![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 30th January 2012
عفیف احسن
ہمارا ملک جب بھی کسی کی تقلید کرتا ہے تو
اندھی کرتا ہے اور جب مخالفت کرنے پر آتا ہے تو سبھی بندشیں پھلانگ جاتا ہے۔ جب ٹوئٹر اور فیس بک شروع ہوئے تو ہم نے ان کو ہاتھوں
ہاتھ لپک لیا۔ مگر دھیرے دھیرے اس
میں بھی فحاشی، مذہبی منافرت، ذات پات پر مبنی غیر موزوں مواد کی بھرمار ہوگئی۔ ایسا نہیں ہے کے ان مواد کو صرف ایک مذہب کے خلاف پایا
گیا۔ ہر مذہب اور ہر قومیت کے لوگوں کا مذاق اڑایا گیا۔ اس میں سب سے آسان ٹارگیٹ تو
قدرتی طورپر سیاست داں ہی تھے۔ کچھ مواد تو ایسے ہیں
کے جنہیں دیکھ کر اچھے سے اچھے شخص کوبھی غش آجائے۔ اس پہ غضب یہ کہ اگر آپ نے ان میں سے کسی
بھی چیز پر کوئی کمینٹ لکھ دیا تو یہ آپ کے سبھی دوستوں تک پہنچ جائے گا۔ اب چاہے یہ
کمینٹ اس مواد کے حق میں نہ بھی ہو۔ چاہے آپ نے اس مواد کی مخالفت ہی کی ہو۔ مگر مخالفت
کرکے بھی آپ جانے انجانے اس غیر موزوں مواد کواپنے ہزاروں دوستوں کو پہنچانے کا کام
کر بیٹھتے ہیں۔ اس طرح جو چیز آپ کے لئے درست نہیں تھی اس کی آپ نے مخالفت کی اس کے
بعد وہ مواد ہزاروں دوسرے لوگوں تک پہنچ گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو یہ موادلاکھوں
کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس سے کروڑوں لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ ایسا ہی
غلطی مجھ سے بھی سرزد ہوئی۔ جس سے میرے دوستوں کو بھی دماغی دکھ پہنچا۔ میرے ایک دوست
نے مجھ سے بجا سوال کیا کہ کیا یہ ضروری ہے کے ایسا مواد ڈالا ہی جائے یا ان پر کمینٹ
کیا جائے۔ مگر میں کہوں گا کہ ہم کب تک ایسے مواد کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائیں
گے۔” برامت دیکھو، برامت کہو، برامت سنو “کی اصطلاح تو ہم سنتے آئے تھے اب اس میں ایک
اور اصطلاح شامل ہوگئی ہے اور وہ ہے” برا مت روکو“۔
کچھ عرسہ پہلے جب ٹیلی کام کے مرکزی وزیر کپل
سبّل نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر لگام کسنے کے بارے میں بیان دیا تواس سے خوب شور شرابا
مچا۔ کپل سبل نے ان سائٹس پر ڈالی گئی چیزوں پر نگرانی رکھنے کی بات کہی تھی اور سوشل
نیٹ ورکنگ سائٹس سے اس قسم کے مواد ہٹانے کے لئے میٹنگ بھی کی تھی۔ کپل سبل نے کہا
تھاکہ انہوں نے فیس بک اور گوگل سے قابل اعتراض مواد کو بلاک کرنے کے لئے کہا ہے ،
خاص طور سے ایسی چیزیں جو ہندوستانی لوگوں کے مذہبی جذبات کو چوٹ پہنچا سکتی ہیں ۔
ان سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ساتھ ساتھ ہمارے
ملک کے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے بھی اس کی کھل کر مخالفت کی اورکچھ لوگوں
نے یہ الزام لگایا کہ ایسا سبل صاحب سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کو بچانے کے لئے
کررہے ہیں کیونکہ ان کے خلاف بہت ہی بھدّے ریمارکس اور فوٹو گراف ان سوشل نیٹ ورکنگ
سائٹس پر بھرے پڑے ہیں۔ سبل پر یہ بھی الزام لگا کہ وہ انّا ہزارے کو ان سوشل نیٹ ورکنگ
سائٹس پرملی غیر معمولی حمایت کو دبانا چاہتے ہیں۔ ایسی کسی بھی پابندی یا سینسر کی
مخالفت کرنے والوں نے اظہار رائے کی آزادی کی بنیاد پر بھی اس کی مخالفت کی۔
ناقدین کا کہنا تھاکہ ان دنوں انٹرنیٹ پر لوگ دل لگی کی بات چیت اور تصویروں کے لین
دین سے زیادہ سیاسی نظریات پر بحث کر رہے ہیں اس لئے ہی ہندوستان کی حکومت سوشل میڈیا
پر نگرانی کی بات کر رہی ہے۔ ٹیلی کام وزیر کے بیان کو انٹرنیٹ کی آزادی کی راہ میں
رکاوٹ ڈالنے والا مان کر اس کی سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ
صرف انٹرنیٹ پر موجود مواد پر نگاہ رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ نے بھی اس پر تشویش ظاہر
کی۔ ”بولنے کی آزادی کا مطلب انٹرنیٹ پر بولنے کی آزادی بھی ہے“ ماننے والے امریکہ
نے ہندوستان کی حکومت سے انٹرنیٹ کے لئے قواعد بنانے پر بات شروع کر دی۔ امریکی محکمہ
خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ”ہم مانتے ہیں کہ اظہار
کی آزادی اصلی دنیا کی طرح ہی انٹرنیٹ پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے“۔ مارک ٹونر
نے کہا، ”انٹرنیٹ پر اظہار کی آزادی کو روکنے کی کوشش کی ہمیں فکر ہے“۔
ہندوستان میں حالانکہ ٹیل ویژن، فلم اور اخبارات
پر تو کسی نہ کسی طرح کی پابندی ہے لیکن انٹرنیٹ پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مواد ٹی وی چینل دکھا نہیں سکتے، اخبارات چھاپ نہیں سکتے اگر
اسے انڑنیٹ سے بھی ہٹادیا جائے تو اظہار رائے کی آزادی بیچ میں کہا ں آگئی۔ میں تو
اس پر پابندی کی مخالفت کرنے والوں سے یہ بھی کہوں گا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسامواد
انٹرنیٹ پر دکھاناٹھیک ہے تو کیوں نہیں وہ خود ایسا مواد اپنے اخبارات میں چھاپتے اور
دکھاتے۔ قانون تو اپنی جگہ ہے لیکن کوئی بھی باضمیر شخص ایسے مواد کوکسی بھی شکل میں
استعمال کرنا نہیں چاہے گا۔
اس
سلسے میں دائر ایک مقدمے کی سنوائی کرتے ہوئے ہندوستان میں چل رہی 22 سوشل نیٹ ورکنگ
سائٹس کو دہلی کی عدالت نے ان کی ویب سائٹ سے مذہب مخالف یا سماج مخالف چیزوں کو ہٹانے
کے لئے کہا ہے۔ان ویب سائٹ کوچلانے والی کمپنیوں کو 6 فروری تک فیصلے پر عمل کرنے کا
حکم ملا ہے۔
کورٹ نے جن ویب سائٹس کو حکم دیا ہے ان میں
فیس بک، گوگل، یاہو اور مائیکروسافٹ سمیت 22 سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ شامل ہیں۔ دہلی کورٹ
کے ایڈیشنل سول جج مکیش کمار نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو سمن جاری کیا۔ ان کمپنیوں
کو حکم پورا کرنے کے لیے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا گیا۔ کورٹ نے اپنے حکم میں کہا، اگر مدعا
علیہ کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس میں سے قابل اعتراض چیزیں ہٹانے کے لئے نہیں کہا جائے
گا تو نہ صرف شکایت کرنے والے بلکہ ہر اس شخص کو جس کی مذہبی جذبات ان سے وابستہ ہیں،
ناقابل تلافی چوٹ پہنچے گی۔
بعد میں اس سمن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا
گیا۔ اس پر سنوائی کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک اور سرچ
انجن گوگل کو خبردار کیا تھاکہ اگر یہ ویب سائٹس قابل اعتراض مواد پر قابو پانے اور
انہیں ہٹانے کا انتظام نہیں کرتیں تو چین کی طرح بھارت میں ان پر پابندی لگائی جا سکتی
ہے۔عدالت کے قابل جج جسٹس سریش کیت نے کہا کہ اگر یہ مواد نہ ہٹایا گیا تو ’چین کی
طرح ایسی تمام ویب سائٹ کو بلاک کر دیں گے“۔
انہوں نے فیس بک اور گوگل انڈیا کی طرف سے
پیش ہونے والے وکلاء سے کہا تھاکہ وہ ایسا نظام پیش کریں جس سے قابل اعتراض مواد پر
قابو پایا جا سکے اور اسے ہٹایا جا سکے۔ گوگل انڈیا کے وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ ویب
سائٹ پر فحش اور قابلِ اعتراض مواد کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی نگرانی ہو
سکتی ہے۔انہوں نے کہا، ’اس معاملے میں کسی بھی شخص کا دخل ممکن نہیں ہے۔ ایسے مواد
پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ پوری دنیا کے اربوں لوگ اپنے مضمون ویب سائٹ پر شائع کرتے
ہیں، وہ قابل اعتراض یا فحش ہو سکتے ہیں، لیکن ان پر قابو نہیں کیا جا سکتا‘۔
حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالسٹر
جنرل ایس چنڈیوک نے گوگل انڈیا کے دلائل پر اعتراض کیا اور کہا کہ امریکہ میں قائم
گوگل انکارپوریٹڈ کے پاس یہ سہولت ہے کہ وہ جان سکتا ہے کہ کون قابل اعتراض مواد شائع
کر رہا ہے۔
بعد کو ہوئی کارروائی میں گوگل انڈیا نے دلی
ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ چونکہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اس لیے ویب سائٹ پر ایسی پابندی
عائد نہیں کی جا سکتی کہ اسے بند کر دیا جائے۔ گوگل کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کمپنی
کے وکیل این کے کول نے عدالت سے کہا کہ بھارت جمہوری ملک ہے اور چین کی طرح یہاں آمریت
کا راج نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ خیالات و اظہار رائے کی
آزادی سے متعلق ایک آئینی مسئلہ ہے اور اسے دبانا غیر ممکن ہے کیونکہ اظہار رائے کی
آزادی بھارت کو چین جیسی آمریت سے الگ کرتی ہے۔‘مسٹر کول نے عدالت سے کہا کہ انٹرنیٹ
ایک ایسا گلوبل نظام ہے جسے کروڑوں افراد، بہت سی کمپنیاں اور حکومتیں بھی استعمال
کرتی ہیں۔ اب اس معاملے میں آگے کی سنوائی دو فروری کو ہوگی۔
اس سلسلے میں ٹوٹر کے اعلان سے امید کی کرنظر
آئی ہے۔ اپنے بلاگ پوسٹ میں ٹوٹر نے یہ دعویٰ کیا ہے کے اس کے پاس ایسی تکنیک ہے جس
سے وہ الگ الگ ممالک کے کہنے پر اس ملک سے متعلق مواد یا ٹویٹ کوصرف اسی ملک میں ہی
بلاک کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ٹوٹر چاہے تو کسی بھی پوسٹ کو ہندوستان میں
بلاک کردے جبکہ باقی دنیا میں و ہ دکھائی دیتی رہے۔ اس کا ماننا ہے کے اظہار رائے کی
آزادی کا مطلب الگ الگ ملکوں میں الگ الگ لگایا جاتا ہے اس لئے وہ الگ الگ ملکوں
میں ان کے حصاب سے فلٹر لگا سکتا ہے۔
ٹوٹر کے اس اقدام سے گوگل کے اس دعوے کی ہواہی
نکل گئی ہے کہ ان ویب سائٹ پر فحش اور قابلِ اعتراض مواد کو روکا نہیں جا سکتا اور
نہ ہی اس کی نگرانی ہو سکتی ہے نیز یہ کہ اس معاملے میں کسی بھی شخص کا دخل ممکن نہیں
ہے۔
Afif Ahsen, Daily Pratap, Facebook, Google, Social Networking Sites. Delhi High Court, Twitter, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment