برطانیہ کے ٹیلیویژن چینل 4نے ایک رپورٹ دکھائی ہے جس میں دکھایا گیاہے کہ سری لنکا کی لبریشن ٹائیگرفورتمل ایلم کے ساتھ جنگ میں اس کی فوجوں نے کتنی بھیا نک بربرتا کامظاہرا کیا تھا۔
سری لنکاکے صحافیوں کے ایک ادارے جرنلسٹ فور ڈیموکریسی ان سری لنکا، جس نے ٹیلویژن پر دکھایا گیا یہ مواد حاصل کیا، کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اس دوران ریکارڈ کی گئی تھیں جب کہ جنوری 2009میں سری لنکائی سرکار نے بین الاقوامی صحافی برادری کو اس جنگ کی کوریج سے باہر رکھا ہوا تھا۔ ایسی ویڈیو کے ہونے کی چہ مہ گوئیاں کافی عرسہ سے ہورہی تھیں مگر انہیں چینل فور نیوز کے دکھائے جانے سے صرف دو روزقبل ہی سری لنکا سے اسمگل کرکے چینل فور کے حوالے کیا گیا تھا۔اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے بے کس اور معصوم ، نہتے اوربے یارو مددگار،اور زخموں سے چورتمل باشندوں پرسری لنکائی افواج نے انسانیت سوز مظالم ڈھائے اور جنگی جرائم کی مرکوب ہوئی۔
اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جب سری لنکا نے کلی نوچی پر حملہ کیاتو کیسے اس میں لاکھوں معصوم شہری پھنس گئے اور40000سے زیادہ مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ یہ ایک نابرابری کی جنگ تھی اور اس میں سری لنکا کا پلڑا بھاری تھا کیونکہ اس جنگ میں اس کودنیا کی زیادہ تر ممالک کی حمایت حاصل تھی، چین اور دوسرے ممالک سری لنکا کی بھاری توپ خانہ اوردوسرے جنگی سازوسامان سے مدد کررہے تھے اور اسرائیل کے کیفرایف 21 فائٹر ہوائی جہاز وں کا ایک پورا بیڑاسری لنکا ائر فورس کی مدد کے لئے لگا ہوا تھا۔جس کو رہائشی علاقوں، عارضی اسپتلالوں، اور یہاں تک کے نو فائر زون میں ہوائی بمباری کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔
ایک تمل خاتون وینی کمار جو اپنے عزیزوں سے ملنے لندن سے سری لنکا آئی ہوئی تھی نے اپنے آپ کو چاروں طرف سے جنگ میں گھراہوا پایا۔جنگ کے دوران انہوں نے اپنا کچھ وقت جنگ کی وجہ سے بے گھر اور بے آسرا ہوئے تمل لوگوں کے بیچ گزارا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح چارو ں طرف بم گر رہے تھے اور چیخ اور پکار مچی ہوئی تھی۔لوگوں کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہاں جائے سوائے اس کے کہ اسے وہ جگہ خالی کرنی تھی ۔ اس لئے جس کو جدھر سمجھ میں آتا تھا وہ ادھر نکل جاتا تھا۔
کلی نوچی پر قبضہ ہوجانے کے تین ہفتہ بعد سری لنکا سرکار نے ایک کلومیٹر کے رقبہ میں ایک نو فائر زون بنایا۔سری لنکا سرکار کا دعویٰ تھا کہ ایسا انہوں نے زیرو شہری ہلاکت کے مدنظر کیا ہے تاکہ کوئی بھی شہری ہلاک نہ ہوسکے۔سری لنکا سرکار کے اس وعدے کو دیکھتے ہوئے ہزاروں لوگ اس زون میں آنے لگے ،ان میں ڈاکڑ، نرسیں اوردوسرا عملہ بھی تھا اور وہ مریض اور زخمی بھی تھے جن کے اسپتال اس لڑائی میں تباہ ہوچکے تھے۔اس نوفائر زون میں ایک خالی پڑے پرائمری اسکول میں ایک عارضی اسپتال قائم کیا گیا اور اسکی چھت پر ریڈ کراس بنادئے گئے تاکہ یہنشان دہی کی جاسکے کے یہ ایک اسپتال ہے اوراس کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے،جنگ کے دوران کسی بھی اسپتال پر حملہ نہیں کیاجاسکتا تاوقتیکہ اس بات کے پختہ ثبوت ہوں کے اس اسپتال کا استعمال فوجی مقاصد کے لئے کیا جارہا ہے۔کسی بھی صورت میں کوئی ہسپتال ایک فوجی ہدف نہیں ہوسکتا۔مگر سرکاری فوجوں نے اس اسپتال پر بھی حملہ کردیاایک عینی شاہد نے اس حملہ اور اس کے بعد کا بہت ہی بھیانک نظارہ بیان کیا ہے ۔ اس نے بتایاکہ اس حملہ کے بعد چاروں طرف تباہ شدہ عمارتیں تھیں، جہاں تہاں لاشیں بکھری پڑی تھیں، جسمانی ٹکڑے بکھرے پڑے تھے اور چاروں طرف خون ہی خون تھا۔
یو این کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے گورنمنٹ فورسز نے نو فائر زون پر بھاری گولا باری کی ۔ اب تک سیٹیلائیٹ اور ڈرون فوٹیج سے یو این اور دوسری بڑی طاقتوں کو یہ علم ہوچکا تھا کہ نو فائر زون میں کیا مظالم ڈھائے جارہے تھے، جس میں اب تک تین سے چار لاکھ شہری پناہ لئے ہوئے تھے۔کولمبو کے اپنے آفس میں یواین اس سب پر نظر رکھے ہوئے تھاکہ نو فائر زون میں سری لنکا سرکار کے ذریعہ کتنی زبردست بمباری کی جارہی تھی۔اس اپریل میں شائع ایک یواین رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ ہوا ہے کہ کس طرح سری لنکا سرکار نو فائر زون پر بھاری گولا باری کررہی تھی۔جبکہ سری لنکا سرکار اس بات پر مصر رہی کہ وہ لوگوں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے تاکہ شہریوں کی صفر ہلاکت کو یقینی بنایا جاسکے۔مگر کچھ ہفتوں بعد جب یہ راز کھلا توایک بہت ہی بھیانک سچائی سامنے آئی ۔
خوفزدہ شہریوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت ہلاکت کی تعدا کو بڑھانا چاہتا ہے، کیونکہ جب ایک بار بمباری ہوجاتی تھی تو لوگ زخمیوں کو بچانے کے لئے جمع ہوجاتے تھے اور پہلے حملے کے دس منٹ بعد وہیں پر دوسرا حملہ کردیا جاتا تھا جس سے کے بچاؤ کے لئے جمع لوگ بھی اس کے چپیٹ میں آجائیں۔ جب شہریوں کی سمجھ میں یہ بات آئی تو انہوں نے پہلے حملے کے آدھے گھنٹے بعد بچاؤ کا کام کرنا شروع کیا مگر اس وقت تک زیادہ تر زخمی جان بحق ہوچکے ہوتے تھے اس سے ہلاک ہونے والے شہریوں کو تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی۔اور زخمیوں کے رشتے داروں کے پاس اس کے علاوہ اورکوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ دور بنکروں میں سے اپنے عزیزوں کو تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے دیکھتے رہیں اور ان کی مدد نہ کرسکنے پر دل خراش چیخیں نکالتے رہیں اور آہ وزاریاں کرتے رہیں۔
ویڈیو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ کیسے سری لنکاسرکارخود ہی نو فائرزون بناتی رہی اورخود ہی اس کی خلاف ورزی کرتی رہی اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کے کہیں سری لنکا سرکار نوفائر زون صرف اسی لئے تو نہیں بناتی رہی کے تمل باشندوں کو ایک جگہ جمع کرکے آسانی سے ان کا صفایاکرسکے۔
ایک اورویڈیو میں ایک عارضی اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کو حالات کی ستمضریفی پر بولتے دکھایا گیا ہے جوخود چار دن بعداسپتال پر ہوئی فوجی بم باری میں ہلاک ہوگیااور اس کے اہل خاندان اس کی لاش پر رورہے ہیں۔ایک اور واقع میں کئی بچے ہلاک ہوگئے اور کئی دوسرے مارے گئے جب کہ وہ کھانے کی لائن میں لگے ہوئے تھے اور ان پر سرکاری فوج نے بمباری کی۔ایک بچہ کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی اور وہ بھی بغیر کسی لوکل اینستھیسیا کے، کسی نے اس کی ٹانگیں پکڑیں ، کسی نے اس کے ہاتھ اور کسی نے اس کا منہ پکڑا اور پھر پورے ہوش و حواس میں اس کی ٹانگ ڈاکٹرنے دھڑ سے جدا کردی، جبکہ بچہ درد سے چلاتا رہاایسا اسلئے کیاگیا کیونکہ اس میک شفٹ اسپتال میں ضروری دواؤں کا کوئی انتظام نہیں تھااور ایسا نہیں کیاجاتا تو وہ بچہ تڑپ تڑپ کے مر جاتا۔
اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس دوران کتنے معصوم لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگرایک اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعدا د 40000 سے، جس کا اندازہ اقوام متحدہ نے لگایا ہے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے ۔ ا س سب کے باوجود سری لنکا سرکار اس بات کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتی تھی کے کیسے عام شہری محفوظ ہیں۔
ایک اور ویڈیو میں سری لنکائی فوجوں کو ننگے اور بندھے ہوئے قیدیوں کو گولیوں سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔یہ ویڈیو موبائل فون پر سری لنکائی فوجیوں نے خود ہی ریکارڈ کی ہیں۔ جب پچھلے سال یہ ویڈیو چینل 4نے دکھائیں تھی تو سری لنکا سرکار نے ان کو بوگس بتاتے ہوئے مسترد کردیاتھا، مگر اب جبکہ اقوام متحدہ نے ان کے صحیح ہونے کی تصدیق کردی ہیپھربھی سری لنکا سرکاران کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اب ایک تازہ ویڈیو چینل 4کو حاصل ہوئی ہے جس میں سری لنکائی فوجیوں کو بندھے ہوئے مبینہ تامل ٹائیگروں کو گولی سے اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جنگی قیدیوں کا اس طرح سے قتل بین الاقوامی جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایک اور ویڈیو میں ایک مبینہ ٹائیگر کو ناریل کے درخت سے باندھ کر مارتے ہوئے اور پھر دوسری جگہ پر اس کی لاش کو دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو بھی سری لنکائی فوجیوں نے ہی بنائے تھے۔ ایک بزرگ خاتون نے بتایا کے کیسے فوجیوں نے انکے اور دوسری لڑکیوں کے کپڑے اتروائے اورنوجوان لڑکیوں کو کچھ دور لے جاکران کے ساتھ زناکیا اور ان کو گولیوں سے اڑا دیا۔
ایک اور ویڈیو میں جو کہ فوجیوں نے خود ہی بنائی تھی ننگی عورتوں کی نعش دکھائی گئی ہیں، دیکھنے سے ایسا محصوص ہوتا ہے کہ ان عورتوں کے ساتھ پہلے زنا کیا گیا ہے یا جنسی بدفعلی کی گئی ہے اور اس کے بعد ان کو گولی ماری گئی ہے۔ان نعشوں میں تامل ٹی وی چینل کی خبریں پیش کرنے والی ایک خاتون اسئی پریا کی عریاں لاش بھی ہے، جس کے ساتھ بھی قتل سے پہلے زنا کیا گیا لگتا ہے۔ایک ویڈیو میں فوجیوں کو ننگی لاشوں کو ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان کو لاش کے ساتھ ویڈیو بنواتے دکھایا گیاہے۔ایک اور ویڈیو مین فوجی ایک ٹریلر میں ننگی لاشوں کو لاد رہے ہیں اور ان میں ایک عورت کے کراہنے کی آواز بھی ہے جو ابھی تک زندہ ہے اور لاشوں کی بے ہرمتی کی جارہی ہے ان کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں۔ان تمام ویڈیو سے منصوبہ بند طریقہ پر قتل، زنا اور جنسی حملوں کا پتا چلتا ہے جو کہ سری لنکائی فوج کے ذریعہ کھلے عام انجام دئے گئے۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹ واچ نے چینل 4کے ذریعہ دکھائی گئی ویڈیو کی ایک لمبی فلم دوسرے ذرائع سے حاصل کرلی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح بغیر کسی سنوائی کے قیدیوں کو سرکاری فوجیوں نے قتل کردیا۔
چینل 4کی اس رپورٹ نے سری لنکا کی سرکار کی ان گھناؤنی حرکتوں پر سے پردا اٹھا دیا ہے، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ سری لنکا سرکار کے خلاف جنگی جرائم کے لئے ایک بین الاقوامی انکو ائری شروع کی جائے اور خاطیوں کوسخت سے سخت سزا دی جائے۔
اس سلسلے میں ہمارے اپنے ملک کی خاموشی اور کوتاہی بہت ہی افسوس ناک ہے اورایک پڑوسی ملک میں ہمارے اپنوں پراتنا ظلم ہوتا رہا اور ہم آنکھ بند کئے بیٹھے رہے، یا صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے۔
Tags: Afif Ahsen, Channel 4, Daily Pratap, Genocide, Human Rights, LTTE, Mass Murder, Sri Lanka, Vir Arjun, War Crime

No comments:
Post a Comment