![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 26 March 2012
عفیف احسن
حالانکہ انسانی حقوق کی پامالی پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہے اور اس کے خلاف بلا تفریق آواز اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ لیکن بین الاقوامی فورموں میں جس طرح حقوق انسانی کی پامالی کو لیکر اس کو پکڑو اُس کو جانے دو کا بول بالا ہے وہ یقیناً فکر کی بات ہے۔
یہ بات بھی جگ ظاہر ہے کہ حقوق انسانی کی پرزور وکالت کرنے والوں کا اپنا خود کا ریکارڈ اس سلسلے میں کوئی بہت اچھا نہیں ہے۔ چاہے ویت نام کی جنگ ہو، طالبانی دہشت گردوں کے خلاف امریکہ اور ناٹو کی ’وار آن ٹیرر‘ ، صدام حسین کے خلاف نام نہاد ’’ویپن آف ماس ڈیسٹرکشن‘‘ کو تباہ کرنے کے لئے جنگ۔ ہر جگہ امریکہ نے حقوق انسانی کو پامال کیا ہے۔ ویت نام میں تو اس کا ریکارڈ تاریخ کی کتابوں کی زینت بن چکاہے۔ مگرعراق اور افغانستان کے زخم تو ابھی تازہ ہیں۔ عراق میں قیدیوں پرانسانیت سوزمظالم، کھلےعام قتل اورغارت گردی سے ہر ایک باشعورانسان کی روح کانپ جائے گی۔
افغانستان اور پاکستان میں امریکہ کے ڈرون حملے ایک عام سی بات ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں دہشت گردوں سے زیادہ معصوم شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ حقوق انسانی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ چاہے ہزاروں گناہ گار چھوٹ جائیں لیکن ایک معصوم کو سزا نہیں ہونی چاہئے۔ جبکہ امریکہ کی یہ پالیسی ہے کہ ایک گناہگار کو مارنے کے لئے چاہے ہزاروں بیگناہوں کی جان چلی جائے ایک گناہ گار نہیں بچنا چاہے۔
ابھی حال ہی میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ذریعہ مارے گئے دہشت گردوں کی لاشوں پر پیشاب کرنے کا واقعہ منظر عام پرآیا تھا۔ قرآن جلائے جانے کا واقعہ رونما ہوا۔ اس کے بعد امریکی فوجی کے ذریعہ اندھا دھند معصوم شہریوں کی گولی باری کرکے قتل عام کرنے کا واقعہ پیش آیا ۔ لیکن پھر بھی ان واقعات سے کسی بھی طرح کی حقوق انسانی کی پامالی سرزد نہیں ہوئی۔
سری لنکا کی خانہ جنگی اکثریت سنہالا اور اقلیتی تملوں کے درمیان تقریبا 25 سال تک چلی اس خانہ جنگی میں دونوں جانب سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو ئے۔ لٹوں کی جانب سے اپنائی گئی جنگی پالیسیوں کی وجہ سے 32 ممالک نے اسے دہشت گرد وں کے زمرے میں رکھا جن میں بھارت، آسٹریلیا، کینیڈا، یوروپی یونین کے بہت سے ممبر ممالک اور دیگر کئی ملک شامل ہیں۔ ایک چوتھائی صدی تک چلے اس نسلی تسادم میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہی تقریبا 80,000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سہی تعداد س سے کہیں زیادہ ہے۔
ہندوستان نے کئی وجوہات کی بنا پر سری لنکا کی جدوجہد میں مداخلت کی۔ ان میں علاقائی طاقت کے طور پر خود کو ظاہر کرنا اور تامل ناڈو میں آزادی کے مطالبہ کو دبانا شامل تھا۔ چونکہ تامل ناڈ وکے لوگ ثقافتی وجوہات کی بنا پر سری لنکا کے تملوں کے مفادات کے حق میں رہے ہیں، اس لئے حکومت ہند کو بھی جدوجہد کے دوران سری لنکا کے تملوں کی مدد کے لئے آگے آنا پڑا۔ 80 کی دہائی کے شروع میں ہندوستانی اداروں نے کئی طرح سے تملوں کی مدد کی۔
5 جون، 1987 کو جب سری لنکا کی حکومت نے دعوی کیا کہ وہ جافنا پرقبضہ کرنے کے قریب ہے، تبھی ہندوستان نے پیراشوٹ کے ذریعے جافنا میں راحتی سازو سامان گرایا۔ ہندوستان کی اس مدد کو لٹّے کی براہ راست مدد بھی مانا گیا۔ اس کے بعد 29 جولائی، 1987 کو اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اوراس وقت کے سری لنکا کے صدر جے وردھنے کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت سری لنکا میں تمل زبان کو سرکاری درجہ دیا گیا۔ ساتھ ہی، تملوں کے کئی دیگر مطالبات مان لئے گئے۔ وہیں، بھارتی امن محافظ دستوں کے سامنے باغیوں کو ہتھیارڈالنا پڑا۔
زیادہ تر باغی گروہوں نے ہندوستانی امن محافظ دستوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے، لیکن لٹّے اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔ بھارتی امن محافظ فوج نے باغیوں کو توڑنے کی پوری کوشش کی۔ تین سال تک دونوں کے درمیان جنگ چلی۔ اس دوران ہندوستانی امن محافظ دستوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام بھی لگے۔ ادھر، سنہالیوں نے بھی اپنے ملک میں ہندوستانی فوجیوں کی موجودگی کی مخالفت کرنا شروع کردی۔ اس کے بعد سری لنکا کی حکومت نے بھارت سے امن محافظ دستوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا، لیکن راجیو گاندھی نے اس سے انکار کر دیا۔ 1989 کے پارلیمانی انتخابات میں راجیو گاندھی کی شکست کے بعد نئے وزیر اعظم وی پی سنگھ نے سری لنکا سے امن محافظ دستوں کو ہٹانے کا حکم دیا۔ ان تین برسوں میں سری لنکا میں گیارہ سو بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، وہیں پانچ ہزار لٹّے بھی مارے گئے۔
1991 میں ایک خودکش حملہ آور لٹّے نے راجیو گاندھی کوشہید کردیا۔ اس کے بعد بھارت نے سری لنکا کے تملوں کی مدد بند کر دی۔
2008 میں جب سری لنکا کی فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پرحملہ کرنا شروع کیا تو ہندوستان کی یوپی اے حکومت ہل گئی۔ تامل ناڈو کے سیاسی جماعتوں نے مرکزی حکومت سے سری لنکا کے معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ایسا نہیں کرنے پر ڈی ایم کے نے ہمایت واپس لینے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔ دبائو بنانے کے لئے کرونا ندھی نے اپنے ممبران پارلیمنٹ سے استعفی تک لے لیا۔ تملوں کے مسئلے پر تامل ناڈ کی تمام سیاسی پارٹیاں فوری جنگ بندی کی مانگ پر ایک ساتھ آگئیں۔ بھاری دباؤ کے بیچ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سری لنکا گئے۔ سری لنکا کے صدر نے انہیں تملوں کی حفاظت کا بھروسہ دلایا۔ جنگ میں پھنسے عام شہریوں کو باہر نکا لنے کے لئے سری لنکا نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ مگر اب تک کافی معصوم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ خاص کر جنگ کے آخری مرحلے میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔ اگر یہی کام وقت رہتے کرلیا گیاہوتا تو سینکڑوں بے گناہ لوگوں کے جان بچ جاتی۔
اس سانحہ کے تقریباً چار سال گزرنے کے بعد انسانی حقوق کے سب سے بڑے ٹھیکیدار امریکہ نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی ) میں سری لنکا کے خلاف ایک تجویز پیش کی۔ تجویز میں سری لنکا سے تامل ٹائیگرس کے خلاف جنگ کے آخری مرحلے میں ہوئے مبینہ حقوق انسانی کی پامالی کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ تجویز میں کولمبو سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے مبینہ خلاف ورزی سے نمٹنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کے ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ کے معاملے کو صحیح طریقے سے نہیں نپٹا۔
پہلے پہل تو ہندوستان نے اپنی علاقائی مفادات اور اہمیت کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس تجویز کے خلاف ووٹ دینے کا من بنایا تھا۔ ہندوستان نے کسی مخصوص ملک کے خلاف لائی گئی تجویز کے حق میں ووٹ دینے کو لے کرناپسندیدگی ظاہر کی تھی، لیکن یو پی اے کے اتحادی ڈی ایم کے اور تامل ناڈو کے کئی دیگر سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے آگے حکومت کو اپنا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ ڈی ایم کے نے اس مسئلے پر مرکزی حکومت سے اپنے وزراء کو ہٹانے تک کی دھمکی دے دی تھی۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے کل 47 ارکان میں بھارت سمیت 24 ممالک نے تجویز کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 15 ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ آٹھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
امریکہ اس خطہ کے ممالک کے اندرونی معاملات میں دھیرے دھیرے اپنا دخل عمل بڑھا رہا ہے۔ روز بروزاس کی دخل اندازی بڑھتی ہی جارہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب وہ ہندوستان کے چاروں طرف کے ممالک کا احاطہ کرنے کے بعد ہندوستان کے خلاف بھی اسی قسم کی حرکت کرے۔ اگر ہندوستان اسی طرح جھکتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی ملک ہندوستان کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آئیگا۔
امریکہ اور یوروپی ممالک کی نظر میں ہندوستان کا حقوق انسانی کا ریکارڈ کوئی بہت اچھا نہیں ہے۔ کشمیر، نارتھ ایسٹ، ماؤ وادی اور دوسرے دہشت گردوں کو لیکر ہندوستان کے خلاف وہاں آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ جن کوغلام نبی فائی جیسے آئی ایس آئی کے پیسے سے کام کرنے والے لوبیئسٹ بھڑکاتے رہتے ہیں اور کبھی بھی ہندوستان کا بھی اسی طرح سے احاطہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ سری لنکا کا کیا گیا۔
اس موقعہ پر نواز دیوبندی کا ایک مشہور اور پرانا شعر بالکل موزوں لگتا ہے۔ یہ شعر نواز صاحب نے سنیچر کو ڈی سی ایم کے مشہور 48 ویں شنکر وشاد مشاعرہ میں یہ کہتے ہوئے پڑھا تھا کہ یہ شعر کچھ دنوں کے بعد پھر تازہ ہوجاتا ہے کیونکہ کوئی نا کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا رہتا ہے۔
جلتے گھر کو دیکھنے والو، پھونس کا چھپر آپ کا ہے
آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے، آگے مقدر آپ کا ہے
اُس کے قتل پہ میں چپ تھا،میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں، اگلا نمبر آپ کا ہے۔
Afghanistan, Afif Ahsen, America, Daily Pratap, Human Rights, Iraq, Kashmir, Sri Lanka, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment