Search

Monday, 12 March 2012

جو کام سونیا نہیں کرپائیں ملائم نے کردکھایا


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily

Published on 12 March 2012
عفیف احسن
کانگریس کو 2004میں حکومت سازی کا موقعہ ملا۔ پارٹی نے سونیا گاندھی کو وزیراعظم کے لئے چنا۔ مگر تب بی جے پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے ان کے غیر ملکی نژاد ہونے کے سبب ان کے وزیر اعظم جیسے عہدے پر فائز ہونے کی مخالفت کی۔تب بھی موقعہ تھا کہ وہ راہل گاندھی کو اپنی جگہ وزیر اعظم بنانے کا اعلان کردیتیں۔ مگر وہ اس وقت چوک گئیں اور انہوں نے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کے لئے منتخب کیا۔ 
دوسرا موقعہ 2009میں تب آیا جب یوپی اے کو 262سیٹیں ملیں جس میں سے کانگریس کو اکیلے ہی 206سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس جیت کا سہرا تو پوری طرح سے کانگریس کی نئی نسل کو جاتا تھاجس کی قیادت راہل گاندھی کررہے تھے۔عام رائے یہی تھی کے راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنایا جائے گا مگر تب بھی سونیا گاندھی راہل گاندھی کے حق میں فیصلہ نہیں کرسکیں۔اور اس طرح ایک بار پھر دیش کی قیادت کمزور اور بوسیدہ ہاتھوں میں سونپنا ہی بہتر سمجھا اور نوجوانوں کے خواہشات کو کوئی عزت نہیں دی گئی۔ وزیر اعظم ہی نہیں دوسرے وزیر بھی بزرگ ہی بنائے گئے۔ اور نوجوانوں کو دیش کی حکمرانی میں انکاجائز حق نہیں دیا گیا۔اس سے ملک کا نوجوان اپنے کو ٹھگا سا محسوس کرنے لگا۔
مگر اسے ملائم سنگھ جیسے روڑی وادی اورپرانے لیڈر کی دور اندیشی کہئے یا سیاسی بصیرت کہ انہوں نے نوجوانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اکھیلیش یادو کے یوپی کے نئے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ ہموار کی اور ان کی پوری پارٹی نے اس میں انکا ساتھ بھی دیا۔
سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی نے پارٹی کے ریاستی صدر اور اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی جیت کے ہیرو رہے 38 سالہ اکھلیش یادو کو اپنا نیا لیڈر منتخب کر کے ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے نام پر مہر لگا دی۔
حالانکہ شروع شروع میں اعظم خاں اور شیوپال یادو اکھیلیش کے وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے خلاف تھے۔ اسی لئے اعظم خاں پارلیامینٹری پارٹی کی میٹنگ میں نہیں آئے اور جو ہیلی کاپٹر ان کو لینے کے لئے گیا تھا خالی واپس آگیا۔ بعد میں جمعہ کے دن وہ لکھنؤ پہنچے اور سیدھے اپنے گھر دارالشفاع چلے گئے اور ملائم اور اکھیلیش سے نہیں ملے۔شام کو ملائم اور اعظم کے درمیان تقریبا 45 منٹ تک بات چیت ہوئی۔ ملائم نے انہیں سمجھا بجھاکر منا لیا اور اس بات کے لئے راضی کرلیاکہ وہ خود ہی اکھیلیش کے نام کی سفارش کریں۔ بہرحال سنیچر کو پارٹی کے صدر دفتر میں پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کی موجودگی میں ہوئی ممبر اسمبلی کی میٹنگ میں اس پر مہر لگا دی گئی، اراکین اسمبلی کو خطاب کرنے کے بعداعظم خاں نے اکھلیش کی سیاسی صلاحیتوں پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے اسمبلی پارٹی کے لیڈر اور ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے نام کی تجویز پیش کی، جس کی پارٹی کے سینئر لیڈر شوپال سنگھ یادو نے حمایت کی اور اسی کے ساتھ اجلاس میں موجود تمام اراکین اسمبلی نے اتفاق رائے سے ریاست کا سب سے نوجوان وزیر اعلی بنانے کے لئے اکھلیش یادو کو منتخب کرلیا۔بعد میں اکھلیش یادو نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل اعظم خان اور سینئر لیڈر شوپال سنگھ یادو کے ساتھ گورنر ہاؤس جا کر گورنر کو اپنے رہنما منتخب کئے جانے کی باضابطہ اطلاع دی۔
اکھلیش کی پیدائش 1 جولائی، 1973 کو اٹاوا میں ہوئی تھی۔بچپن میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور ان کی پرورش ان کی دادی نے کی۔ ڈسپلن کے پابند والد ملائم نے انہیں ابتدائی تعلیم کے لیے راجستھان کے دھولپور فوجی اسکول بھیجا، میسور میں 1990 میں اکھلیش نے کرناٹک کامن انجینئرنگ انٹرینس ٹیسٹ میں سول انجینئرنگ کے امتحان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور میرٹ لسٹ میں جگہ بنائی۔ جہاں پڑھائی پوری کرنے کے بعد انہوں نے میسور یونیورسٹی سے ماحولیاتی ٹیکنالوجی میں گریجویشن کیاا ور آسٹریلیا کے سڈنی یونیورسٹی سے پی جی کی ڈگری حاصل کی۔ 2000 میں انہوں نے پہلی بارکنوج لوک سبھا سیٹ سے ضمنی انتخاب جیت کر متحرک سیاست میں قدم رکھا۔
ناتجربہ کار اکھلیش یادو پردیش کے سب سے نوجوان وزیر اعلیٰ بن کر تاریخ رچنے جا رہے ہیں۔ لیکن جہاں ایک طرف ان کانوجوان ہونا ان کا سب سے مضبوط پوائنٹ مانا جا رہا ہے، وہیں ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے کم عمر کے وزیر اعلی کے طور پر لوگوں کی توقعات پوری کرنا بے حد مشکل ہے۔ سماج وادی پارٹی کے 20 سالوں کی تاریخ میں یہ سب سے پہلا موقع ہے، جب پارٹی کو اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ ایسے میں اکھلیش سے لوگوں کی امیدیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اکھلیش آج تک کسی عہدے پر نہیں رہے ہیں۔ وہ سماج وادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اور ریاستی صدر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے پاس کسی طرح کا انتظامی تجربہ نہیں ہے۔ ایسے میں بالکل نہ ہونے کے برابر تجربہ رکھنے والے اکھلیش کے لئے عوام کی توقعات کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہوگا۔ سماج وادی پارٹی کی ممکنہ کابینہ میں کچھ ہی وزیر ہوں گے جو اکھلیش یادو سے کم عمر کے ہوں گے۔ کابینہ کے زیادہ تر وزیر ان سے زیادہ عمر کے اور سیاست کا طویل تجربہ رکھنے والے ہوں گے۔ ایسے میں سب کے ساتھ تال میل بٹھاکر چلنا اور حکومت چلانا اپنے آپ میں بڑا چیلنج ہوگا۔ 
تعلیم مکمل ہونے کے بعد اکھلیش نے ڈمپل سنگھ سے شادی کا فیصلہ کیا۔ ڈمپل ایک راجپوت خاندان سے ہیں اور اکھلیش کے والد ملائم سنگھ کو ان سے یہ رشتہ منظور نہیں تھا مگر اکھلیش نے والد کی مرضی کے خلاف جا کر ڈمپل سے شادی کر لی۔ اس کے بعد 2009 میں ڈمپل نے لوک سبھا انتخاب بھی لڑا اور راج ببر سے ہار گئیں۔
اکھلیش کی طرح ہی راہل گاندھی نے بھی اپنی پارٹی کے انتخابی مہم کی کمان سنبھالی تھی۔ دونوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ بی ایس پی حکومت کے دوران ریاست میں ان کی پارٹیوں کا ڈھانچہ تباہ ہو چکا تھا۔ کانگریس اتر پردیش کی اقتدار سے 22 سال سے باہر تھی۔ اکھلیش کی طرح ہی راہل گاندھی نے بھی اپنی پارٹی کے انتخابی مہم میں بے حد محنت کی۔ انہوں نے 200 سے زیادہ ملاقاتیں کیں۔ جگہ جگہ گئے اور جلسے کئے، لیکن جب نتائج آئے تو سماج وادی پارٹی کو اقتدار ملا جب کہ کانگریس کو تسلی بھی نہیں مل سکی۔
راہل کے سامنے سب سے بڑی دقت یہ آئی کہ ریاست کے عوام کے لئے راہل وہ چہرہ نہیں بن سکے جس کی چاہ عوام کو تھی۔ اگر راہل گاندھی کو شروع سے ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے کا دعویدار بتایا گیا ہوتا تو تصویر شاید تھوڑی الگ ہو سکتی تھی۔ وہیں اکھلیش کو ان کی مقامی تصویر اور شناخت نے بے حد فائدہ پہنچایا۔ اکھلیش کی ریلیوں اور جلسوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہو رہے تھے۔ ستمبر 2011 میں سائیکل اور اس کے بعد رتھ یاترا شروع کرنے کے بعد سے ہی وہ ریاست بھر کے نوجوانوں کے لئے ’بھیّا‘ بن گئے تھے۔ ایک مقرر کے طور پر اکھلیش بھلے ہی سخت الفاظ نہ بول سکتے ہوں لیکن اپنے طرز عمل سے وہ لوگوں کا دل جیت گئے۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی جیت کا ایک بڑا سبب نوجوان ووٹر طبقے کا پارٹی کے ساتھ جڑنا بھی رہا۔ راہل گاندھی پردیش میں یہی نہیں کر پائے۔ 
اکھلیش نے فری میں لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ کے ساتھ موڈم اور بجلی دینے کا وعدہ کیا۔ اتر پردیش میں اس بار 1.49 کروڑ نوجوان ووٹر جڑے تھے۔ اکھلیش اپنے وعدوں اور سلوک سے اس نئے ووٹر طبقے کے ایک بڑے حصے کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب رہے۔ 
ڈی پی یادو کو باہر کرنے کے فیصلے کے بعد ریاست کے عوام کو لگا کہ مایاراج کی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے اکھلیش ہی سب سے بہتر متبادل ہیں۔
اکھلیش کے مقابلہ راہل کے سامنے ایک اور چیلنج یہ بھی تھا کہ ریاست میں کانگریس کا کوئی خاص ووٹر طبقہ نہیں ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو 25 فیصد ووٹ ملے تھے۔ پارٹی انتخابات ہاری ضرور تھی لیکن پھر بھی ووٹوں میں اس کی اپنی ایک مضبوط حصہ داری تھی۔ یہ سماج وادی پارٹی کا ٹھوس ووٹر بیس تھا جسے اس بار اکھلیش نے اور مضبوط کیا۔ سماج وادی پارٹی کے پاس ٹھوس مسلم اور یادو ووٹر تھے لیکن راہل کی جھولی میں ایسا کوئی بھی فرقہ نہیں تھا جو مکمل طور پر پارٹی کا ووٹ بینک ہو۔ 2007 میں مایاوتی نے سوشل انجینئرنگ کرکے سماج کے ہر طبقہ کو پارٹی سے جوڑا تھا اور اقتدار میں آئی تھی، راہل کو بھی اس بار ریاست میں یہی کرنا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔ نہ ہی برہمن ووٹر پارٹی سے منسلک ہوا، ریزرویشن کے وعدوں کے باوجود نہ ہی مسلمان پارٹی سے ٹھوس شکل میں جڑا اور نہ ہی دلت یا اوبی سی۔

راہل کی راہ میں کانگریس کے کچھ بڑبولے لیڈروں نے بھی رکاوٹ ڈالی۔ کبھی بٹلہ ہاؤس، کبھی صدر راج تو کبھی مسلم ریزرویشن کو لے کر ایسے بیانات دئے گئے جس سے ایک خاص ووٹر طبقہ پارٹی سے الگ ہوا۔ عوام پردیش کی حکومت منتخب کرنے کے لئے ووٹ کرنے جارہے تھے اور حکمرانی کے لئے راہل یا کانگریس یوپی کے عوام کو مکمل اکثریت کا بھروسہ نہیں دلا سکے۔اور ایسے میں انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ وہ سماجوادی کا ساتھ دیں۔
Afif Ahsen, Akhilesh Yadav, Congress, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Rahul Gandhi, Samajwadi Party, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun,

No comments:

Post a Comment