Search

Monday, 4 April 2011

بحرین کا احتجاج تاریخ کے آئینے میں

عفیف احسن
 بحرین کے احتجاج نے خلیج فارس کے ملک میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے۔ 2010-2011 مشرق وسطی اور شمالی افریقہ احتجاج کے حصہ کے طور پر بحرین کے احتجاج کا مقصد شروع میں اکثریتی شیعہ آبادی کے لئے وسیع تر سیاسی آزادی اور مساوات کا حصول  تھا۔ اور 17 فروری کو منامہ میں پرل گول چکر پرایک مہلک رات کو مظاہرین کے خلاف چھاپے کی کارروائی کے بعد جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ،اس میں بادشاہ حماد کے شاہی نظام حکومت کا خاتمہ کرنے کی مانگ کا اضافہ ہوگیا۔
منامہ میں مظاہرین پرل کے گول چکر کے باہر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں جوکہ مظاہروں کے مرکزی نقطہ کے طور پرجانا جاتا ہے۔ ایک ماہ کے بعد حکومت نے خلیج تعاون کونسل سے فوج اور پولیس مدد کی درخواست کی اور 14 مارچ کو وہاں پر دبئی اور سعودی عرب کی فوج نے پہنچ کر پرامن مظاہرین پر کارروائی شروع کردی جو ابھی تک جاری ہے اور سیکڑوں پر امن مظاہرین جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں، جس کی بین الاقوامی سطح پرپر زور مذمت کی جارہی ہے۔

بحرین کے بادشاہ نے بھی اس تحریک کو کچلنے کے لئے وہی شعیہ سنی کو لڑانے کا پرانہ فارمولہ اپنایا ہے جو کہ کسی زمانے میں برطانیہ نے بحرین میں اپنے اقتدار کو تقویت دینے کے لئے اپنایا تھا۔

ایک طرف تواقوام متحدہ اور مغربی ممالک لیبیا میں فوج کشی کرکے وہاں پر جمہوری نظام قائم کرنے کی بات کررہی ہیں وہیں اس کے الٹ بحرین کی اکثریت کو انکا حق دلانے کے لئے اور وہاں پر جمہوریت کی بحالی کے لئے کوئی کچھ کہنے اور سننے کو تیار نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف لیبیا میں جمہوریت کی بقاء کے لئے مغربی ممالک فوج کشی کررہے ہیں وہیں دوسری طرف جمہوریت کی آواز کو دبانے کے لئے بحرین کا شاہ دوسرے پڑوسی بادشاہوں کے ساتھ مل کر معصوم اور نہتے عوام پر فوج کشی کررہا اور بے گناہوں کا قتل کیاجارہا ہے مگر اس پر کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔

بحرین کی تصویر کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا پڑے گا۔ بحرین ایک عربی لفظ ہے اس کے معنیٰ ”دوبحر“کے ہیں جو اس کو اس کے میٹھے پانی کے دو رواں چشموں کی وجہ سے ملا ہے جن کے ارد گرد نمکین سمندر ہے۔ زمانہ قدیم سے بحرین میں آبادی پائی جاتی ہے۔ خلیج فارس میں اس کے ا سٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے اس پر آشوریوں، بابی لونیا، فارس، اور عرب کا اثر رہا جن کے تحت جزائر مشرف بہ اسلامی ہوا۔ بحرین کو دلمون کے ساتھ وابستہ کر سکتے ہیں جس کا میسوپوٹامیہ تہذیب میں حوالہ ملتا ہے ۔

اس کی تاریخ کے مختلف ادوارمیں جب کہ یہ ایرانی سلطنت کا حصہ تھااسے مختلف ناموں سے پکارا گیا جیسے مشماہگ، چھٹی سے تیسری صدی قبل مسیح تک بحرین ہخمامنشی خاندان کے تحت ایرانی سلطنت میں شامل تھا۔ تیسری صدی قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کی آمد تک، بحرین پارتھیا اور ساسانی دو دیگر ایرانی خاندانوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ تقریبا 250 قبل مسیح تک پارتھیا خاندان خلیج فارس کو اپنے مکمل کنٹرول میں لے آیا اور اس نے اپنااثر و رسوخ عمان تک بڑھا لیا۔

خلیج فارس کے تجارتی راستے پر کنٹرول کرنے کے لئے پارتھیا نے خلیج فارس کے جنوبی کنارے پرفوجی چوکیان قائم کیں۔ تیسری صدی عیسوی میں پارتھیا کے بعد ساسانی قابض ہوگئے اورچار صدی بعداسلام کے عروج تک اس علاقے پر حکومت کی۔ ساسانی خاندان کے پہلے حکمراں اردشیر بابکان نے عمان اور بحرین پرچڑھائی کی اور اس نے سناترق کوہرا دیا،اس وقت بحرین میں جنوبی ساسانی صوبہ جس میں خلیج فارس کاجنوبی کنارا اوربحرین کے مجمع الجزائر شامل تھے۔

ساسانی سلطنت کاجنوبی صوبہ تین اضلاع اردشیر بابکان( اب قاطف، سعودی عرب)، ہگّر (اب حفوف، سعودی عرب) اورمشماہگ میں منقصم تھا، یہاں تک کہ بحرین کے 629 ء میں اسلام کو اپنانے تک، یہ نسطوری عیسائیت کا مرکز رہا۔ ابتدائی اسلامی ذرائع کے مطابق یہ عبدالقیس، تمیم، اور بکر قبائل کی رہائش گاہ تھاجو اوال کی پرستش کرتے تھے۔
899 ء میں قرامة، ایک ہزاری اسماعیلی فرقے نے بحرین پر قبضہ کر لیا، جنہوں نے ابتدا کرنے والوں کے درمیان یکساں طور پر تمام جائیداد کی تقسیم کی بنیاد پر ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد قرامتہ والوں نے بغداد کے خلیفہ سے خراج کی مانگ کی، اور 930 ءمیں قرون وسطی بحرین میں مکہ اور مدینہ کی حکومت کوبرطرف کرکے، مقدس حجر اسود کوتاوان کی شکل میں الاحسا ء میں اپنے مرکز پرلے آئے ۔ تاریخ داں الجوینی کے مطابق951ء میں بائیس سال بعد پتھر پراسرار حالات میں اپنی جگہ پر واپس آگیا تھا، ایک بوری میں لپٹا ہوا یہ پتھرعراق کے کوفہ کی جمعہ مسجد میں اس خط کے ساتھ پھینک دیا گیا تھا کہ ” حکم سے ہم نے اسے اٹھا لیا تھا، اور حکم سے ہم اسے واپس لے آئے ہیں“ حجر اسود کی چوری اورواپسی نے اسے مزید نقصان پہنچایا اور یہ پتھر سات ٹکڑوں میں منقصم ہوگیا۔

قرامتہ کے 976 ء میں عباسیوں سے ہارنے کے بعد بحرین الاحساءعرب یونید  خاندان کے ہاتھوں میں آگیا، جنہوں نے 1076ء میں بحرین کے مکمل علاقے پر قبضہ کرلیا۔ 1235ء تک بحرین جزائر ان کے کنٹرول میں رہا، جبکہ جزائرپر مختصرمدت کے لئے ایرانی حکمرانوں کا قبضہ ہو گیا۔ 1253 میں بدوعسفورید خاندان نے یونید حکومت کا خاتمہ کردیا اور اس طرح پورے مشرقی عرب پر قبضہ کر لیاجس میں بحرین کے جزائر بھی شامل تھے۔ 1330 میں جزائر ہرمزکے حکمرانوں کی ایک باج گزار ریاست بن گیا تاہم مقامی طور پراسے جزائر قطیف کی شیعہ جروانی خاندان کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا تھا۔

آخر قرون وسطی تک بحرین کے وسیع تر تاریخی علاقے میں الاحساء اور قطیف (اب دونوں مشرقی سعودی عرب کے صوبے) اوراوال جزائر (اب بحرین جزائر) شامل تھے۔ یہ علاقہ عراق میں بصرہ سے عمان میں آبنائے ہرمز تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ اقلیم البحرین کہلاتا تھا۔ صحیح تاریخ معلوم نہیں ہے جب سے اوال جزائرکو مکمل طورپر لفظ”بحرین“سے رجوع کیا جانا شروع ہوا۔ وسط پندرہویں صدی میں جزائرالاحساء جبوریوں کے، جوکہ ایک بدو خاندان ہی تھا زیر اقتدار آیا جنہوں نے مشرقی عرب پرسب سے طویل حکومت کی۔

پرتگالیوں نے 1521 میں ہرمز کے ساتھ اتحاد میں بحرین پر حملہ کردیا اوراسے جبرید حکمران مگرین ابن ظامل سے قبضہ میں لے لیا جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ پرتگالی اقتدار 80 سال چلا جس کے دوران وہ زیادہ تر سنی فارسی گورنروں پر انحصار کرتے تھے۔ پرتگالیوں کو 1602 میں جزیرے سے ایرانی صفٰوی خاندان کے محمود عباس نے بے دخل کردیا ، جس نے شعیہ اسلام کو بحرین کے سرکاری مذہب کے طور پر منظوری دی۔ ایران کے حکمرانوں نے بنا کسی رکاوٹ کے تقریبا دو صدیوں تک جزائر پر اپنی خود مختاری کو برقرار رکھا ، ماسوائے 1717 اور 1738کے جب جزائر کو عمان کے عبادھیوں کی طرف سے دو شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مدت میں سے اکثر میں وہ بحرین پربلاواسطہ طور سے کنٹرول کرتے تھے یا تو بوشہرا کے ذریعے یا تارکین وطن سنی عرب قبیلوں کے ذریعہ، 1753 میں حوالہ قبیلہ نے ایرانیوں کی جانب سے بحرین پر حملہ کیا اورسیدھے ایرانی حکومت کے کنٹرول کو بحالی کردیا۔
1783ءمیں نصر المضکورجوکہ بوشہرا اور بحرین کا حکمراں تھا کے ہاتھوں سے بنی عتبہ نے بحرین کا انتظام چھین لیا ۔
1797میں بنی عتبہ کے اقتدار حاصل کرنے کے چودہ سال بعد الخلیفہ خاندان بحرین میں وارد ہوا اور ’جو‘ کے مقام پر آباد ہوگیااور بعد میں رفاع منتقل ہوگیا۔ یہ لوگ بنیادی طور پر کویتی تھے جسے انہوں نے 1766میں خیرباد کہہ دیا تھا۔ الخلیفہ خاندان کا ماننا ہے کے وہ کویت میں ام القصر سے ترکوں کے ذریعہ ملک بدر کئے جانے کے بعد آئے تھے،جہاں وہ بصرہ کے کاروانوں کو لوٹا کرتے تھے اور شط العرب میں جہازوں کو لوٹا کرتے تھے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں عمانیوں اور السعود نے حملہ کیا۔ 1802میں اس پر ایک بارہ سالہ لڑکے کی حکومت قائم ہوئی جبکہ عمان کے فرماںروا سید سلطان نے اپنے لڑکے سلیم کوعرد قلع کا گورنر بنادیاتھا۔ (جاری ہے)

No comments:

Post a Comment