Search

Monday, 1 August 2011

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 1st August 2011
عفیف احسن
آخر کار یدیورپا نے استعفیٰ دے ہی دیا۔کرناٹک وزیر اعلیٰ یدورپا نے ایتوار بعد دوپہر راج بھون جاکر گورنر ہنس راج بھاردواج کو استعفیٰ سونپ دیا۔ اس موقع پر یدورپاکے ساتھ تقریبا 70 ایم ایل اے موجود تھے۔حالانکہ انہیں ایسا بہت پہلے ہی کردینا چاہئے تھا مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور استعفیٰ دینے میں حیل حجت کرتے رہے ۔
لوک آیکت کی رپورٹ میں یدو رپا پر الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری زمین اپنے داماد ، بیٹوں اور رشتہ داروں کو کوڑیوں کے مول خریدوائی تھی جسے انہوں نے کئی گنا داموں پر کان کنی مافیا کو فروخت کر دیا تھا۔ جس کی جانچ ہوئی اور لوک آیکت نے اپنی رپورٹ ریاستی چیف سکریٹری کو سونپ دی جس میں یدورپا کو قصور وار بتایا گیا ہے۔لوک آیکت کی جانب سے قصور وار قرار دئے جانے کے بعد ریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپا نے بی جے پی صدر گڈکری کے کہنے کے باوجود استعفیٰ انہیں دیا اور چپ چاپ فلائٹ پکڑ کر بنگلورو روانہ ہوگئے۔ہر چند کہ بی جے پی کے بڑے لیڈروں کی جانب سے انہیں مستعفی ہو جانے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن یدو رپا اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ مجبوراً بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کو ان کومستعفی ہوجانے کی ہدایت دینی پڑی۔ پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے لیڈروں میں لال کشن آڈوانی، سشما سوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ اور وینکیا نائیڈو بھی شامل تھے۔ اس کے بعد متبادل قائد کی تلاش کے لئے پارٹی کے دو سینیر لیڈر ارون جیٹلی اور راجناتھ سنگھ کوجمعہ کو بنگلور بھیج دیا گیا تھا۔
اس سب کے باوجودکرناٹک کی سیاست میں اچھا دخل عمل رکھنے والے یدورپاعہدہ نہیں چھوڑنے کی ضد پر اڑے رہے اور دھمکی دیتے رہے کہ وہ پارٹی کے لئے پریشانیاں کھڑی کر دیں گے ۔
دہلی سے واپس آتے ہی یدورپا نے اپنی رہائش گاہ پر ممبران اسمبلی کی میٹنگ طلب کی اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پروگرام کے مطابق اپنی کابینہ کا اجلاس بھی بلائیں گے۔ ریاستی بی جے پی صدر کے ایس ایشورپا نے جو خود بھی دہلی میں تھے ممبران اسمبلی کو اس میٹنگ میں شرکت کے خلاف انتباہ کیا۔مگر میٹنگ ہوئی اور اس میں کافی تعداد میں ممبران اسمبلی اوروزیروں نے شرکت کی لیکن پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ لوگ صرف اخلاقی طور پر ملاقات کرنے گئے تھے اور جیسے ہی متبادل قائد کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا تمام ممبران اسمبلی پارٹی کے ساتھ ہوجائیں گے۔
اس میٹنگ کے بعد یدورپا نے استعفیٰ دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ چونکہ شبھ مہورت نہیں ہے اس لئے وہ ابھی استعفیٰ نہیں دینگے بلکہ ایتوار کو شبھ مہورت میں ہی اپنا استعفیٰ دینگے اس لئے کہ ایسا کرنا ان کے کریر کے لئے اشُبھ ہوگا اور ان کے کریر کو نقصا ن ہوگا۔ ابھی تک تو یہ سنّے میں آیا تھا کہ کسی وزیر اعلیٰ نے شبھ مہورت میں شپتھ لی شبھ مہورت میں استعفیٰ کی نظیر اب سے پہلے کہیں نہیں ملتی۔ دراصل یدورپا کاارادہ یہ تھا کہ وہ ہائی کمان کو اس بات کے لئے مجبور کردیں کے وہ ان کے کسی قریبی کو ہی وزیراعلیٰ بنائے اور انہیں ریاستی بی جے پی کا صدر بنایا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ یدورپانے استعفی سونپنے سے پہلے پارٹی کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ نئے سی ایم کے نام کا اعلان پہلے ہی کردے اس کے بعد وہ اپنا استعفیٰ سونپیں گے۔
بی جے پی کے اعلیٰ قیادت اور یدورپاکے درمیان ان کے استعفیٰ کے حوالے سے تلخ صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ مگرپارٹی کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اگلے وزیر اعلی کے انتخاب میں ان کی رائے لی جائے گی ، اس کے بعد یدورپاعہدہ چھوڑنے کے لئے راضی ہوئے۔یدورپاکے بعد ریاست کے اگلے وزیر اعلی کے عہدے کے لئے ممبر پارلیمنٹ سدانند گوڑا اور ریاست کے دو وزراء وی ایس اچاریہ اور سریش کمار کا نام چل رہا ہے۔
اگر بی جے پی یدیورپا سے استعفیٰ نہ دلواتی تو بدعنوانی کے خلاف اس کی مہم کو زبردست دھکّا پہنچتا اور وہ کس منہ سے کانگریس کی بدعنوانی کے خلاف مہم چلاسکتی تھی۔
؁ٗٗحالانکہ ابھی سب کا دھیان یدیورپا کی بدعنوانی کی طرف ہی ہے مگر جب ان کے استعفیٰ کی گرد چھنٹے گی اور کرناٹک کے لوک آیکت سنتوش ہیگڑے کی رپورٹ کا باریکی سے مطالعہ کیا جائے گا تو اس میں کانگریس اور جنتا دل ایس بھی برابر پھنستی ہوئی نظر آئے گی۔ اپنی رپورٹ میں لوک آیکت نے کہا ہے کہ ریاست میں کان کنی کے علاقے میں 16 ہزار 85 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے جس میں سے 30 کروڑ روپے وزیر اعلی یدیورپااور ان کے خاندان کو دیا گیا ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں ایک چونکانے والا خلاصہ یہ ہے کہ جس ساؤتھ ویسٹ مائننگ کمپنی نے یدیورپا کے خاندان کو یہ تیس کروڑ روپے دیے ہیں وہ مائننگ کمپنی کانگریسی ممبر پارلیمنٹ نوین جندل کے بھائی سجن جندل کی ہے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ جندل خاندان پکّاکانگریسی ہے۔ سجن جندل کے والد اوپی جندل ہریانہ میں کانگریس کے وزیر تھے ، تو ان کی ماں ساوتری جندل آج بھی ہریانہ حکومت میں وزیر ہیں۔
حالانکہ اس رپورٹ میں ریڈی برادران کا بھی ذکر ہے جو کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت میں وزیر ہیں اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کے بھروسے کے بعد بھی ریڈی برادران نے غیر قانونی کان کنی جاری رکھی۔ لیکن نوین جندل کے بھائی سجن جندل کے جے ایس ڈبلو کی سبسیڈری کمپنی ساؤتھ ویسٹ مائننگ پر بڑا سوال اٹھایا گیا ہے۔ لوک آیکت سنتوش ہیگڑے کا کہنا ہے کہ سجن جندل کی اس کمپنی نے دس کروڑ روپے یدورپا کے خاندان کے ٹرسٹ کو دیئے اور بیس کروڑ روپے میں یدورپا کے خاندان سے ایک ایسی زمین خریدی جس کی مارکیٹ میں قیمت محض 1.4 کروڑ تھی۔
سجن جندل ملک کے بڑے سٹیل کے تاجر ہیں اور ان کی کمپنی جندل اسٹیل ورکس کا سالانہ کاروبار 23 ہزار کروڑ ہے۔ یہ جندل اسٹیل ورکس اوپی جندل گروپ کا حصہ ہے جس کی ایک دیگر کمپنی جے ایس ڈبلو انرجی میں یہی سجن جندل چیرمین ہیں اور کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ نوین جندل وائس چیرمین ہیں۔ ظاہر ہے جب کرناٹک میں کانوں کوکھودکر خزانہ بھرنے کی دوڑ لگی ہو تو سجن جندل بھلا کیوں پیچھے رہتے۔ سجن جندل نے فوری طور پر ایک عارضی کمپنی بنائی اور اس کے نام پر کرناٹک میں لوہا کھودنے پہنچ گئے۔ لوک آیکت سنتوش ہیگڑے نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ’’جو کمپنی مالی طور پر مستحکم نہیں ہے ، اس کے ذریعے غیر معمولی ادائیگی کئے جانے کے بارے میں مجھے یہ سمجھنے میں بہت مشکل ہو رہی ہے کہ کیا کوئی ادھار لے کر عطیہ دے گا‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، ’’اس کے چلتے ، کچھ فائلوں کو مرکز کو کارروائی کے لیے بھیجا جانا تھا ، جو کہ نہیں بھیجا گیا۔ یہ بدعنوانی قانون کے دائرے میں آ سکتا ہے اور وزیر اعلی کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے‘‘۔
اس رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کی کالی کمائی میں یدورپا کے علاوہ ریاستی حکومت کے چار وزراء اور 600 کے قریب افسران بھی ملوث تھے۔صرف 2006سے 2010 کے درمیان 16,085کروڑ کے گھوٹالے کا دعویٰ کر رہی یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وزیروں ، افسروں اور کان کنی مافیا کے مضبوط نیٹ ورک نے خزانے کوکس قدر لوٹا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے ایک لیڈر اور جنتا دل ایس کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کا نام بھی اس رپورٹ میں شامل ہے۔
Tags: Afif Ahsen, BJP, Daily Pratap, Lok Ayukt, Vir Arjun, Yadyurappa

No comments:

Post a Comment