Search

Monday, 27 February 2012

کڈن کلم میں پیشہ وارانہ این جی او زکی تحریک


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 27th February 2012
عفیف احسن

جب وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک سائنس میگزین کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ ملک میں ایٹمی منصوبوں اور جی ایم فوڈ کے مخالفت کو کچھ غیر ملکی این جی اوز ہوا دے رہے ہیں، تو اس کے بعد دیش میں کافی ہو ہلا مچا اور بی جے پی نے اسے ایک اہم معاملہ بتاتے ہوئے وزیر اعظم سے اپنے بیان پر مزید روشنی ڈالنے کی مانگ کرڈالی۔
حالانکہ کڈن کلم ایٹمی بجلی گھر کی مخالفت کرنے والی سب سے بڑی این جی اورپی ایم اے این ای نے وزیر اعظم کے اس دعویٰ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے،اور اس میں کسی سازش کا شک ظاہر کیا ہے لیکن پی ایم او میں ریاستی وزیر وی نارائن سوامی نے وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تین این جی او کو باہری ملکوں سے دان میں ملے اپنے فنڈ کا کڈن کلم ایٹمی بجلی گھر کی مخالفت کو بھڑکانے کے لئے ناجائز استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا جس کے بعد ان کا لائسنس رد کردیا گیا۔ 
سوامی نے بتایا کہ ایک شکایت کے بعد کے یہ این جی اور فلاحی کاموں کے لئے دان میں ملی رقومات کو بجلی گھر کی مخالفت کو بھڑکانے میں استعمال کررہی ہیں،یہ پایاگیاکہ این جی او امریکہ اور اسکینڈینیوین ممالک سے ملی خطیر رقومات کامخالفت کو ہوا دینے کے لئے بیجااور غلط استعمال کررہی تھیں۔ حالانکہ ان این جی او کو یہ رقومات اپاہجوں کی فلاح اور بہبودی اور کوڑھ کے خاتمے کے لئے ملی تھیں ۔
سوامی نے دعویٰ کیا کے تین مہینے سے جاری تحریک کے لئے لوگوں کو ٹرکوں میں بھر کے دور دراز کے مختلف گاؤں سے لایا جاتا ہے۔ان کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ان این جی اوز نے موصول رقومات کو دوسرے مد میں خرچ کرکے فارن کنٹریبیوشن (ریگولیشن)ایکٹ 2010 کے راہ نما اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے صاف کیا کہ وزیر اعظم کا بیان اسی انکوئری کی بنیاد پرتھا۔
اس پروجیکٹ میں جوائنٹ وینچر پارٹنر روس نے بھی اس کے بعد کہا کہ اسے ایسا شک تو بہت پہلے سے ہی تھا۔روس کے سفیر الیگزینڈر کداکن نے کہا کے ہم تو یہ بات پہلے ہی کہہ رہے تھے، کیونکہ یہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جاپان کے فکوشیما پلانٹ میں ہوئی ٹریجڈی کے چھ مہینے گزرنے کے بعد اس پلانٹ کے خلاف تحریک شروع ہوئی۔چھ مہینے تک یہ لوگ سوتے رہے اور پھر اچانک ایک بہترین اور دنیا میں سب سے محفوظ اسٹیشن کے خلاف آواز بلند ہوئی۔پہلے تو ہم تذبذب کا شکار تھے مگر اب ہمارے موقف کی تصدیق ہوگئی ہے۔روسی سفیر نے کہا۔
امریکہ کے پہلے چارج ڈی افئیرس پیٹر برلیہ نے کہا کہ وہ کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے حقائق کی جانچ کرنا چاہیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصولی طور پر امریکہ کو ہندوستان کے سول جوہری منصوبوں پر کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں امریکی فرمیں بھی سول جوہری منصوبوں کے ممکنہ اشتراک پر کام کررہی ہیں۔ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ہر سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں۔اور ہم امریکی کمپنیوں کی یہاں پر موجودگی چاہتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ جو بات سوامی اور روسی صفیر کہنے سے رک گئے وہ یہ ہے کہ انہیں شک ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک اس پلانٹ کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں کیونکہ آندھرا پردیش اور گجرات میں اسی طرح کے دوسرے پلانٹ جو کہ امریکہ کے اشتراک سے بن رہے ہیں،پر ابھی تک کام نہیں ہوسکا ہے جبکہ روس کے اشتراک سے بننے والے پلانٹ کے دو یونٹ چالو ہونے والے ہیں۔
کڈن کلم کا جوہری پلانٹ تیرہ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہورہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی توانائی سے ریاست تمل ناڈو بجلی کے شعبے میں خود کفیل ہوجائیگا۔اس پلانٹ کے چھ میں سے دو یونٹ بالکل تیار ہیں اور چار جلد ہی تیار ہوجائیں گے اور فرانس اور امریکہ کے پلانٹ کے چالو ہونے تک یہ پلانٹ ملک کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہوگا۔فرانس کے جوہری پلانٹ کی سائٹ پر سول سوسائٹی نے قبضہ کر لیا ہے جبکہ امریکی جوہری پلانٹ کا کام ایک ایسے ہندوستانی قانون کی وجہ سے اٹکا ہوا ہے جو کہ آپریٹر اوراکوپمنٹ سپلائر کو کسی بھی ایکسیڈنٹ کی صورت میں موردالزام ٹھہراتا ہے۔ 
روسی جوہری بجلی گھر اس معنیٰ میں الگ ہے کہ اسے اس وقت بنانے کا سوچا گیا تھا جب کے مغربی ممالک ہندوستان کو جوہری ٹکنالوجی دینے کی سختی کے ساتھ مخالفت کررہے تھے۔
حالانکہ این جی اوز کو باہری ممالک سے مدد ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن وزیر اعظم نے جس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ملک کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ توانائی کی پیداوار میں اضافہ کے بغیر ہندوستان مسلسل ترقی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ تیز رفتار ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی کمی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے سامنے کاربن کا اخراج کم کرنے جیسا بڑا چیلنج بھی منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ہندوستان پاور پلانٹ چلانے کے لئے استعمال ہونے والے کوئلے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، یہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹ بہت زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں اور پوری دنیا ان سے نجات حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ ملک نے گزشتہ کچھ عرصے میں کئی ہائڈرو بجلی پلانٹ بھی قائم کئیہیں، لیکن یہ بھی ماحولیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لئے بڑے پیمانے پر بجلی کی پیداوار کا ایک ہی طریقہ بچ جاتا ہے کہ جوہری بجلی کو اپنایا جائے۔ یہ طریقہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے والا بھی نہیں ہے اور طویل عرصے تک ہماری ضروریات کو پوراکر سکتا ہے۔
اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہندوستان کو خوردنی کے محاذ پر بھی ہے، جسے ایک بڑی آبادی کا پیٹ بھرنا پرتا ہے۔ملک ابھی تک فاقہ کشی اورکم غزائی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ خوراک کی پیداوار بڑھانا اور اسے برباد ہونے سے بچانا ایسے اہداف ہیں، جن کے لئے ہمیں نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ جی ایم فوڈ بھی ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہماری سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی میں لوگوں کی حفاظت اور ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جانا چاہئے۔ اس کے لئے مضبوط شرائط بنائے جانے اور ان پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا جانا چاہئے۔ لیکن یہ مخالفت مضبوط شرائط بنانے کے لئے نہیں ہو رہی ہیں۔ بلکہ یہ تو ان منصوبوں کو پوری طرح سے بند کرنے کے لئے ہو رہی ہیں۔ اس کے لئے مغرب کے وہ این جی او سرگرم ہو گئے ہیں، جو ہر جگہ اس طرح کے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
یقیناًیہ مخالفت ہماری ترقی کے راستے کو روک رہی ہے۔لیکن ہم جس دنیا اور جس جمہوریت میں رہ رہے ہیں، وہاں ایسے مخالفت کوئی نئی بات نہیں۔ ایسے مخالفت دنیا بھر میں ہوتی ہیں اور اس کے باوجود وہاں ایسی منصوبے پورے ہوتے ہیں۔ مخالفت کے باوجود منصوبوں کی کامیابی کو عام طور پر سیاسی عزم کا معاملہ خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں مسائل کچھ دوسری شکل میں ہی سامنے آتے ہیں۔ ہم اہم منصوبے شروع کرتے ہیں اور انہیں نوکر شاہی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ مقامی سطح پر ان منصوبوں کے خلاف جو چھوٹی موٹی تحریک کھڑی ہوتی ہے، کئی بار ان سے وابستہ لوگوں کے مسائل کافی واجب ہوتی ہیں، لیکن ان سے انتظامی سطح پرنہیں نمٹا جاتا ، جس سے ایسے تحریک اکثر بے وجہ بڑھ جاتی ہیں اور پھر ان کی قیادت پیشہ وارانہ این جی اوز کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ این جی اوزملکی بھی ہو سکتے ہیں اور غیر ملکی بھی۔
اس لئے ایسی منصوبے شروع کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ حکومت پورے ملک کو اور خاص طور پر مقامی آبادی کو ساتھ لے کر چلے، ان کے مسائل کو ہمدردی سے سلجھائے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو قدرتی طور پر قیادت پیشہ ورانہ این جی اوز کے ہاتھوں میں ہی چلی جائے گی۔
Afif Ahsen, Daily Pratap, Vir Arjun, Kudankulam, Atomic Energy, Tamilnadu, Manmohan Singh, 

No comments:

Post a Comment