Search

Monday, 2 January 2012

نئی صبح ہے اورنیا سال ہے


Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
Published on 2nd January 2012
عفیف احسن
اس سے پہلے کے میں کچھ عرض کروں میں پرتا پ اور ویر ارجن کے تمام قارئین کو اور ان قارئین کو بھی جن تک یہ کالم انٹرنیٹ کے ذریعہ پہنچ رہا ہے نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔ میں یہ امید بھی کرتا ہوں کہ نیا سال آپ سب کے لئے خوشیاں، خوشحالی اور امن چین لے کر آئے۔ صحت یاب رہیں اور پریشانیاں آپ سے کوسوں دوور رہیں، الغرض کہ نیا سال کم از کم ایسا تو نہ ہو جیسا کہ سال گذشتہ تھا۔
گذشتہ سال ہم نے جیا نہیں بلکہ گزارا ہے۔ بہت سے اپنے ہم سے بچھڑ گئے اور بہت سے غیر بھی اس سال کو پورا نہیں کر پائے اور اس دنیا اور ما فیہہکو خیر باد کہہ کر خالق حقیقی سے جاملے۔ کسی اپنے کے چلے جانے کی کسک تو ہر ایک دل میں پیدا ہوتی ہے، اور ہمیشہ ہوتی رہے گی، مگر جو چیزہمیں تسلّی دیتی ہے اور دیتی رہے گی وہ ان کے آخری ایام کے الفاظ ہیںیا یوں کہئے کہ ان کے رْخصتی کلمات۔ چاہے انہوں نے ساری عمر آپ کی سرزنش کی ہو، آپ سے شکایت کی ہو، چاہے یہ کہا ہو کہ آپ انکا پوراخیال نہیں رکھتے مگر انہوں نے جاتے جاتے یہ بات ضرور قبول کی کہ آپ نے ان کی بہت خدمت کی ہے۔ یہی آپ کے لئے کافی ہے۔کیونکہ آپ کواس بات کااحساس ہے کہ آپ سے جو بن پڑتا تھا آپ نے اپنے بزرگوں کے لئے کیا۔ موت اور زندگی تو اوپر والے کے ہاتھ ہے ، جب تک اس نے چاہا آپ کے سر پر بزرگوں کا سایہ قائم رکھا اور جب چاہا ان کی دنیاوی ذمہ داریاں آپ کو منتقل کردیں، اور ان کی مشکل آسان کردی۔
اس سال پوری دنیا نے زوالات دیکھے۔ انقلابات دیکھے۔یہ دیکھا کہ کیسے بڑی بڑی طاقتیں بونی نظر آنے لگیں۔جو کل تک ناقابل تسخیر تھے وہ زمیں بوس ہوگئے۔اور جوفرش پر تھے وہ عرش پر نظر آنے لگے۔یہ سال پوری دنیا میں عوامی مہمات کے نام رہا۔ مصر سے لیکرلیبیا تک۔بحرین،سیریا، یونان ، اسپین، جرمنی اور برطانیہتک۔
امریکہ بھی اس سے بچا نہیں رہ سکا۔ پہلے سے ہی مندی جھیل رہے امریکہ کو اور زیادہ مندی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے لئے اس کو مزید قرضے لینے کے لئے جدو جہد کرنی پڑی۔اس کی فوجوں نے عراق خالی کردیا اور کرسمس منانے کے لئے اپنے گھروں کی طرف کوچ کر گئے۔ فوجی تو عراق سے چلے گئے مگر جاتے جاتے وہ اپنی کمپنیوں کو عراقی تیل کا مالک بنانے میں کامیاب رہے۔
اوسامہ بن لادن کا خاتمہ بھی اسی سال نے دیکھا۔ جس کے بعد امریکہ اور پاکستان کے رشتوں میں تلخی آئی اور یہی نہیں پاکستانی فوج اورپاکستانی حکومت کے درمیان بھی تلخیاں پیدا ہوئیں۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ پاکستانی فوج بغاوت پر آمادہ تھی اور ملک کی حکمرانی اپنے ہاتھ میں لینے والی تھی مگراس سال تو ایسا نہ ہوسکا۔بعد میں گیلانی صاحب فوجی اداروں کو گیدڑ بھپکیاں دیتے دیکھے گئے ۔جس سے یہ لگتا تھا کہ شاید ان کے سر سے خطرہ ٹل چکا ہے۔
ایران نے اپنی تکنیک کی بنیاد پر ایک امریکی ڈرون کوجو کہ اسکے اندرونی علاقوں کی جاسوسی کررہا تھا نیچے اتار کرایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس ڈرون کا رابتہ امریکی بیس اسٹیشن سے منقطع کرکے اسے اپنے کمپیوٹروں سے کنٹرول کرلیا اور اسے بنا پرکسی نقصان کے بغیر زمین پر اتار لیا۔ اگرامریکہ کے بیس اسٹیشن سے اس کا رابتہ منقطع نہ ہوتا تو کبھی بھی امریکہ کسی خطرے کی حالت میں اس کی خود کار تباہی کا حکم دے سکتا تھا،مگر اسے کسی دشمن کے ہاتھ نہیں جانے دیتا۔
مصر میں اسی فوج نے جس نے نہتھے مصری عوام پر گولیاں چلانے اور کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے سے منع کردیا تھا، خود نہتھے عوام پر اپنی گولیوں کا منہ کھول دیا اوراس میں کافی معصوم لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ گنوانہ پڑا۔
لیبیا میں معمر قذافی کو سفّاکی سے قتل کردیا گیا۔اور وہا ں پر ایک کٹھ پتلی حکومت کا قیام عمل میںآیا۔ ایک سفّاک تاناشاہ کا ایسی سفّاکی سے قتل ہوا کے دنیا ہائے ہائے کر اٹھی۔یہ ان لوگوں کی کرتوت تھی جو اسلام کے ماننے والے ہیں وہی اسلام جو خود حوالگی کرنے والوں اور قیدیوں کے قتل کی سخت ممانعت کرتاہے۔
دوسری طرف ہندوستان کو دوہری مار جھیلنی پڑی۔ ایک تو بیرونی ممالک کی مندی کے چلتے اپنے ملک میں مندی کا دور۔ وہ ہندوستان جو دو سال پہلے کی مندی سے ابر گیا تھااب اس سے بچا نہیں رہ سکا۔ ہندوستان کی صنعتی پیداوار میں کمی واقعہ ہوئی۔پورے سال مہنگائی بڑھتی رہی حالانکہ سال کے ختم ہوتے ہوتے کھانے پینے کی چیزوں کے دام میں خاطر خواہ کمی آئی لیکن اس کے باوجود یہ چیزیں عام آدمی کے پہنچ سے باہر ہی رہیں، کیونکہ،تب تک ، مہنگائی کے چلتے لوگ اپنی قوت خرید سے ہاتھ دھو چکے تھے۔
اس پر ہمارے ملک میں کرپشن کو لیکر چلائے گئے ٹیم انا کے آندولن نے آگ پر گھی کا کام کیا۔لوگ یہ سمجھ بیٹھے کے ہر بیماری کا علاج لوک پال بل ہے اور اس کے آتے ہی ان کی تمام پریشانیوں کا حل ہوجائے گیا۔ مگر سال کے ختم ہوتے ہوتے ٹیم انا سے لوگوں کا موہ بھنگ ہوگیا اور ان کی سمجھ میں آگیا کے جو وعدے ٹیم انا نے ان سے کئے تھے وہ بے بنیاد ہیں اور ایسا کچھ نہیں ہونے جارہا جیسا کہ ان سے وعدہ کیا جارہا تھا اور بڑے بڑے سپنے دکھائے جارہے تھے۔ ٹیم انا نے اپنا سارا دباؤ کانگریس پارٹی پر ڈالے رکھا ۔ وہ کانگریس پارٹی جس کو چھوٹے چھوٹیقدم اٹھانے کے لئے بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑتاہے، اور تمام چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی مرہون منت ہو۔ٹیم انا نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ ہر ایک پارٹی سے لوک پال بل کے لئے الگ الگ تحریریحمایت حاصل کرے۔ اس لئے ساری ذمہ داری کانگریس پر آگئی کہ وہ لوک پال بل پاس کرائے۔ لوک سبھا میں بل پیش کیا گیا۔ اس پر بحث ہوئی اور جلدبازی میں کانگریس نے لوک پال بل لوک سبھا سے پاس کرالیا ۔ کیونکہ اپوزیشن کا کام مخالفت کرنا ہے اس لئے انہوں نے لوک پال بل کے ہر ایک دفع کی مخالفت کرنا اپنا فرض عین سمجھا اور ان دفعات کے خلاف بھی ووٹ دیا جو کے لوک پال بل کو ایک مضبوط لوک پال بناسکتی تھیں۔ایسی ہی ایکش دفع تھی لوک پال کو کنسٹی ٹیوشنل درجہ دیا جانا۔ کانگریس نے لوک پال بل کو لوک سبھا میں جلد بازی میں پاس تو کرالیا مگر راجیہ سبھا میں اسے پاس کرانے میں اس کو دانتوں تلے پسینا آگیا۔اسکے الائیز جو ابھی تک کسی نہ کسی طرح اس کا ساتھ دے رہے تھے، نے ہی راجیہ سبھا میں اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ اس بل پر راجیہ سبھا میں 187ترامیم پیش ہوئیں۔ ایسا پارلیمانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اب اگر اسے یہ بل پاس کرانا تھا تو اس کوکم از کم اپنے الائیز کی مانگوں کو یا تو ماننا تھا یا پھر ان کے شکوک و شبہات کو ختم کرنا تھا۔ ایک طرف راجیہ سبھاکی کارروائی چل رہی تھی، دوسری طرف کانگریس کے دگّج الائیز کو منانے میں لگے ہوئے تھے۔ مگر ان کو نہیں ماننا تھا اور انہوں نے نہیں مانا۔ تھک ہار کر کانگریس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا اور اس کو یہی موزوں لگا کہ راجیہ سبھا کی کارروائی تہ وقت سے آگے نہ بڑھائی جائے اورحامد انصاری صاحب نے راجیہ سبھاکا سرمائی اجلاس جس کو تین دن کے لئے بڑھایا گیا تھا رات کے بارہ بجے ختم کردیا۔ اس طرح لوک پال بل بچ گیا اور سرکار بھی ہزیمت اٹھانے سے بچ گئی۔ جو لوگ ابھی تک پوری طاقت لگارہے تھے کے یہ بل کسی بھی قیمت پر پاس نہ ہونا چاہئے، وہی لوگ کانگریس کو کوسنے میں لگ گئے کے وہ بل کیوں پاس نہیں کراسکی۔
سب سے زیادہ نقصان ٹیم انا کو ہوا، وہ اس کمزور بل کی مخالفت کررہی تھی اس لئے اس کے لوک سبھا میں پاس ہونے پر جیت کا جشن نہیں مناسکی، حالانکہ عقل کاتقاضہ تو یہ تھا کہ اس کے پاس ہونے پر ٹیم انا اس کا کریڈٹ تولے لیتی، کی اس کی کوششوں سے ایک بل تو پاس ہوگیا ہے چاہے کمزور ہی سہی اور پھر آگے اس کواور مضبوط کرنے کے لئے مزید لڑائی لڑنے کا اعلان کردیتی۔مگر ہوا وہی جو کانگریس چاہتی تھی ، یہ لوک پا ل کانگریسی لوک پال بن کر رہ گیا اور کوئی بھی اس کا کریڈٹ نہیں لے سکاسوائے کانگریس کے کیونکہ آخر میں اس کے سوائے سبھی لوک پال بل کی مخالفت میں کھڑے ہوئے نظر آئے۔
آخر میں دہلی پولیس کو نئے سال کا جشن منانے والوں کو قابو میں رکھنے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے مبارکباد دیتا ہوں۔ چاہے ایسا انہوں نے کئی سڑکوں، میٹروکے اسٹیشن، انڈیا گیٹ ، کناٹ پلیس اوردوسری عوامی جگہوں کو پبلک کے لئے بند کرکے کیا ہو۔ چاہے ایسا انہوں نے ریسٹورنٹ، ڈھابوں اور کھانے پینے کے اور دوسرے عوامی مقامات کو جلد بند کرواکر کیا ہو۔ کیونکہ اگر پبلک جمع ہی نہیں ہوگی تو ہڑدنگ بھی نہیں مچے گا اورامن عامہ کا مسئلہ بھی نہیں پیدا ہوگا۔ مگر انہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے، او راس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
آخر میں کسی شاعر کا یہ مشہور شعر پیش ہے:
نئی صبح ہے اور نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھیں گے کیا حال ہے
Afif Ahsen, Daily Pratap, Happy New Delhi, Roundup 2011, Vir Arjun,  

No comments:

Post a Comment