![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 27th December 2011
عفیف احسن
مذہب ریزرویشن کی بنیاد نہیں ہو سکتا،تو پھر ریزرویشن کس بنیاد پر مانگا یا دیا جاسکتا ہے۔اس سوال کا قدرتی جواب یہ ہوگا کہ ریزرویشن کا حقدارنہ تو کوئی خاص طبقہ،نہ ہی کوئی خاص فرقہ اور نہ ہی کوئی مخصوص مذہبی یا لسانی اقلیت ہوسکتی ہے۔ریزرویشن تو صرف معاشی پچھڑے پن کی بنیاد پر دیا جانا چاہئے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کے ملک میں ریزرویشن کی شروعات کب ، کیسے اورکیو ں ہوئی۔ عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں ریزرویشن ڈاکڑ امبیڈکر اور کانگریس نے شروع کیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔دراصل ہندوستان میں ریزرویشن کی بنیاد انگریزوں نے ڈالی۔ریزرویشن کی پالیسی کی شروعات مدراس اور میسور پریسیڈنسیوں سرکاری نوکریوں میں برہمنوں کے غلبہ کے خلاف غیر برہمنوں کے احتجاج کے بعد ہوئی۔ برہمنوں نے اس کے خلاف کوئی سخت مزاحمت نہیں کی۔ اور ان علاقوں کو ہجرت کر گئے جہاں خوشحال کے مواقع میسر تھے۔
میسورپریسیڈنسی نے 1874 سے ہی غیر رسمی طور پر اپنی ریزرویشن پالیسی تیار کررکھی تھی۔ اسکی حکومت نے (1874 اور 1885 کے درمیان) برہمنوں کے لئے درمیانی اور نچلی سطح پر 20 فیصد اور باقی 80 فیصد نوکریاں دوسروں کے لئے ریزرو کیں۔ 1881 سے 1910 کے دوران ملازمتوں کے مطالبہ کی حوصلہ افزائی’’ماٹی کے لال‘‘ تحریک کے نتیجے میں ہوئی ۔
اس عملمیں برطانوی حکومت کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1858 میں چارج لینے کے بعد تیزی آئی۔ 1858 میں برطانوی حکومت نے ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی پالیسی اپنا ئی۔ اس پر عمل درآمد کے لئے انگریزوں سے جو بھی بن سکتا تھا انہوں نے کیا تاکہ تمام ہندوستانیوں کے اندر انگریزوں کے خلاف اتحادنہ پنپ سکے اور انگریز بلا کسی روک ٹوک کے ملک پر حکمرانی کرتے رہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک برطانوی سفیر یوٹس جے کٹس نے 1881 کی مردم شماری میں پچھڑی ذات اور قبائل کی پہچان کی۔ جس کا مقصد انہیں مقامی اور صوبائی سطح پر مالی مدددینا اور تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دینا تھا۔شاید اسی وجہ سے 1905 سے 1940 کے دوران ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی برطانوی پالیسی بہت زور شور سے پھلی پھولی۔اسی دور میں ریزرویشن کو جامع شکل ملی۔
کیونکہ ہمارے ملک میں وصائل محدود ہیں، جو کبھی آبادی کے تناسب میں میئسر نہیں رہے ، ہمارا ملک بیروزگار تو پیدا کرتارہا مگر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرپایا۔ تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس کورس میں ایپلائی کرنے کے لئے کم ازکم تعلیمی لیاقت 45 فیصد ہو تی ہے اس میں 98سے100فیصد نمبرلانے والوں ہی کو داخلہ مل پاتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہہیکہ باقی طالب علم نا اہل ہیں؟ایسا ہرگز نہیں۔ ہر 45فیصد نمبر حاصل کرنے والا اس کا ا ہل ہے ۔
اس کا ایک سبب یہ ہے کہ سرکارضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے نہیں بنا پارہی ہے۔ اور اس کے لئے ذمہ دار محدود وسائل کاٹھہرایا جاتا ہے۔صرف نجی شعبہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔جس کے پاس حاصل کرنے کے ذرائیوں کی کوئی کمی نہی ہے۔لیکن کیونکہ ہمارے ملک میں تعلیم میں اب بھی کوٹہ سسٹم اور لائسنس راج نافذ ہے، جس کی وجہ سے لائسنس جاری کرنے والی ایجنسیوں کو من مانی رشوت وصول کرنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ یہ رشوت منسٹر سے لیکر کلرک تک لی جاتی ہے۔شرائط ایسی لگائی جاتی ہیں کہ ان کو پورا کرناجوئے شیر لانے جیسا ہوتا ہے۔ اگر کسی طرح کوئی یونیورسٹی بن بھی جائے تو بعد میں اس کی منظوری کالعدم قرار دے دی جاتی ہے اور طالب علموں کو بیچ مجدھار میں چھوڑ دیا جاتاہے۔
ہمیں یہ تومنظور ہے کہ ہمارے بچے بیرون ملکی تعلیمی اداروں میں جاکر تعلیم حاصل کریں اور ملک کا لاکھو کروڑوں کا زرمبادلہ باہرچلا جائے مگر ان غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کو اس بات پر رازی کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا جس سے کہ وہ اندرون ملک اپنی شاخیں کھولیں اور اس کے لئے ان کو لبھانے کی ضرورت کو بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ایسا کیا گیا توایک تو بیروں ملک کے مقابلے تعلیم کم خرچ ہوگی اور دوسرے تعلیم کے معیا ر میں اضافہ ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کے انگریزوں کے ذریعہ شروع کیا گیا ریزرویشن بے بنیاد تھا ، دراصل ہوا یہ کے کچھ لوگوں نے اپنی طاقت اور پہنچ کی بنیاد پر نوکریوں اور سہولتوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ذات پات کی بنیاد پر ایک معاشرہ تشکی کیا ۔ جس میں یہ کہا گیا کہ راجہ کا بیٹا راجا، وزیر کا بیٹا وزیر، درباری کا بیٹا درباری، سپاہی کا بیٹا سپاہی ، اور اس طرح ہر دوسری ذیلی ذات کے لوگ بھی وہی کام کرتے رہیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ یعنی دھوبی کا بیٹا دھوبی، نائی کا بیٹا نائی، تیلی کا بیٹا تیلی،بھشتی کا بیٹا بھشتی، جلاہے کا بیٹا جلاہا،کسان کابیٹا کسان، جوتیاں گاٹھنے والے کا بیٹا جوتی گانٹھنے والاوغیرہ وغیرہ۔ یہ سماج میں خود غرضی کی ایک انتہاء تھی اور اس نے اجارہ داری کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح ایک خاص طبقہ ہمیشہ دبا اورکچلا رہا ، حالانکہ یہ اکثریت میں تھا۔اگر کسی ملک میں برسوں تک کسی خاص طبقہ، فرقہ یا گروپ کا استحصال کیا جائے گا تو وہ قدرتی طور پربغاوت پر آمادہ ہوجائے گا۔
جس طرح کچھ لوگو ں کو اچھوت بتاکرصدیوں تک اعلیٰ شاہی منصبوں سے دور رکھا گیا اور بعد میں ان لوگ کو ہریجن کہا گیا اور پھر وہی لوگ شیڈیولڈ کاسٹ کہلائے اسی طرح آزادی کے بعد مسلمانوں کو بھی طرح طرح سے پریشان کیا گیا اوراسے بھی اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ اب اس کو مائنارٹی کہا جارہا ہے۔ اس مائنارٹی میں بے شک مسلمان شامل ہیں مگر اس میں سکھ، عیسائی ،بودھ اور جینی بھی شامل ہیں۔ اس لئے اگر مائنارٹی کو کوئی بھی ریزرویشن دیا جاتا ہے تو وہ مذہب کی بنیاد پر دیا گیا نہیں مانا جاسکتا۔ کیونکہ دیش میں جس کسی کو بھی کوئی ریزرویشن ملے گا یاملا ہوا ہے اسکا اپنا کوئی ذاتی مذہب ضرور ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہے کے جن لوگوں کو شیڈول کاسٹ کے تحت ریزرویشن ملتا ہے وہ لامذہب ہیں۔یا لامذہبیت ریزرویشن کی بنیادہے۔ہا ں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی شیڈول کاسٹ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی (نیوکرسچن)یا اسلام مذہب اختیار کرلے (نیو مسلم)تو اس کو ریزرویشن حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی کہ ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہ دینے کی بات صرف شیڈیول کاسٹ کے لئے ہے اور یہ کسی اور قانون میں نہیں ہے کہ باقی کسی اورطبقہ ، فرقہ ، یا جماعت کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے روکا جاسکتا ہے۔
ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک بار بھی کسی بھی قسم کا ریزرویشن مل گیا تو اس کو اور اس کے بال بچوں کومستقبل میں ریزرویشن کا کوئی حق نہیں رہ جاناچاہئے کیونکہ جس طرح ہمارے ملک کے وسائل محدود ہیں اسی طرح ریزرویشن کی سیٹیں بھی محدود ہیں۔اور اس پر ایک ہی خاندان کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے نہیں تو ایک نیا پچھڑا طبقہ ابھر کے سامنے آجائے گا ۔ آج جو اوپر ہیں وہ کل نیچے ہو جائیں گے۔ ایک جوتی گانٹھنے والے کا لڑکاجب آئی اے ایس افسر بن جاتا ہے تو وہ جوتی گانٹھنے والا نہیں رہ جاتابلکہ اسکا شمار دیش کے اعلیٰ افسران میں ہوتا ہے اور وہ شیڈیول کاسٹ سے نکل کر ایک نئی کاسٹ میں شامل ہوجاتا ہے جوکہ ہے نوکر شاہوں کی ،مگر کیونکہ اب وہ طاقت ور ہے اس لئے وہ خود کو شیدیول کاسٹ میں بنائے رکھتا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس کافائدہ دلاتا رہتا ہے جوشیڈیول کاسٹ کے دوسرے کمزور لوگوں کی قیمت پر ہوتا ہے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آج تک ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔اسی طرح اگر ایک نائی کو ، تیلی کو، دھوبی کو، بھشتی کو، جس دن بھی ریزرویشن مل گیا وہ اس دن سے نائی، تیلی، دھوبی، بھشتی کے زمرے سے باہر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس کی آنے والی نسلیں ریزویشن سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔
مسلمانوں کو دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں دیا جانے والا ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کچھ نیا نہیں ہے۔یہ مانگ بھی ٹھیک اسی طرح کی ہے جس طرح کی مانگ گوجر ریزرویشن کے لئے کی جارہی ہے۔ کیونکہ گوجر دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور بہت پچھڑے ہونے کی سبب اور دوسری جاتیوں کی اجارہ داری کی سبب وہ ریزرویشن کا فائدہ نہیں حاصل کرپاتے ،اس لئے وہ اپنی جاتی کے لئے الگ سے ریزرویشن چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی جب تک کے ستّائیس فیصد میں ہی ان کی آبادی کے تناسب سے ان کوریزرویشن دیا جائے ، مگر الگ سے ان کو ریزرویشن دینا ابھی ممکن نہیں لگتا۔اسی طرح کی مانگ مسلمان دیگر پسماندہ ذاتوں کی بھی ہے، وہ کہتے ہیں کے دوسری ذاتیں ان کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں لینے دیتیں اس لئے ریزرویشن میں سے مسلم اوبی سی کو ان کے تناسب کے اعتبار سے حصہ مختص کیاجائے۔ ایسا ہی مرکزی حکومت نے کیا ہے۔ اس لئے یہ قطعی نہیں سمجھنا چاہئے کے مسلمانوں کو کوئی نیاریزرویشن مل گیا ہے، یا یہ کہ کانگریس نے ان پر کوئی بہت بڑا احسان کردیا ہے بلکہ یہ توانہیں پہلے سے ہی مل رہا تھا کانگریس نے تو صرف اس کو یقینی بنانے کا کام کیا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کے ملک میں ریزرویشن کی شروعات کب ، کیسے اورکیو ں ہوئی۔ عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں ریزرویشن ڈاکڑ امبیڈکر اور کانگریس نے شروع کیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔دراصل ہندوستان میں ریزرویشن کی بنیاد انگریزوں نے ڈالی۔ریزرویشن کی پالیسی کی شروعات مدراس اور میسور پریسیڈنسیوں سرکاری نوکریوں میں برہمنوں کے غلبہ کے خلاف غیر برہمنوں کے احتجاج کے بعد ہوئی۔ برہمنوں نے اس کے خلاف کوئی سخت مزاحمت نہیں کی۔ اور ان علاقوں کو ہجرت کر گئے جہاں خوشحال کے مواقع میسر تھے۔
میسورپریسیڈنسی نے 1874 سے ہی غیر رسمی طور پر اپنی ریزرویشن پالیسی تیار کررکھی تھی۔ اسکی حکومت نے (1874 اور 1885 کے درمیان) برہمنوں کے لئے درمیانی اور نچلی سطح پر 20 فیصد اور باقی 80 فیصد نوکریاں دوسروں کے لئے ریزرو کیں۔ 1881 سے 1910 کے دوران ملازمتوں کے مطالبہ کی حوصلہ افزائی’’ماٹی کے لال‘‘ تحریک کے نتیجے میں ہوئی ۔
اس عملمیں برطانوی حکومت کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1858 میں چارج لینے کے بعد تیزی آئی۔ 1858 میں برطانوی حکومت نے ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی پالیسی اپنا ئی۔ اس پر عمل درآمد کے لئے انگریزوں سے جو بھی بن سکتا تھا انہوں نے کیا تاکہ تمام ہندوستانیوں کے اندر انگریزوں کے خلاف اتحادنہ پنپ سکے اور انگریز بلا کسی روک ٹوک کے ملک پر حکمرانی کرتے رہیں۔ اعظم گڑھ میں ایک برطانوی سفیر یوٹس جے کٹس نے 1881 کی مردم شماری میں پچھڑی ذات اور قبائل کی پہچان کی۔ جس کا مقصد انہیں مقامی اور صوبائی سطح پر مالی مدددینا اور تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دینا تھا۔شاید اسی وجہ سے 1905 سے 1940 کے دوران ’’تقسیم کرواور راج کرو‘‘ کی برطانوی پالیسی بہت زور شور سے پھلی پھولی۔اسی دور میں ریزرویشن کو جامع شکل ملی۔
کیونکہ ہمارے ملک میں وصائل محدود ہیں، جو کبھی آبادی کے تناسب میں میئسر نہیں رہے ، ہمارا ملک بیروزگار تو پیدا کرتارہا مگر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرپایا۔ تعلیمی نظام ایسا ہے کہ جس کورس میں ایپلائی کرنے کے لئے کم ازکم تعلیمی لیاقت 45 فیصد ہو تی ہے اس میں 98سے100فیصد نمبرلانے والوں ہی کو داخلہ مل پاتا ہے۔کیا اس کا مطلب یہہیکہ باقی طالب علم نا اہل ہیں؟ایسا ہرگز نہیں۔ ہر 45فیصد نمبر حاصل کرنے والا اس کا ا ہل ہے ۔
اس کا ایک سبب یہ ہے کہ سرکارضرورت کے مطابق نئے تعلیمی ادارے نہیں بنا پارہی ہے۔ اور اس کے لئے ذمہ دار محدود وسائل کاٹھہرایا جاتا ہے۔صرف نجی شعبہ کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔جس کے پاس حاصل کرنے کے ذرائیوں کی کوئی کمی نہی ہے۔لیکن کیونکہ ہمارے ملک میں تعلیم میں اب بھی کوٹہ سسٹم اور لائسنس راج نافذ ہے، جس کی وجہ سے لائسنس جاری کرنے والی ایجنسیوں کو من مانی رشوت وصول کرنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ یہ رشوت منسٹر سے لیکر کلرک تک لی جاتی ہے۔شرائط ایسی لگائی جاتی ہیں کہ ان کو پورا کرناجوئے شیر لانے جیسا ہوتا ہے۔ اگر کسی طرح کوئی یونیورسٹی بن بھی جائے تو بعد میں اس کی منظوری کالعدم قرار دے دی جاتی ہے اور طالب علموں کو بیچ مجدھار میں چھوڑ دیا جاتاہے۔
ہمیں یہ تومنظور ہے کہ ہمارے بچے بیرون ملکی تعلیمی اداروں میں جاکر تعلیم حاصل کریں اور ملک کا لاکھو کروڑوں کا زرمبادلہ باہرچلا جائے مگر ان غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کو اس بات پر رازی کرنے کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا جس سے کہ وہ اندرون ملک اپنی شاخیں کھولیں اور اس کے لئے ان کو لبھانے کی ضرورت کو بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اگر ایسا کیا گیا توایک تو بیروں ملک کے مقابلے تعلیم کم خرچ ہوگی اور دوسرے تعلیم کے معیا ر میں اضافہ ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کے انگریزوں کے ذریعہ شروع کیا گیا ریزرویشن بے بنیاد تھا ، دراصل ہوا یہ کے کچھ لوگوں نے اپنی طاقت اور پہنچ کی بنیاد پر نوکریوں اور سہولتوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ذات پات کی بنیاد پر ایک معاشرہ تشکی کیا ۔ جس میں یہ کہا گیا کہ راجہ کا بیٹا راجا، وزیر کا بیٹا وزیر، درباری کا بیٹا درباری، سپاہی کا بیٹا سپاہی ، اور اس طرح ہر دوسری ذیلی ذات کے لوگ بھی وہی کام کرتے رہیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ یعنی دھوبی کا بیٹا دھوبی، نائی کا بیٹا نائی، تیلی کا بیٹا تیلی،بھشتی کا بیٹا بھشتی، جلاہے کا بیٹا جلاہا،کسان کابیٹا کسان، جوتیاں گاٹھنے والے کا بیٹا جوتی گانٹھنے والاوغیرہ وغیرہ۔ یہ سماج میں خود غرضی کی ایک انتہاء تھی اور اس نے اجارہ داری کی بنیاد ڈالی۔اسی طرح ایک خاص طبقہ ہمیشہ دبا اورکچلا رہا ، حالانکہ یہ اکثریت میں تھا۔اگر کسی ملک میں برسوں تک کسی خاص طبقہ، فرقہ یا گروپ کا استحصال کیا جائے گا تو وہ قدرتی طور پربغاوت پر آمادہ ہوجائے گا۔
جس طرح کچھ لوگو ں کو اچھوت بتاکرصدیوں تک اعلیٰ شاہی منصبوں سے دور رکھا گیا اور بعد میں ان لوگ کو ہریجن کہا گیا اور پھر وہی لوگ شیڈیولڈ کاسٹ کہلائے اسی طرح آزادی کے بعد مسلمانوں کو بھی طرح طرح سے پریشان کیا گیا اوراسے بھی اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ اب اس کو مائنارٹی کہا جارہا ہے۔ اس مائنارٹی میں بے شک مسلمان شامل ہیں مگر اس میں سکھ، عیسائی ،بودھ اور جینی بھی شامل ہیں۔ اس لئے اگر مائنارٹی کو کوئی بھی ریزرویشن دیا جاتا ہے تو وہ مذہب کی بنیاد پر دیا گیا نہیں مانا جاسکتا۔ کیونکہ دیش میں جس کسی کو بھی کوئی ریزرویشن ملے گا یاملا ہوا ہے اسکا اپنا کوئی ذاتی مذہب ضرور ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہے کے جن لوگوں کو شیڈول کاسٹ کے تحت ریزرویشن ملتا ہے وہ لامذہب ہیں۔یا لامذہبیت ریزرویشن کی بنیادہے۔ہا ں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی شیڈول کاسٹ اپنا مذہب تبدیل کرکے عیسائی (نیوکرسچن)یا اسلام مذہب اختیار کرلے (نیو مسلم)تو اس کو ریزرویشن حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی کہ ہمارے ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہ دینے کی بات صرف شیڈیول کاسٹ کے لئے ہے اور یہ کسی اور قانون میں نہیں ہے کہ باقی کسی اورطبقہ ، فرقہ ، یا جماعت کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے روکا جاسکتا ہے۔
ایک اور بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک بار بھی کسی بھی قسم کا ریزرویشن مل گیا تو اس کو اور اس کے بال بچوں کومستقبل میں ریزرویشن کا کوئی حق نہیں رہ جاناچاہئے کیونکہ جس طرح ہمارے ملک کے وسائل محدود ہیں اسی طرح ریزرویشن کی سیٹیں بھی محدود ہیں۔اور اس پر ایک ہی خاندان کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے نہیں تو ایک نیا پچھڑا طبقہ ابھر کے سامنے آجائے گا ۔ آج جو اوپر ہیں وہ کل نیچے ہو جائیں گے۔ ایک جوتی گانٹھنے والے کا لڑکاجب آئی اے ایس افسر بن جاتا ہے تو وہ جوتی گانٹھنے والا نہیں رہ جاتابلکہ اسکا شمار دیش کے اعلیٰ افسران میں ہوتا ہے اور وہ شیڈیول کاسٹ سے نکل کر ایک نئی کاسٹ میں شامل ہوجاتا ہے جوکہ ہے نوکر شاہوں کی ،مگر کیونکہ اب وہ طاقت ور ہے اس لئے وہ خود کو شیدیول کاسٹ میں بنائے رکھتا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس کافائدہ دلاتا رہتا ہے جوشیڈیول کاسٹ کے دوسرے کمزور لوگوں کی قیمت پر ہوتا ہے ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آج تک ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔اسی طرح اگر ایک نائی کو ، تیلی کو، دھوبی کو، بھشتی کو، جس دن بھی ریزرویشن مل گیا وہ اس دن سے نائی، تیلی، دھوبی، بھشتی کے زمرے سے باہر ہوجاتا ہے مگر پھر بھی اس کی آنے والی نسلیں ریزویشن سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔
مسلمانوں کو دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں دیا جانے والا ساڑھے چار فیصد ریزرویشن کچھ نیا نہیں ہے۔یہ مانگ بھی ٹھیک اسی طرح کی ہے جس طرح کی مانگ گوجر ریزرویشن کے لئے کی جارہی ہے۔ کیونکہ گوجر دیگر پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آتے ہیں اور بہت پچھڑے ہونے کی سبب اور دوسری جاتیوں کی اجارہ داری کی سبب وہ ریزرویشن کا فائدہ نہیں حاصل کرپاتے ،اس لئے وہ اپنی جاتی کے لئے الگ سے ریزرویشن چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی جب تک کے ستّائیس فیصد میں ہی ان کی آبادی کے تناسب سے ان کوریزرویشن دیا جائے ، مگر الگ سے ان کو ریزرویشن دینا ابھی ممکن نہیں لگتا۔اسی طرح کی مانگ مسلمان دیگر پسماندہ ذاتوں کی بھی ہے، وہ کہتے ہیں کے دوسری ذاتیں ان کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں لینے دیتیں اس لئے ریزرویشن میں سے مسلم اوبی سی کو ان کے تناسب کے اعتبار سے حصہ مختص کیاجائے۔ ایسا ہی مرکزی حکومت نے کیا ہے۔ اس لئے یہ قطعی نہیں سمجھنا چاہئے کے مسلمانوں کو کوئی نیاریزرویشن مل گیا ہے، یا یہ کہ کانگریس نے ان پر کوئی بہت بڑا احسان کردیا ہے بلکہ یہ توانہیں پہلے سے ہی مل رہا تھا کانگریس نے تو صرف اس کو یقینی بنانے کا کام کیا ہے۔
Afif Ahsen, Ambedkar, Backward Classes, Britain, Congress, Daily Pratap, Muslim Reservation, Reservation, Scheduled Caste, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment