شہر کے وسطی علاقے دادر میں ہوا ہے۔ تینوں مقاما ت کا شمار ممبئی کے گنجان آباد علاقوں میں ہوتا ہے۔
ان دھماکوں کے بعد جب سرکار پر یہ الزام لگا کہ اس نے اس پردھان کمیٹی کی رپورٹ پر ایک چوتھائی بھی عمل نہیں کیا ہے تو اس کے جواب میں سرکار نے بہت زو رشور سے کہا کہ اس پر تین چوتھائی عمل ہوچکا ہے۔ مگر اب رام پردھان نے خود ہی اس بارے میں حکومت کی کاہلی کی قلعی کھول دی ہے۔26/11 کی تحقیقات کے پینل کے سربراہ رام پردھان نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں یہ بتایا کہ پچھلے دو برسوں میں حکومت نے ان سے رابتہ قائم کرنے کی ایک بھی کوشش نہیں کی۔انہوں نے 13 جولائی کے دہشت گرد انہ حملوں کے بعد کہا کہ حکومت نے 26/11 کے بعد بنی کمیٹی کی سفارشات کو سنجیدگی سے ایک آنکھ بھی نہیں دیکھا ۔
پردھان نے کہا کہ انہیں رپورٹ پیش کئے ایک سال ہوگیا ہے، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی بھی شخص ان سے نہیں ملا ہے۔ نہ ہی رپورٹ پر بحث کے لئے او ر نہ ہی انہیں بتانے کہ لئے کہ وہ کس طرح اس رپورٹ میں کی گئی سفارشات کو لاگو کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ جواب کے مستحق ہیں ،اور انہیں احساس ہے کہ وہ لوگ مصروف ہیں، لیکن کیا یہ اہم نہیں ہے۔ پردھان نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ کو کاغذی کارروائی سے آگے کچھ کرنے کی ضرورت ہے،انہیں زیادہ ایکٹ کرنے اور کم بات کرنے کی ضرورت ہے، سیکورٹی اپریٹس کے اوورہال کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں،کہ کیا ممبئی پولیس 26/11 سے کوئی سبق سیکھا ہے، پردھان نے کہا کہ’نہیں۔‘
پردھان نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت پولیس محکمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے،مگر وہ یہ بنیادی فرض انجام دینے کے قابل نہیں ہے کیونکہ اس کو عملہ کی کمی ہے اور زیادہ اور طویل گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر محکمہ پولیس کو مضبوط کیا جاتاہے توان تمام چوکوں سے روکا جاسکے گا، لیکن کوئی حقیقت میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کام نہیں کرتا۔
رام پردھان نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا تھاکہ دہشت گردپونے کے کورے گاؤ پارک میں حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں فروری 2010 ء جرمن بیکری میں بمباری ہوئی تھی۔
پردھان نے کہا کہ ’اگرچہ 26/11کمیشن کی رپورٹ کی تیاری سے پہلے انہوں نے پونے کا دورہ کیا تھا اور اس رپورٹ میں ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ کورے گاؤں پارک کو دہشت گردوں کی طرف سے ہدف بنایا جاسکتاہے۔انہوں نے حکومت کو بتایا تھا کہ یہ علاقے کمزورہے کیونکہ یہ سیاحوں کا مرکز ہے۔
حالانکہ ریاستی حکومت نے کمیٹی کی رپورٹ خفیہ رکھی ہے مگرپھر بھی یہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اور اس کا مطالعہ کرنے سے یہ پتا چلتا ہے کہ پولیس انتطامیہ میں کیا کیا خامیاں ہیں۔ اور شاید انہیں خامیوں کا فائدہ اتھاکر 13جولائی کو ممبئی کی کئی اہم جگہوں پر حملے کئے گئے اور پولیس اور ریاستی سرکار ان حملوں کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکی۔
ہم کمیٹی تو بنادیتے ہیں مگر اس کی رپورٹ کو دبادیتے ہیں اور عام آدمی تک نہیں پہنچنے دیتے کے کہیں وہ مسلسل اس میں دی گئی کمیوں کو پورا کرنے کااصرار نہ کرتارہے،اورپھر اپنی سہولت اور آسانی کے ساتھ اور آرام آرام سے اس پر عمل کرتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگرسرکار نے اس کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ایک ایسی ہائی پاور کمیٹییک تشکیل دی ہوتی جو پوری طرح سے پردھان کمیٹی رپورٹ پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ دار ہوتی اور جس کو اس بات کامکمل اختیار ہوتا کہ وہ رپورٹ میں بتائی گئی کمیوں کو ایک طے شدہ وقت میں پورا کروائے اور دئے گئے سجھاوؤں پر عمل درآمد کروائے۔
اگر حکومت کو اپنی ہی چال چلنا ہے تو پھر کمیٹیوں کا بنا یا جانا اور ان کی طرف سے دی جانے والی رپورٹ بے معنیٰ ہے اور پھر ان پر اتنا روپیہ اور اتنی محنت ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔کیا ہی اچھا ہوتا تمام سیاسی پارٹیاں اس مسئلہ کا مل جل کر حل نکالتیں اور اس پراپنی دیکھ ریکھ میں عمل درآمد کرواتیں۔
Tags: Afif Ahsen, Bomb Blast, Daily Pratap, Maharashtra, Mumbai, Pune, Terrorism, Vir Arjun

No comments:

Post a Comment