Search

Tuesday, 15 November 2011

کیا گاندھی وادی انا جھوٹ بول رہے ہیں؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 7th November 2011
عفیف احسن
ابھی تک تو یہی الزام لگ رہا تھا کہ ٹیم انا کوپارلیمنٹری ڈیموکریسی پر یقین نہیں ہے، مگر گزشتہ دنوں کے دوران ٹیم انا میں نظر آئے انتشار ات کا جائزہ لینے سے یہ لگتا ہے کہ ٹیم انا میں اندرونی جمہوریت کا بھی فقدان ہے اور اس کا شکار نہ صرف ٹیم کے دوسرے ممبران ہوئے ہیں بلکہ اناہزارے خود بھی اس کا شکارنظر آرہے ہیں۔ اس کا پتا اسی بات سے لگ جاتاہے کہ انا ہزارے کو بار بار اپنا بیان بدلنے پر مجبور کیا جارہاہے۔ اور ان کو اپنے خیالات ظاہر کرنے کی پوری آزادی نہیں ہے۔
پہلے2نومبر کو انا کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اب وہ کسی ایک پارٹی یا امیدوارکی مخالفت نہیں کریں گے بلکہ وہ لوگوں سے یہ اپیل کریں گے کہ وہ صرف صاف ستھرے شبیہہ والے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں۔ مگر بعدمیں 4نومبر کو نہ جانے کس کے دباؤ میں انہوں نے اپنا بیان بدل دیا اوریہ کہا کہ وہ لوگوں کے بیچ جائیں گے اور ان سے کانگریس کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کریں گے۔
کچھ عرصہ قبل ٹیم انا سے کئی لوگ ناطہ توڑ چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی پی وی راجگوپال اور راجندر سنگھ نے ٹیم انامیں کچھ لوگوں کی طرف سے غیر جمہوری طریقے اپنائے جانے اور دوسرے ممبروں کی رائے نا لئے جانے پر اپنے آپ کواس مہم سے الگ کرلیا تھا۔
اب انا ہزارے کے بلاگر راجو پرولیکرنے جن لوکپال بل پاس کرنے کا مطالبہ کر رہی ٹیم انا کے ارکان اروند کیجریوال ، پرشانت بھوشن اور کرن بیدی کی جم کر سرزنش کرتے ہوئے انہیں غیر جمہوری اورفاشسٹ بتا ڈالا ہے۔ انا کے بلاگ پر ڈالی گئی اپنی پوسٹ میں راجو نے انا کا دفاع کرتے ہوئے ان کی ٹیم کے اہم ارکان پر حملہ بولا ہے۔ ایک نجی چینل سے بات چیت میں راجو پرولیکر نے اروند کیجریوال پر سیدھا نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ انا کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ راجو کے مطابق اروند ٹیم کی میٹنگوں میں حاوی ہو تے ہیں اور کسی کی بات نہیں سنتے ۔ راجو نے کہا کہ کمار وشواس سے بھی انا ہزارے کو خط سازش کے تحت لکھوایاگیا تھا۔ راجو کا دعویٰ ہے کہ کرن بیدی اور اروند کیجریوال نے ان سے کہا تھا کہ کوئی بھی بلاگ پوسٹ پر ڈالنے سے پہلے ان کی اجازت لی جائے۔
راجو نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے ، کیجریوال ، بیدی اورپرشانت بھوشن نے 30 اکتوبر کو رالیگن سدّھی میں سب کے سامنے انا ہزارے کے خیالات کو دبا دیا۔کیجریوال ،پرشانت بھوشن ، کرن بیدی نے غیر جمہوریت ، فاشسٹ اور انا کے تئیں توہین آمیز رخ دکھاتے ہوئے کور کمیٹی کی میٹنگ کے فیصلے کو انا ہزارے پر تھونپ دیا۔ راجو نے کہا کہ انہوں نے انا کی طرف سے مخالفت کی۔ ٹیم انا کے جانے کے بعد ہزارے نے بند کمرے میں ان سے بات کی۔ 23 اکتوبر کے انا کے مبینہ خط کے بارے میں راجو نے بلاگ پر لکھا ہے کہ جب انا، کیجریوال ، بیدی ،بھوشن اور ان کے پیادو سے پریشان ہوکر انہیں کور کمیٹی سے ہٹانے کا من بنا کر خط لکھ رہے تھے تب ان کے سیکریٹری سریش پربھوپٹھارے وہاں موجود تھے۔ پٹھارے نے انا کو روکنے کی کوشش کی تھی ، لیکن وہ رکے نہیں۔ اس کے بعد سریش پربھو نے مجھ سے درخواست کی کہ میں انا کا یہ خت پوسٹ کے طور پر بلاگ پر اپ لوڈ نہ کروں۔
راجو نے ٹیم انا کے ارکان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ،ملک کی غیرسیاسی تنظیموں اور بھگت سنگھ ، راجگر واور سہدیو جیسے نوجوانوں کو بدعنوانی کے خلاف انا جی کے لئے لڑائی لڑنی ہوگی۔ ان نوجوانوں کو 25 لوگوں کی خود ساختہ ٹیم (غیر جمہوری اور غیر آئینی) سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔راجو کے مطابق ، 23تاریخ کا خط اور ان تمام باتوں سے ثابت ہو جاتا ہے کہ کیجریوال ،پرشانت بھوشن اور بیدی موقع پرست ہیں۔
انا بلاگ کے لئے مراٹھی میں اپنی بات لکھ کر راجو کو دیتے تھے۔ وہ اس کا ترجمہ کرکے اسے انا کے بلاگ پر ڈالتے تھے۔ راجو کا کہنا ہے کہ انا نے 23 اکتوبر کو لکھا یہ خط بھی انہیں انٹرنیٹ پر ڈالنے کے لئے دیا تھا۔ راجو پرولیکر نے انا کے لکھے اس خط کو عام کرکے ٹیم انا کے لئے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ اس خط کے مطابق انا ہزارے اپنی کور کمیٹی کو تحلیل کرکے نئی ٹیم کی تشکیل کرنا چاہتے تھے۔ یہ خط انا کے بلاگ پر انگریزی اور مراٹھی میں پوسٹ کیا گیا ہے جس کا متن اس طرح ہے:
’’میں ٹیم انا کے تمام اراکین کو یہاں یہ معلومات دے رہا ہوں کہ بہت جلد میں اپنی کور کمیٹی کے دوبارہ قیام کی بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے مسلسل ملک بھر سے تحریک کی حمایت میں خط مل رہے ہیں اور لوگ بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں اپنی زندگی سونپنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ خطوط سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ، فوج کے کرنل ، بریگیڈیر ، پروفیسر ، پرنسپل اور اپنی خیالات رکھنے والے پڑھے لکھے لوگوں نے لکھے ہیں۔ بہت جلد ان لوگوں کی شناخت کرکے انہیں ان کے مطابق کام سونپ دیا جائے گا۔ میں ملک کے تمام حصوں اور ریاستوں سے ایسے لوگوں کو تحریک میں شامل کرنا چاہتا ہوں جو سماج کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
خط لکھنے والے لوگوں کا کوئی نجی ایجنڈا نہیں ہے اور ان لوگوں نے صرف دیش کی خدمت اور خدمت خلق کے مقصد سے تحریک میں شامل ہونے کی منشا ظاہر کی ہے۔ اب ہمیں ٹیم انا کی توسیع کرنا چاہئے اور ان لوگوں کو شامل کرنا چاہئے۔ ورکنگ کمیٹی بنانے کے لئے ہمیں کارگر لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ کور کمیٹی بناتے وقت ملک کے تمام صوبوں کے لوگوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ مؤثر مواصلات کے لئے ان سب کو آن لائن جوڑا جائے گا۔
ان رضاکاروں ، مثال کے طور پر 100 رضا کاروں کے رہنے اور کھانے کا خرچہ صاف کردار کے لوگوں سے عطیات لے کرپورا کیا جائے گا۔ اس سے ہمیں ملک بھر میں موثر احتجاج منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمیں طویل جنگ لڑنی ہے۔ بدعنوانی سے پاک ہندوستان بنانے کے لئے ہمیں ان تمام لوگوں، جو اب تک مہم سے الگ تھلگ ہیں، کا استعمال کرنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ بدعنوانی سے نجات چاہنے والے دیگر ممالک کے لئے بھی ایک اچھی مثال ہوگی۔ ہم ادارہ کی تعمیر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ریاست اور ضلع کی سطح پر اپنے رضاکار بنا رہے ہیں۔
جب قومی سطح پر تحریک چل رہی ہوگی تو ریاستی سطح پر بھی اس سے لوگ مربوط ہوتی ہوئے دکھائی دیں گے۔ اس جدوجہد میں کوئی صدر ، سیکرٹری یا خزانچی نہیں ہوگا۔ لوگ صرف رضاکاروں کے طور پر ہی کام کریں گے۔ قدرتی طور پر ہمیں مالی امداد کی ضرورت ہوگی لیکن عطیہ کے طور پرنقدرقم قبول نہیں کی جائے گی صرف چیک اور ڈرافٹ کے ذریعے ہی عطیات لئے جائیں گے۔ لیکن یہ عطیات بھی ان لوگوں سے ہی لئے جائیں گے جنہیں بھگت سنگھ ، راجگرو اور سہدیو کی شہادت میں یقین ہوگا۔کے بی ہزارے۔‘‘
لیکن انا نے ہفتہ کو راجو پرولیکر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا ،’’میں اپنا بلاگ اب بند کر دوں گا۔ اگر خط پر دستخط ہوں گے تو وہ صحیح خط ہے۔ میں اپنے خیالات کبھی کبھی لکھتا رہتا ہوں۔ لیکن آخری طور پر اسے تب ہیحتمی مانا جائے گا جب اس پر میرے دستخط ہوں گے۔ میری ٹیم پر الزامات لگ رہے ہیں۔ الزامات لگنے کے بعد میں سوچ رہا تھا کیا ٹیم میں تبدیلی لایائی جانی چاہئے؟ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بدنام کرنے کی سازش ہے۔‘‘
جب جمعہ کے روز انا سے پریس کانفرنس میں اس بارے میں سوال کیا گیا تھاتو انہوں نے کہا تھاکہ میں نے کور کمیٹی تحلیل کرنے کی کبھی بات نہیں کی۔ انا نے راجو سے کبھی بات یا ملاقات تک سے انکار کر دیاتھا الٹے ان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہوا میں بات کرتے ہیں؟ ان باتوں سے ٹھیس پہنچنے کے بعد راجو نے خود کو صحیح ثابت کرنے کے لئے 23 اکتوبر ، 2011 کو لکھا انا کا خط ان کے بلاگ پر ڈال دیا ۔
ان سب باتوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گاندھی وادی انا جھوٹ بول رہے ہیں؟
نوٹ: یہ مضمون اوراس سے قبل کے تمام مضامین پڑھنے کے لئے http://afifahsen.blogspot.comپر جائیں۔
Afif Ahsen, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, daily, Kiran Bedi, Vir Arjun,

No comments:

Post a Comment