Search

Monday, 25 July 2011

بویا پیڑ ببول کا توآم کہاں سے ہوئے


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 25th July 2011
عفیف احسن
جب گزشتہ دنوں ناروے کی راجدھانی اوسلو پر حملہ ہو ا تو اس کے بعدفوراً یہ خبر بھی آئی کے کسی اسلامی نام والی دہشت گرد جماعت’گلوبل جہاد‘کی طرف سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے۔ اس واقعہ کو پہلے القائدہ سے بھی جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی، کیونکہ ناروے کے 500فوجی افغانستان میں تعینات ہیں۔ کہا یہ بھی جارہا تھا کے کیونکہ ناروے کے اخبارات نے کئی سال قبل رسول اکرم ؐ کے خیالی خاکے شائع کئے تھے اور یہ حملے اس کا رد عمل ہوسکتے ہیں۔مگرپھر کچھ دیر بعد یہ خبر آئی کے ایک دہشت گرد نے اوسلو کے نزدیک ایک چھوٹے سیجزیرے پر اندھادھند فائرنگ کرکے کافی نوجوانوں کا قتل عام کردیا ہے۔اوسلو میں ہوئے بم دھماکوں میں ابھی تک 7اشخاص کے ہلاک ہونے اور سو کے قریب زخمی ہونے کی اور یوٹویامیں گولا باری میں 85لوگوں کی ہلاکت کی خبریں ہیں۔
ان خبروں کے بعد تمام لوگوں کا شک اسی طرف تھا کہ اس حملہ میں ہو نہ ہو اسلامی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ مگر جب ان بم دھماکوں کاغبار چھنٹاتو اس کے بعد جو شبیہ نظر آئی وہ بہت ہی حیران کن اور افسوس ناک تھی۔ یہ ایک بھورے بالوں، نیل آنکھوں اور یونانی ناک نقش کے ایک خوبصورت نوجوان کا چہرا تھاجو کہ مبینہ طور پر ایک عیسائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی نہیں وہ اسلام کا کٹر دشمن ہے اور اپنے اسلام دشمن خیالات کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس شخص کا نام آندرے بیرنگ بریوک ہے اور اس کی عمر 32سال ہے۔ آندرے شکار کا شوقین ہے اور انتہائی تعلیم یافتہ ہے اور اس نے اوسلو اسکول آف مینجمنٹ سے تعلیم حاصل کی ہے۔آندرے کی گرفتاری کے بعد یہ تمام تھیوریاں غلط ثابت ہوئیں۔
پولیس نے اوسلو بم دھماکے کی ذمہ داری بھی اس پر عائد کی ہے۔ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے اس کے پیغامات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کٹر مسلم مخالف جنونی عیسائی ہے۔ آندرے پاگلوں کی طرح سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر اشتعال انگیز تبصرے کرتا تھا۔ اس نے کئی ویب سائٹس پر اسلام مخالف خیالات کا اظہار کیا تھا۔ پولیس کو فیس بک اور ٹویٹر پر جاری اس کے بیانات کے علاوہ اور کچھ ہاتھ نہیں لگا ہے۔ ایسا لگتا ہے کے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اس نے کچھ دنوں قبل ہی اپنا اکاؤنٹ کھولا تھا۔اپنے فیس بک پروفائل میں آندرے نے اپنے آپ کو ایک کنزرویٹیو عیسائی بتایاتھااور اپنے شوق میں شکار، جسمانی کسرت اورفری میسنری لکھا تھا۔اپنی پروفائل میں اس نے خود کو غیر شادی شدہ بھی لکھا ہے۔مگر اب اس کا فیس بک کا صفحہ بلاک کردیا گیا ہے۔
پولیس آندرے سے پوچھ تاچھ کررہی ہے اور وہ توتے کی طرح بول رہا ہے اور اپنا موقف رکھ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق آندرے نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام بریوک جیوفارم ہے اور وہ اس کا اکلوتا ڈائریکٹر ہے۔یہ کمپنی کاشتکاری سے جڑی ہوئی ہے اور ایسا مانا جارہا ہے کہ اسی کے سہارے آندرے نے کھادخریدی جسے اس نے دھماکہ کے لئے استعمال کیا۔ناروے کی ایک ایگریکلچر کوآپریٹیو کے ایک کارندے نے یہ بتایا ہے کہ میڈیا میں جوآدمی دکھایا جارہا ہے اسی نے اس کی کمپنی سے 6ٹن کھاد خریدی تھی۔اوڈمی ایسٹینڈسٹاڈ جوکہ فیلس کوآپٹ ایگری میں کام کرتی ہے نیبتایا کہ اسے پہلے یہ نہیں محسوس ہو ا کہ اس کھاد کی خرید میں کوئی شک کی گنجائش ہے کیونکہ مشتبہ کے پاس کھیت تھے۔مگر بم دھماکے کے بعد اس نے پولیس کو فون کرکے اطلاع دی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کھاد کا استعمال بم دھماکے میں کیاجا سکتا تھا۔
جس وقت اوسلو میں پولیس بم دھماکوں کے متاثرین کی مدد میں لگی ہوئی تھی اسی وقت ایک شخص جس نے پولیس کی یونیفارم پہن رکھی تھی اور اپنے آپ کو پولیس آفیسر بتارہا تھا ایک کشتی سے اوسلو سے تقریباً بیس میل دور یوٹویا جزیرے پر پہنچا اور اس نے وہاں پر موجودسیکڑوں نوجوانوں کو جوکہ لیبر پارٹی کا سمر کیمپ اٹینڈ کررہے تھے ایک جگہ جمع ہونے کا حکم دیا اور ان کو اوسلو میں ہوئے حملہ کی جانچ میں شامل ہونے کے لئے کہا۔اس کے بعد اس نے اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس سے گھبراکر لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔کچھ لوگ یہ سمجھے کہ یہ ایک عمومی مشق ہے اور وہ آندرے کے طرف بھی دوڑ پڑے ۔
کچھ لوگ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہے ،وہ اس جزیرے سے تیر کر نکلنے کی کوشش میں کنارے کی طرف بھاگے تو آندرے نے وہاں تک ان کا پیچھا کیا اور پانی میں تیرتے لوگوں پربھی گولیاں برسائیں اور بہت سے نوجوانوں کو ہلاک کردیا۔ جب پولیس جزیرے پر پہنچی تو آندرے نے اپنے آپ کو بغیر کسی مزاہمت کے پولیس کے حوالے کردیا ۔
یوٹویا جزیرے اور اوسلو میں ہوئے حملے اپنے آپ میں نرالے ہے ، یہاں تک کے بین الاقوامی تناظر میں بھی ۔ صرف اس لئے نہیں کے یہ بہت ہی درندگی آمیز تھا یا یہ کہ اس میں بہت زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں بلکہ اس لئے بھی کے اس حملہ کے ذریعہ ایک ملک کی لیڈرشپ کے پوری مرکزیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جبکہ سٹی سینٹر پر حملہ حکومت ، شہری انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اور وزیراعظم جینس اسٹولٹن برگ کو نشانہ بناکر کیا گیا تھا۔اور اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آندرے یوٹویا کے لیبر یوتھ لیگ سمر کیمپ پہنچ گیا جہاں پر لیبر پارٹی کی مستقبل لیڈرشپ کی چیدہ شخصیات سیاست اور پارٹی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے پر بات کے لئے جمع تھی۔ یہاں پر پارٹی کے کلیدی ارکان اور دوسرے نوجوان لوگوں پر حملہ کیا گیااور ان کو فنا کردیا گیا۔ واقعہ کے سلسہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ حملہ آور کاارادہ بڑے بڑے وزراء کے ساتھ ہی ساتھ زیادہ سے زیادہ پارٹی کے موجودہ اور مستقبل کے قائدین کو ختم کرنے کاتھا۔
ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آندرے کو کس بات نے ایسا کرنے کی تحریک دی۔سن دو ہزار کی شروعات میں وہ ناروے کی پروگریسیو پارٹی اور اس کے یوتھ ونگ کا ممبر تھا۔مگر وہ اس سے تب الگ ہوگیا جب اس کے شدید خیالات اس پارٹی سے میل نہیں کھائے۔ وہ اسلام مخالف ویب سائٹوں پر بلاگنگ اور تبصرہ کرتا تھا۔یہ ویب سائٹس غیر ملکیوں خاص کر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور حقارت سے بھری پڑی ہیں۔اوربے بنیاد سازش کی تھیوریوں سے بھی پٹی پڑی ہیں۔اور اظہار رائے کی آزادی کے بہانے ایسی ویب سائٹس پر کوئی بھی روک نہیں لگائی جاتی ہے اور ان پر من گھڑنت کہانیاں اور مذہبی منافرت پھیلائی جاتی ہے، ایسا کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اس کااثر ایک عام آدمی کے دماغ پر کیا ہوسکتا ہے۔
یہی مسلم مخالف روش اور اسلام دشمنی ہے جس نے آندرے کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس سب کے لئے ناروے حکومت کی امیگریشن پالیسی ذمہ دار ہے اور اس نے پاگل پن میں یہ انتہائی سفاکانہ قدم اٹھایا۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلام کی دشمنی میں وہ اتنا پاگل ہوگیا تھا کہ اس کومسلمانوں اور اپنے ہی ملک کے لوگوں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا او ر اس نے اپنے ہی لوگوں کا اتنی سفاکی سے قتل عام کردیا اور اپنے ملک کی ایک پوری لیڈرشپ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ نفرت کے بیج بونے کایہی انجام ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment