Search

Monday, 22 August 2011

اننا کے آندولن پر مسلمان تذبذب کا شکار


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 22nd August 2011
عفیف احسن
جب ہر ایک ہندوستانی انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں حصہ لے رہا تھا تواس سے انگریزوں پر بہت زبردست دباؤ پڑنے لگا اور انہوں نے ایک بہت ہی بھیانک چال چلی وہ چال تھی’’ بانٹو اور راج کرو‘‘۔ اس کے سہارے انہوں نے کچھ مزید برسوں تک ہندوستان پر اپنا شکنجا قائم رکھا اور جاتے جاتے وہ دیش کے دو ٹکڑے کرتے گئے۔ ہندوستان کے دوٹکڑے ہرگز نہ ہوتے اگر نفرت کا وہ بیج جو انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں بویاتھا نہ بویاہوتا۔ یہ اسی نفرت کا سبب تھا کہ کچھ لوگوں کو یہ لگنے لگا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کے جانے کے بعد ان کا جائز حق نہیں ملے گا اور اس کے چلتے کچھ لوگوں نے مسلمانوں کے لئے علاحدہ ملک کی مانگ رکھ دی، جس کی وجہ سے دیش کی آزادی میں اور زیادہ وقت لگا اور دیش کو آزاد کرانے کے بجائے ہمارے قائدین دیش کے بنٹوارے کے کام پر لگ گئے جس میں انگریز ایک غاصب کے بجائے ایک ثالث کی حیثیت سے شامل ہوگیا،جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم انگریزوں سے یہ کہتے کہ تم اپنا بوریا بستر گول کرواور ہندوستان چھوڑو اور بنٹوارا ہونا ہے یا نہیں ہونااس کو تم ہندوستان کے لوگوں پر چھوڑ دو۔ وہ خود ہی ایک آزاد ملک میں رہتے ہوئے اس کا فیصلہ کرلیں گے، مگر ہوا اس کا الٹا اور انگریز ڈگڈگی بجاتے رہے اور ہمارے اس وقت کے قائدین اس پر ناچتے رہے۔
یہی حال اننا ہزارے کے آندولن کا بھی ہوا ہے، جسے لوگ آزادی کی دوسری لڑائی سے تعبیر کررہے ہیں۔ کانگریس نے ایک سازش کے تحت پہلے تو یہ بات اڑائی کے اننا ہزارے کے آندولن کی پشت پر آر ایس ایس اور بی جے پی کار فرما ہے۔ اننا کے ذریعہ مودی کی تعریف کئے جانے کو بھی خوب اچھالا گیا اور یہ کہا گیا کہ مودی کی تعریف کرکے اننا نے اپنی ذہنیت کا ثبوت دے دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آرایس ایس اننا کے آندولن کی تائید نہیں کرتا آرایس ایس کھل کر اننا کے آندولن کی تائید کرتا ہے، ویسے ہی جیسے کمیونسٹ کرتے ہیں، ویسے ہی جیسے دوسری سیکولرپارٹیاں کرتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اننا کا آندولن کمیونل ہے ہر اچھے کام کے لئے سبھی طرح کے لوگ اور مختلف خیالات کے لوگ ایک ساتھ آسکتے ہیں لیکن وہ لوگ صرف ایک مخصوص کاز کے لئے ایک ساتھ آجاتے ہیں اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ باقی معاملات میں بھی ایک دوسرے سے متفق ہوں۔
بدعنوانی ایک ایسامسئلہ ہے جس کے خلاف مہم کو کوئی بھی شخص آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ بدعنوانی پورے دیش کے لئے ایک وباء کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس سے ہر ہندوستانی برابر متائثر ہورہا ہے۔ بدعنوانی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، کوئی بھی بدعنوان یا رشوت خور پیسے کا ایک ہی رنگ پہچانتا ہے اور وہ ہے نیلا رنگ یعنی کے نوٹ کا رنگ۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کے پیسے دینے والا کون سے مذہب سے تعلق رکھتا ہے، یا یہ کہ وہ کون سے رنگ میں رنگا ہواہے اسے تو نظر آتا ہے ملنے والے نوٹوں کا رنگ۔
کانگریس کے ذریعہ کنٹرول کئے جانے والے زیادہ تر اردو اخبارات کا منفی رول اس مہم کواسلام دشمن بناکر پیش کرنے میں رہا ہے۔ وہ لگاتار اس مہم کو مسلم مخالف بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور اس کو ہندومسلم رنگ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ کچھ ایسے ہی اخباروں نے مسلمانوں کواننا ہزارے کی اس نام نہاد مہم میں شامل ہونے سے متنبہ کیا ہے۔ کچھ اخباروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اننا کیوں نہیں بی جے پی حکومت والے مدھیہ پردیش میں ہوئے شہلاحیدر کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے۔کچھ کا کہنا ہے کہ بدعنوانی سے بڑا مسئلہ تو مذہبی منافرت ہے جو ہندوستانی سماج اور سیاست کے لئے زیادہ نقصان دہ ہے اور جس کے خلاف لڑائی اشد ضروری ہے۔ایک اور نظریہ کے مطابق اگراننا ایک مسلمان ہوتے اور وہ مذہبی نابرابری کو ختم کرنے کے لئے ایک بل بنانے کے لئے ایک کے بعد دوسرے انشن کی دھمکی دیتے تو ان لوگوں کا کیا رویہ ہوتا جو آج سماج میں عدل اور شفافیت کے لئے مرے جارہے ہیں۔
مگرکچھ مسلم طبقوں کے درمیان اس کو ایک مثبت اورالگ زاویہ سے بھی دیکھا جارہا ہے۔جوکہ اس کا ظاہری چہرا ہے جس کے مطابق اس مہم میں کوئی تنازعہ نہیں ہے،جس کاز کے لئے یہ مہم چلائی جارہی ہے اس میں کو دو رائے نہیں ،اس کے خلاف ہر کوئی متحد ہے اورمتحد رہ سکتا ہے۔اس کے صف اول کے رہنما یہ دعویٰ کرتے ہیں کے انکا ایجنڈا سادہ اور واضح ہے۔ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی انکاکوئی ذاتی سیاسی ایجنڈا ہے۔ اس طبقہ کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو کیا پھر ہندوستانی مسلمان ان مشتہر پوائنٹس کا استعمال نہیں کرسکتے اور اپناپورا زور اس مہم کو کامیاب بنانے میں نہیں لگاسکتے تاکہ وہ لوک پال کے ساتھ ہی ساتھ مذہبی برابری اور عدل کو بھی اس میں شامل کروائیں تاکہ اس سے من موافق نتائج برآمد ہوسکیں۔ان کا ماننا ہے کے اگرمسلمانوں نے اپنے آپ کو اس مہم سے کاٹ کر الگ تھلگ کرلیا تو پھرفاسسٹ طاقتوں کو اسے ہائی جیک کرنے میں مزید آسانی ہو گی او ر مسلمان اکیلا رہ جائے گا اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایک جٹ ہوکر اس مہم میں حصہ لیں۔
ٹیم اننا کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس مہم کی صف اول میں کوئی مسلمان قائد شامل نہیں ہے، مگر کسی ڈیموکریسی میں ہر ایک شخص کو آگے آنے اور اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور جو بھی کسی مہم کی شروعات کرتا ہے وہ ہی آگے آگے رہتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس مہم کو شروع کرنے والوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے، اس مہم کو شروع کرنے والوں میں محمود مدنی، سید رضوی، مفتی شعمون قاسمی،سید شاہ فضل الرحمٰن واعظی جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ مجبوری یہ ہے کہ کیونکہ ابھی رمضان کامبارک مہینہ چل رہا ہے جس میں ہر مسلمان اپنا وقت روزے رکھنے اوراللہ کی عبادت میں گزارتا ہے اس لئے وہ پوری طرح سے اس آندولن میں اپنی شرکت درج نہیں کراسکتا ہے۔ اوراگراس ماہ میں سفر کیا جائے تو روزہ نہیں رکھا جاسکتا ہے اس لئے بھی دہلی سے باہر کے مسلمانوں کی اس میں کم ہی شرکت ہورہی ہے۔
شاید اس بات کو ٹیم اننا نے بھی بھانپ لیا ہے اسی لئے اب مسلمانوں کے لئے رام لیلا گراؤنڈ میں افطاری اورنماز کا انتظا م بھی کیا گیاہے۔ حالانکہ رام لیلا گراؤنڈ کے ساتھ ہی ایک بڑی مسجد واقع ہے اور وہاں بھی افطار اور نماز کا اہتمام ہے اورزیادہ تر مسلمان رام لیلا گراؤنڈ سے افطار کے لئے اور باجماعت نماز کے لئے وہا ں چلے جاتے ہیں، مگر پھر بھی ٹیم اننا کا رام لیلا گراؤنڈمیں ہی ایسا اہتمام کرنے کے بہت ہی مثبت اور دور پا نتائج برآمد ہوں گے اور اس مہم کو تقویت ملے گی اور آپسی بھائی چارہ اور ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔
 Afif Ahsen, Anna Hazare, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Islam, RSS, Vir Arjun

No comments:

Post a Comment