عفیف احسن
ڈیلی پرتاپ مورخہ 13.11.2010 میں شائع
اسکول کے دنوں میں میں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی ایک کہانی پڑھی تھی، جس کا عنوان تھا ’کابلی والا‘ اس کہانی میں کندھے پر میووں کی جھولی لٹکائے ، ہاتھ میں انگور کی پٹار ی لئے ایک لمبے چوڑے کابلی کا بیان ہے۔ جس سے پانچ برس کی لڑکی منی بہت ڈرتی تھی۔ ایک دن جیسے ہی وہ اس کے گھر کی طرف آنے لگا ، منی جان لے کر اندر بھاگ گئی۔ اسے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے پکڑ نہ لے جائے۔ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ کابیلی والے کی جھولی کے اندر تلاش کرنے پر اس جیسے اور بھی دو چار بچے مل سکتے ہیں۔
کابلی نے لڑکی کے والدکومسکراتے ہوئے سلام کیا۔انہوں نے اس سے کچھ سودا خریدا۔ پھر وہ بولا ، ” بابو صاحب ، آپ کی لڑکی کہاں گئی؟“لڑکی کے والد نے منی کے دل سے خوف دور کرنے کے لئے اسے بلوا لیا۔ کابلی نے جھولی سے کشمش اور بادام نکال کر منی کو دینا چاہا پر اس نے کچھ نہ لیا۔ ڈرکر وہ لڑکی والد کے گھٹنوں سے چپٹ گئی۔ کابلی سے اس کا پہلا تعارف اس طرح ہوا۔ کچھ دن بعد منی کی کابلی سے خوب دوستی ہوگئی اور وہ گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کیاکر تے۔اور وہ منی کی جھولی بادام کشمش سے بھردیتاجبکہ اس کے والد کابلی والے کو ایساکرنے کے لئے منع کرتے۔
کابلی کو دیکھتے ہی لڑکی ہنستی ہوئی کہتی تھی ،” کا بلی والے ،کا بلی والے! تمہاری جھولی میں کیا ہے؟’’
ہر سال سردیوں کے آخر میں کابلی اپنے ملک چلا جاتا۔ جانے سے پہلے وہ سب لوگوں سے پیسہ وصول کرنے میں لگا رہتا۔ اسے گھر گھرگھومنا پڑتا ، مگر پھر بھی ہر روز وہ منی سے ایک بار مل جاتا۔
کہانی کے آخر میں کابلی والے کے ہاتھوں ایک آدمی جس نے اس سے ایک چادر خریدی اور اس کے کچھ روپے اس پر باقی تھے ، جنہیں وہ دینے سے انکار کر رہا تھا، کا خون ہوجاتا ہے اور اسے جیل ہوجاتی ہے۔
اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے یہاں اوباما آنے والے تھے تو ایسالگ رہا تھا کہ ہر ایک کو کابلی والے کا انتظار ہے۔ ان کے آنے کے بعدہر ایک یہی پوچھ رہا تھا ” کا بلی والے ،کا بلی والے! تمہاری جھولی میں کیا ہے؟“ مگر اس بار جو امریکی صدر آئے تھے ان کے کاندھے پر میووں کی جھولی اور ہاتھ میں انگور کی پٹار ی کے بجائے وہ خالی ہاتھ تھے۔پانچ سال کی منی(ہندوستان) اب جوان ہو چکی تھی اور اس کی شادی ہونے والی تھی۔ یہی نہیں یہ صدر ابھی حال ہی میں عراق سے رہا ہوکر آئے تھے۔ اور عراق اور افغانستان کی جنگ نے امریکہ کی کمر ہی توڑدی ہے ۔
اب تک جو بھی امریکی صدر آتے تھے توان سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ ہندوستان کے لئے جھولی بھر کر لائیںگے اورآتے ہی اس کا منہ کھول دیں گے، مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی امریکی صدر ہندوستان سے کچھ لینے کے ارادے سے آیا اور اس میں کامیاب بھی رہا۔اسی بات سے عالمی بازار میںہندوستان کی قدرومنزلت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جس طرح منی کے والد نے آخر میں کابلی والے کے ہاتھوں میں چندروپئے رکھ دئے تھے تاکہ وہ کابل واپس جاکر اپنی بیٹی سے مل سکے اسی طرح ہندوستان نے بھی کیا۔
جاتے جاتے اوباما صاحب ہندوستان کو اس راستے پر چلنے کی نصیحت کرگئے جس پر امریکہ ہمیشہ ہی چلتا رہاہے، یعنی کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنا۔
جگ ظاہر ہے کہ امریکہ کی ان ہی پالیسیوں کی وجہ سے آج اسکی معاشی حالت نازک ہوئی ہے ۔امریکہ کو یہ شکایت ہے کہ ہندوستان میانمار میں دخل اندازی کیوں نہیں کر رہا، جبکہ ہندوستان کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ کسی ملک کے داخلی معاملات میں کوئی دخل نہیں کرتا،چاہے وہ میانمار ہو، نیپال ہو یا اور کوئی ملک ہو ۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندوستان کب کا پاکستان پر حملہ کرچکا ہوتا، حالانکہ اس طرح کے مواقع بارہا آئے اور ہندوستانی حکومت پر اس کے عوام کا اس کے لئے بہت زبردست دباؤ تھا،ایسا موقعہ پارلیمنٹ پرحملہ کے وقت،اکشردھام مندر پر حملہ کے وقت اورممبئی حملہ کے وقت بھی آیا تھا، مگر ہندوستان نے صبر سے کام لیا اورایسا کرنے سے گریز کیا۔
امریکہ ہندوستان سے تویہ امید کرتا ہے کہ وہ میانمار میں جمہوریت ہامی عناصر کی مدد کرے مگر دوسری طرف اسکا شمار مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے ہامیوں میں نہیں ہوتاہے۔ کیوں نہیں وہ خود سعودی عرب میں جمہوریت کے حمایت کرتا جہاں پر بادشاہت قائم ہے اور حکومت ایک موروثی جائداد بن کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح کا حال مشرق وسطیٰ کی دوسرے زیادہ ترممالک کا ہے۔
جب پولیس کابلی والے کو گرفتار کرکے اور باندھ کر لے جارہی تھی تواتنے میں ” کا بلی والے ،کا بلی والے“ ، کہتی ہوئی منی گھر سے نکل آئی تھی ،کابلی کا چہرہ ایک لمحے کے لیے کھل اٹھاتھا۔ منی نے آتے ہی پوچھا تھا، ”تم سسرال جاوگے؟“ رحمت نے ہنس کر کہا ، ”ہاں ، وہیں تو جا رہا ہوں۔ “ کابلی کو لگا کہ منی اس کے جواب سے خوش نہیں ہوئی۔ تب اس نے گھونسا دکھا کر کہا ، ”سسر کو مارتا، پر کیا کروں ، ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ “ مگر منی کو تو اس سے یہ امید تھی کہ وہ کہے گا، ” ہم سسر کومارےگا۔ “جیسا کہ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا۔
یہی حال ہمارے اوباما صاحب کا ہے، وہ پاکستان کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان چاہے کتنی من مانی کرے، دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ قائم کرے،سرحد کے پار اپنے دہشت گرد بھیجے مگر کیونکہ امریکہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اس لئے وہ اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا، حالانکہ وہ اپنے آپ کو دہشت گردوں کا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتا ہے۔ مگریہ سب کچھ اسی وقت نظر آتا ہے جب کہ اس پر دہشت گردانہ حملہ ہو، ورنہ وہ دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کی طرف سے آنکھیں موندے رہتا ہے۔
اگر امریکہ اپنے نیت میں نیک ہے تو اس کو چاہئے کہ جو پیمانہ وہ اپنے لئے اپناتا ہے وہی پیمانہ دوسروں کے لئے بھی اپنائے بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کو تو لٹھاگز سے ناپ کر دے اور جب خود لٹھا خریدے تو لٹھا لاٹھی سے ناپے۔
No comments:
Post a Comment