![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 20th February 201
عفیف احسن
غالب کا ایک مشہور شعر ہے:
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے؟
ہوئے تم دوست جسکے ،دشمن اسکا آسماں کیوں ہو؟
جب 26نومبر 2008کو ممبئی پر پاکستانی دہشت گردوں نے بھیانک حملہ کیا جس میں کم از کم ایک سو پچیانوے (195) افراد بشمول بائیس غیر ملکیوں کے جاں بحق ہوگئے اور تین سو ستائیس (327) افراد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد نہ صرف ممبئی میں بلکہ پورے ملک میں بہت زبردست غم اور غصّہ کی لہر پھیل گئی۔
اس حملہ کے بعد بہت زورشور سے ایسے کسی بھی حملہ کو ہونے سے روکنے کے لئے ایک بہترین اور کارآمد میکینزم بنانے پر پورے ملک میں ایک عام رائے تیار کی گئی۔ اس میں تمام جماعتوں اور تمام ریاستوں کے بیچ یک جہتی نظر آئی۔ مگر ہماری مرکزی حکومت جس کی اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی ذمہ داری تھی نے اس کام میں بہت زیادہ وقت ضائع کردیا اور اس طرح تقریباً تین سال کا عرصہ گزر گیا۔عوام کا غصہ خاص کر اس ملک کے سیاست داں اور ہر بات پر سیاست کرنے والے لوگوں کے خلاف تھا جس نے سیاست دانوں کو بڑے بڑے کھوکھلے بیانات دینے کے بجائے چپ رہنے اورعمل کرنے پر مجبور کردیا۔
اسے وقت کی مجبوری کہیں یا عوامی دباؤ کہ ہر ایک سیاست داں اس مسئلہ کا مل جل کر حل تلاش کرنے اور اس سلسلے میں ہر ممکن قدم اٹھانے پرآمادہ اور تیار نظر آتا تھا۔ مگر 26/11حملہ کے تین سال بعد شاید حالات ایسے نہیں ہیں جیسے اس وقت تھے ۔یایوں کہیں کے سیاست ایسی نہیں ہے جو 26/11کے فوراًبعد تھی۔ اب تو ہرسیاست داں کو ملک سے زیادہ اپنی سیاست چمکانے کی فکر ہے۔اس میں چاہے ملک کا کتنا بھی نقصان ہوجائے۔یو پی اے کی اہم اتحادی ترنمول کانگریس اور مرکزی حکومت کی قیادت کر رہی کانگریس پارٹی کے درمیان اختلافات بھی اسی سیاست کا حصہ ہیں۔
یہ بات تو جگ ظاہر ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ریاست کا مسئلہ نہیں رہا ہے۔ بلکہ اب تو یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ اور معاملہ بن گیا ہے۔اور اس سے نمٹنے کے لئے ہمیں ملک کے اندر تو ایک بین الریاستی ادارہ درکار ہے ہی ساتھ ہی ایک ایسا ادارہ چاہئے جو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھی دہشت گردی سے لڑسکے۔
دہشت گردی کبھی بھی ایک عام لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں رہا جو کہ ریاستی سبجیکٹ ہو بلکہ یہ تو ملک کی سلامتی اور سا لمیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے اور اگر پورے ملک میں اس سے مل کر نہیں نپٹا گیا تو اس کا کبھی بھی خاتمہ نہیں ہوپائے گا۔
دہشت گردانہ حملہ سے نپٹنے کے لئے اور ان کی جانچ کے لئے این آئی اے کا قیام بھی عمل میں آیا تھا۔ مگر اس کو بھی پورے اختیارات نہیں دئے گئے۔ اور پھر اس کا کام تو حملہ ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اس لئے ضرورت یہ تھی کہ ایک ایسی باڈی کا قیام عمل میں لایا جائے جو ایسے کسی حملہ کو ہونے سے پہلے روک سکے۔ اسی لئے پچھلے مہینے وزیر اعظم کی صدارت والی سیکورٹی معاملات کی کابینہ کمیٹی نے امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیرورزم سینٹر (این سی ٹی سی) کی ہی طرز پر ہندوستان میں بھی ایک این سی ٹی سی کے قیام کی منظوری دے دی۔ دہشت گردی پر قابو پانے کا کام کرنے والی یہ تنظیم خفیہ ایجنسی آئی بی کے کنٹرول میں رہے گی۔ آئی بی کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے کے افسراین سی ٹی سی کی قیادت کریں گے۔وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بتایا تھا کہ سب سے پہلے اس تنظیم کی کور ٹیم قائم کی جائے گی۔ یہ ٹیم پوری تنظیم کو کھڑا کرے گی۔ چدمبرم کے مطابق یہ ادارہ دہشت گردی روکنے والے بنیادی منصوبوں پر کام کرے گی۔ اسے پورے ملک کی ایجنسیوں سے خفیہ معلومات سمیت کسی بھی طرح کی مدد لینے کا حق ہوگا۔ اتنا ہی نہیں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے یہ دوسری ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی والی ایجنسی بن جائے گی۔ چدمبرم نے کہا کہ اس تنظیم کے قیام کے بعد ضروری ہے کہ تمام ریاستیں پولیس میں اصلاحات کے لئے سپریم کورٹ کے ہدایات پر عمل کریں۔این سی ٹی سی دہشت گرد تنظیموں اور ان سے متعلق لوگوں کے بارے میں اعداد شمارجمع کرے گا ساتھ ہی اسے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا قانون کے تحت گرفتاری اور تلاشی لینے کے حق بھی ہوں گے۔ باقی افسر مختلف تحقیقات تنظیموں سے لئے جائیں گے۔یہ بھی سچ ہے کہ پولیس تنظیم میں بہتری لائے بغیر یہ تنظیم مضبوطی سے کام نہیں کر پائے گی۔
حالانکہ پچھلے ماہ اس ایجنسی کے قیام کے اعلان کے بعد کسی نے بھی اس کی کوئی مخالفت نہیں کی تھی مگر جیسے ہی یہ اعلان ہوا کہ پہلی مارچ سے این سی ٹی سی کے قیام کا حکم نافذالعمل ہوجائے گا تو ممتا بینرجی کو ریاستوں کے اختیارات کا خیال ستانے لگا ہے۔اور موقعہ غنیمت جان کر ان کے ساتھ جے للتا ، بیجو پٹنائیک اور بی جے پی کے چیف منسٹر بھی سر میں سر ملانے لگے ۔
این سی ٹی سی کی مخالفت کر رہی ممتا سمیت گیارہ ریاستوں کے وزرائے اعلی کو پیغام دیتے ہوئے چدمبرم نے صاف کہا کہ داخلی سلامتی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ملک کی سلامتی کی مرکزی اور ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئین میں نظم و قانون کو ریاست کا موضوع بتایا گیا ہے، لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکز کو تمام لوگوں کو ضروری سیکورٹی فراہم کرانی چاہئے۔
کولکتہ میں قومی سلامتی گارڈ (این ایس جی) مرکز کا افتتاح تھا اس پروگرام میں ممتا نہیں آئیں۔ مہمانوں کی فہرست میں ممتا کا نام تھا، لیکن بعد میں ہٹا دیا گیا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ریاست کے وزیر مکل رائے پروگرام میں شریک ہوئے۔ لیکن ممتا کی ناراضگی کو بخوبی سمجھ رہے چدمبرم نے اپنا رخ صاف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کولکاتا کے قریب شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باڈو میں افتتاح کے بعد وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ مرکز نے سلامتی کے مسائل پر غیر کانگریس حکمرانی والی ریاستوں کے ساتھ کبھی بھیدبھاوکی پالیسی نہیں اپنائی ہے۔ دہشت گردی اور نکسل واد جیسے پیچیدہ اور گمبھیر مسائل پر مرکزی حکومت کا رخ پورے ملک کے لئے یکساں ہے۔ لیکن ریاستوں کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ ہم نے مغربی بنگال میں گزشتہ حکومت کے ساتھ بھی کام کیا اور اس حکومت کے ساتھ کام کر کے بھی ہم خوش ہیں۔ جنگل محل سمیت پورے ریاست میں نکسلی سرگرمیوں پر لگام کسنے میں کامیابی پر چدمبرم نے ممتا کی حکومت کی تعریف بھی کی۔ چدمبرم نے کہا،’’ہمیں مغربی بنگال کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے میں خوشی ہو رہی ہے۔ مغربی بنگال کے لوگ وسیع طور پر اس بات کو قبول کریں گے کہ ریاست میں نکسل واد کا مسئلہ کافی کنٹرول میں آ گیا ہے‘‘۔چدمبرم نے این سی ٹی سی پر اٹھے تنازعہ اور وزرائے اعلی کے اس پر احتجاج کا ذکر کیے بغیر ہی یہ باتیں کہیں۔
این سی ٹی سی کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ این سی ٹی سی کے قیام سے نظم و قانون کی حالت پر ریاست کے حقوق میں مداخلت ہوگی۔این سی ٹی سی کو مرکز کی جانب سے دی گئی قانونی طاقت کو انہوں نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔یو پی اے میں شریک نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئے، جس سے ملک کے وفاقی ڈھانچے پر آنچ آئے۔ این سی ٹی سی پر وزیر داخلہ کو اپنا رخ صاف کرنا چاہئے۔
دراصل ترنمل کانگریس کے سللے میں کانگریس کی پالیسی تو یہ تھی کے کسی طرح ریاستی الیکشن ہوجائیں اور اس کے بعد جو بھی سیاسی حالات ہوں گے اس کے مطا بق ممتا سے نپٹا جائے گا۔ کانگریس کی اس چال کو سمجھتے ہوئے ممتا نے یوپی اور گووا تک میں اپنے کینڈیڈیٹ میدان میں اتار دئے تاکہ کانگریس کو زیادہ سے زیادہ غصہ دلایا جائے او ر لگاتار ٹکراؤ چلتا رہے۔
اس کھینچ تان میں سب سے زیادہ نقصان تو ملک کا ہی ہورہا ہے اور جیسے چکی کے دو پاٹ میں گیہوں پستا ہے اسی طرح اس ملک کا عوام بھی لگاتار پس رہا ہے۔کیونکہ یہ الیکشن کا موسم ہے اس لئے ہر ایک سیاست داں کو اپنی سیاست چمکانے کی فکر لاحق ہے اور کوئی بھی ملک کے لئے فکر مند نہیں ہے۔
Afif Ahsen, Daily Pratap, Vir Arjun, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, West Bengal, NCTC, Terrorism, Ghalib,

No comments:
Post a Comment