Search

Tuesday, 15 November 2011

ملک کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 15th November 2011
عفیف احسن
ہندوستانی معیشت دنیا کی پندرہ سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ 1991 سے جب کہ لبرلائزیشن اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی لاگو کی گئی ہندوستان میں بہت تیز اقتصادی ترقی ہوئی اور ہندوستان دنیا کی ایک اقتصادی سپر پاور کے طور پر ابھرکرسامنے آیا۔ اصلاحات سے قبل خاص طور پر ہندوستانی صنعتوں اور کاروبار پر سرکاری کنٹرول کا بول بالا تھا اور اصلاحات لاگو کرنے سے پہلے اس کے خلاف پرزور احتجاجات بھی ہوئے لیکن اقتصادی اصلاحات کے اچھے نتائج سامنے آنے سے مخالفت کافی حد تک کم ہوئی ہے۔حالانکہ بنیادی ڈھانچوں میں تیز پیش رفت نہ ہونے سے ایک بڑا طبقہ اب بھی ناخوش ہے اور ایک بڑاطبقہ ان اصلاحات سے ابھی تک مستفید نہیں ہوسکا ہے۔
آزادی کے بعد سے ہی ہندوستان کا اپنے چالو کھاتے پر ادائیگی کا توازن منفی رہا ہے۔نبّے کی دہائی میں، اقتصادی اصلاحات کے بعد ادائیگی کے بحران کے توازن کے دباؤ کی وجہ سے ہندوستان کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا،سال 2002-03میں برآمدات نے ملک کی درآمد کے 80.3 فیصد کا احاطہ کیا جوکہ 1990-91میں صرف 66.2فیصد تھا۔اگرچہ، عالمی اقتصادی بحران کے بعد عالمی تجارت میں آئی ایک عام مندی کی وجہ سے 2008-09میںیہ کم ہوکر 61.4 فیصد ہی رہ گیا۔ہندوستان کے لگاتار اور تیزی سے بڑھتے تیل درآمد کے بل کو بڑھتے چالو کھاتہ کے خسارہ کے پیچھے ایک اہم محرک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو سال 2008-09میں بڑھ کر118.7 ارب ڈالر، یا مجموعی ملکی پیداوار کا 9.7فیصد ہوگیا۔جنوری اور اکتوبر 2010 کے درمیان، ہندوستان نے خام تیل کا 82.1 ارب ڈالرکی قیمت کا درآمد کیا۔
2000کے اواخر کی عالمی کساد بازاری کی وجہ سے، ہندوستانی برآمدات اور درآمدات دونوں میں جون 2009میں بالترتیب 29.2 فیصد اور 39.2 فیصد کی کمی آئی۔یہ تیز گراوٹ اس وجہ سے تھی کیونکہ عالمی کساد بازاری کی مار سے سب سے زیادہ متائثر ممالک امریکہ اوریورپی یونین کے ارکان تھے جن کا حصہ ہندوستانی برآمدات میں 60 فیصد سے زیادہ کا ہے۔تاہم ،اس کو خوش قسمتی ہی کہیں گے کہ اس دور میں درآمدات میں برآمدات کے مقابلہ خاطر خواہ کمی آئی اور اس وجہ سے ہندوستانی کاتجارتی خصارہ کم ہوکر 25,250 کروڑ روپے ہی رہ گیا۔ جس میں تیل کے دام کم ہونے نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔
عالمی بازار میں کساد بازاری کے چلتے آمدنی کے بہتر مواقع کی تلاش میں ایف آئی آئی نے ہندوستان میں اپنا پیسہ لگانا شروع کردیااور اس سے برآمدات میں آئی کمی کو ایف ڈی آئی نے کچھ حد تک پورا کردیا۔مگرگذشتہ دنوں امریکہ کے ذریعہ اپنے قرض لینے کی حد کو بڑھانے کے بعد سے ایف آئی آئی نے اپنا پیسہ نکال کر امریکہ میں انویسٹ کرنا شروع کردیا ہے جس کے چلتے ہندوستانی روپیہ کے مقابلہ ڈالر کی قیمت لگاتار بڑھ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخیرہ میں لگاتار کمی آرہی ہے۔ ریزرو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق11نومبر 2011 کو ختم ہفتہ میں دیش میں زرمبادلہ کا ذخیرہ15,43,811کروڑ روپیہ کا تھا جس میں کہ سابقہ ہفتہ کے مقابلہ 20,642کروڑ روپیہ کی کمی درج کی گئی ہے۔یہی نہیں روپیہ ڈالر کے مقابلہ تیس ماہ کے سب سے کم نشان پر ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت میں سست روی کی شروعات ہوگئی ہے جس کی واضح نشانیوں میں ایک صنعتی پیداوار میں اضافہ میں 1.9 فیصد کی کمی ہے جوکہ پچھلے دو سالوں کے مقابلہ میں بہت نیچے ہے۔ ستمبر کے لئے صنعتی پیداوار کے انڈیکس کی یہ ڈبکی گزشتہ سال ستمبر کی ایک مضبوط 6.1 فی صد کے برخلاف ہے۔ اپریل سے ستمبر کی مدت کے دوران اس مالی سال میں صنعتی پیداوار کا انڈیکس 5 فی صد پر کھڑا ہے جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میںیہ 8.2 فی صدتھا۔
چیف اقتصادی مشیر کوشک بسو نے کہا ہے کہ ستمبرکے صنعتی پیداوار انڈیکس کے اعداد و شمار بڑی تشویش کا باعث ہیں اور دعویٰ کیا کہ عالمی اقتصادی صورتحال اس کے لیے ذمہ دارہے۔ ستمبر کے لئے صنعتی پیداوار کے انڈیکس کے اعداد و شمار جن کو جمعہ کو جاری کیا گیا تھا پر تبصرہ کرتے ہوئے فکّی کے سیکرٹری جنرل راجیو کمار نے کہا کہ ’’ملک میں صنعتی ترقی کی آؤٹ لک گزشتہ چند ماہ کے دوران بگڑی ہے۔اقتصادی ماحول میں غیر یقینی صورتحال سے کاروبار متاثر ہوئے ہیں اورکیپٹل گڈس کے شعبے اور نان ڈیوریبل گڈس کے شعبے کی منفی ترقی سے صارفین کے عدم اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘
کیپٹل گڈس کے شعبے میں 6.8فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔پچھلے چند مہینوں میں ملبوسات اور کپڑوں کی صنعت میں بھی لگاتار منفی ترقی درج کی گئی ہے۔اس سے ملک میں نوکریوں پر اثر پڑرہا ہے،کیونکہ کھیتی باڑی کے بعد اسی صنعت سے سب سے زیادہ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔
ایسا مانا جاتاہے کہ دو سال میں سب سے بڑی گراوٹ کی وجہ ریزرو بینک کے ذریعہ شرح سود میں اضافہ اور مہنگائی میں بے لگام اضافہ ہے جس کے سبب لوگوں کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسا تہواری سیزن کے فوراً بعد ہوا ہے جس میں کہ یہ امید کی جاسکتی تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ خرچ کریں گے۔
صنعتی پیداوار کم ہونے اورپیداور کی لاگت بڑھنے کے چلتے سرکار کی ٹیکس وصولی میں بھی خاطر خواہ کمی واقعہ ہوئی ہے۔مگرسرکاری اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی جارہی ہے۔ دوسری طرف پیٹرول کے دام میں روزبروز اضافہ کیاجارہا ہے۔ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کے اس سے سرکاری ٹیکس میں براہ راست اضافہ ہوجائے گا جس کے چلتے سرکار کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے گا۔
دوسری طرف موڈیز کی طرف سے ہندوستانی بینکوں کی ریٹنگ گرادی گئی ہے ۔اس پر لاپرواہی والا بیان دیتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ اس درجہ بندی کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ گھریلو قرض دہندہ اپنے عالمی ساتھیوں کے مقابلے میں بہتبہتر ہیں’’ہم فکر مند نہیں ہیں۔ ہم ڈاؤن گریڈ سے متاثر نہیں ہیں۔ عالمی سطح پر بینکوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، ہم بہت مضبوط ہیں اور درجہ بندی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘ مالیاتی خدمات کے سیکرٹری ڈی کے متّل نے کہا۔
ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھارتی بینک کاری نظام کے آؤٹ لک کو ’’مستحکم‘‘ سے کم کرکے ’’منفی‘‘ کر دیا ہے۔ ایک ’’منفی‘‘ آؤٹ لک اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی حالات کو دکھاتا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی دونوں معیشتوں میں سست اضافہ، بینکوں کے اثاثہ کا معیار، کیپٹلائزیشن، اور منافع پردباؤ ڈال رہا ہے۔ رپورٹ میں موڈیزنے کہا کہ، ’’اثاثہ کے معیار کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ لگتا ہے کے اگلے 12سے 18 ماہ کے دوران حالات مزیدبگڑ جائیں گے، اس طرح مالی سال2012 اورمالی سال 2013 میں بینکوں کی دشواریوں میں مزید اضافہ ہوگا۔‘‘
ویر ارجن کو ایک بیان میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے ملک کے اقتصادی حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے ملک کی بگڑتی معیشت پر پارلیمنٹ کے دونوں ادوار میں الگ الگ بحث کرانے کا مطالبہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے حکومت کی طرف سے جاری صنعتی ترقی کے اعداد و شمار میں آئی گراوٹ پرغم اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری معیشت میں شاید ہی ایسی کوئی بات ہو جس پر خوش ہوا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کی حالت بہتتشویش ناک ہے ، حکومت کی طرف سے جاری اعداد و شمار میں آمدنی گھاٹا اپنے بجٹ ہدف سے کافی دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک صنعتی ترقی کے گزشتہ سال کے ان ہی دنوں کا موازنہ اپریل کے مہینے سے کریں تو اس میں تقریبا پانچ فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا ایک طرف تو ہمارے ملک کی معیشت اتنی تشویش ناک ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم دوسرے ممالک کے سربراہوں کواچھے کام کاج کا خطاب بانٹ رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو مشورے والے انداز میں کہا کہ وزیر اعظم سیقوم یہ امید کرتی ہے کہ وہ ایک پریس کانفرنس بلا کر ملک کی اقتصادی صحت کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔
ایک طرف تو ہمارا ملک اور اس کی صنعت شدید بحران سے دوچار ہے اور دوسری طرف ہماری سرکار غیر ضروری اور غیر لازمی خرچوں میں کٹوتی نہیں کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے گاؤں میں برسوں سے سڑک نہ بنی ہو مگر شہروں میں ایک ہی سڑک کو سال میں کئی کئی بار بنایا جاتاہے۔ پرانے فٹ پاتھ توڑ کر نئی فٹ پاتھ بنائے جاتے ہیں۔پرانے پارکوں کی تزئین کاری کی جاتی ہے، مرحوم قائدین کے لئے نئے نئے سمارک بنائے جاتے ہیں،مرحومین کی ہی نہیں زندوں کی بھی مورتیاں لگائی جاتی ہیں اور جب اشد ضروری مدوں پر خرچ کی بات آتی ہے تو ہر حکومت چاہے وہ ریاستی ہو یامرکزی اپنے ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہوجاتی ہے اور فنڈس کی کمی کا بہانہ کرنے لگ جاتی ہے۔ہماری حکومت تودوسرے ممالک کو خوش کرنے کے لئے ان کو لمبی چوڑی امداددینے کا وعدہ کرنے سے بھی نہیں چوک رہی ہے، جبکہ خود اس کے پاس اپنا خرچ چلانے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔منموہن سنگھ مالدیپ کو امداد کااعلان کرچکے ہیں اور پرنب مکھرجی یوروپ کی مددکرکے اس کو مالی بحران سے ابھارنے کی بات کررہے ہیں۔اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ایک کوشش یہ بھی ہورہی ہے کہ سرکاری کمپنیوں کے پاس جو اضافی کیش ریزرو ہے اس کو مرکزی سرکار اپنے پاس منتقل کرلے اور اس سے اپنے اخراجات پورے کرے۔
اگر حکومت اب بھی نہیں جاگی تو ان حالات کو دیکھتے ہوئے تویہی لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہونے کے راہ پرتیزی سے گامزن ہوجائے گی اور پھر ہندوستان کا بھی وہی حال ہوگا جو امریکہ اور یوروپ کا ہورہاہے۔
وسیم بریلوی کا ایک مشہور شعر ہے جو ملک کے موجودہ حالات کے لئے موزوں ہے،
گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے
پہلے یہ طے تو ہو اس گھر کو بچائیں کیسے
نوٹ: یہ مضمون اوراس سے قبل کے تمام مضامین پڑھنے کے لئے http://afifahsen.blogspot.comپر جائیں۔
Afif Ahsen, America, Daily Pratap, Europe, india, inflation, Manmohan Singh, Moodys's, Pranab Mukherjee, Recession, Vir Arjun,

No comments:

Post a Comment