![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 23th January 2012
عفیف احسن
1988میں جب بدنام زمانہ سلمان رشدی نے اپنا متنازعہ ناول’’سیٹینک ورسز‘‘ شائع کیاتھاتو اس کے بعد دنیا بھر میں ایک ریکارڈ تنازعہ پھٹ پڑا تھا۔ منظم مارچ اور مظاہروں کے ذریعہ اس کتاب کے مندرجات کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس کتاب نے لوگوں کے جذبات کو اتنی گہرائی تک مجروہ کیا تھا کہ اس کی وجہ سے ان میں سے کچھ مظاہروں میں لامحالہ تشدد پھٹ پڑا اور کئی لوگ زخمی یا ہلاک ہو گئے۔
ایک طرف تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے اس اشاعت کی مذمت کی اور ایران کے آیت اللہ خمینی نے اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا، جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک نے اس کی حمایت کی انتہائی کردی اور کھل کر اس اشاعت کا دفاع کیا۔ مغربی ممالک کا یہ دفاع برطانیہ، جہاں کتاب پہلی بار شائع کی گئی تھی کے رد عمل کی تقلید تھاجس میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے دعوی کیا تھا کہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ کے منافی تھا۔ ایسا کرکے برطانیہ نے ’’جاسوس پکڑنے‘‘ کے معاملہ میں اپنی شکست کو آسانی سے دبادیا اور برطانیہ میں حکومت کے ذریعہ فحش ٹی وی چینلز کے ٹرانسمیشن پر کامیاب پابندی لگائے جانے سے لوگوں کا دھیا ن ہٹادیا۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق تھا تو ایسا لگتا تھا کہ ہوائی ترنگوں پر غیر مہذب زبان کی نشریات سے تقریر کی آزادی کی مقدس قسم کی خلاف ورزی ہوتی تھی لیکن معزز افراد کے خلاف غیر مہذب زبان کی اشاعت اورپاک کلام کے خلاف نازیبہ الفاظ کے ذریعہ اس کے لاکھوں شہریوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو پہنچائی گئی تکلیف اور درد کے خلاف کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
گویا کہ اتنا کافی نہیں تھا، اس لئے بعد ازاں اس کتاب کی ایک ادبی صحیفہ کے طور پرتعریف اورتعضیم کی گئی اوراس کتاب کو بکر انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ یہی نہیں مصنف کے ساتھ ایک ہیروجیسا برتاؤ کیا گیا اور اس کی بدنام زمانہ کتاب کو عوامی طور پرپڑھا گیا۔
جب مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، تو ان کو تنگ خیال اور قدیم سوچ والا قرار دیا گیا۔ بریڈفورڈ کے شہر میں عوامی طور پر سلمان رشدی کی کتاب کی ایک کاپی جلائے جانے کے بعد اس کی فوٹیج کولگاتار مغربی میڈیا پر دکھایا جاتا رہا۔ اس واقعہ نے مغربی مسلم عوام کو جو کہ کئی دہائیوں سے قانون کو مانتا اور امن سے رہتا آیا تھا اور بھی زیادہ غصے سے بھر دیا اوراس کے رویے میں عسکریت پسند ی در کر آئی ۔
اسی دوران جب برطانیہ کے مسلمانوں نے عدالتوں میں انصاف تلاش کرنے کی کوشش کی تو ان کی کوششوں کو شروعات میں ہی زبردست دھکا لگاکیونکہ برطانیہ جیسے ایک کثیر مذہبی معاشرے میں توہین کے قوانین صرف عیسائی مذہب کی توہین تک ہی محدود تھے ، دیگر عقائد کی توہین کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی اور اسلام کی تو قطعی نہیں۔
اس پر ہندوستان میں بھی سڑک سے لیکر سنسد تک بہت زبردست ردعمل ہوا۔ ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی راجیوگاندھی نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کتاب پر فوری طور پرپورے ملک میں پابندی عائد کردی اور اس کی اشاعت اور پڑھنا غیر قانونی قراردے دپا۔
لیکن پھر بھی اس متنازعہ اور ممنوعہ کتاب کی جے پور لٹریری فیسٹول میں کھلے عام نمائش کی گئی۔ یہی نہیں اس کتاب کو عوامی طور پر پڑھا گیا۔ ایسا کیا جانا ہندوستان کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہندوستانی قانون کے خلاف عدم اعتماد کا کھلم کھلا مظاہرہ ہے۔ حالانکہ مصنف برادری سلمان رشدی کے ہندوستان آنے سے روکے جانے کی پرزور مخالفت کررہی تھی لیکن لڑیری فیسٹول میں اس ممنوعہ کتاب کے اقتباسات پڑھے جانے کے بعد مصنف برادری بنٹ گئی ۔ یہی نہیں ان اقتباسات کے پڑھے جانے کے بعد آرگنائزر س نے اپنی جان بچانے کے لئے ان چاروں مصنفین کو فیسٹول چھوڑ کر چلے جانے کے لئے کہہ دیاہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی کسی بھی وقت گرفتاری ہوسکتی ہے۔ ایک ایس ایم ایس بھی سرکولیٹ کیا گیا ہے جس میں ’’سیٹینک ورسز‘‘ پڑھتے پائے جانے پرگرفتار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اب وہی آرگنائزرس جو کے سلمان رشدی کے اس فیسٹول میں نہ آنے دئے جانے کو ایک مدعہ بنائے ہوئے تھے، انہوں نے ہی چار دوسرے ایسے مصنفین کو فیسٹول سے چلے جانے کے لئے کہہ دیا ہے جنہوں نے یہ کتاب کھلے عام پڑھی تھی۔ آرگنائزرس کی اس دوہرے ماپ دنڈ سے ان کی نیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اب ان کی اظہار رائے کی آزادی کی دلیل کا کیا ہوا۔
مصنف چیتن بھگت نے مصنف برادری سے اپیل کی ہے کہ ممنوعہ لوگوں کو ہیرو بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا لکھا کچھ لوگوں کو برا لگا ہے تو انہیں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ٹھیک نہیں ہے۔
جانے مانے ملیالم مصنف کے سچدانند کا ماننا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے بچنے کے لئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔ اور رشدی کو لیکر آرگنائزر س کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا جانا چاہئے۔
رشدی نے یہ کہہ کر فیسٹول میں آنے سے منع کردیا تھا کہ انہیں بھاڑے کے مافیا کی طرف سے جان سے ماردئے جانے کاخطرا لاحق ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومتوں نے ان کے اس بیان کو بلاوجہ بتایا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کی طرف سے ایسی کوئی جانکاری سلمان رشدی کو دی گئی ہے۔
سلمان رشدی کاتنازعات سے چولی دامن کا ساتھ رہاہے۔ یا یوں کہا جائے کے وہ لوگوں کی دل آزاری کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ہیں اور ایسا وہ اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لئے کرتے رہتے ہیں۔
ممبئی میں پیدا ہوئے سلمان رشدی جو اپنے آپ کو کشمیری نسل کا بتاتے ہیں نے ایک اورناول ’’شالیمار دی کلائون ‘‘بھی لکھا تھا جو 2005میں شائع ہوا ۔ اس ناول میں انہوں نے ہندوستانی افواج کی بہت ہی غلط انداز میں تصویر کشی کی ہے۔ اور کشمیر کے طول العرض میں پھیلے ہوئے گائوں پر فوج کے حملوں کے بارے میں بڑھا چڑھا کر لکھا ہے۔
فوج کے ذریعہ استعمال ہونے والے جملے ’’کریک ڈاؤن‘‘ کو انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی، عصمت دری اور وحشی پن والا ایک خوش کلام کہا ہے۔ جو کہ ہر وقت ہوتا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ ایک انڑویو میں انہوں نے اس کوتمام کشمیریوں کا علاج کرنے کے لئے ایک ’’ہولوکاسٹ‘‘ سے تعبیر کیا ہے جیسے کہ وہ سب دہشت گرد ہوں۔
ان کا کہنا ہے کے اس ناول کے ذریعہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کی طرف جھکائو ہندوستانی افواج کی کارگزاریوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے بارے میں سب سے واضح حقائق فوجی ساز وسامان کی ایک بہت بڑی مقدار ہے جوکہ وہاں ہر جگہ موجود ہے ۔ ٹینک، ٹرک،ہاوٹزر، بزوکا، بھاری ہتھیار ڈپو، ہتھیاروں کے بڑے بڑے کنوائے جو ان سنکرے پہاڑی راستوں پر ایک سرے سے دوسرے تک چھ چھ گھنٹے تک چلتے رہتے ہیں۔ اور خدا آپ کی مدد کرے اگر آپ اس کے پیچھے پھنس گئے ہیں، کیونکہ وہاں اس سے آگے نکلنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتاہے۔ رشدی نے کہا۔
اپنی اس کتاب کے ذریعہ رشدی نے ہندوستانی فوج کی شبیہ کو جس طرح مسخ کرنے کی کوشش کی ہے اس پر کبھی بھی کوئی آواز نہی اٹھی اور ان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں ہوا۔ ایسا شاید اس لئے ہوا ہوگا کیونکہ ہندوستانی عوام کی نظرو ں میں ان کی خود کی شبیہ اتنی مسخ ہے کے کوئی بھی ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور ان کی باتوں کو ایک دیوانے کی بک بک سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھا جاتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سلمان رشدی کی ممنوعہ کتاب ’’سیٹنک ورسز‘‘ کی کھلے عام نمائش اور اس سے اقتباسات پڑھنے والے چار وں مصنفین اور اس کے آرگنائزرس کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی بھی کہ نہیں۔ یا کہ ہندوستانی قانون کی دھجیاں اڑانے کی بھی آزادی ہے۔
ایک طرف تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے اس اشاعت کی مذمت کی اور ایران کے آیت اللہ خمینی نے اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا، جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک نے اس کی حمایت کی انتہائی کردی اور کھل کر اس اشاعت کا دفاع کیا۔ مغربی ممالک کا یہ دفاع برطانیہ، جہاں کتاب پہلی بار شائع کی گئی تھی کے رد عمل کی تقلید تھاجس میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے دعوی کیا تھا کہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ کے منافی تھا۔ ایسا کرکے برطانیہ نے ’’جاسوس پکڑنے‘‘ کے معاملہ میں اپنی شکست کو آسانی سے دبادیا اور برطانیہ میں حکومت کے ذریعہ فحش ٹی وی چینلز کے ٹرانسمیشن پر کامیاب پابندی لگائے جانے سے لوگوں کا دھیا ن ہٹادیا۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق تھا تو ایسا لگتا تھا کہ ہوائی ترنگوں پر غیر مہذب زبان کی نشریات سے تقریر کی آزادی کی مقدس قسم کی خلاف ورزی ہوتی تھی لیکن معزز افراد کے خلاف غیر مہذب زبان کی اشاعت اورپاک کلام کے خلاف نازیبہ الفاظ کے ذریعہ اس کے لاکھوں شہریوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو پہنچائی گئی تکلیف اور درد کے خلاف کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
گویا کہ اتنا کافی نہیں تھا، اس لئے بعد ازاں اس کتاب کی ایک ادبی صحیفہ کے طور پرتعریف اورتعضیم کی گئی اوراس کتاب کو بکر انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ یہی نہیں مصنف کے ساتھ ایک ہیروجیسا برتاؤ کیا گیا اور اس کی بدنام زمانہ کتاب کو عوامی طور پرپڑھا گیا۔
جب مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، تو ان کو تنگ خیال اور قدیم سوچ والا قرار دیا گیا۔ بریڈفورڈ کے شہر میں عوامی طور پر سلمان رشدی کی کتاب کی ایک کاپی جلائے جانے کے بعد اس کی فوٹیج کولگاتار مغربی میڈیا پر دکھایا جاتا رہا۔ اس واقعہ نے مغربی مسلم عوام کو جو کہ کئی دہائیوں سے قانون کو مانتا اور امن سے رہتا آیا تھا اور بھی زیادہ غصے سے بھر دیا اوراس کے رویے میں عسکریت پسند ی در کر آئی ۔
اسی دوران جب برطانیہ کے مسلمانوں نے عدالتوں میں انصاف تلاش کرنے کی کوشش کی تو ان کی کوششوں کو شروعات میں ہی زبردست دھکا لگاکیونکہ برطانیہ جیسے ایک کثیر مذہبی معاشرے میں توہین کے قوانین صرف عیسائی مذہب کی توہین تک ہی محدود تھے ، دیگر عقائد کی توہین کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی اور اسلام کی تو قطعی نہیں۔
اس پر ہندوستان میں بھی سڑک سے لیکر سنسد تک بہت زبردست ردعمل ہوا۔ ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم آنجہانی راجیوگاندھی نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کتاب پر فوری طور پرپورے ملک میں پابندی عائد کردی اور اس کی اشاعت اور پڑھنا غیر قانونی قراردے دپا۔
لیکن پھر بھی اس متنازعہ اور ممنوعہ کتاب کی جے پور لٹریری فیسٹول میں کھلے عام نمائش کی گئی۔ یہی نہیں اس کتاب کو عوامی طور پر پڑھا گیا۔ ایسا کیا جانا ہندوستان کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہندوستانی قانون کے خلاف عدم اعتماد کا کھلم کھلا مظاہرہ ہے۔ حالانکہ مصنف برادری سلمان رشدی کے ہندوستان آنے سے روکے جانے کی پرزور مخالفت کررہی تھی لیکن لڑیری فیسٹول میں اس ممنوعہ کتاب کے اقتباسات پڑھے جانے کے بعد مصنف برادری بنٹ گئی ۔ یہی نہیں ان اقتباسات کے پڑھے جانے کے بعد آرگنائزر س نے اپنی جان بچانے کے لئے ان چاروں مصنفین کو فیسٹول چھوڑ کر چلے جانے کے لئے کہہ دیاہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ان کی کسی بھی وقت گرفتاری ہوسکتی ہے۔ ایک ایس ایم ایس بھی سرکولیٹ کیا گیا ہے جس میں ’’سیٹینک ورسز‘‘ پڑھتے پائے جانے پرگرفتار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اب وہی آرگنائزرس جو کے سلمان رشدی کے اس فیسٹول میں نہ آنے دئے جانے کو ایک مدعہ بنائے ہوئے تھے، انہوں نے ہی چار دوسرے ایسے مصنفین کو فیسٹول سے چلے جانے کے لئے کہہ دیا ہے جنہوں نے یہ کتاب کھلے عام پڑھی تھی۔ آرگنائزرس کی اس دوہرے ماپ دنڈ سے ان کی نیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اب ان کی اظہار رائے کی آزادی کی دلیل کا کیا ہوا۔
مصنف چیتن بھگت نے مصنف برادری سے اپیل کی ہے کہ ممنوعہ لوگوں کو ہیرو بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا لکھا کچھ لوگوں کو برا لگا ہے تو انہیں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ٹھیک نہیں ہے۔
جانے مانے ملیالم مصنف کے سچدانند کا ماننا ہے کہ غیر ضروری تنازعات سے بچنے کے لئے احتیاط برتنا ضروری ہے۔ اور رشدی کو لیکر آرگنائزر س کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا جانا چاہئے۔
رشدی نے یہ کہہ کر فیسٹول میں آنے سے منع کردیا تھا کہ انہیں بھاڑے کے مافیا کی طرف سے جان سے ماردئے جانے کاخطرا لاحق ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومتوں نے ان کے اس بیان کو بلاوجہ بتایا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کی طرف سے ایسی کوئی جانکاری سلمان رشدی کو دی گئی ہے۔
سلمان رشدی کاتنازعات سے چولی دامن کا ساتھ رہاہے۔ یا یوں کہا جائے کے وہ لوگوں کی دل آزاری کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ہیں اور ایسا وہ اپنے آقائوں کو خوش کرنے کے لئے کرتے رہتے ہیں۔
ممبئی میں پیدا ہوئے سلمان رشدی جو اپنے آپ کو کشمیری نسل کا بتاتے ہیں نے ایک اورناول ’’شالیمار دی کلائون ‘‘بھی لکھا تھا جو 2005میں شائع ہوا ۔ اس ناول میں انہوں نے ہندوستانی افواج کی بہت ہی غلط انداز میں تصویر کشی کی ہے۔ اور کشمیر کے طول العرض میں پھیلے ہوئے گائوں پر فوج کے حملوں کے بارے میں بڑھا چڑھا کر لکھا ہے۔
فوج کے ذریعہ استعمال ہونے والے جملے ’’کریک ڈاؤن‘‘ کو انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی، عصمت دری اور وحشی پن والا ایک خوش کلام کہا ہے۔ جو کہ ہر وقت ہوتا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ ایک انڑویو میں انہوں نے اس کوتمام کشمیریوں کا علاج کرنے کے لئے ایک ’’ہولوکاسٹ‘‘ سے تعبیر کیا ہے جیسے کہ وہ سب دہشت گرد ہوں۔
ان کا کہنا ہے کے اس ناول کے ذریعہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کی طرف جھکائو ہندوستانی افواج کی کارگزاریوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے بارے میں سب سے واضح حقائق فوجی ساز وسامان کی ایک بہت بڑی مقدار ہے جوکہ وہاں ہر جگہ موجود ہے ۔ ٹینک، ٹرک،ہاوٹزر، بزوکا، بھاری ہتھیار ڈپو، ہتھیاروں کے بڑے بڑے کنوائے جو ان سنکرے پہاڑی راستوں پر ایک سرے سے دوسرے تک چھ چھ گھنٹے تک چلتے رہتے ہیں۔ اور خدا آپ کی مدد کرے اگر آپ اس کے پیچھے پھنس گئے ہیں، کیونکہ وہاں اس سے آگے نکلنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتاہے۔ رشدی نے کہا۔
اپنی اس کتاب کے ذریعہ رشدی نے ہندوستانی فوج کی شبیہ کو جس طرح مسخ کرنے کی کوشش کی ہے اس پر کبھی بھی کوئی آواز نہی اٹھی اور ان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں ہوا۔ ایسا شاید اس لئے ہوا ہوگا کیونکہ ہندوستانی عوام کی نظرو ں میں ان کی خود کی شبیہ اتنی مسخ ہے کے کوئی بھی ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور ان کی باتوں کو ایک دیوانے کی بک بک سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھا جاتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سلمان رشدی کی ممنوعہ کتاب ’’سیٹنک ورسز‘‘ کی کھلے عام نمائش اور اس سے اقتباسات پڑھنے والے چار وں مصنفین اور اس کے آرگنائزرس کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی بھی کہ نہیں۔ یا کہ ہندوستانی قانون کی دھجیاں اڑانے کی بھی آزادی ہے۔
Afif Ahsen, Daily Pratap, Jaipur Literature Festival, Salman Rushdie, Satanic Verses, Shalimar the clown, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment