![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 9th January 2012
عفیف احسن
این آر ایچ ایم میں 3700کروڑ کاگھوٹالا۔سی ایم اوڈاکٹرونود آریہ کا قتل ۔سی ایم اوڈاکٹر بی پی سنگھ کا قتل۔ ڈپٹی سی ایم اوڈاکٹر سچان کاجیل میں قتل یا خودکشی۔سی بی آئی جانچ اور چھاپے۔ اگر اوپر دی ہوئی فہرست میں ایک سرخی شامل نہ کی جائے تو کہانی ادھوری رہ جاتی ہے اور وہ ہے، بابو سنگھ کشواہاکا گھوٹالوں کو لیکر مایاوتی کے ذریعہ وزیر کے عہدے سے ہٹایا جانا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ مگر جس دن مایاوتی نے ان کو بی ایس پی سے نکالا اس کے اگلے ہی دن ان کو بی جے پی نے گلے لگا لیا۔ جس پر بی جے پی کے مخالفوںکو اس پر حملہ کرنے کا ایک نادر موقعہ ہاتھ آگیا اور ابھی تک چاروں طرف سے کرپشن کے الزامات سے گھری کانگریس میں پھر سے جان پڑگئی۔ بی جے پی کے اعلیٰ قائدین کو تو منہ چھپانے کے لئے جگہ ملنامشکل ہوگئی اور وہ کونے ڈھونڈتے ہوئے نظر آئے۔ جو لیڈر ٹی وی والوں کو فون کرکر کے ہر مدعے پر اپنا بیان دینے سے نہیں چوکتے تھے ان کی بولتی ہی بند ہوگئی۔ ٹی وی والوں کو ملے بھی تو صرف مختار عباس نقوی حالانکہ وہ کوئی چھوٹے موٹے قائد نہیں ہیں مگر جب آپ کو پارٹی کی تمام غلط باتوں کا بچائو کرنے کے لئے ہمیشہ آگے کردیا جائے تو اسی سے پتا چل جاتا ہے کہ آپ کس پایہ کے قائد ہیں۔
جو سمجھدارقائد تھے انہوں نے تو یہی بہتر سمجھا کہ اس معاملے میں چپ رہنا ہی بہتر ہے۔جب پارٹی کے بڑے بڑے قائدوں نے راشٹر پتی بھون تک مارچ نکالااور صدر کو انہوں نے ایک میمورینڈم پیش کیا جس میں انہوں نے کانگریس کے ذریعہ مضبوط لوک پال بل پاس نہ کرائے جانے اور راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی کردینے کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کی اور سیشن دوبارہ بلائے جانے کی مانگ کی تھی، تب بھی ان کی اس دوغلی پالیسی کا سب ہی جگہ مزاق اڑایا گیا اور ہر رپورٹر ان سے کشواہا معاملے پر ہی سوالات کرتا رہا جس کا جواب کوئی بھی دینے کو تیار نہیں تھا۔
ایسا اس لئے ہوا کیونکہ کوئی بھی بڑا لیڈر اس معاملے پر حق گوئی کی حالت میں نہیں تھا۔ کیونکہ کشواہا کو پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر یعنی کے پارٹی صدر گڈکری نے بذات خود پارٹی میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اور پارٹی صدر کو ناراض کرنے کا خطرہ کوئی بھی مول نہیں لے سکتا۔ خاص کر ایسے صدر کو ناراض کرنا جس کو آرایس ایس نے بی جے پی پر مسلط کیا ہو۔ مگر جب آر ایس ایس نے ہی اس معاملے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی تو یوپی کے بی جے پی قائدین نے بھی اس فیصلے کے خلاف محاظ کھول دیا ۔امابھارتی نے کیمپین کرنے سے منا کردیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کھل کر بولا، مینکا گاندھی بھی خوب بولیںان کو چھوڑ کرباقی یوپی کے قائدین اس معاملے میں یا تو کشواہا کی شمولیت کی حمایت کرتے نظر آئے یا پھر چپی سادھے رہے۔ مگر کشواہا کی شمولیت کے خلاف بولنے والوں کابھی اپنا اپنا نجی ایجنڈا تھا۔
اما بھارتی اس لئے ناراض تھیں کے ان کو دھکے کھانے پڑ رہے ہیں اور کیمپین کے لئے ان کو ضروری سازو سامان مہیّا نہیں کرایا جارہا ہے۔نا ہی ان کو کوئی وقعت دی جارہی ہے۔بعد میں پارٹی ہائی کمانڈ نے ان کو ایڈوانی جی کا رتھ دینے کا وعدہ کرکے بہلا لیا۔ یہ وہی رتھ ہے جس پر ایڈوانی جی سوار ہوکر پورے دیش میں بدعنوانی کے خلاف یاترا پر گئے تھے۔ یہ وہی رتھ یاترا ہے جس کے بارے میں کانگریس کے راشد علوی کہہ رہے ہیں کہ ایڈوانی جی رتھ پر سوار ہوکر بدعنوانی کے خلاف مہم پر نہیں گئے تھے بلکہ ایسے بدعنوان لوگوں کی تلاش میں گئے تھے جن کو پارٹی میں شامل کیاجاسکے۔گڈکری جی کے اس ایک غلط فیصلے نے ایڈوانی جی کی یاترا پر پانی پھیرنے کا کام کیااور ان کے مخالفوں کو بولنے کا موقعہ دیا۔ ایسا نہیں ہے کہ ایڈوانی جی کی یاتراپر پانی پھیرنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔ یاترا شروع ہونے سے پہلے انہیں آرایس ایس کو صفائی پیش کرنی پڑی، بعد میں مودی کو ان کی یاترا کا مخالف بتایا گیا اور پارٹی کے دوسرے قائدین کے بارے میں بھی یہ کہا گیا کہ وہ اس یاترا سے خوش نہیں ہیں۔
حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ نے کھل کر اس شمولیت کی مخالفت کی ہے لیکن ان کا بھی اپنا ایک ایجنڈا ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کے پوروانچل میں ان کے چاہنے والوں کو تیس سیٹیں دی جائیں۔پچھلے اسمبلی الیکشن میںبھی سیٹ کے بنٹوارے کو لیکر انہوں نے پارٹی کی مخالفت کی تھی اورپارٹی چھوڑنے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی، مگر بعد میں ان سے سمجھوتہ ہوگیا تھا اور ان کے چہیتوں کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں۔ اس لئے انہیں تو مخالفت کرنی ہی تھی یہی موقعہ سہی۔ لیکن اب جب کے کشواہا نے اپنے آپ کو پارٹی سے سسپینڈ کرلیا ہے تو یوگی کیا کریں گے۔ ان کا ایک بارگیننگ پوائنٹ تو چلا گیا ، اور پارٹی لیڈرشپ کی ناراضگی مول لی وہ الگ۔مگر یوگی ہار ماننے والے نہیں ہیں وہ جلد ہی دوبارہ پارٹی کی مخالفت میں کھڑے نظر آئیںگے۔
مینکا گاندھی کافی وقت سے اپنے آپ کو الگ تھلگ محسوس کررہی تھیں۔ اور ان کے علاقے میں سیٹوں کے بنٹوارے میں بھی ان کی نہیں چل رہی ہے۔اس لئے انہوں نے بھی موقع دیکھ کر پارٹی میں کشواہا کی شمولیت کے خلاف بیان دے دیا۔
کشواہا کی شمولیت کے حق میں جو بھی بی جے پی قائدین ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ کیونکہ کشواہا ذات کے ووٹوں کی تعداد یوپی کے کل ووٹوں کاچارفیصد ہے اس لئے پارٹی کو ان کی شمولیت سے فائدہ ملے گا اور کشواہا برادری کا سارا ووٹ بی جے پی کو ملے گا۔
بی جے پی کے قومی نائب صدر ونے کٹیا ر نے کانگریس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس میں ذرا بھی اخلاقیات ہے تو وہ اعلان کریں کہ پارلیمنٹ میں سماج وادی پارٹی، بی ایس پی کے اراکین کی حمایت نہیںلیں گے۔بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کرنے کے جھٹکے سے نکلنے کے لیےانہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی بدعنوانی کو جڑ سے نیست و نابود کرنے کے لئے مہم چھےڑےگی اور اسی لئے بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں لیا ہے۔ کشواہا کے آنے سے مایاوتی کی بدعنوانی کا پردہ فاش ہو سکے گا۔پارٹی نے بابو سنگھ کشواہا کو مایاوتی حکومت کی بدعنوانی کی ساری سچائی کو سی بی آئی کو بتانے کو کہا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی سے اےن آراےچ اےم گھوٹالے کی جانچ میں اور تیزی لائے جانے کا مطالبہ کیا اور معاملہ کی تہہ تک جانے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ شک ہے کہ اس گھپلے کا تار مایا کی رانی مایاوتی کے دروازے پر جاکر ختم ہوتا ہے اس لیے سی بی آئی جلد سے جلد اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات اپنے قبضے میں لے کیونکہ آدرش گھوٹالے کی طرز پر اس معاملے سے جڑے اہم دستاویزات کو بھی جلانے اور ختم کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔
سونے پہ سہاگا یہ کہ بابو سنگھ کشواہا کے بی جے پی میں شامل ہوتے ہی سی بی آئی ان کے گھر چھاپا مارنے پہنچ گئی۔اس پرمختار عبّاس نقوی نے الزام لگایا کہ کانگریس کی قیادت والا یو پی اے اور اتر پردیش کی بی ایس پی حکومت میں ملی بھگت ہے اور وہ سیاسی ارادوں کو پورا کرنے کے لئے مرکزی جانچ بیورو کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ نقوی نے حکومت سے جاننا چاہا کہ اچانک سی بی آئی کشواہا کے معاملے میں اتنی فعال کیسے ہوگئی۔شاید نقوی صاحب کا یہ ماننا ہے کہ بی جے پی میں شامل ہونے والا شخص گنگا نہا لیتا ہے اور اس کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔
کشواہا کولیکرٹیم انابھی میڈیا کے گھیرے میں آگئی۔ کانگریس نے یہ الزام لگایا کہ ٹیم انا کو کشواہااور بی جے پی تو نظر نہیں آتے جبکہ وہ کانگریس کو کوسنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ٹیم اناکو یہ سمجھنے میں چوک ہوگئی کہ بدعنوانی کا کوئی ایک مخصوص نام اورپتہ نہیں ہوتا۔ آپ جب چاہیں اسے جاکر پکڑ لیں اور اس کے کان مروڑنے لگ جائیں۔ملک میںبد عنوانی ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہے۔
حالانکہ کشواہا نے ایک خط لکھ کر خود کو بی جے پی سے سسپینڈ کرلیا ہے مگرحالیہ واقعات سے تو اب یہ ثابت ہوگیاہے کہ بدعنوانی اپنانام اور پتہ بھی بدل سکتی ہے۔
Afif Ahsen, Bahujan Samaj Party, BJP, Daily Pratap, Gadkari, Kushwaha, Mayawati, Mukhtar Abbas Naqvi, NRHM, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vinay katiar, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment