Search

Monday, 15 August 2011

’’رباہن کی کریے‘‘

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 15th August 2011
عفیف احسن
آج سے ٹھیک 64سال پہلے یعنی کہ 15اگست 1947کو ہندوستان توآزاد ہوگیا مگر آزادی سے ٹھیک ایک روز قبل یعنی کے 14اگست1947کو اس کے دو بڑے بڑے حصہ کاٹ کر ایک الگ ملک بنادیا گیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔ ہم آج کے دن دیش کو آزاد کرانے کی کوشش میں اپنی جان دینے والے شہیدوں کو یاد کرتے ہیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مگر ہم ان لا تعداد انسانوں کو یکسر بھول جاتے ہیں جنہوں نے آزادی ملنے کے بعد اپنی جانیں گوائیں۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ تقسیم کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان ہلاک ہوئے، کوئی یہ کہتا ہے کہ تقسیم کے سبب ہزاروں ہندو مارے گئے اور کوئی یہ کہتا ہے کہ تقسیم نے ہزاروں سکھوں کی بلی لے لی، مگر کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اس بنٹوارے نے لاکھوں انسانوں کی بلی لی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق جتنے لوگ 1857سے لیکر1947کے 90سال کی جنگ آزادی میں شہید ہوئے اس سے کئی گنا زیادہ لوگ تو آزادی حاصل ہونے کے چند دنوں بعد ہی برصغیر ہندوستان میں شہید ہوگئے۔ مگر ان لوگوں کوشہید نہیں مانا جاتا بلکہ ان کاشمارتو محض مہلوکین میں ہوتا ہے۔
ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مرنے والے ہندو، مسلم اور سکھ سبھی تھے تو پھر ان کو مارنے والوں کا مذہب کیا تھا؟ سرحد کے دونوں طرف رفیوجی اپنی اندوہناک کہانیاں سناتے نہیں تھکتے تھے۔ انہوں نے جس قیامت خیز ی کو جھیلا وہ وہی محسوس کرسکتے ہیں اور جو اس سے بچے رہے وہ شاید ان لوگوں کی تکالیف کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگا پائیں۔ وہ درد ، وہ کرب ، وہ غم اور وہ غصہ شاید ایک عام آدمی کی سمجھ میں نہ آئے جو کہ ان حالات سے نہ گزرا ہو۔
مگر ان لوگوں کا کیا جنہوں نے برصغیر ہندوستان میں دونوں جانب قتل اور غارت گردی کی، زنا کیااور لوٹ مار مچائی ، انہیں ہم نے بڑی آسانی سے فراموش کردیا اور وہ بہت آرام سے ہمارے درمیا ن رہتے رہے اورہم ہمیشہ دوسری جانب کو الزام دیتے رہے۔ کیا انکا ضمیر ملامت نہیں کرتا ؟
’’رباہن کی کریے ؟ ‘‘ ایک ایسی ہی ڈاکیومینٹری فلم ہے جوبات چیت کے ذریعہ یادداشت کی گلیوں کا سفر کراتی ہے،ان گلیوں کا جن کے بارے میں سوچ کر ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، جس سبجیکٹ پر کچھ کہنا، لکھنا اور فلم بنانے پر ابھی تک خود ساختہ حکم امتنائی تھا۔
تقسیم کی نسل کے لوگوں نے تشدد کاجو مشاہدہ کیا ، محسوس کیا اور اس پر عمل بھی کیاجو کہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم نے ان پر تھونپا تھا۔ 60 سال گزرنے کے بعد بھی واقعات کے بارے میں ان لوگوں کی یاد اشت بہت تیز ہے ، جیسے کے یہ ابھی کل ہی کا واقعہ ہو۔ انہیں اب بھی بہت اچھی طرح سے اپنے مسلمان پڑوسیوں، ان کے ہم جماعتوں ، بچپن کے دوستوں کے نام یاد ہیں، جن کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔ اس کے بعد انہیں افسوس کے ساتھ یاد آتا ہے کہ کس طرح ان پڑوسیوں کو اپنا گھر بارچھوڑنا پڑا، کتنی صفاکی سے ان کا قتل کر دیاگیا اوروہ بھی ضمیر پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر۔
اس کے علاوہ، وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ان کی برادری کے مجرموں کا ان کی اپنی زندگی میں ہی برا حال ہوا، ان کے غلط کاموں اور تشدد کی وجہ سے جو کہ انہوں نے تقسیم کے وقت انجام دئے تھے۔
دیہی مشرقی پنجاب کے لوگوں کی یہ غیر رسمی کہانیاں، پرانے قصہ کہانیوں کی طرح پنجاب کے دیہی علاقوں میں بکھری پڑی ہیں۔ گاؤں میں، نسلوں تک ہر کوئی ایک دوسرے کوجانتا ہے اور کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ اس لئے 1947ء میں کس نے کیا کیا اور کس طرح اور کس وجہ سے کیا یہ زبان عام پر ہے۔ تقسیم کی نسل اس یاد کی گواہ ہے، مگر اب یہ بہت تیزی سے مٹتی جارہی ہے۔ تقسیم کے بیانات میں یہ کہانیاں ایک اہم کڑی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، تقسیم کی نسل کا فیصلہ اس نسل کشی کی تاریخ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی بہت اہم ہے۔
اس ڈاکیومینٹری کے فلم سازاجے بھاردواج ایک دستاویزی فلم ساز ہیں۔ انہوں نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی سے سیاسی اسٹڈیز میں دوہری ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے اور ایم سی آر سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماس کمیونیکیشن کیا ہے۔ وہ1997 سے دستاویزی فلمیں بنارہے ہیں۔ تقسیم کے یادوں پر مشتمل انکی فلم، ’’ربا ہن کی کریے ‘‘(اس طرح ہمارے پڑوسی روانہ ہوئے)، جو کہ 1947 میں پھٹ پڑے تشدد، جس نے مشترکہ طرززندگی کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا پر مبنی ہے، ان کی فلم کی ہندوستا ن میں اور بیرون ملک مختلف فلم فیسٹول میں نمائش کی گئی ہے۔
’’میری جڑیں دیہی پنجاب کے اس حصے کے ساتھ جڑی ہیں جو دیش کے ساتھ رہا۔ اس لئے جنہیں اس حصہ کو چھوڑنا پڑا وہ مسلمان تھے جبکہ زیادہ تر وہ کہانیاں ہم کو سننے کو ملتی ہیں جو ہندوؤں اور سکھوں نے سنائی جن کو اس پنجاب کو چھوڑنا پڑا جو پاکستان بن گیا اور پناہ گزین کے طور پر یہاں آئے۔  میرے ذریعہ تقسیم کو ایک بالکل ہی مختلف نقطہ نظر سے دیکھاگیا کیونکہ میں کہیں اور موجود ہو ں۔‘‘ اجے بھاردواج کہتے ہیں۔
اگرچہ دو قومی نظریہ کچھ لوگوں کے مفادات کے لیے موزوں تھا لیکن یہ کثرت الوجود اور بقائے باہم کے نظریہ کی مکمل نفی تھا۔ 11اگست 1947کی جناح کی تقریر ہی ان کی 11اکتوبر1947 اور 21فروری 1949 کی تقاریر کی بنیاد ہے جس میں اسلامی شناخت کو ہی ایک ملک کے قیام کے پیچھے کار فرما جذبہ قرار دیا گیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی برابر تھے تو پھر مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک کے قیام کا مقصد کیا تھا؟ 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا کے ایکٹ اور بعد میں ہندوستان کے آئین میں مسلمانوں اور دیگر گروپوں کے لیے ایک جیسی آئینی ضمانتیں موجود تھیں۔ اس کا ایک نتیجہ فرقہ پرستی کی صورت میں نکلا اور جس کے نتیجے میں برصغیر میں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کا قتل عام ہوا۔ یہ وہی خطہ تھا جہاں مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر کے کروڑوں لوگ رواداری اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہتے آئے تھے۔

No comments:

Post a Comment