ہرروز کسی نہ کسی بدعنوانی، اسکیم یا قوانین کی خلاف ورزی پر سے پردہ اٹھ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں صرف ایک ہی پارٹی ملوث ہے بلکہ ہر جماعت جہاں جہاں بھی وہ برسر اقتدار ہے وہ وہاں وہاں اس میں ملوث نظر آرہی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ساہے کہ جو زیادہ اچھی پوزیشن میں ہے اس کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اتنی ہی زیادہ شدید ہیں۔جو پارٹی جس ریاست میں بھی اقتدار میں ہے وہاں پر اس کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اور جوپارٹی مرکز میں برسر اقتدار ہے اس پر وہاں بد عنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ کوئی بھی قائد چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی پارٹی میں کوئی بھی بدعنوان نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں رولیٹ کا ایک کھیل چل رہا ہے۔جس میں ایک دائرے میں چاروں طرف بلا تفریق تمام سیاست دانوں اور پارٹیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی بھی شخص اپنا نام آنے سے بچ سکتا ہے۔ کیوں کہ جب ایک بار پہیا گھمایا جاتا ہے تو سوئیں کسی ایک کے نام پر آکر ٹھر جاتی ہے اور جب دوبارہ یہ پہیا گھمایا جاتا ہے تو سوئیں کسی دوسرے کے نام پر آکر ٹھہرجاتی ہے۔ اس طرح ہربار کسی نا کسی کانام بدعنوانی میں ملوث پایا جاتاہے۔کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ کب بدعنوانی کی سوئیں کس کے نام پر آکر ٹھہر جائے اور کب اس کے مخالف بھوکے گدھوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں۔
اس کے بعد الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور پہلے والے بدعنوان کو لوگ بھول کر نئے بدعنوان کے پیچھے ہولیتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ وہ اور اس کے لوگ بدعنوان نہیں ہیں بلکہ وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کے تم بھی تو بدعنوان ہو اور یہ کہ بھلا میری بدعنوانی اسکی بدعنوانی سے بڑی کیسے۔
اب بدعنوانی کی یہ سوئیں گھومتے گھومتے شیلا دکشت کے نام پر آکر رک گئی ہے۔سی اے جی کی حالیہ رپورٹ جوکہجمعہ کو پارلیمینٹ میں پیش کی گئی ،میں یہ خلاصہ کیا گیا ہے کہ کیسے شیلادکشت حکومت نے دولت مشترکہ کھیل سے متعلق پروجیکٹوں میں فضول خرچی کی ہے۔23ابواب پر مشتمل 743صفحات کی اس رپورٹ میں دولت مشترکہ کھیلوں میں بدعنوانی کے لئے ایک طرف جہاں آرگنائزنگ کمیٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے وہیں دوسری طرف دہلی حکومت کے ساتھ ہی ساتھ پی ایم او کوبھی اس تنازعے میں کھینچا گیاہے۔
رپورٹ ملنے کے بعد بی جے پی نے وزیر اعلیٰ شیلا دکشت سے فوراً استعفی دینے کا مطالبہ کیا۔ اس رپورٹ کے بعدوزیر کھیل اجے ماکن کی ان کوششوں کو بھی ذبردست دھکا لگا جن میں وہ کلماڈی کی تقرری کا سارا الزام این ڈی اے کے سر تھوپنے میں لگے ہوئے تھے۔کیونکہ پارلیمنٹ میں اور اس سے باہر وہ تال ٹھونک کر کہہ رہے تھے کہ این ڈی اے ہی کلماڈی کی تقرری کے لئے پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔اب اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’سنگیں اعتراضات‘‘ کے باوجودپی ایم او کے ایما ء پر کلماڈی کو آرگنائزنگ کمیٹی کاسربراہ بنایاگیا۔
سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لئے ایک ایسا نظام بنایا جس میں کسی بھی قسم کی جواب دہی کا فقدان تھا اور کسی نگرانی کے بغیر کمانڈ کی یونٹ کو چھوڑ دیا گیا ۔رپورٹ میں اس بات پر بھی سرزنش کی گئی ہے کہ اتناخطیر سرکاری سرمایا غیر سرکاری افسروں کے ہاتھوں میں بنا کسی نگرانی اور جواب دہی کے چھوڑدیا۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا گیا ہے کے ضروری فیصلے کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی جس کی کسی طرح سے بھی وضاحت نہیں کی جاسکتی اور اس دیری کے چلتے آخری وقت میں ایک مصنوعی فوری ضرورت کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیاگیا اور اس کے چلتے ٹینڈر دینے میں قانون کی اندیکھی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی اور اصل سے کئی گنا زیادہ رقم کے ٹھیکے دئے گئے یا ورک آرڈر دئے گئے۔اور جن چیزوں کے لئے ٹھیکے دئے گئے ان کا معیار وہی تھایا نہیں اس کا تعین بھی نہیں کیاگیا۔
دولت مشترکہ کے ٹھیکوں میں گڑبڑی اور رقم کی بربادی میں سی اے جی نے پی ڈبلیوڈی، ڈی دی اے ، این ڈی ایم سی، اور ایم سی ڈی کو برابر کا شریک کار بتایا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہوگا کہ بی جے پی کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، کیونکہ بی جے پی کارپوریشن میں برسراقتدار ہے اس لئے اس کا ملوث ہونا بھی اس میں ثابت ہوتا ہے چاہے یہ کم یا زیادہ ہو۔
دوسری طرف پی ایم او کو بھی پھنستا ہوادیکھ کر کانگریس ہائی کمانڈشیلا دکشت کے دفاع میں کھڑی ہوگئی ہے۔سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں لئے گئے پہلے بڑے فیصلے میں’’ گروپ آف فور ‘‘(جس میں راہل گاندھی موجود نہیں تھے کیوں کہ وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لئے ان کے ساتھ ہیں)اور دوسرے بڑے لیڈروں نے شیلا دکشت کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا۔ شیلا دکشت کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ شیلا کا موازنہ یدیورپہ سے نہیں کیاجاسکتا۔
کانگریس کا یہ دوہرا معیا ر اس کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔کیونکہ اب بی جے پی نے کانگریس پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے ہلا بول دیا ہے۔اور بی جے پی اس معاملے کو پیر کو پارلیمنٹ میں زور شور سے اٹھانے کے لئے کمر کس رہی ہے اور دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی یہ موقع ہاتھ سے جانے دینے کے لئے قطعی تیار نہیں ہیں اور اس کو بھنانے کی کوششوں میں لگی ہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ صرف سی اے جی کی رپورٹ کی بنیاد پر کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے، یہ تو روٹین کی آڈٹ آبجکشن ہے اور اس کا جواب پی اے سی میں دیا جائے گا۔ اگر اس کے بعد شیلا دکشت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے تب ہی ان سے استعفیٰ دینے کے لئے کہاجائے گا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ سی اے جی رپورٹ کو شیلادکشت کے خلاف ثبوت نہیں ماناجاسکتا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ اکتوبر میں کلماڈی نے شیلادکشت حکومت پر کھیل میں بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے ۔یہ اس وقت ہوا جب دکشت نے کلماڈی پر بدعنوانی کا الزام لگایا تو اس پراپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کلماڈی نے کہا تھا کہ ’’تنظیمی کمیٹی دولت مشترکہ کھیل 2010 دہلی میں کرپشن پر دہلی کی وزیر اعلی محترمہ شیلا دیکشیت کے الزامات بہت زیادہ مایوس کن اور غیر موزوں ہیں۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے اور اشارہ کرنا موزوں نہیں، جب کہ ان کو اپنے محکموں میں کرپشن پر خود نظر ڈالنی چاہئے۔ ‘‘ اس دھماکہ خیز بیان کے بعد جو کہ شیلا دکشت کے تنظیمی کمیٹی پر مبینہ کرپشن کے لئے انگلی اٹھائے جانے کے ایک دن بعد دیا گیا تھا، کلماڈی نے یہ بھی کہا تھاکہ خاموشی کوکمزوری کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا جاناچاہئے، اور نہ ہی صبر قبول جرم کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے۔
اس وقت دکشت نے کہا تھا کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں کرپشن کا’’شک‘‘ تنظیمی کمیٹی جس کے سربراہ سریش کلماڈی ہیں پر ہے اورانہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی طرف سے’’فوری‘‘ تحقیقات کا حکم دئے جانے کا خیر مقدم کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مکڑجال صاف ہوجائے گا۔
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ شیلا دکشت خود ہی اپنے بنے ہوئے جال میں پھنس گئی ہیں دیر یا بدیر ان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ سکتا ہے اور کیا جانے ان کو بھی کلماڈی کے موجودہ پتے پر منتقل کردیا جائے ۔اور دونوں مل کر یہ شعرگنگناتے نظر آئیں۔
ہمارے ملک میں رولیٹ کا ایک کھیل چل رہا ہے۔جس میں ایک دائرے میں چاروں طرف بلا تفریق تمام سیاست دانوں اور پارٹیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی بھی شخص اپنا نام آنے سے بچ سکتا ہے۔ کیوں کہ جب ایک بار پہیا گھمایا جاتا ہے تو سوئیں کسی ایک کے نام پر آکر ٹھر جاتی ہے اور جب دوبارہ یہ پہیا گھمایا جاتا ہے تو سوئیں کسی دوسرے کے نام پر آکر ٹھہرجاتی ہے۔ اس طرح ہربار کسی نا کسی کانام بدعنوانی میں ملوث پایا جاتاہے۔کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ کب بدعنوانی کی سوئیں کس کے نام پر آکر ٹھہر جائے اور کب اس کے مخالف بھوکے گدھوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں۔
اس کے بعد الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور پہلے والے بدعنوان کو لوگ بھول کر نئے بدعنوان کے پیچھے ہولیتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ وہ اور اس کے لوگ بدعنوان نہیں ہیں بلکہ وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کے تم بھی تو بدعنوان ہو اور یہ کہ بھلا میری بدعنوانی اسکی بدعنوانی سے بڑی کیسے۔
اب بدعنوانی کی یہ سوئیں گھومتے گھومتے شیلا دکشت کے نام پر آکر رک گئی ہے۔سی اے جی کی حالیہ رپورٹ جوکہجمعہ کو پارلیمینٹ میں پیش کی گئی ،میں یہ خلاصہ کیا گیا ہے کہ کیسے شیلادکشت حکومت نے دولت مشترکہ کھیل سے متعلق پروجیکٹوں میں فضول خرچی کی ہے۔23ابواب پر مشتمل 743صفحات کی اس رپورٹ میں دولت مشترکہ کھیلوں میں بدعنوانی کے لئے ایک طرف جہاں آرگنائزنگ کمیٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے وہیں دوسری طرف دہلی حکومت کے ساتھ ہی ساتھ پی ایم او کوبھی اس تنازعے میں کھینچا گیاہے۔
رپورٹ ملنے کے بعد بی جے پی نے وزیر اعلیٰ شیلا دکشت سے فوراً استعفی دینے کا مطالبہ کیا۔ اس رپورٹ کے بعدوزیر کھیل اجے ماکن کی ان کوششوں کو بھی ذبردست دھکا لگا جن میں وہ کلماڈی کی تقرری کا سارا الزام این ڈی اے کے سر تھوپنے میں لگے ہوئے تھے۔کیونکہ پارلیمنٹ میں اور اس سے باہر وہ تال ٹھونک کر کہہ رہے تھے کہ این ڈی اے ہی کلماڈی کی تقرری کے لئے پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔اب اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’سنگیں اعتراضات‘‘ کے باوجودپی ایم او کے ایما ء پر کلماڈی کو آرگنائزنگ کمیٹی کاسربراہ بنایاگیا۔
سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لئے ایک ایسا نظام بنایا جس میں کسی بھی قسم کی جواب دہی کا فقدان تھا اور کسی نگرانی کے بغیر کمانڈ کی یونٹ کو چھوڑ دیا گیا ۔رپورٹ میں اس بات پر بھی سرزنش کی گئی ہے کہ اتناخطیر سرکاری سرمایا غیر سرکاری افسروں کے ہاتھوں میں بنا کسی نگرانی اور جواب دہی کے چھوڑدیا۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا گیا ہے کے ضروری فیصلے کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی جس کی کسی طرح سے بھی وضاحت نہیں کی جاسکتی اور اس دیری کے چلتے آخری وقت میں ایک مصنوعی فوری ضرورت کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیاگیا اور اس کے چلتے ٹینڈر دینے میں قانون کی اندیکھی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی اور اصل سے کئی گنا زیادہ رقم کے ٹھیکے دئے گئے یا ورک آرڈر دئے گئے۔اور جن چیزوں کے لئے ٹھیکے دئے گئے ان کا معیار وہی تھایا نہیں اس کا تعین بھی نہیں کیاگیا۔
دولت مشترکہ کے ٹھیکوں میں گڑبڑی اور رقم کی بربادی میں سی اے جی نے پی ڈبلیوڈی، ڈی دی اے ، این ڈی ایم سی، اور ایم سی ڈی کو برابر کا شریک کار بتایا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہوگا کہ بی جے پی کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، کیونکہ بی جے پی کارپوریشن میں برسراقتدار ہے اس لئے اس کا ملوث ہونا بھی اس میں ثابت ہوتا ہے چاہے یہ کم یا زیادہ ہو۔
دوسری طرف پی ایم او کو بھی پھنستا ہوادیکھ کر کانگریس ہائی کمانڈشیلا دکشت کے دفاع میں کھڑی ہوگئی ہے۔سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں لئے گئے پہلے بڑے فیصلے میں’’ گروپ آف فور ‘‘(جس میں راہل گاندھی موجود نہیں تھے کیوں کہ وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لئے ان کے ساتھ ہیں)اور دوسرے بڑے لیڈروں نے شیلا دکشت کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا۔ شیلا دکشت کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ شیلا کا موازنہ یدیورپہ سے نہیں کیاجاسکتا۔
کانگریس کا یہ دوہرا معیا ر اس کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔کیونکہ اب بی جے پی نے کانگریس پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے ہلا بول دیا ہے۔اور بی جے پی اس معاملے کو پیر کو پارلیمنٹ میں زور شور سے اٹھانے کے لئے کمر کس رہی ہے اور دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی یہ موقع ہاتھ سے جانے دینے کے لئے قطعی تیار نہیں ہیں اور اس کو بھنانے کی کوششوں میں لگی ہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ صرف سی اے جی کی رپورٹ کی بنیاد پر کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے، یہ تو روٹین کی آڈٹ آبجکشن ہے اور اس کا جواب پی اے سی میں دیا جائے گا۔ اگر اس کے بعد شیلا دکشت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے تب ہی ان سے استعفیٰ دینے کے لئے کہاجائے گا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ سی اے جی رپورٹ کو شیلادکشت کے خلاف ثبوت نہیں ماناجاسکتا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ اکتوبر میں کلماڈی نے شیلادکشت حکومت پر کھیل میں بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے ۔یہ اس وقت ہوا جب دکشت نے کلماڈی پر بدعنوانی کا الزام لگایا تو اس پراپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کلماڈی نے کہا تھا کہ ’’تنظیمی کمیٹی دولت مشترکہ کھیل 2010 دہلی میں کرپشن پر دہلی کی وزیر اعلی محترمہ شیلا دیکشیت کے الزامات بہت زیادہ مایوس کن اور غیر موزوں ہیں۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے اور اشارہ کرنا موزوں نہیں، جب کہ ان کو اپنے محکموں میں کرپشن پر خود نظر ڈالنی چاہئے۔ ‘‘ اس دھماکہ خیز بیان کے بعد جو کہ شیلا دکشت کے تنظیمی کمیٹی پر مبینہ کرپشن کے لئے انگلی اٹھائے جانے کے ایک دن بعد دیا گیا تھا، کلماڈی نے یہ بھی کہا تھاکہ خاموشی کوکمزوری کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا جاناچاہئے، اور نہ ہی صبر قبول جرم کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے۔
اس وقت دکشت نے کہا تھا کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں کرپشن کا’’شک‘‘ تنظیمی کمیٹی جس کے سربراہ سریش کلماڈی ہیں پر ہے اورانہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی طرف سے’’فوری‘‘ تحقیقات کا حکم دئے جانے کا خیر مقدم کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مکڑجال صاف ہوجائے گا۔
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ شیلا دکشت خود ہی اپنے بنے ہوئے جال میں پھنس گئی ہیں دیر یا بدیر ان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ سکتا ہے اور کیا جانے ان کو بھی کلماڈی کے موجودہ پتے پر منتقل کردیا جائے ۔اور دونوں مل کر یہ شعرگنگناتے نظر آئیں۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں
میں ہائے گل پکاروں ، تو چلائے ہائے دل
میں ہائے گل پکاروں ، تو چلائے ہائے دل

No comments:
Post a Comment