![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 19th December 2011
عفیف احسن
مجھے چند ماہ پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھاکے ملک جس راہ پر گامزن ہے اگراسی پرچلتا رہا تو معاشی تباہی بہت دور نہیں ہے۔جب مجھے لگا کہ ہمارا ملک اس سلسلے میں قطعی فکر مند نہیں لگ رہا تھا اس لئے حکام کی توجہ اس جانب منبدول کرانے کے لئے میں نے ایک مفصل آرٹیکل لکھا تھاجس کے ذریعہ میں نے اس بات کا خلاصہ کیا تھا کہ کیسے ہمارے ملک کی معیشت تباہی کی راہ پر گامزن ہے اور اگرجلد ہی اس کا کوئی سدباب نہ کیا گیاتو ہمارا ملک تباہی کے دہانے پرپہنچ جائے گا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ حکمراں طبقہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس مسئلہ کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کو سیاست کے علاوہ نہ توکچھ اوردکھائی ہی دیتا ہے اور نہ ہی سنائی ہی دیتا ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس کو کو ئی مسئلہ ماننے سے لگاتار انکار کررہے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں کی نیت تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ان کے مفادمیں ہوسکتا ہے کہ دیش کے حالات بد سے بدتر ہوجائیں۔ اور ملک کے عوام حکومت سے متنفر ہوجائیں اورپریشان ہوجائیں جس کے سبب ایک ایسی حکومت مخالف لہر چلے جس میں لوگ حکمرا ں طبقہ کو اقتدار سے بے دخل کردیں۔ کیونکہ جب عوام ناراض ہو تے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کے کون سی پارٹی ان کی پریشانیوں کو دور کرسکتی ہے بلکہ وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اسے حکمراں پارٹی کو ہٹانا ہے، کیونکہ وہ ہی ان کی ساری پریشانیوں کی جڑ ہے۔ ان کے ووٹ کے نتیجے میں چاہے کوئی بھی ایری غیری پارٹی برسر اقتدار آجائے، اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
مگر ہماری حکمراں جماعت کو نہ جانے کیا ہوا ہے۔ وہ کیوں خواب غفلت سے بیدارنہیں ہوتی۔اور کیوں اس پریشانی کاسدباب نہیں کرتی۔ اس سب کی ایک بڑی وجہ تو لوک پال بل ہی ہے ۔ایسا ماحول بنایاجارہا ہے کہ جیسے ملک کی تمام پریشانیوں کا ایک اچوک اور رام بان علاج لوک پال بل ہی ہے۔یا یوں کہئے کہ یہ حیدرآباد کی مشہور دوا’’ زندہ طلسمات‘‘کی طرح ہے۔جس کو کہ آپ ہر بیماری میں استعمال کرسکتے ہیں۔ایک زمانے میں زندہ طلسمات کا استعمال بہت عام تھا اور اس کا استعمال ہر بیماری کے علاج میں کیا جاتا تھا۔ مگر وہ پرانا دور تھا جب بیماریاں کم تھیں یا یو ں کہئے کے لوگوں کو کم بیماریوں کے نام پتا تھے۔ اسلئے تمام بیماری کے لئے گنے چنے نام ہی تھے۔ مگر اب اسپیشلائزیشن کا دور ہے اور اس لئے ایک ایک بیماری میں کئی کئی بیماریاں نکل آئی ہیں۔اور ان بیماریوں کے الگ الگ اسپیشلسٹ اور ڈاکٹر ہو گئے ہیں۔ مگر ہم اسی پرانے زمانے میں جی رہے ہیں۔ہمیں اب بھی یہی یقین ہے کہ لوک پال بل ہی ہماری ساری پریشانیوں کا علاج ہے۔
حالانکہ تمام پارٹیاں انا کی سبھی باتوں سے متفق نہیں ہیں مگر کوئی بھی کھل کر اس کی مخالفت نہی کررہی ہے۔ بلکہ اپوزیشن پارٹیاں تو اس کی آگ میں اپنی روٹیاں سینکنے سے بھی نہیں چوک رہی ہیں ۔اور جتنا ہوسکے اس معاملے کو ہوا دے رہی ہیں۔بند کمروں میں ان پارٹیوں کا جو اسٹینڈ ہوتا ہے وہ ان کے اعلانیہ اسٹینڈ سے قطعی مختلف ہے۔
لوک پا ل بل پاس کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے اور سرمائی اجلاس کی مدت بڑھائے جانے تک کی بات ہو رہی ہے مگر دوسرے بہت ہی ضروری اور اہم بل ہیں جو دونوں ایوانوں میں پاس ہونے کے انتظار میں ہیں ان کی کوئی بات بھی نہیں کرتا۔اس کے علاوہ بہت سے ایسے بل ابھی ڈرافٹ اسٹیج پر ہی لٹکے ہوئے ہیں۔اور بہت سے ایسے بل ہیں جوکہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دئے گئے ہیں۔سرکار نے سرمائی اجلاس شروع ہونے سے پہلے 62ایسے نئے بلوں کی فہرست بنائی تھی جو کہ اس میں پاس کرائے جانے تھے۔ یہ ان بلوں کے علاوہ تھے جو پہلے ہی سے پینڈنگ ہیں۔ لیکن اب جب کے اس اجلاس کے ختم ہونے میں چند روز ہی بچے ہیں مگر حکومت ایک بھی بل پاس کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔اجلاس کا زیادہ تر وقت شور شرابے اور ہنگامے کی نظر ہو چکا ہے۔ پچھلے سال کے سرمائی اجلاس میں کوئی بھی بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ جبکہ بجٹ اجلاس میں کل پانچ بل ہی پاس ہوسکے اور مانسون اجلاس میں دس بل پاس ہوئے تھے۔
اس نا اہلی میں حکومت نے خوردہ میں ایف ڈی آئی پر لئے گئے اپنے فیصلے کو واپس لیکر اور اس پر عمل درآمد نہ کرکے اور بھی ناقص کام کیا ہے۔ اس سے حکومت اورزیادہ کمزور نظر آرہی ہے۔ اب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کے کیبنٹ میں لئے گئے فیصلے کی مخالفت کانگریس کے اتحادی پارلیمنٹ اور سڑک پر کرتے ہیں حالانکہ جس وقت یہ فیصلہ لیا جاتا ہے وہ کیبنٹ کی میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں اور تب وہ اس فیصلے کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ۔
یوپی اے کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں تک کو کسی بل کے لئے راضی نہیں کرپاتی ہے اور یوپی اے کے الائز ہی اس کے ہرفیصلے کی مخالفت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ رہی سہی کسر بی جے پی پوری کردیتی ہے اور وہ بھی کانگریس کے ہر قدم کی مخالفت کرنا شروع کردیتی ہے۔پینشن بل کو ہی لے لیجئے ۔ 2004میں بی جے پی اس بل کی پرزور حمایت کررہی تھی مگر اس وقت کمیونسٹ اس بل کی مخالفت کررہے تھے۔آج حالت یہ ہے کے کمیونسٹ اور بی جے پی دونو ں ہی مل کر اس کی پرزورمخالفت میں آگئے ہیں۔
آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ سرکار ی افسران اور وزرائچھوٹے سے چھوٹا فیصلہ لینے سے بھی ڈرتے ہیں کے کہیں ان پر بدعنوانی کا الزام نہ لگ جائے۔اور کئی اسکیمیں اور پروگراموں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔سرکاری خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے۔اور اس کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے۔
سرکار کے سبھی آنکڑے اور اعدادوشمار غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ جس کی وجہ صاف ہے کہ سرکار ابھی تک خوش فہمی میں جی رہی ہے اور موجودہ حقیقت اور آئندہ مشکلات سے نظر چرارہی ہے۔پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیرمین مونٹیک سنگھ اہلوالیہ نے بڑی بے شرمی سے اس بات کو قبول کرلیا ہے کے پلاننگ کمیشن نے مہنگائی درکا غلط اندازہ لگایا تھا۔مگر اس پر کوئی بھی ہنگامہ نہیں ہوا۔ ان سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ اپنابوریا بستر گول کریں کیوں کہ آپ کو کام کرنا نہیں آتا۔ حکومت کا کام کاج زیادہ تر انہیںآنکڑوں یا اعدادوشمار پر چلتا ہے۔ کیوں کہ غلط اعداد و شمار کا اندازہ حکومت کو غلط راہ پر لے جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اب یہ دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوک رہے ہیں کے مارچ 2012تک مہنگائی در سات سے آٹھ فیصد تک آجائے گی۔اور اسی کو بنیاد بنا کرپرنب مکھرجی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مارچ تک مہنگائی کم ہوجائے گی۔یہ اعداد وشمارجس بنیاد پر بنائے گئے تھے جب وہ بنیاد ہی ڈھے گئی ہو تو پھر کیسے ان نئے اعداد و شمار پر بھروسہ کیاجاسکتا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت ملک کی موجودہ معاشی حالت کانئے سرے سے جائزہ لے اور اس پر ایک وہائٹ پیپر جاری کرے اور اس کو درست کرنے کے لئے جلد سے جلد سدباب کرے اور سبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کے حالات بہتر بنانے کی سمت کام کرے۔
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, FDI in Retail, Parliament, UPA, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment