![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 5 March 2012
عفیف احسن
حالانکہ یہ تو 6مارچ کو ہی پتہ چلے گا کہ کسے راج پاٹ ملتا ہے اور کسے سنیاس لیکن ابھی تک ایگزٹ
پول کے جو رجحانات آئے ہیں ان کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتراکھنڈ میں معلق اسمبلی کے قوی امکانات ہیں۔ اس لئے یہاں بی ایس پی کا رول اہم رہنے کی امید ہے کیونکہ کانگریس اور بی جے پی میں سے جو بھی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی وہ بی ایس پی کی حمایت کی مرہون منّت ہوگی اور اس طرح اتراکھنڈ میں بی ایس پی کنگ میکر کا رول ادا کرے گی۔
جہاں ایک طرف پنجاب میں کانگریس کے اپنے بل بوتے پر سرکار بنانے کے قوی آثار ہیں۔وہیں دوسری طرف گوا میں بی جے پی اتحاد کی سرکار بنتی نظر آرہی ہے۔
جہاں تک اترپردیش کا تعلق ہے تو سبھی ایگزٹ پول کے مطابق وہاں سماجوادای پارٹی ہی سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرے گی، مگر اس کو حکومت بنانے کے لئے کانگریس کا ہاتھ تھامنا پڑے گا۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ ایگزٹ پول اچانک وارد ہوئے ہیں ۔ پہلے فیس سے لیکر ساتویں فیس تک زیادہ تر ٹی وی چینلوں نے ایگزٹ پول کرائے تھے جن کے نتائج ان کو اسی دن مل گئے تھے یہ الگ بات ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی وجہ سے ان نتائج کو عام نہیں کیا گیا۔یعنیٰ کہ ٹی وی پرفوراً نہیں دکھایا گیا۔مگر تمام چینل والوں کو آنے والے نتائج کے بارے میں پتا تھا اور یہ بات بعید ازقیاص نہیں ہے کہ انہوں نے اسے سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی شئیر کیا ہوگا۔انہیں ایگزٹ پول سے کانگریس کو ہر فیس کے بعد ہی پتا چلتا گیا کہ اتر پردیش میں اس کا برا حال ہونے والا ہے۔اسی لئے اپنا ووٹ بیس بڑھانے کے لئے ایسا کوئی بھی ہتھکنڈا نہیں ہے جو کانگریس نے اترپردیش میں مسلمانوں کو رجھانے کیلئے استعمال نہ کیا ہو۔مگر سات فیس والے الیکشن کے ہر فیس کے بعد ایسا لگا کہ وہ مسلمانوں کو رجھانے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔
میر تقی میرکے اس شعر کے مصداق
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریء دل نے آخر کام تمام کیا
شاید اسی لئے ہر فیس کے الیکشن کے بعد اور الیکشن کمیشن کی سرزنش کے باوجود اس کے بڑے بڑے لیڈر اوربھی زور شور سے مسلم ریزرویشن کی بات کرتے نظر آرہے تھے۔پہلے سلمان خورشید نے مسلم ریزرویشن کی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کو دھمکی تک دی ڈالی اور اس کو میڈیا کے ذریعہ خوب اچھالاگیا ۔ان کا مقصد یہ تھا کہ سب لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ کانگریس ریزرویشن دینے کی بات کررہی ہے، ٹی وی پر اسی مدعے پر بحث مباحثہ منعقد ہوئے اور یہ معاملہ خوب اچھالا گیا۔ بعد میں سلمان خورشید کے ایک چھوٹے سے بیان کے بعد معاملہ اچانک ہی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد جو الیکشن ہوئے تو کانگریس کو لگا کہ ابھی بھی اس مدعے کاکوئی خاص اثر نہیں ہوا ہے اس لئے اب اس نے بینی پرساد ورما کو آگے کردیا کہ وہ ریزرویشن پر بیان ٹھونک دیں۔ انہوں نے بھی بیان دیا جس کے بعد پھر وہی ہو ہلا مچا اور اس بات کو ٹی وی پر خوب اچھالا گیا، بعد میں جب الیکشن کمیشن نے ان کو نوٹس دیا تو انہوں نے اپنی صفائی پیش کی اور اسے الیکشن کمیشن نے من وعین مان لیا۔
کیبنٹ نے جو بنکر پیکج منظور کیا وہ اتنی دیر سے آیا کہ اس کوالیکشن سے پہلے لاگو کیا جانا ممکن نہیں تھا۔فوڈسیکیورٹی بل تورو پیٹ کر کیبنٹ سے پاس کرالیا گیا مگر اس میں اتنی دیر ہوگئی کہ اس کے بارے میں لوگوں کو کوئی زیادہ معلومات نہیں پہنچی اور اس کے ممکنہ فوائد کے بارے میں کسی نے بھی زیادہ کچھ نہیں کہا۔ پھر کانگریس نے او بی سی میں سے ساڑھے چارفیصد سیٹیں مائینارٹی کو دینے کا حکم جاری کرادیا۔ اس سے جو بھی فائدہ ہوتا نظر آرہا تھااس پر الیکشن کمیشن کے اس کو لاگو نہ کرنے کے حکم سے پانی پھرتا ہوا نظر آرہا تھا۔
اس کے بعد توجیسے اتر پردیش میں مسلم ریزرویشن کی بولی لگ رہی تھی۔کانگریس نے کہا کہ ساڑھے چار فیصدمگر بعد میں اسے لگا کہ یہ تو زیادہ اثر نہیں کررہا ہے تو اس لئے اس نے کہا کہ نو فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ ملائم کہاں پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے اپنی بولی بڑھا کر 19فیصد کردی۔ بی ایس پی نے بھی کہا کہ وہ آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو ریزرویشن دے گی۔مگر ایسا لگتا ہے کہ اس بولی میں جیت آخرسماجوادی پارتی کوہی ملی۔
کانگریس پارٹی نے ایک ماہر حکیم کی طرح یہ تو بتادیاتھا کہ یوپی کو کیا بیماری ہے مگر وہ یہ نہیں بتا پائی کہ وہ اس کا علاج کیسے کرے گی۔اس کے بڑے بڑے لیڈر یہ بتاتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کے اتر پردیش کس وجہ سے پچھڑا ہوا ہے اور اس کے بعد یہ کہتے تھے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آگئی تو یہ تمام دشواریاں ختم ہوجائیں گی مگر کسی نے یہ بتانے کہ زحمت گوارا نہیں کی کہ کانگریس کس طرح سے ان پریشانیوں کو دور کرے گی۔ایسا لگتا تھاکہ کسی نیم حکیم نے شاید انہیں یہ بتادیا تھا کہ مسلم ریزرویشن ایک ایسی اچوک دوا ہے جس سے کہ یوپی کی تمام بیماریوں کا علاج ہوجائے گا۔
مگر اتر پردیش کا ووٹر اب بہت ہی گھاگ ہوچکا ہے۔وہ اپنا اچھا اور برا بخوبی سمجھتا ہے۔ اترپردیش کے ووٹر کو یہی بات مستقل کھٹکتی رہی۔ کیونکہ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کے آپ کے پاس کونسا ایسا تریاق ہے جس سے آپ اتر پردیش کا علاج کریں گے۔ مگرشاید کانگریس یہ مان کرچل رہی تھی کے اس کو اقتدار ملنے بھر سے یوپی کی پریشانیاں حل ہوجائیں گی، اس لئے اس نے اس بارے میں کوئی صفائی نہیں پیش کی اور نہ ہی کوئی جامع لائح عمل ہی پیش کیا ، عوام اب اتنا بھولا نہیں ہے اسے کوئی ٹھوس ثبوت چاہئے تھا جو کانگریس دینے کی حالت میں نہیں تھی۔
یوپی کا ووٹر جومایاوتی سے ناراض چل رہا تھا نے اس بات کواپنے من میں ٹھان لیا تھا کہ اسے مایا وتی کو کرسی سے اتارنا ہی ہے اس لئے اس نے مایاوتی کی جگہ ایک ایسے شخص کو گدی نشین کرنا تھا جو اس کی امیدوں پر پورا تر سکے۔ شایداسے لگا کہ اگر وہ کانگریس کو ووٹ دے بھی دے تو پورا زور لگاکر بھی اس کے امیدوار کو نہیں جتا پائے گا کیونکہ2007 کے الیکشن میں جس پارٹی کے زیادہ تر امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی ہو اسے جتانا کوئی آسان کام تو نہیں تھا۔اس طرح اسے اپنا ووٹ ضائع جانے کا ڈر تھا۔اسی لئے اس نے تھوڑا زور لگاکر سماجوادی پارٹی کے امیدوار کو جتانا ہی بہتر سمجھا۔
حالانکہ اس الیکشن میں اور اس سے پہلے بھی راہل گاندھی نے بہت مہنت کی مگر کیونکہ زیادہ تر حلقوں میں کانگریس کا کوئی معروف امید وار نہیں تھا۔ ایسا امیدوار جس نے ہارنے کے بعد بھی پانچ سال تک لوگوں کے درمیان کام کیا ہو اور ان کے دکھ سکھ کا بھاگیدار رہا ہو، ایسا امید وار جو ہر قدم پر اپنے حریف ایم ایل اے سے لوہا لیتا رہا ہو اور اس نے پورا پانچ سال اس حلقہ کے لوگوں کی خدمت میں گزارا ہو۔ اسی لئے کانگریس نے جسے بھی چاہا جہاں سے چاہا ٹکٹ دے دیا اور اس نے یہ مان لیا کہ اس کے امید وارکو کانگریس کے نام پر ووٹ مل جائے گا۔ بہت پہلے تو ایسا ہوتا تھا۔ مگر اب ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اب تو ہر ووٹر یہ دیکھتا ہے کہ وہ جسے چن رہا ہے اس نے اس کے لئے کیا کچھ کیا ہے؟ وہ اس کے کس کام آیا ہے ۔ وہ اس کے حلقہ کا ہے کہ نہیں۔ اب لوگ ووٹ پارٹی سے زیادہ شخصی جان پہچان کی بنیاد پر دیتے ہیں۔
کانگریس میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے جو الیکشن کے وقت تو ککر متوں کی طرح اگ آتے ہیں اور پھر ریزلٹ چاہے کچھ بھی ہو پانچ سال تک اپنی شکل تک نہیں دکھاتے۔ کس بنیاد پر عوام اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔
حقیقی ریزلٹ آنے میں صرف چوبیس گھنٹے بچے ہیں، زیادہ قیاس تو یہی ہے کہ جو اشارے ایگزٹ پول کر رہا ہے اسی کے مطابق نتیجے آئیں گے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ سماجوادی پارٹی کو اتنی نشستیں مل جائیں کہ وہ اکیلے ہی حکومت بنالے اور اگر ایسا ہوا تو یوپی اے سرکار پر خطرے کے بادل مزید گہر ے ہوجائیں گے۔
Afif Ahsen, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment