ڈیلی پرتاپ مورخہ 22.11.2010 میں شائع
عفیف احسن
گزشتہ دنوں جب شری لال کرشن ایڈوانی کو سپریم کورٹ کے اے راجہ معاملہ پر وزیر اعظم سردار منموہن سنگھ کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت ملنے پر بولتے ہوئے سنا اور دیکھا توشیکسپیئر کے اوتھیلو کا ایک سین یاد آگیا جس میں کیسیو کہتا ہے ”وقار ، عزت ، وقار!ہائے! میں نے اپنی ساکھ گنواں دی ہے۔ میں نے خود کا امر حصہ کھو دیا ہے ، اور جو کچھ باقی رہ گیا ہے وہ بہیمانہ ہے۔ میرا نام ،لاگو ، میری عزت!“
بعد میں اس عظیم المیہ میں ، لاگو اس سے کہتا ہے۔”کیونکہ میں ایک دیانتدار آدمی ہوں ، میں نے سوچا کہ آپ کو کچھ جسمانی زخم پہنچے تھے ،اس میں ساکھ کے مقابلے میں زیادہ جرم ہے۔ وقارتو ایک بے کار اور سب سے زیادہ غلط نفاذ ہے، زیادہ تر بغیرکسی قابلیت کے حاصل کیاہوا اور بغیراہلیت کے ہارا : تم نے کوئی ساکھ نہیںکھو ئی ، جب تک کہ تم خود کوایساہاراہوانہ سمجھو۔
ہمارے ملک میں اس وقت گھوٹالوں کی بہار سی آئی ہوئی ہے۔اس میں ملک کے ہر علاقہ کے لوگ، ہر پارٹی کے لوگ شامل ہیں۔یہ لوگ الگ الگ زبانیں بولتے ہیںجو شاید ایک دوسرے کو سمجھ میںنہ آئےں لیکن ایک زبان ہے جو ہر ایک کو سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے پیسے کی زبان۔
یہی نہیںہمارے ملک میں سب سے اوپر ی سطح پر لوٹ پاٹ کا ایسا نظام پنپ چکا ہے ، جس میں بڑے رہنما ، نوکرشاہ ، بچولئیے اور صحافی شامل ہیں۔ یہ انکشاف انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے ٹیپ کرائے گئی کچھ اہم ٹیلی فون بات چیت سے ملا ہے۔
2 جی اسپیکٹرم تقسیم گھوٹالے کے خبر بننے سے پہلے ہی محکمہ ایک با اثر بچولیا خاتون کا فون ٹیپ کروا رہا تھا ، جوکہ پٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے اہم علاقوں سے متعلق صنعت کاروں کے مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ ٹیپ بتاتے ہیں کہ مرکزی کابینہ میں اہم محکمہ ہتھیانے کے لئے کس قدر لوبئنگ ہوئی۔ایک جریدے نے اپنے تازہ شمارہ میں بڑے صنعتی گھرانوں کے لئے لابئنگ کرنے والی نیرا راڈیا کی سابقمواصلاتی وزیر اے راجہ، ڈی ایم کے ایم پی کنموزی اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کے ساتھ بات چیت کی ٹیپوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان میں صاف اشارہ ملتا ہے کہ راڈیا کی لوبئنگ سے اے راجا سمیت کئی رہنما مرکزی کابینہ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ راجہ کو وزیر بنانے کے لئے دو بڑے صحافیوں نے بھی کانگریسیوں پر دباو ¿ بنایا۔ حالانکہ ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ راڈیا سے ان کی بات چیت صحافی ہونے کے ناطے ہوئی تھی۔
کئی دیگر صحافیوں کی راڈیا سے ٹیلی کام اور امبانی بھائیوں کے گیس قیمت تنازعہ جیسے مسائل پر بات چیت بھی ٹیپ کی گئی ہے۔ ٹیپ کرنے کا کام 20 اگست 2008 کو شروع ہوا ، جب راجہ مواصلاتی وزیر بننے کے لئے زور لگا رہے تھے اور راڈیا ان کی مدد کر رہی تھی۔ راجہ اور کنموزی کی راڈیا سے بات چیت یو پی اے حکومت کی دوسری مدت میں منموہن سنگھ کی کابینہ بننے سے کچھ دن پہلے ہوئی تھی۔
راڈیا سے متعلق 104 سے زیادہ یہ ٹیپ وکیل پرشانت بھوشن کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کے ساتھ منسلک ہیں۔ بھوشن نے اے راجا کے خلاف الزامات چلانے کی درخواست دے رکھی ہے۔کانگریس قیادت حیران ہے کہ یو پی اے کی دونوں حکومتوں کے دوران یہ ٹیپ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے لے کر پرنب مکھرجی اور پی چدمبرم تک کو دستیاب تھے۔ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ ٹیپوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یو پی اے حکومت کی دوسرے مدت میں راجہ کو ٹیلی کام وزارت کس طرح دی گئی۔
اب حکومت نے ٹیلی کام شعبہ میں راجہ کے پسند کے لوگوں کی تقرری پرروک لگادی ہے۔ راجہ کی مدت میں بی ایس این ایل کے چیرمین کے عہدے کے لیے آر کے اپادھیائے ، ایم ٹی این ایل کے چیرمین کے عہدے کے لئے کلدیپ سنگھ کو نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن اب ان کی تقرری روک دی گئی ہیں وہیںٹرائی کے رکن کے طور پر راکیش مہروترا کی تقرری بھی روک دی گئی ہے۔مانا جا رہا ہے کہ ٹرائی سیکریٹری آر کے آرنلڈٹرائی کے نئے رکن ہو سکتے ہیں۔ یہ ساری تقرریاں راجہ کے جانے کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر روکی گئیں۔ اور تو اور راجہ کے سابق سیکریٹری آر کے چندولیا کو بھی ٹیلی کام شعبہ سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔ ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ میں اور بھی تبدیلیاں جاری ہیں دیکھنا ہوگا کہ اب اگلا ، نمبر کس کا آتا ہے۔
دوسری طرف 2 جی اسپیکٹرم تقسیم کے تنازعہ کے چھینٹے وزیر اعظم کے دفتر پر بھی پڑنے کے بعد مرکزی حکومت اب اسپیکٹرم حاصل کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کے لئے ٹیلی ریگولیٹری ایجنسی ٹرائی کی طرف سے جمعرات کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرائی نے اپنی رپورٹ میں سال 2008 میں اس وقت کے متعلقہ وزیر اے راجا کی مددسے 2 جی اسپیکٹرم حاصل کرنے والی پانچ کمپنیوں کے 62 لائسنس رد کرنے کی سفارش کی ہے۔
ٹیلی کام رےگولیٹر ی اتھارٹی آف انڈیا نے 2 جی اسپیکٹرم حاصل کرنے کے وقت حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق اپنی خدمات شروع نہیں کئے جانے کی بنیاد پر ان تمام کمپنیوں پر بھاری بھرکم اقتصادی جرمانہ لگانے یا ان کے لائسنس کو خارج کرنے کی بات کہی ہے۔اتھارٹی کی اس رپورٹ میں صاف طور پر ویڈیوکان ، یونینار ، ایتیسلات (سوان) جیسی کمپنیوں کے لائسنس خارج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ ان میں سے کئی کمپنیاں فی الوقت ملک کے کچھ اہم سرکلوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور ان میں اب بھاری بھرکم غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ہو چکی ہے۔ جانکاروں کے مطابق ڈاٹ نے اس رپورٹ کو عمل میں لانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرائی کی یہ رپورٹ بے ضابطگیاں کرکے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو بھاری مصیبت میں ڈال سکتی ہےں۔ اگر حکومت ان کے لائسنس رد کرتی ہے تو ان کے لاکھوں گاہکوں کو بھی پریشانی اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد لائسنس حاصل کر اسے کسی دوسرے کمپنیوں کو بیچنا تھا۔
ٹرائی نے پایا ہے کہ 34 معاملوںمیں کمپنیوں نے لائسنس معاہدے کے خلاف کام کیا ہے۔ چار معاملوں میں سروس شروع کرنے میں تاخیر کی گئی جبکہ 31 معاملوںمیں تاخیر بہت زیادہ تھی۔ ریگولیٹری ایجنسی ایتیسلات کو 15 سرکلوں ، یونینار کو آٹھ ، سسٹیما شیام ٹیلی کام کو 10 ، ویڈیوکان کو10 اور لوپ ٹیلی کام کو 19 سرکلوں میں فراہم کردہ لائسنس رد کرنے کے حق میں ہے۔
کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میںبھی سابق مواصلاتی وزیر اے۔ راجہ پر بھاری گڑبڑی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ٹرائی کی رپورٹ میں جن کمپنیوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں سی اے جی کی 2 جی اسپیکٹرم تقسیم رپورٹ میں بھی کافی کچھ کہا گیا ہے۔سی اے جی نے اسپیکٹرم تقسیم میں گڑبڑی سے ملک کو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی کے نقصان کی بات کہی ہے۔
اسپیکٹرم گھوٹالے میں مواصلاتی وزارت پر گڑبڑی کا براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم تقسیم میں وزارت نے منمانی اور خودغرضی کی ہر حد لانگھ دی۔ کچھ مخصوص کمپنیوں کو فائدہ دینے کے لئے بغیر کسی واجب وجہ کے سابق مواصلاتی وزیر اے راجہ نے قانون ، خزانہ اور ٹیلی کمیشن کے مشورہ کو نظر انداز کیا۔ یہی نہیں ، وزیر اعظم کی صلاح کو بھی حاشیے پر رکھا گیا۔
اس سے 2 جی اسپیکٹرم تقسیم میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔ نئی کمپنیوں کو لائسنس دینے میں براہ راست وزیر کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے ، ’تقسیم کے عمل میں گڑبڑی اسی سے صاف ہو جاتی ہے کہ پہلے آو ¿ پہلے پاﺅکی پالیسی کے باوجود تمام درخواست دہندگان کو ایک ہی دن لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا گیا اور یہ فیصلہ وزیر کی سطح پر لیا گیا۔‘
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ،’وزیر اعظم نے تقسیم کے عمل میں شفاف اورجامع پالیسی بنانے کی صلاح دی تھی لیکن ان کی صلاح نظر انداز کرکے مواصلاتی وزارت نے سال 2008 میں 2001 کی شرح پر 2 جی اسپیکٹرم تقسیم کیا۔ اس کے لیے تمام قوانین اور عمل کو نظر انداز کیا گیا۔
سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم لائسنس دینے کے لئے پہلے آو ¿ پہلے پاﺅکی شرط پر عمل کرنے کا دعویٰ ٹیلی وزارت نے کیا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے دفتر کو بھی یہی پیغام ایک خط کے ذریعے دیا گیا تھا،لیکن حقیقت میں ایسا نہیں کیا گیا۔ جو درخواست مارچ 2006 سے 25 ستمبر 2007 کے درمیان جمع کرائی گئیں تھیں ، ان تمام کو ایک ہی دن 10 جنوری 2008 کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا گیا۔
سی اے جی نے کہا کہ پہلے آﺅ پہلے پاﺅشرط میں تبدیلی اور پیسہ جمع کرانے کی بنیاد پر اسپیکٹرم ملنے کو لے کر شاید کچھ کمپنیوں کو پہلے سے ہی پتہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنیاں ڈیمانڈ ڈرافٹ بنا کر پہلے سے ہی تیار تھیں۔
سی اے جی نے شبہ ظاہر کےا ہے کہ آخر کچھ کمپنیاں کس طرح ایک ہی دن میں پندرہ سو کروڑ روپے سے زیادہ کا ڈیمانڈڈرافٹ بنا سکتی ہیں۔
ان سب باتوں سے لگتا ہے کہ اس نام نہاد’ راجہ‘ نے کس طرح ہمارے ملک کے اصلی راجہ یعنی وزیر اعظم اورآئینی اداروں کودرکنار کرتے ہوئے مواصلاتی وزارت پر اپنا راج تھونپ دیا اور خود راجہ بن گیا۔
حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ راجہ نے اکیلے ہی بغیر کسی مدد کے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا بلکہ اب تو ایسامحسوس ہوتا ہے کہ راجہ کے پیچھے ان کی پوری پارٹی ڈی ایم کے بھی اس گھوٹالے میں شامل تھی ورنہ ان کو دوبارہ مواصلاتی وزارت ہرگز نہ دی جاتی، حالانکہ وزیر اعظم دوسری بار راجہ کو وزیر بنانے کے حق میںقطعی نہیں تھے مگر جب ڈی ایم کے اڑ گئی تو ان کو جھکنا پڑا اور راجہ کو دوبارہ وزیر ہی نہیں بنایا گیا بلکہ ان کو پھر سے وہی محکمہ دے دیا گیا جس میں ان پر گھوٹالے کا الزام تھاتاکہ اس گھوٹالے کو دبادیا جائے اور ان کی منظور نظر کمپنیوں پر کو ئی آنچ نہ آنے پائے۔
اب تو تفتیش اس بات کی ہونی چاہئے کہ کس کس کو کتنی کتنی رقم ملی ہے اور اس تفتیش کو نہ تو جے پی سی سے کرایا جائے اور نہ ہی اس کو سی بی آئی سے کرایا جائے بلکہ اس تفتیش کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو کہ آزادانہ طور پر سپریم کورٹ کے تحت اپنی تفتیش کرے۔
میں یہ مضمون لاگو کے اس ڈائیلاگ کے ساتھ ختم کرناچاہوں گا”مانا کہ ، تم ایک بہت ہی نیک خو ہو۔مگر موجودہ وقت ، اس ملک کی پوزیشن اور حالات کو دیکھتے ہوئے میری دلی خواہش ہے کہ یہ نا ہوا ہوتا، لیکن کیونکہ یہ جیسا ہے ویسا ہی ہے ،اس لئے اپنے ہی فائدے کے لئے اس کی اصلاح کر لو۔“
بعد میں اس عظیم المیہ میں ، لاگو اس سے کہتا ہے۔”کیونکہ میں ایک دیانتدار آدمی ہوں ، میں نے سوچا کہ آپ کو کچھ جسمانی زخم پہنچے تھے ،اس میں ساکھ کے مقابلے میں زیادہ جرم ہے۔ وقارتو ایک بے کار اور سب سے زیادہ غلط نفاذ ہے، زیادہ تر بغیرکسی قابلیت کے حاصل کیاہوا اور بغیراہلیت کے ہارا : تم نے کوئی ساکھ نہیںکھو ئی ، جب تک کہ تم خود کوایساہاراہوانہ سمجھو۔
ہمارے ملک میں اس وقت گھوٹالوں کی بہار سی آئی ہوئی ہے۔اس میں ملک کے ہر علاقہ کے لوگ، ہر پارٹی کے لوگ شامل ہیں۔یہ لوگ الگ الگ زبانیں بولتے ہیںجو شاید ایک دوسرے کو سمجھ میںنہ آئےں لیکن ایک زبان ہے جو ہر ایک کو سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے پیسے کی زبان۔
یہی نہیںہمارے ملک میں سب سے اوپر ی سطح پر لوٹ پاٹ کا ایسا نظام پنپ چکا ہے ، جس میں بڑے رہنما ، نوکرشاہ ، بچولئیے اور صحافی شامل ہیں۔ یہ انکشاف انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے ٹیپ کرائے گئی کچھ اہم ٹیلی فون بات چیت سے ملا ہے۔
2 جی اسپیکٹرم تقسیم گھوٹالے کے خبر بننے سے پہلے ہی محکمہ ایک با اثر بچولیا خاتون کا فون ٹیپ کروا رہا تھا ، جوکہ پٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے اہم علاقوں سے متعلق صنعت کاروں کے مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ ٹیپ بتاتے ہیں کہ مرکزی کابینہ میں اہم محکمہ ہتھیانے کے لئے کس قدر لوبئنگ ہوئی۔ایک جریدے نے اپنے تازہ شمارہ میں بڑے صنعتی گھرانوں کے لئے لابئنگ کرنے والی نیرا راڈیا کی سابقمواصلاتی وزیر اے راجہ، ڈی ایم کے ایم پی کنموزی اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے داماد رنجن بھٹاچاریہ کے ساتھ بات چیت کی ٹیپوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان میں صاف اشارہ ملتا ہے کہ راڈیا کی لوبئنگ سے اے راجا سمیت کئی رہنما مرکزی کابینہ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ راجہ کو وزیر بنانے کے لئے دو بڑے صحافیوں نے بھی کانگریسیوں پر دباو ¿ بنایا۔ حالانکہ ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ راڈیا سے ان کی بات چیت صحافی ہونے کے ناطے ہوئی تھی۔
کئی دیگر صحافیوں کی راڈیا سے ٹیلی کام اور امبانی بھائیوں کے گیس قیمت تنازعہ جیسے مسائل پر بات چیت بھی ٹیپ کی گئی ہے۔ ٹیپ کرنے کا کام 20 اگست 2008 کو شروع ہوا ، جب راجہ مواصلاتی وزیر بننے کے لئے زور لگا رہے تھے اور راڈیا ان کی مدد کر رہی تھی۔ راجہ اور کنموزی کی راڈیا سے بات چیت یو پی اے حکومت کی دوسری مدت میں منموہن سنگھ کی کابینہ بننے سے کچھ دن پہلے ہوئی تھی۔
راڈیا سے متعلق 104 سے زیادہ یہ ٹیپ وکیل پرشانت بھوشن کی سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن کے ساتھ منسلک ہیں۔ بھوشن نے اے راجا کے خلاف الزامات چلانے کی درخواست دے رکھی ہے۔کانگریس قیادت حیران ہے کہ یو پی اے کی دونوں حکومتوں کے دوران یہ ٹیپ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے لے کر پرنب مکھرجی اور پی چدمبرم تک کو دستیاب تھے۔ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ ٹیپوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یو پی اے حکومت کی دوسرے مدت میں راجہ کو ٹیلی کام وزارت کس طرح دی گئی۔
اب حکومت نے ٹیلی کام شعبہ میں راجہ کے پسند کے لوگوں کی تقرری پرروک لگادی ہے۔ راجہ کی مدت میں بی ایس این ایل کے چیرمین کے عہدے کے لیے آر کے اپادھیائے ، ایم ٹی این ایل کے چیرمین کے عہدے کے لئے کلدیپ سنگھ کو نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن اب ان کی تقرری روک دی گئی ہیں وہیںٹرائی کے رکن کے طور پر راکیش مہروترا کی تقرری بھی روک دی گئی ہے۔مانا جا رہا ہے کہ ٹرائی سیکریٹری آر کے آرنلڈٹرائی کے نئے رکن ہو سکتے ہیں۔ یہ ساری تقرریاں راجہ کے جانے کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر روکی گئیں۔ اور تو اور راجہ کے سابق سیکریٹری آر کے چندولیا کو بھی ٹیلی کام شعبہ سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔ ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ میں اور بھی تبدیلیاں جاری ہیں دیکھنا ہوگا کہ اب اگلا ، نمبر کس کا آتا ہے۔
دوسری طرف 2 جی اسپیکٹرم تقسیم کے تنازعہ کے چھینٹے وزیر اعظم کے دفتر پر بھی پڑنے کے بعد مرکزی حکومت اب اسپیکٹرم حاصل کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کے لئے ٹیلی ریگولیٹری ایجنسی ٹرائی کی طرف سے جمعرات کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرائی نے اپنی رپورٹ میں سال 2008 میں اس وقت کے متعلقہ وزیر اے راجا کی مددسے 2 جی اسپیکٹرم حاصل کرنے والی پانچ کمپنیوں کے 62 لائسنس رد کرنے کی سفارش کی ہے۔
ٹیلی کام رےگولیٹر ی اتھارٹی آف انڈیا نے 2 جی اسپیکٹرم حاصل کرنے کے وقت حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق اپنی خدمات شروع نہیں کئے جانے کی بنیاد پر ان تمام کمپنیوں پر بھاری بھرکم اقتصادی جرمانہ لگانے یا ان کے لائسنس کو خارج کرنے کی بات کہی ہے۔اتھارٹی کی اس رپورٹ میں صاف طور پر ویڈیوکان ، یونینار ، ایتیسلات (سوان) جیسی کمپنیوں کے لائسنس خارج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ ان میں سے کئی کمپنیاں فی الوقت ملک کے کچھ اہم سرکلوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور ان میں اب بھاری بھرکم غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ہو چکی ہے۔ جانکاروں کے مطابق ڈاٹ نے اس رپورٹ کو عمل میں لانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرائی کی یہ رپورٹ بے ضابطگیاں کرکے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کو بھاری مصیبت میں ڈال سکتی ہےں۔ اگر حکومت ان کے لائسنس رد کرتی ہے تو ان کے لاکھوں گاہکوں کو بھی پریشانی اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کا بنیادی مقصد لائسنس حاصل کر اسے کسی دوسرے کمپنیوں کو بیچنا تھا۔
ٹرائی نے پایا ہے کہ 34 معاملوںمیں کمپنیوں نے لائسنس معاہدے کے خلاف کام کیا ہے۔ چار معاملوں میں سروس شروع کرنے میں تاخیر کی گئی جبکہ 31 معاملوںمیں تاخیر بہت زیادہ تھی۔ ریگولیٹری ایجنسی ایتیسلات کو 15 سرکلوں ، یونینار کو آٹھ ، سسٹیما شیام ٹیلی کام کو 10 ، ویڈیوکان کو10 اور لوپ ٹیلی کام کو 19 سرکلوں میں فراہم کردہ لائسنس رد کرنے کے حق میں ہے۔
کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میںبھی سابق مواصلاتی وزیر اے۔ راجہ پر بھاری گڑبڑی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ٹرائی کی رپورٹ میں جن کمپنیوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں سی اے جی کی 2 جی اسپیکٹرم تقسیم رپورٹ میں بھی کافی کچھ کہا گیا ہے۔سی اے جی نے اسپیکٹرم تقسیم میں گڑبڑی سے ملک کو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی کے نقصان کی بات کہی ہے۔
اسپیکٹرم گھوٹالے میں مواصلاتی وزارت پر گڑبڑی کا براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم تقسیم میں وزارت نے منمانی اور خودغرضی کی ہر حد لانگھ دی۔ کچھ مخصوص کمپنیوں کو فائدہ دینے کے لئے بغیر کسی واجب وجہ کے سابق مواصلاتی وزیر اے راجہ نے قانون ، خزانہ اور ٹیلی کمیشن کے مشورہ کو نظر انداز کیا۔ یہی نہیں ، وزیر اعظم کی صلاح کو بھی حاشیے پر رکھا گیا۔
اس سے 2 جی اسپیکٹرم تقسیم میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔ نئی کمپنیوں کو لائسنس دینے میں براہ راست وزیر کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے ، ’تقسیم کے عمل میں گڑبڑی اسی سے صاف ہو جاتی ہے کہ پہلے آو ¿ پہلے پاﺅکی پالیسی کے باوجود تمام درخواست دہندگان کو ایک ہی دن لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا گیا اور یہ فیصلہ وزیر کی سطح پر لیا گیا۔‘
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ،’وزیر اعظم نے تقسیم کے عمل میں شفاف اورجامع پالیسی بنانے کی صلاح دی تھی لیکن ان کی صلاح نظر انداز کرکے مواصلاتی وزارت نے سال 2008 میں 2001 کی شرح پر 2 جی اسپیکٹرم تقسیم کیا۔ اس کے لیے تمام قوانین اور عمل کو نظر انداز کیا گیا۔
سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم لائسنس دینے کے لئے پہلے آو ¿ پہلے پاﺅکی شرط پر عمل کرنے کا دعویٰ ٹیلی وزارت نے کیا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے دفتر کو بھی یہی پیغام ایک خط کے ذریعے دیا گیا تھا،لیکن حقیقت میں ایسا نہیں کیا گیا۔ جو درخواست مارچ 2006 سے 25 ستمبر 2007 کے درمیان جمع کرائی گئیں تھیں ، ان تمام کو ایک ہی دن 10 جنوری 2008 کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا گیا۔
سی اے جی نے کہا کہ پہلے آﺅ پہلے پاﺅشرط میں تبدیلی اور پیسہ جمع کرانے کی بنیاد پر اسپیکٹرم ملنے کو لے کر شاید کچھ کمپنیوں کو پہلے سے ہی پتہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنیاں ڈیمانڈ ڈرافٹ بنا کر پہلے سے ہی تیار تھیں۔
سی اے جی نے شبہ ظاہر کےا ہے کہ آخر کچھ کمپنیاں کس طرح ایک ہی دن میں پندرہ سو کروڑ روپے سے زیادہ کا ڈیمانڈڈرافٹ بنا سکتی ہیں۔
ان سب باتوں سے لگتا ہے کہ اس نام نہاد’ راجہ‘ نے کس طرح ہمارے ملک کے اصلی راجہ یعنی وزیر اعظم اورآئینی اداروں کودرکنار کرتے ہوئے مواصلاتی وزارت پر اپنا راج تھونپ دیا اور خود راجہ بن گیا۔
حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ راجہ نے اکیلے ہی بغیر کسی مدد کے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا بلکہ اب تو ایسامحسوس ہوتا ہے کہ راجہ کے پیچھے ان کی پوری پارٹی ڈی ایم کے بھی اس گھوٹالے میں شامل تھی ورنہ ان کو دوبارہ مواصلاتی وزارت ہرگز نہ دی جاتی، حالانکہ وزیر اعظم دوسری بار راجہ کو وزیر بنانے کے حق میںقطعی نہیں تھے مگر جب ڈی ایم کے اڑ گئی تو ان کو جھکنا پڑا اور راجہ کو دوبارہ وزیر ہی نہیں بنایا گیا بلکہ ان کو پھر سے وہی محکمہ دے دیا گیا جس میں ان پر گھوٹالے کا الزام تھاتاکہ اس گھوٹالے کو دبادیا جائے اور ان کی منظور نظر کمپنیوں پر کو ئی آنچ نہ آنے پائے۔
اب تو تفتیش اس بات کی ہونی چاہئے کہ کس کس کو کتنی کتنی رقم ملی ہے اور اس تفتیش کو نہ تو جے پی سی سے کرایا جائے اور نہ ہی اس کو سی بی آئی سے کرایا جائے بلکہ اس تفتیش کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو کہ آزادانہ طور پر سپریم کورٹ کے تحت اپنی تفتیش کرے۔
میں یہ مضمون لاگو کے اس ڈائیلاگ کے ساتھ ختم کرناچاہوں گا”مانا کہ ، تم ایک بہت ہی نیک خو ہو۔مگر موجودہ وقت ، اس ملک کی پوزیشن اور حالات کو دیکھتے ہوئے میری دلی خواہش ہے کہ یہ نا ہوا ہوتا، لیکن کیونکہ یہ جیسا ہے ویسا ہی ہے ،اس لئے اپنے ہی فائدے کے لئے اس کی اصلاح کر لو۔“
No comments:
Post a Comment