![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
16مئی 2011کو شائع
عفیف احسن
بنگال میں ممتا بینرجی کی جارہانہ روش، شاندار جیت کو دیکھ کر دشینت کمار کی یاد آگئی۔دشینت کمارتھے کی غزلوں نے نہ صرف خواص کو متاثر کیا بلکہ عوام کے ذہنوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ہندی کے اولیں غزل گو شاعر دشینت کمار نے ہندی غزل میں عوام کے دکھ درد کو پیش کیا اسی لیے ان کے اشعار عوام کے دل کو چھو جاتے ہیں۔
دشینت کمار کی مقبولیت کا سبب ان کے اشعار میں سیاست کی آمیزش ہے۔ انہوں نے ہندی شاعری کو عوام کے جذبات و احساسات سے نہ صرف قریب کیا بلکہ عصری مسائل کو بہت شدت سے پیش کیا۔ انہوں نے عام انسان کے دکھ درد کو ہی اپنے اشعار کا موضوع بنایا۔ان کی ایک بہت ہی مقبول غزل ہے:
ہو گئی ہے پیر پربت سی پگھلنی چاہئیے
اس ہمالہ سے کوئی گنگا نکلنی چاہئیے
آج یہ دیوار پردوں کی طرح ہلنے لگی
شرط لیکن تھی کہ یہ دیوار گرنی چاہئیے
اس سڑک پر ہر گلی ہر گاؤں میں
ہاتھ لہراتے ہوئے ہر لاش چلنی چاہئیے
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئیے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئیے
جیسا کہ اس غزل میں بیان ہے بالکل یہی ہال اس وقت مغربی بنگال کا بھی ہورہا تھا۔ اسی لئے شائددیدی نے دشینت کمار کی اس غزل سے تحریک لیتے ہوئے لیفٹ فرنٹ کے خلاف لگاتار ایک مہم جاری رکھی اور کبھی بھی ہار نہیں مانی۔ آخر کاربنگال میں دیدی ممتا نے کمیونسٹوں کا 34سالہ راج اکھاڑ پھینکا۔بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت اپنے 34سالوں میں پہلی بار اتنی غیر مقبول ثابت ہوئی کہ وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹا چارجی بھی اپنی سیٹ ہار گئے ۔ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی اس شاندار کامیابی اور بایاں محاذ کی حکومت سے نجات کو بنگال کی آزادی کا دن قرار دیااور ملک کی دوسری آزادی سے تعبیر کیا۔
گزشتہ برسوں میں کمیونسٹوں کا قلعہ اتنا مظبوط ہوگیا تھا کے کوئی بھی اس میں سیندھ لگانے کی نہیں سوچ سکتا تھا۔ 1984میں بھی جب کہ پورے ملک میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس اور راجیو گاندھی کے حق میں ہمدردی کی ایک لہر چل رہی تھی اس وقت بھی کانگریس کو بنگال میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی ۔
مغربی بنگال انتخابات میں بھاری اکثریت سے وزیر اعلی بننے جا رہیں ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی دیدی نے آخر کار اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ جیت لی۔ سچ پوچھیے تو یہ لڑائی کسی جنگ سے کم نہیں ، کیونکہدیدی نے اس جیت سے 34 سال پرانے بائیں بازوکی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ انہیں اس جیت کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑی ۔
ممتا بنرجی نے اپنا سیاسی سفرکا آغاز کانگریس کے ساتھ 1970کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ بہت جلد ہی وہ مہیلا کانگریس کی سیکریٹری بن گئیں۔1984 کے عام انتخابات میں وہ مغربی بنگال سے سب سے نوجوان ایم پی کے طور پرابھریں۔ تب انہوں نے جادھوپور سیٹ سے سومناتھ چٹرجی کو کراری شکست دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کی قومی سیکریٹری جنرل بن گئیں۔
1989 میں اسی سیٹ سے انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 1996 ، 1998 ، 1999 ، 2004 اور 2009 میں وہ لگاتارعام انتخابات میں کولکتا ساؤتھ سیٹ سے جیتیں اور پارلیمنٹ میں اس سیٹ سے نمائندگی کرتی رہیں۔ 1991 میں نرسمہا راؤ کی حکومت میں ممتا انسانی وسائل ، کھیل اور خاتون اور بال بہبود وزیر بنیں۔ اسی دوران انہوں نے حکمراں حکومت کو دھمکی دے ڈالی کہ اگرملک میں کھیل کو فروغ نہیں دیا گیا ، تو وہ وزارت سے استعفی دے دیں گی۔دسمبر 1992میں ممتا بنرجی کے مرکزی وزیر رہتے ہوئے انہیں اس وقت بالوں سے پکڑ کر کھینچا گیا، انکی بے عزت کی گئی اور اس کے بعد انہیں رائٹرس بلڈنگ سے باہر پھینک دیا گیا، جب کہ وہ جیوتی باسو سے ایک گونگی لڑکی کے ایک سی پی ایم ورکر کے ذریعہ کئے گئے زنا بالجبر کی شکایت کرنے گئیں۔اس کے بعد ممتا بنرجی نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ جب تک مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نہیں بن جاتیں رائٹرس بلڈنگ میں قدم نہیں رکھیں گی۔ مگر بعد میں 1993 میں نرسمہا راؤ نے ان سے تمام وزارتیں واپس لے لیں۔
1996 میں حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے سیاہ شال اوڑھ کر پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا۔ ہمیشہ سے تیز طرار رہنما رہیں ممتا نے ایک بار پارلیمنٹ کے اندر سماج وادی ایم پی کا کالر پکڑ لیا تھا۔ 1997 میں ریل بجٹ کے دوران ممتا نے اپنی سیاہ شال اس وقت کے ریل وزیر رام ولاس پاسوان کی طرف پھینک کر احتجاج درج کیاتھا۔
تمام تنازعات کے بعد 1997 میں ممتا نے کانگریس چھوڑ دی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کا قیام کیا۔ اس پارٹی نے مارکسوادی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ 11 دسمبر 1998 میں ایک تنازعہ کے دوران ممتا سماج وادی پارٹی کے ایم پی داروغا پرساد سروج کا کالر پکڑ کر باہر کھینچتی ہوئی لائیں ،کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر رہے تھے۔
1999 میں انہوں نے این ڈی اے کے ساتھ اتحاد میں حکومت بنائی اور ریلوے کے وزیر بنیں ، لیکن این ڈی اے کے ساتھ ان کی زیادہ عرصہ نہیں پٹی۔
لیفٹ کی ہار میں 2008 میں مرکز کی یو پی اے حکومت سے بائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت واپسی کے فیصلے نے بھی بہت بڑا اثر دکھایا ہے۔ حالانکہ اس وقت مغربی بنگال کے کمیونسٹ یو پی اے سے حمایت واپس لینے کے حق میں نہیں تھے۔لیکن پرکاش کرات کی زور زبردستی کی وجہ سے انہیںیہ فیصلہ لینا پڑا۔ لیکن اس کا اثر پارٹی فورم پر بہت برا ہوا۔ اگر اس وقت لیفٹ فرنٹ یو پی اے سے حمایت واپس نہیں لیتا تو کانگریس کبھی بھی ممتا بنرجی کے ساتھ نہیں جاتی۔ ایسی حالت میں بائیں بازو کی جماعتیں کم سے کم مغربی بنگال میں اتنے کمزورثابت نہیں ہوتیں اور ممتا بنرجی بھی اتنی مضبوط نہیں ہو پاتیں۔
اس کے علاوہ کچھ اور بھی وجوہات ہیں جو مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت کا سبب بنیں۔ اس میں نندی گرام اور سنگور کے واقعات سر فہرست ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں بعد میں بدھا دیو بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن جب تک انہوں نے ایسا کہا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ نندی گرام اور سنگور کی وجہ سے دانشور اور فنکارکمیونسٹوں سے دور ہو گئے۔ نندی گرام اور سنگور کے معاملے پر جس طرح سے سی پی ایم نے اڑیل رخ اپنایا اس کے مخالفت میں پہلے تو ان کلاکاروں نے احتجاج کیا لیکن جب لیڈرشپ نے انکی ایک نہیں سنی تو وہ کمیونسٹوں کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور آخر کار وہ لوگ ممتا بنرجی کے پالے میں جا کھڑے ہوئے۔
ممتا بنرجی کی مغربی بنگال میں جیتکی ایک اور اہم وجہ پولیس انتظامیہ ، تعلیم ،غیرسرکاری اداروں میں کمیونسٹوں کی دراندازی اور دادا گیری بھی ہے۔ اس دراندازی کی وجہ سے ممتا ریاست میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ ممتا کا یہی جارحانہ انداز آج انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی تک لے آیا ہے۔راجیوگاندھی کا ایک اہم خواب مغربی بنگال سے کمیونسٹوں کا صفایا تھا، جسے اب ممتا بنرجی نے پورا کر دکھایا ہے ۔شاید اسی لئے ممتا بنرجی سونیا گاندھی کی چہیتی ہیں۔
دشینت کمار ہی کی ایک غزل کی یہ اشعارہیں:
رہنماؤں کی اداؤں پہ فدا ہے دنیا
اس بہکتی ہوئی دنیا کو سنبھالو یارو
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو
دشینت کمار کی مقبولیت کا سبب ان کے اشعار میں سیاست کی آمیزش ہے۔ انہوں نے ہندی شاعری کو عوام کے جذبات و احساسات سے نہ صرف قریب کیا بلکہ عصری مسائل کو بہت شدت سے پیش کیا۔ انہوں نے عام انسان کے دکھ درد کو ہی اپنے اشعار کا موضوع بنایا۔ان کی ایک بہت ہی مقبول غزل ہے:
ہو گئی ہے پیر پربت سی پگھلنی چاہئیے
اس ہمالہ سے کوئی گنگا نکلنی چاہئیے
آج یہ دیوار پردوں کی طرح ہلنے لگی
شرط لیکن تھی کہ یہ دیوار گرنی چاہئیے
اس سڑک پر ہر گلی ہر گاؤں میں
ہاتھ لہراتے ہوئے ہر لاش چلنی چاہئیے
صرف ہنگامہ کھڑا کرنا مرا مقصد نہیں
میری کوشش ہے کہ یہ صورت بدلنی چاہئیے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئیے
جیسا کہ اس غزل میں بیان ہے بالکل یہی ہال اس وقت مغربی بنگال کا بھی ہورہا تھا۔ اسی لئے شائددیدی نے دشینت کمار کی اس غزل سے تحریک لیتے ہوئے لیفٹ فرنٹ کے خلاف لگاتار ایک مہم جاری رکھی اور کبھی بھی ہار نہیں مانی۔ آخر کاربنگال میں دیدی ممتا نے کمیونسٹوں کا 34سالہ راج اکھاڑ پھینکا۔بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت اپنے 34سالوں میں پہلی بار اتنی غیر مقبول ثابت ہوئی کہ وزیر اعلیٰ بدھ دیب بھٹا چارجی بھی اپنی سیٹ ہار گئے ۔ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی اس شاندار کامیابی اور بایاں محاذ کی حکومت سے نجات کو بنگال کی آزادی کا دن قرار دیااور ملک کی دوسری آزادی سے تعبیر کیا۔
گزشتہ برسوں میں کمیونسٹوں کا قلعہ اتنا مظبوط ہوگیا تھا کے کوئی بھی اس میں سیندھ لگانے کی نہیں سوچ سکتا تھا۔ 1984میں بھی جب کہ پورے ملک میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس اور راجیو گاندھی کے حق میں ہمدردی کی ایک لہر چل رہی تھی اس وقت بھی کانگریس کو بنگال میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی ۔
مغربی بنگال انتخابات میں بھاری اکثریت سے وزیر اعلی بننے جا رہیں ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی دیدی نے آخر کار اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ جیت لی۔ سچ پوچھیے تو یہ لڑائی کسی جنگ سے کم نہیں ، کیونکہدیدی نے اس جیت سے 34 سال پرانے بائیں بازوکی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ انہیں اس جیت کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑی ۔
ممتا بنرجی نے اپنا سیاسی سفرکا آغاز کانگریس کے ساتھ 1970کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ بہت جلد ہی وہ مہیلا کانگریس کی سیکریٹری بن گئیں۔1984 کے عام انتخابات میں وہ مغربی بنگال سے سب سے نوجوان ایم پی کے طور پرابھریں۔ تب انہوں نے جادھوپور سیٹ سے سومناتھ چٹرجی کو کراری شکست دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کی قومی سیکریٹری جنرل بن گئیں۔
1989 میں اسی سیٹ سے انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 1996 ، 1998 ، 1999 ، 2004 اور 2009 میں وہ لگاتارعام انتخابات میں کولکتا ساؤتھ سیٹ سے جیتیں اور پارلیمنٹ میں اس سیٹ سے نمائندگی کرتی رہیں۔ 1991 میں نرسمہا راؤ کی حکومت میں ممتا انسانی وسائل ، کھیل اور خاتون اور بال بہبود وزیر بنیں۔ اسی دوران انہوں نے حکمراں حکومت کو دھمکی دے ڈالی کہ اگرملک میں کھیل کو فروغ نہیں دیا گیا ، تو وہ وزارت سے استعفی دے دیں گی۔دسمبر 1992میں ممتا بنرجی کے مرکزی وزیر رہتے ہوئے انہیں اس وقت بالوں سے پکڑ کر کھینچا گیا، انکی بے عزت کی گئی اور اس کے بعد انہیں رائٹرس بلڈنگ سے باہر پھینک دیا گیا، جب کہ وہ جیوتی باسو سے ایک گونگی لڑکی کے ایک سی پی ایم ورکر کے ذریعہ کئے گئے زنا بالجبر کی شکایت کرنے گئیں۔اس کے بعد ممتا بنرجی نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ جب تک مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نہیں بن جاتیں رائٹرس بلڈنگ میں قدم نہیں رکھیں گی۔ مگر بعد میں 1993 میں نرسمہا راؤ نے ان سے تمام وزارتیں واپس لے لیں۔
1996 میں حکومت میں رہتے ہوئے انہوں نے سیاہ شال اوڑھ کر پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا۔ ہمیشہ سے تیز طرار رہنما رہیں ممتا نے ایک بار پارلیمنٹ کے اندر سماج وادی ایم پی کا کالر پکڑ لیا تھا۔ 1997 میں ریل بجٹ کے دوران ممتا نے اپنی سیاہ شال اس وقت کے ریل وزیر رام ولاس پاسوان کی طرف پھینک کر احتجاج درج کیاتھا۔
تمام تنازعات کے بعد 1997 میں ممتا نے کانگریس چھوڑ دی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کا قیام کیا۔ اس پارٹی نے مارکسوادی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ 11 دسمبر 1998 میں ایک تنازعہ کے دوران ممتا سماج وادی پارٹی کے ایم پی داروغا پرساد سروج کا کالر پکڑ کر باہر کھینچتی ہوئی لائیں ،کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کر رہے تھے۔
1999 میں انہوں نے این ڈی اے کے ساتھ اتحاد میں حکومت بنائی اور ریلوے کے وزیر بنیں ، لیکن این ڈی اے کے ساتھ ان کی زیادہ عرصہ نہیں پٹی۔
لیفٹ کی ہار میں 2008 میں مرکز کی یو پی اے حکومت سے بائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت واپسی کے فیصلے نے بھی بہت بڑا اثر دکھایا ہے۔ حالانکہ اس وقت مغربی بنگال کے کمیونسٹ یو پی اے سے حمایت واپس لینے کے حق میں نہیں تھے۔لیکن پرکاش کرات کی زور زبردستی کی وجہ سے انہیںیہ فیصلہ لینا پڑا۔ لیکن اس کا اثر پارٹی فورم پر بہت برا ہوا۔ اگر اس وقت لیفٹ فرنٹ یو پی اے سے حمایت واپس نہیں لیتا تو کانگریس کبھی بھی ممتا بنرجی کے ساتھ نہیں جاتی۔ ایسی حالت میں بائیں بازو کی جماعتیں کم سے کم مغربی بنگال میں اتنے کمزورثابت نہیں ہوتیں اور ممتا بنرجی بھی اتنی مضبوط نہیں ہو پاتیں۔
اس کے علاوہ کچھ اور بھی وجوہات ہیں جو مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت کا سبب بنیں۔ اس میں نندی گرام اور سنگور کے واقعات سر فہرست ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں بعد میں بدھا دیو بھٹاچاریہ نے کہا کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن جب تک انہوں نے ایسا کہا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ نندی گرام اور سنگور کی وجہ سے دانشور اور فنکارکمیونسٹوں سے دور ہو گئے۔ نندی گرام اور سنگور کے معاملے پر جس طرح سے سی پی ایم نے اڑیل رخ اپنایا اس کے مخالفت میں پہلے تو ان کلاکاروں نے احتجاج کیا لیکن جب لیڈرشپ نے انکی ایک نہیں سنی تو وہ کمیونسٹوں کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور آخر کار وہ لوگ ممتا بنرجی کے پالے میں جا کھڑے ہوئے۔
ممتا بنرجی کی مغربی بنگال میں جیتکی ایک اور اہم وجہ پولیس انتظامیہ ، تعلیم ،غیرسرکاری اداروں میں کمیونسٹوں کی دراندازی اور دادا گیری بھی ہے۔ اس دراندازی کی وجہ سے ممتا ریاست میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ ممتا کا یہی جارحانہ انداز آج انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی تک لے آیا ہے۔راجیوگاندھی کا ایک اہم خواب مغربی بنگال سے کمیونسٹوں کا صفایا تھا، جسے اب ممتا بنرجی نے پورا کر دکھایا ہے ۔شاید اسی لئے ممتا بنرجی سونیا گاندھی کی چہیتی ہیں۔
دشینت کمار ہی کی ایک غزل کی یہ اشعارہیں:
رہنماؤں کی اداؤں پہ فدا ہے دنیا
اس بہکتی ہوئی دنیا کو سنبھالو یارو
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو

No comments:
Post a Comment