Search

Monday, 18 April 2011

کیا لوکپال بل سے بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
 عفیف احسن 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بدعنوانی سے نپٹنے کے لئے ہم کو اس کی جڑ پرحملہ کرنا چاہئے ۔مگر لگتا ایساہے کہ کچھ لوگ اس کی جڑ کے بجائے اس کے ثمرسے مستفید ہونے والوں پر زبانی حملہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی جڑ پر حملہ کرنے کی نہیں سوچتے، جس سے یہ پیڑ پھلتا پھولتا رہتا ہے اور بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوپاتاہے۔
کسی زمانے میں برگد کے درخت کو بہت اہمیت حاصل تھی اور یہ ہر گاؤں کا مرکزی پیڑ ہوتا تھا، اور اسی پیڑ کے نیچے گاؤں کی پنچایت بھی لگا کرتی تھی اورغریبوں کو مفت میں انصاف حاصل ہوا کرتا تھا۔مگر آج وہ پرانا برگد کا درخت کہاں؟ اور وہ مفت کا انصاف کہاں؟ اب تو کروڑوں روپئے خرچ کرکے بھی آپ انصاف کی امید نہیں کرسکتے۔آج کے وکیل کروڑوں روپئے فیس وصولتے ہیں۔ کبھی کبھی توایسا لگتا ہے کہ غریب کو انصاف مل ہی نہیں سکتا۔
بدعنوانی، کنبہ پروری اوربد دیانتی کایہ درخت آزادی کے بعد سے روز بروز بڑھتا اور پھلتا پھولتا چلا گیا اور آج س نے برگد کے ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلی ہے جس کے آگے دوسرے تمام درخت بونے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں اس میں مزید نئی نئی جڑیں نکل آئی ہیں جس کے سہارے اس نے پورے جنگل کو اپنی لپییٹ میں لے لیا ہے۔برگد کے پیڑ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس کے نیچے کسی بھی طرح کی نباتات پنپ نہیں سکتی اس لئے اس کے نیچے کی زمین پر دوسرے پودے نہیں پنپ سکتے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ پیڑسورج کی روشنی کو زمین تک نہیں پہنچنے دیتاجوکہ کسی بھی پودے کی بقاء کے لئے لازمی ہے۔ بدعنوانی کے اس درخت کی آبیاری نہ چاہتے ہوئے بھی ہر ایک ہندوستانی کو کرنی پڑرہی ہے، اور بدعنوانی کے جینس ہماری اگلی پیڑھی میں بھی سرایت کرگئے ہیں۔
انّا ہزارے کے انشن شروع کرنے کے دوسرے دن میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے ۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کے کیا آپ نے انّا ہزارے کو فون کیا؟ میں نے نفی میں جواب دیاتو انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ تو میں نے مذاق میں کہا کہ میرے فون میں بیلنس نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ’’ ارے آپ کو تو صرف ایک مس کال ہی کرنی ہے، اس میں بیلنس کی ہونے اور نہ ہونے کی کیا بات ہے، میں تو ان کو ابھی ابھی مس کال کرکے آرہا ہوں اورمیرا ایک بھی پیسا خرچ نہیں ہوا‘‘۔میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کرنے سے کیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا کہ انّا ہزارے ان لوگوں کے خلاف انشن کررہے ہیں جو رشوت خور ہیں اور ملک کو لوٹ کر کھارہے ہیں۔
میں نے اپنے دوست سے عرض کیا کہ جناب اگر ہمیں بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے توخود یہ قسم کھانی ہوگی کہ ہم کسی کو ایک پیسہ بھی رشوت نہیں دیں گے، یہی نہیں اس مہم میں شامل ہر ایک شخص اپنی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر یہ قسم بھی کھائے کہ وہ نہ تو رشوت دے گا اور نہ ہی رشوت لے گا، مزید یہ کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ کسی کے ساتھ بھی کوئی تفریق یا امتیازی سلوک نہیں کرے گانہ ہی ہونے دے گاجو کہ بدعنوانی کی ہی ایک قسم ہے۔سول سوسائٹی کے ایسے دستے بنائے جائیں جو دفتر دفتر جاکر ہر ایک سرکاری نوکر کو اس بات کی قسم دلائے کہ وہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں نہ تو خود ملوث ہوگا اور نہ ہی کسی کو اس میں شامل ہونے دیگا اور اگر کو ئی ملوث پایا جاتا ہے تو اس کا سر عام منہ کالا کیاجانا چاہئے۔
اس پر ہمارے دوست نے فرمایہ کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ابھی تو ہم تھوڑے بہت پیسے دیکر سرکاری دفاتر سے اپنا کام نکال لیتے ہیں اگر ایسا ہوگیا توہمارا کوئی بھی کام نہیں ہوگا اور ہمیں لائن میں لگنا پڑے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم روز لائن میں لگیں اور ہمارا نمبر کبھی بھی نہ آئے۔ میں نے کہا کہ آپ تو دوغلی بات کر رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ’’ میں تو صرف نیتاؤں کی بدعنوانی کی بات کررہا ہوں کیونکہ یہ لوگ تو دیش کو لوٹ کر کھارہے ہیں اور صرف اس پر روک لگنی چاہے‘‘۔ اب آپ ہی بتائیں کے بدعنوانی مخالف مہم کے حامی اگر اس قسم کے لوگ ہوں تو پھر ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔
اس مہم کو چلانے والی این جی او انڈیا اگینسٹ کرپشن نے جو بیورا پیش کیا ہے اس میں اس نے بتایا ہے کہ اس کو82,87,668روپئے کا چندہ ملا ہے جس میں سے اس نے50,17,768روپئے خرچ کردئے ہیں۔اگر چھیانوے گھنٹے کی مہم چلانے کا خرچہ پچاس لاکھ آتا ہے جس میں کہ ہر شخص کو انشن ہی کرنا تھا تو اگر یہ مہم آگے چلتی تو اورکتنا خرچ آتا۔اس این جی او کی ویب سائٹ پرصرف پینتالیس لوگوں کی فہرست دی گئی ہے اور یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کس نے کتنا چندہ دیا ہے۔ یہی نہیں اس فہرست میں مہم میں شامل کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کے نام بھی نہیں ہیں۔کچھ ذیلی این جی اوز بھی پیدا ہوگئی ہیں جو کہ الگ الگ چندہ کررہی ہیں۔ایسی ہی ایک انجمن ڈانڈی مارچ2ہے،جو دیش کے باہر چندہ جمع کررہی ہے اور اس کے بارے میں کوئی بھی بیورہ نہیں ملا ہے کہ اس نے اب تک کتنی رقم جمع کی اور کہاں خرچ کی ہے۔
انّا ہزارے کو چھوڑ کر ہر کسی سول سوسائٹی کے ممبر کے اثاثوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔حالانکہ بہت پہلے انّا ہزارے پر بھی دو لاکھ روپے کے بے جا تصارف کا الزام لگاتھا مگر اس کے علاوہ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ سول سوسائٹی کاکمیٹی میں نامزد کوئی ممبر لکھ پتی ہے تو کوئی کروڑ پتی ، اور کوئی اور ارب پتی۔ایک ممبر تو پچھلے چند سالوں میں ہی ارب پتی ہوئے ہیں اور اس کو جائز ٹھہرانے کے لئے انہوں نے پچھلے دس سال کی آمدنی کا بیورہ بھی پیش کردیا ہے ہالانکہ اس کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اور ارب پتی ممبر اپنے مکان مالک کی کوٹھی پر قبضہ کرکے اور ان کو مجبورکرکے ان سے دوتہائی حصہ صرف ایک لاکھ میں اپنے نام لکھواکر ارب پتی بنے ہیں۔ا س مہم کے عوامی ہونے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اس میں آگے آگے رہنے والے زیادہ تر قائدین کروڑ پتی ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں ، ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں، اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔
ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کے باوجود ہماری سیاسی قیادت کا رویہ بھی افسوسناک رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران، سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکیل برادری، اور میڈیا نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا ہے۔ بہرحال جب تک ان کی کوششوں کوہندوستانی معاشرہ کا مکمل سہارا نہیں ملے گا تو ان کو طاقتور حلقوں اور حکومت کی طرف سے ترغیبات اور دھمکیوں کے ذریعہ بے اثر کردیا جائے گا۔ اس سہارے کو بڑھنے میں وقت لگے گا کیونکہ ہمارے معاشرہ میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والی طاقتیں بکھری ہوئی ہیں لہٰذا وہ حکومت پر اتنا دباؤ نہیں ڈال سکتیں کہ وہ اپنے انداز و اطوار درست کرلے اور ہندوستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق کام کرے۔ ان حالات کا تقاضہ ہے کہ جمہوری طاقتوں کو یکجا کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں۔
سرکردہ سیاسی پارٹیوں کے یہ دعوے غلط ثابت ہوچکے ہیں کہ ان کو عوام کی حمایت حاصل ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ووٹنگ کے د ن صرف45 سے50 فیصد لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پولنگ بوتھ پر جاتے ہیں۔ اور اس 45 سے50 فیصدمیں سے بھی صرف 30فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی ملک میں برسراقتدار آجاتی ہے اور اس کا نمائندہ وزیراعظم بن جاتا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ جومعاملات کو سمجھتے ہیں اور اچھے اور برے سیاستدانوں کے درمیان تمیز کرسکتے ہیں، ان میں سے اکثریت ووٹ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتی۔ طاقتور لوگ اور صنعت کار جو سیاسی پارٹیوں کی قیادت کرتے ہیں اپنے کارکنوں اور حتی کہ مسلح گروہوں کے ذریعہ کام کرتے ہیں۔ ان سیاسی لیڈروں کا ایک مخصوص ووٹ بینک ہے۔ اور جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنے من پسند کے لوگوں کو ہر طرح فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہی وہ لیڈر ہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد حکومت چلانے کے نظام کو تباہ کرتے ہیں۔
کسی زمانے میں تحریکیں عوام کے ذریعہ چلائی جاتی تھیں اور اس میں ہر عام آدمی ذات ذاتی شریک ہوتا تھا۔اگر کسی جلسے جلوس میں جانا ہوتا تھا تو لوگ اپنا کرایہ خرچ کرکے جاتے اور اپنے ہاتھوں سے پوسٹر اور بینر تیار کرکے لے جاتے تھے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی دستیابی نے سول سوسائٹی کی طاقت میں ایک اور پہلو شامل کردیا ہے جسے ہندوستان میں تبدیلیاں لانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں جرائم، بدعنوانی اور پردہ پوشیوں کو بے نقاب کرنے میں میڈیا آج اتنا آزاد ہے جتنا کبھی نہیں تھا اور اس نتیجے میں یہ حکمرانی کے نظام کی اصلاح کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں۔
کچھ لوگ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے جواز پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان تنظیموں نے بغیر انتخابات یا تقرر کے اپنے لئے زبردست طاقت حاصل کرلی ہے۔ لیکن ان تنظیموں کو جمہوریت کا معاون اور سہارا سمجھا جانا چاہئے۔ بطورایک قوم ہمارے لئے یہ آخری موقع ہے۔ تبدیلی انفرادی سطح سے شروع ہونا چاہئے پھر کنبہ کی سطح پر اور اس کے بعد برادری کی سطح پر آنا چاہئے اور اس طرح ہندوستان میں کردار اور بدعنوانی کے امراض کا علاج ہونا چاہئے۔ ہندوستان کو خیالات کے ایک انقلاب کی ضرورت ہے جو نیچے سے اٹھ کر اوپر جائے۔ مخصوص الزام تراشی یا دوسروں کو ذمہ دار قرار دینا نہیں جس میں ہمیشہ لیڈروں سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ تبدیلی لائیں جو جوکروں کوٹوپی پہنانے کے مترادف ہے۔

No comments:

Post a Comment