Search

Monday, 28 March 2011

پھنس گئے رے اوباما

ڈیلی پرتاپ مورخہ 28.03.2011 میں شائع

عفیف احسن
آپ اس مضمون کی سرخی پڑھ کرقطعی حیران نہ ہوں۔ یہ اسی نام سے بنی ایک فلم کی کہانی یا اس پر کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ امریکہ کے صدر براک حسین اوباما کی حقیقت ہے، اس اوباماکی جو کہ کبھی ایک بہت ہی دردمند شخص ہوا کرتا تھا۔ اس کو امریکہ کی دوسرے ممالک میں دخل اندازی قطعی ناپسند تھی۔اسے اس بات سے تکلیف ہوتی تھی کے کیوں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا ہے؟ کیونکہ اس کا کوئی بھی جوازموجود نہیں تھا۔اس سلسہ میں انکا نظریہ جگ ظاہر ہے۔ انہوں نے کئی موقعوں پر بش کی اس سلسے میں سخت مخالفت بھی کی تھی۔ اس مدعے کو اور دوسرے مدعوں کی بنیاد پر وہ الیکشن جیت گئے اور امریکہ کے صدر بن گئے جو تمام دنیا میں سب سے طاقت ور شخصیت مانی جاتی ہے۔
 ان کی 20 نومبر، 2006 کی ایک تقریر عراق میں ہوئی امریکی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ایک کچہ چٹھہ ہے۔عراق میں امریکہ کی دراندازی پر انہوں نے اپنی اس تقریر میں کہا تھا کہ:
ہمیں اپنے اس ایمان میں بہت معقول ہونا چاہئے کہ ہم کسی ملک پر فوجی طاقت کے ذریعے جمہوریت نافذ کر سکتے ہیں۔ ماضی میں، اندرونی تحریکوں سے ہی آمر حکومتوں کے خلاف آزادی کی تحریکیں ابھری ہیں جن سے کامیاب جمہوریت وجود میں آئیں، تحریکیں جو آج بھی جاری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنی اقدار اور نظریات کو چھوڑدیں ، جہاں بھی ہم کر سکتے ہیں ، یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم میسّر سفارتی اور اقتصادی وسائل کے ذریعے جمہوریت کی حوصلہ افزائی میں مدد کریں۔ لیکن جب ہم اس طرح کی مدد فراہم کریں توہمیں یہ واضح ہونا چاہئے کہ جمہوریت کے اداروں، آزاد مارکیٹوں، آزاد پریس، ایک مضبوط سول سوسائٹی کوایک رات میں نہیں بنایا جا سکتا، اور انہیں بندوق کی نوک پربھی نہیں بنایا جا سکتا۔ اور اس طرح ہمیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ آزادی جس کی فرینک ڈی روزویلٹ نے ایک مرتبہ بات کی تھی، خاص طور پرخواہش کی آزادی اورخوف سے آزادی، ایک ظالم کو معزول کرنے اور ووٹ کی طاقت ملنے سے نہیں آتی، وہ صرف تب ہی حاصل ہوتی ہیں جب کہ کسی قوم کی جان اورمال کی حفاظت بھی یقینی بنائی جائے۔
  ان نیک خیالات کا اظہاربراک اوباما نے’ شکاگو کاﺅنسل آن گلوبل افیرس‘ میں20 نومبر، 2006 کی اپنی لمبی چوڑی تقریر میں کیا تھا۔ مگر یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ صدر کا الیکشن لڑنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ تب معاملہ تھا کہ کس طرح موجودہ صدر کی پالیسیوں کو غلط اوربے حودہ بتایا جائے۔ان کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ بہت ہی بردبار اور سمجھدار شخص ہیں اور وہ امریکہ کی ان غلط اور ناکارہ پالیسیوں کو بدلنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کی معاشی حالت ابتر ہوگئی ہے۔ مگر 20جنوری 2009کو صدر کے عہدے کی قسم کھانے کے بعد ان کی شخصیت میں ایسی کون سی تبدیلی آگئی کے آج وہ خود اسی راہ پر چل پڑے ہیں جس پر چلنے کے لئے وہ اس وقت کے صدر بش اور امریکی انتظامیہ پر زبردست چوٹ کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔
اوباما کے صدر چنے جانے کے بعد ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ کی ایک میٹنگ میں یہ سوال اٹھا تھا کہ آیااوباما امریکی پالیسیوں کو یکسربدل دیں گے اور نئی پالیسیاں وضع کریں گے تو ہمارے ایک ساتھی نے جوکہ امریکی معاملات پر کافی معلومات رکھتے ہیں اورامریکی معاملات پر ایک اتھارٹی مانے جاتے ہیں یہ کہا تھا کہ امریکہ کی پالیسی تو پینٹاگن اور سی آئی اے کنٹرول کرتا ہے۔ چاہے کوئی بھی صدر آئے امریکہ کی پالیسی نہیں بدلتی۔
اب جب کے لیبیاکے معاملے میں براک اوبامہ خوداسی راہ پر چلی پڑے ہیں جس پر ہر امریکی صدرچلتارہاہے، تو ہمارے دوست کی وہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی ہے۔ لیبیا میں بم دھماکے شروع ہو گئے ہیں، یہ عین اس دن کی آٹھویں سالگرہ کےعین پہلے شروع ہوا ہے یعنی کہ 19 مارچ کے دن کہ جس دن عراق کی تباہی کاآغاز ہوا تھا۔ لیبیا بھی تباہ کیا جائے گا۔ اس کے اسکول، تعلیمی ادارے، بنیادی ڈھانچے، ہسپتال، سرکاری عمارتیں زمیں بوس کردی جائیں گی۔ ایسی کئی ” المناک غلطیاں“، ”نادانستہ نقصانات“، ہونگے۔ ماں، باپ، اولاد، بچے، دادا دادی، ابدی نیند سوجائیںگے یااندھے، بہرے، لولے اورلنگڑے ہوجائیں گے۔ عورتیں بیوہ، بچے یتیم، ماں باپ لاولد ہوجائیں گے،اور یہ لامتناہی سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے گا۔
انفراسٹرکچر تباہ کیاجائے گا۔ پابندیاں لگی رہنے کی صورت میں یہ ناممکن ہو جائے گا کہ تعمیر نو کی جاسکے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ مل کر ملک کی ضروریات کا فیصلہ کریں گے” استحکام کا قیام“، ” تعمیر نو کے ساتھ مدد“ وغیرہ جیسی اسطلاحات کو ایک بار پھر استعمال کیا جائے گا۔ سریعت کے ساتھ ملک میں فوج دستے بھیج کریہ ممالک لیبیا کی تیل کی تنصیبات اور تیل کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے انتظامات کریں گی، اور اس طرح تیل کے ذخائر پرقابض ہوجائیں گے۔ان کی ان کوششوں میں لیبیا کے عوام ایک غیرضروری تکلیف بن جائیں گے اور جلدی ہی’دشمن ‘اور’ باغی‘،کہلائے جانے لگیں گے اور گولی سے اڑائے، جیل میں ٹھونسے، تشدد اور بدسلوکی کاشکار کئے جائیں گے۔
اور پھرلیبیا پر بھی ایک امریکی دوست کٹھ پتلی’ حکومت‘ قائم ہو جائے گی۔ کسی بھی حساب کتاب کے بغیر لیبیا کے منجمد اثاثوں سے امکانی طور پر لی جانے والی رقم غائب ہوجائے گی اور زیادہ تر ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گا۔ اسکے بعد حملہ آور اپنی ہی کمپنیوں کے ساتھ تعمیر نوکے معاہدے کریں گے ۔
کیا یہی لیبیا پر’حملہ اور مرعوب‘ ہے؟ فرانس شرم کرو، برطانیہ شرم کرو، امریکہ شرم کرو اور اقوام متحدہ کو شرم آنی چاہیئے جو یہ کہتی ہے کہ یہ سب ’’.... متواتر نسلوں کوجنگ کی تباہکاریوں سے بچانے کے لئے‘‘ہے۔ ہرجانب بکھرے ہوئے جسم کے اجزاء، اپاہج، یا ٹکڑوں میں اڑے بچے، ہر بیوہ، ہر رنڈوا، ہریتیم، ان سب کے خون سے ان ممالک کے نام اور اقوام متحدہ کا نام ان کی موت کی جگہ پر لکھا ہوگا۔ اور ان ملکوں کے عوام کو یہ بتایاجائے گا کے ہم تو صرف جمہوریت قائم کررہے ہیں، لیبیاکو ایک ظالم ایک’ نومولود ہٹلر‘ بن غازی کے قاتل قصائی سے آزاد کرارہے ہیں۔
جنگ کے سلسے میں براک اوباما کاریکارڈ تو پچھلے صدور سے بد تر ثابت ہورہا ہے۔ براک اوباما افغانستان، عراق، پاکستان اور لیبیا میں جنگ لڑ ر ہے ہیں۔ وہ امریکی فوج پر کئی سابقہ صدور سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر وہ صدر کے طور پر آٹھ سال تک کام کرتے ہیں تووہ دفاع پر 8 ٹریلین ڈالر خرچ کریںگے جس میں جنگی معیشت کے پوشیدہ اخراجات بھی شامل ہیں۔ تمام امریکی ٹیکس کا پچاس فی صد امریکی فوج پر خرچ کیا جاتا ہے۔ امریکہ دنیا کے باقی تمام ملکوں کے مجموعی فوجی بجٹ سے زیادہ دفاعی پر خرچ کرتا ہے۔
 سابق نیٹو کمانڈر جنرل ویسلے کلارک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیبیا کی بمباری کئی سال سے پینٹا گن کے ڈرائنگ بورڈ پرتھی اور پینٹاگن اس پر عمل کرنے کے بہانے کھوجتا رہا ہے اور اگر کوئی بہانہ نہ بھی ملے تووہ ایسے حالات پیدا کرنے کے بارے میں بھی ایک لائحیہ عمل بنانے میں لگا رہا ہے جس سے کہ لیبیا پر فوج کشی کی جاسکے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ لیبیا میں بغاوت کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار تھااوراسے فوجی آپریشن کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ بندی کئی ماہ سے احتیاط سے اور خفیہ طور پرکی جارہی تھی اور احتجاج کی تحریک آگے بڑھائی گئی۔
اس آپریشن کو آپریشن ’اوڈیسی ڈان‘ کا نام دیا گیا ہے جو کہ عرب دنیا میں عراق پر حملہ کے بعد سب سے بڑی مغربی فوجی مداخلت ہے۔ یہ تیل کے لئے جنگ کا حصہ ہے کیونکہ لیبیا کا شمار دنیا کی تیل کی بڑی معشیتوں میں ہوتا ہے اور عالمی سطح پر لیبیا کے تیل کے ذخائر 3.5 فی صد ہیں جو امریکہ کے ذخائر سے تقریبا دو گنا زیادہ ہیں ۔
  20 نومبر،2006 کی اپنی تقریر اوباما نے ان الفاظ کے ساتھ اختتام پزیر کی تھی، ”بہت ساری تقریر یں ہوچکیں۔ بہت سارے بہانے بنائے جاچکے۔ بہت سارے پرچم میں لپٹے تابوت ہوچکے، اور بہت سارے دل شکستہ خاندان ہوچکے۔ عراق میں انتظار کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ یہ ہماری پالیسی کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ یہ عراقیوں کو انکا ملک واپس دینے کا وقت ہے۔ اوریہ وقت ہے کہ دوبارہ امریکہ کی توجہ وسیع تر جدوجہد(اوسامہ) پر مرکوز کرنے کا، جو ابھی جیتنی ہے۔ آپ کا شکریہ۔ 
آج کے حالات میں یہ بالکل بھی نہیں لگتا کہ یہ وہی اوباما ہیں جو اتنی پیاری پیاری اوردل کو چھو لینے والی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ اوباما کو پینٹاگن اور سی آئی اے نے اپنے جال مین پھنسا لیاہے اور ان سے بھی وہی سب کچھ کرایا جارہا ہے جوسابقہ امریکی صدور سے کرایاجاتارہاہے۔ ان حالات میں ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کاصدر ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے جو پینٹاگن اور سی آئی اے کے اشاروں پر ناچتا ہے۔

No comments:

Post a Comment