گزشتہ روز جب میں نے اپنی بیگم سے یہ کہا کہ وہ بہت فضول خرچ ہے تو وہ بھڑک اٹھی، اور لگی مجھے برا بھلا کہنے، وہ کہنے لگی کہ آپ کو کیا پتا میں کیسے آپکے گھر کا خرچا چلارہی ہوں، میری جگہ کوئی اور ہوتی تو آپ کو پتا چلتا۔ میں نے آج تک اپنی بیگم کو فضول خرچ کہنے کی ہمت تو نہیں کی تھی مگر دل ہی دل میں اس کی فضول خرچی کا گمان رکھتاتھا۔ مگر میری ہمت پلاننگ کمیشن نے بڑھا دی تھی، اب میرے پاس اعداد وشمار تھے اس کی فضول خرچی کو ثابت کرنے کے لئے۔ اور وہ تھے پلاننگ کمیشن کے وہ اعداد و شمارجس میں اس نے خط افلاس کی تشریح کی تھی۔ میں نے اس سے کہاکہ اب اس کو ہم چار لوگوں کے خرچہ کے لئے مہینے میں صرف چار ہزار روپئے ہی ملیں گے اور اس نے اسی میں پورے مہینے کا خرچہ چلانا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے آپ خود ہی اتنے روپئے میں گھر کا خرچہ چلا کر دکھائیں تب میں جانوں گی۔ میں نے کہا کہ یہ میرا کام نہیں ہے کے میں تمہارے گھر کے خرچہ کی پلاننگ کروں کیوں کہ یہ چھوٹے موٹے کام یا تو تمہارے ہیں یا ملک کے پلاننگ کمیشن کے ہیں۔ مجھے تو دیش کے بڑے بڑے مسائل سے ہی فرصت کہاں ہے جو میں تمہارے معمولی خانگی معاملات کودیکھوں۔ تم پلاننگ کمیشن کے صلاح مشورے سے اپنے گھر کے اخراجات چلاؤ۔ اس پر وہ لگی پلاننگ کمیشن کوکوسنے۔ اس نے کہا کہ پلاننگ کمیشن والوں سے کہو کہ وہ صرف ایک مہینے تک چار ہزار میں میرے گھر کا خرچ چلاکر دکھادیں تب میں مانوں گی۔ خود تو یہ لوگ لاکھوں خرچ کرتے ہیں، ایک میٹنگ کا ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور چلے ہیں مجھے سکھانے۔ وہ خود کیوں نہیں صرف چار ہزرا میں اپنے گھر کا خرچہ چلائیں اور باقی پیسا ہم جیسے غریبوں کو دے دیں۔ بیگم کا رخ پلاننگ کمیشن کی طرف موڑ کر میں نے تو سکون کی سانس لی اور دیش کے بڑے بڑے مسائل پر غور کرنے لگا۔
یہی ہال پورے ہندوستان کا ہے ، منصوبہ بندی کمیشن نے غربت کا تعین کرنے کے لیے جو پیمانہ مقرر کیا ہے، اس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح ضرورت مند لوگوں کی بہت بڑی تعداد سماجی بھلائی کے پروگراموں کے فوائد سے محروم ہو جائے گی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی کا ایک تہائی حصہ غریب ہے ۔
منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ دیہی علاقے میں جو شخص غذا، تعلیم اور صحت پر26روپیہ خرچ کرتا ہے جوکہ 781روپیہ ماہانہ ہوتا ہے، اسے غریب نہیں سمجھا جائے گا۔ شہری علاقوں کے لیے غریبی کی یہ لائن کچھ اونچی ہے، یعنی32روپیہ جوکہ 965روپیہ ماہانہ ہوتا ہے ۔ یہ اعداد و شمار غربت کے لیے عالمی بنک کے مقرر کردہ ایک ڈالر پچیس سینٹ یعنی کہ 75روپیہ روزانہ کے معیار سے کہیں کم ہیں۔
منصوبہ بندی کمیشن نے جو اقتصادی پالیسی ترتیب دیتا ہے، یہ معیار اس وقت مقرر کیے جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کہ اس نے غربت کے معیار کس بنیاد پر مقرر کیے ہیں۔ یہ اعدادوشمارپلاننگ کمیشن نے تب دئے جب سپریم کورٹ نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کے اس نے جواعدادوشمار دئے ہیں وہ کیسے درست مانے جائیں اور اس کو جائز ٹھہرانے کے لئے پلاننگ کمیشن ایک ایفیڈیوٹ داخل کرے۔ کیونکہ جو اعداد اس نے پہلے دئے تھے وہ کسی بھی طور پر جائز نہیں تھے ۔ پہلے پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ دیہی علاقہ میں 14روپیہ اور شہر میں19روپیہ خرچ کرنے والے خط افلاس سے اوپر ہیں۔
لیکن بہت سے ماہرینِ معاشیات اور سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ نئے معیار حقیقت کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی دہلی جیسے شہر میں، تیس روپیہ میں ایک پیاز، ایک آلو، کچھ چاول، ایک کیلا، ایک پینسل، ایک ایسپرین اور بس کے ایک ٹکٹ کے سوا اور کچھ نہیں خریداجا سکتا۔
جین دریز ایک ممتاز اقتصادی ماہر ہیں جو بھارت میں اقتصادی پالیسی کی تشکیل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہمیں یہ تو علم ہے کہ غربت کی تعریف میں بہت کم لوگ آتے ہیں۔ لیکن جو چیز نئی اور بالکل حیران کن ہے وہ یہ دعویٰ ہے کہ غریبی کاجو پیمانہ مقرر کیا گیا ہے وہ غذا، صحت اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اسے خط افلاس کے بجائے بھوک کی لکیر کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔‘‘
دوسری طرف پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے خط افلاس اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان لوگوں کی مدد ہو سکے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ حکومت کو سماجی بہبود کے لیے دستیاب محدود وسائل کا بہترین استعمال کرنا پڑتا ہے اور اس میں بہت زیادہ لوگوں کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ پلاننگ کمیشن کی اسی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے خط افلاس مقرر کر لے کیونکہ اس کو ایسا کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایسے لوگوں کو دینے کے لیے کتنی رقم ہے نہ کہ یہ کہ کتنے لوگ اس کی مدد کے مستحق ہیں۔
بھارت کی شاندار اقتصادی ترقی کے باوجود، کروڑوں لوگ اب بھی غریب ہیں۔ کانگریس کی قیادت میں چلنے والی حکومت نے غربت کم کرنے اور روزگار،علاج معالجے، اور تعلیمی پروگراموں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔ وہ ایک قانون منظورکرنا چاہتی ہے جس کے تحت غریبوں کو سستااناج فراہم کیا جائے گا۔ وہ کم قیمت ایندھن اور کھاد کی جگہ نقد رقوم دینا چاہتی ہے۔ لیکن سماجی کارکنوں کاکہنا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کی تعداد گھٹا کر جو حکومت کے سماجی بھلائی کے پروگراموں کے مستحق ہیں، اپنا بوجھ کم کر رہی ہے ۔ ناقدین میں بیراج پٹنائیک بھی شامل ہیں جو غذا کے حق کے بارے میں ایک سرکاری کمیشن کے مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’وہ اس ملک کے 70 فیصد لوگوں کو غربت دور کرنے کے پروگراموں کے فوائد سے الگ کر رہے ہیں۔ اس طرح حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد میں کمی آ جائے گی۔ لیکن اس کا مقصد تو یہ ہوا کہ غریبوں کی تعداد ان کی حالت بہتر بنا کر نہیں، بلکہ دھوکہ دے کر کم کر دی جائے گی۔‘‘ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی میں سے 32 فیصد، یا تقریباً چالیس کروڑ لوگ غریبی کی حالت میں زندہ ہیں۔ لیکن بہت سے اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار سے ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی تقریباً نصف تعداد غذائیت کی کمی کا شکار ہے، لوگوں کی محرومیوں کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا ۔
حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نیشنل ایڈوائزری کونسل یہ کہتی رہی ہے کہ سماجی امداد تمام شہریوں کو فراہم کی جانی چاہئیے کیوں کہ ملک میں ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اقتصادی ماہردریز اس کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں کچھ ریاستوں، جیسے جنوب میں تامل ناڈو اور شمال میں ہماچل پردیش میں اس سمت میں پہلے ہی بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔
ان وزیروں کی کیا کہئے جو کے عالیشان سرکاری بنگلوں میں رہتے ہیں جن کاانہیں کوئی کرایہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ ان کو یہ بھی نہیں سوچنا پڑتا کہ آج شام کو گھر میں چولہہ جلے گا بھی کے نہیں، انہیں تو صرف ایک ہی کام ہے کہ وہ دیش کے غریبوں کے بارے میں سوچیں اور وہ سوچتے بھی کیا خوب ہیں۔
کوئی وزیر لکھ پتی سے کم نہیں ہے، تو زیادہ تر کروڑپتی ہیں اور کافی وزیر توایسے ہیں جو کہ ارب پتی ہیں۔ ایسا شخص جس کو اس بات کی فکر نہ ہو کہ وہ شام کو کیا کھائے گا کسی دوسرے ایسے شخص کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے جو پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے خاندان کے لئے محنت مزدوری کرتا ہو۔
ایک بار الیکشن جیتنے اور وزیر بننے کے بعد اس کو اتنی فرصت ہی کہاں رہ جاتی ہے کے وہ ان غریب اور نادار لوگوں کی خبر گیری کرنے کے لئے چھوٹے موٹے گاؤں اور قصبوں کا دورا کرسکیں ۔ اسے سال میں شاید ایک یادو مواقع ہی ملتے ہیں جب وہ چند گھنٹوں کے لئے اپنے حلقہ کے صدر مقام پر جاپاتا ہوگا اور وہ بھی چارٹرڈ فلائٹ سے اور ائرکنڈیشنڈ کاروں سے۔
دراصل ہمارے ملک میں خط افلاس کے لئے آنکڑوں کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ایشیا ئی ترقیاتی بینک یا ورلڈ بینک کے اشارے پر کیا جارہا ہے۔ دراصل حکومت ہند یہ چاہتی ہے کہ دنیا کے سامنے اپنی حالت مستحکم اور بہتر بناکرپیش کرے اور ایسا کرنے کے لئے وہ خط افلاس کو نیچا رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
یہی ہال پورے ہندوستان کا ہے ، منصوبہ بندی کمیشن نے غربت کا تعین کرنے کے لیے جو پیمانہ مقرر کیا ہے، اس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح ضرورت مند لوگوں کی بہت بڑی تعداد سماجی بھلائی کے پروگراموں کے فوائد سے محروم ہو جائے گی۔ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی کا ایک تہائی حصہ غریب ہے ۔
منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ دیہی علاقے میں جو شخص غذا، تعلیم اور صحت پر26روپیہ خرچ کرتا ہے جوکہ 781روپیہ ماہانہ ہوتا ہے، اسے غریب نہیں سمجھا جائے گا۔ شہری علاقوں کے لیے غریبی کی یہ لائن کچھ اونچی ہے، یعنی32روپیہ جوکہ 965روپیہ ماہانہ ہوتا ہے ۔ یہ اعداد و شمار غربت کے لیے عالمی بنک کے مقرر کردہ ایک ڈالر پچیس سینٹ یعنی کہ 75روپیہ روزانہ کے معیار سے کہیں کم ہیں۔
منصوبہ بندی کمیشن نے جو اقتصادی پالیسی ترتیب دیتا ہے، یہ معیار اس وقت مقرر کیے جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کہ اس نے غربت کے معیار کس بنیاد پر مقرر کیے ہیں۔ یہ اعدادوشمارپلاننگ کمیشن نے تب دئے جب سپریم کورٹ نے اس سے کہا کہ وہ بتائے کے اس نے جواعدادوشمار دئے ہیں وہ کیسے درست مانے جائیں اور اس کو جائز ٹھہرانے کے لئے پلاننگ کمیشن ایک ایفیڈیوٹ داخل کرے۔ کیونکہ جو اعداد اس نے پہلے دئے تھے وہ کسی بھی طور پر جائز نہیں تھے ۔ پہلے پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ دیہی علاقہ میں 14روپیہ اور شہر میں19روپیہ خرچ کرنے والے خط افلاس سے اوپر ہیں۔
لیکن بہت سے ماہرینِ معاشیات اور سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ نئے معیار حقیقت کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی دہلی جیسے شہر میں، تیس روپیہ میں ایک پیاز، ایک آلو، کچھ چاول، ایک کیلا، ایک پینسل، ایک ایسپرین اور بس کے ایک ٹکٹ کے سوا اور کچھ نہیں خریداجا سکتا۔
جین دریز ایک ممتاز اقتصادی ماہر ہیں جو بھارت میں اقتصادی پالیسی کی تشکیل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہمیں یہ تو علم ہے کہ غربت کی تعریف میں بہت کم لوگ آتے ہیں۔ لیکن جو چیز نئی اور بالکل حیران کن ہے وہ یہ دعویٰ ہے کہ غریبی کاجو پیمانہ مقرر کیا گیا ہے وہ غذا، صحت اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اسے خط افلاس کے بجائے بھوک کی لکیر کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔‘‘
دوسری طرف پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے خط افلاس اس طرح قائم کرنا ہے کہ ان لوگوں کی مدد ہو سکے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ حکومت کو سماجی بہبود کے لیے دستیاب محدود وسائل کا بہترین استعمال کرنا پڑتا ہے اور اس میں بہت زیادہ لوگوں کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ پلاننگ کمیشن کی اسی بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے خط افلاس مقرر کر لے کیونکہ اس کو ایسا کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایسے لوگوں کو دینے کے لیے کتنی رقم ہے نہ کہ یہ کہ کتنے لوگ اس کی مدد کے مستحق ہیں۔
بھارت کی شاندار اقتصادی ترقی کے باوجود، کروڑوں لوگ اب بھی غریب ہیں۔ کانگریس کی قیادت میں چلنے والی حکومت نے غربت کم کرنے اور روزگار،علاج معالجے، اور تعلیمی پروگراموں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔ وہ ایک قانون منظورکرنا چاہتی ہے جس کے تحت غریبوں کو سستااناج فراہم کیا جائے گا۔ وہ کم قیمت ایندھن اور کھاد کی جگہ نقد رقوم دینا چاہتی ہے۔ لیکن سماجی کارکنوں کاکہنا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کی تعداد گھٹا کر جو حکومت کے سماجی بھلائی کے پروگراموں کے مستحق ہیں، اپنا بوجھ کم کر رہی ہے ۔ ناقدین میں بیراج پٹنائیک بھی شامل ہیں جو غذا کے حق کے بارے میں ایک سرکاری کمیشن کے مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’وہ اس ملک کے 70 فیصد لوگوں کو غربت دور کرنے کے پروگراموں کے فوائد سے الگ کر رہے ہیں۔ اس طرح حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد میں کمی آ جائے گی۔ لیکن اس کا مقصد تو یہ ہوا کہ غریبوں کی تعداد ان کی حالت بہتر بنا کر نہیں، بلکہ دھوکہ دے کر کم کر دی جائے گی۔‘‘ سرکاری اندازوں کے مطابق، بھارت کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی میں سے 32 فیصد، یا تقریباً چالیس کروڑ لوگ غریبی کی حالت میں زندہ ہیں۔ لیکن بہت سے اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار سے ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی تقریباً نصف تعداد غذائیت کی کمی کا شکار ہے، لوگوں کی محرومیوں کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا ۔
حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نیشنل ایڈوائزری کونسل یہ کہتی رہی ہے کہ سماجی امداد تمام شہریوں کو فراہم کی جانی چاہئیے کیوں کہ ملک میں ایسا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اقتصادی ماہردریز اس کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں کچھ ریاستوں، جیسے جنوب میں تامل ناڈو اور شمال میں ہماچل پردیش میں اس سمت میں پہلے ہی بہت اچھا کام ہو رہا ہے۔
ان وزیروں کی کیا کہئے جو کے عالیشان سرکاری بنگلوں میں رہتے ہیں جن کاانہیں کوئی کرایہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ ان کو یہ بھی نہیں سوچنا پڑتا کہ آج شام کو گھر میں چولہہ جلے گا بھی کے نہیں، انہیں تو صرف ایک ہی کام ہے کہ وہ دیش کے غریبوں کے بارے میں سوچیں اور وہ سوچتے بھی کیا خوب ہیں۔
کوئی وزیر لکھ پتی سے کم نہیں ہے، تو زیادہ تر کروڑپتی ہیں اور کافی وزیر توایسے ہیں جو کہ ارب پتی ہیں۔ ایسا شخص جس کو اس بات کی فکر نہ ہو کہ وہ شام کو کیا کھائے گا کسی دوسرے ایسے شخص کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے جو پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے خاندان کے لئے محنت مزدوری کرتا ہو۔
ایک بار الیکشن جیتنے اور وزیر بننے کے بعد اس کو اتنی فرصت ہی کہاں رہ جاتی ہے کے وہ ان غریب اور نادار لوگوں کی خبر گیری کرنے کے لئے چھوٹے موٹے گاؤں اور قصبوں کا دورا کرسکیں ۔ اسے سال میں شاید ایک یادو مواقع ہی ملتے ہیں جب وہ چند گھنٹوں کے لئے اپنے حلقہ کے صدر مقام پر جاپاتا ہوگا اور وہ بھی چارٹرڈ فلائٹ سے اور ائرکنڈیشنڈ کاروں سے۔
دراصل ہمارے ملک میں خط افلاس کے لئے آنکڑوں کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب ایشیا ئی ترقیاتی بینک یا ورلڈ بینک کے اشارے پر کیا جارہا ہے۔ دراصل حکومت ہند یہ چاہتی ہے کہ دنیا کے سامنے اپنی حالت مستحکم اور بہتر بناکرپیش کرے اور ایسا کرنے کے لئے وہ خط افلاس کو نیچا رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔

No comments:
Post a Comment