![]() |
| Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily |
Published on 16th January 2012
عفیف احسن
آپ سوال کریں گے کے ٹوجی گھوٹالے کا فرقہ پرستی سے کیا تعلق ہے۔ مگریہ سچ ہے کہ سیاست داں اپنے دفاع میں کسی بھی معاملے کو بیچ میں گھسیٹ لیتے ہیں۔ کافی دن سے سبرامنیم سوامی کو یہ خوف ستا رہا تھا کہ کہیں چدمبرم ان کو گرفتار نہ کروادیں۔ ان کا یہ خوف بے بنیاد بھی نہیں ہے۔ ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی تھی کیونکہ انہوں نے کام ہی ایسامتنازعہ کیا تھا۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے پچھلے سال اکتوبر میں سوامی کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔یہ ایف آئی آر جولائی میں ایک انگریزی روزنامہ ڈی این اے میں شائع سبرامنیم سوامی کے ایک کالم کے بعد درج کی گئی تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں کے تعلق سے بے ہودہ اور لغو باتیں لکھیں تھیں اورمنافرت پھیلانے کا کام کیا تھا۔
سوامی نے اپنے کالم میں مذہبی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہندوستان میں صرف انہی مسلمانوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہئے جو اس بات کا اعتراف کریں کہ ان کے آبا و اجداد ہندو تھے۔ نیزسوامی نے ہندوستان کی سینکڑوں مساجد کو ڈھانے کی بھی وکالت کی تھی۔ اپنی ایف آئی آر میں پولیس کا یہ کہنا ہے کہ ان کایہ مضمون فرقوں کے درمیان دشمنی اور منافرت پھیلانے والا ہے۔
سوامی نے اپنی گرفتاری کے خدشہ کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں جمعرات کو اپنے وکیل مہین پردھان کے ذریعہ پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی ۔ سوامی کی طرف سے سینیئروکیل کے ٹی ایس تلسی نے بحث کی اور یہ دلیل پیش کی کہ کیونکہ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے میں چدمبرم کے رول کو لے کر سوامی نے عدالت میں ان کے خلاف ثبوت سونپے تھے،چدمبرم کی جانب سے میمو، سی آئی ٹی اور وزیر داخلہ اور سابق وزیر مواصلات اے راجا کے درمیان ہوئے ترسیل کی کاپی کورٹ کو سونپی تھی،ٹوجی گھوٹالے میں چدمبرم کو ملزم بنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ الزام لگایا ہے کہ گھوٹالے کو راجا اور چدمبرم نے مل کر مشترکہ طور پر انجام دیا ہے۔ اور یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وزیر داخلہ چدمبرم نے ملک کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس لئے چدمبرم نے بدلے کی نیت سے ان کے خلاف یہ کیس درج کرایا ہے اوروہ ان کو گرفتار کروانا چاہتے ہیں تاکہ وہ آگے گواہی نہ دے سکیں۔سوامی کے وکیل نے کہا کہ ان کا مضمون ان کی ایک چھ سال پرانی کتاب پر مبنیٰ ہے اور اس کتاب کے چھپنے کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہواتھا۔
معززجج جسٹس ایم ایل مہتہ نے سوامی کی پیشگی ضمانت عرضی کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیکولر ملک ہیں اور ہمیں اس نظام کا احترام کرنا چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستان کوئی برطانیہ یا یوروپین ملک جیسا نہیں ہے بلکہ ہماری گنگا جمنی تہذیب ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہئے۔
عدالت نے سوامی سے کہا کہ اگر وہ یہ قول دیں کہ مذکورہ کتاب کے متعلق آگے کچھ نہیں لکھیں گے تو ان کو راحت دی جاسکتی ہے۔اس کے بعد سوامی نے کورٹ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں ایسی کوئی تحریر نہیں لکھیں گے جس سے جذبات مجروح ہوں۔ بعد ازاں معززجج جسٹس ایم ایل مہتہ نے سوامی کوان کی متنازع اشتعال انگیز تحریر کے معاملے میں ممکنہ گرفتاری سے30 جنوری تک عبوری راحت دے دی۔ عدالت نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب مانگا ہے۔
اس سے قبل سوامی کو تب بہت زبردست جھٹکا لگا تھا جب دسمبرمیں375 سالہ قدیم ہارورڈ یونیورسٹی (کیمبرج ، امریکہ) نے سبرامنیم سوامی کو اپنے موقر تعلیمی ادارے سے خارج کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ ان کے ذریعہ پڑھائے جارہے دو نصاب بھی یونیورسٹی سے خارج کر دئے گئے جس کی تعلیم کے لئے سوامی صاحب یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر فائز رہے تھے ۔
واضح رہے کہ سوامی کے متذکرہ متنازعہ مضمون پر اعتراضات کے باوجود یونیورسٹی نے اظہار رائے کی آزادی کا فائدہ دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو درس کیلئے مدعو کرنا چاہا تھا مگر 400 سے زائد طلبا نے پروفیسر سوامی کو ہٹائے جانے کی درخواست دائر کی۔ یونیورسٹی فیکلٹیز نے اجلاس میں بحث کے بعد فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر سوامی کا مضمون ایک مذہبی فرقے کے خلاف منفی تشہیر اور مقدس مقامات کے خلاف تشدد کا اعلان کرتا ہے۔ لہذا ہارورڈ یونیورسٹی کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود کو ایسے شخص کے ساتھ وابستہ نہ کرے جو کسی اقلیتی طبقے کے خلاف نفرت کا احساس ظاہر کرتا ہے۔
اب سنئے ان صاحب کا حال جن کی طرف سے سوامی کو گرفتاری کا خطرہ بتایا جارہا ہے، یعنی کے پی چدمبرم ۔ وہ بھی بہانے بازی میں سوامی سے کم نہیں ہیں۔ٹو جی اسکیم میں اپنے آپ کو پھنستا دیکھ کر انہوں نے بھی اسی قسم کا بہانہ بنایااور الزام لگائے۔پچھلے سال جولائی میں ایک پریس کانفرنس کرکے انہوں نے یہ الزام لگایا کہ دائیں بازو کی دہشت گرد جماعتوں کے خلاف دہشت گردی کے نو کیس درج ہیں جن میں بم بنانے اور لوگوں کی جان لینے کے کیس ہیں اس لئے بی جے پی، یوپی اے کے چنندہ وزیروں کے خلاف الزامات لگارہی ہے کیونکہ یوپی اے حکومت ان کی تفتیش میں تیزی لائی ہے۔ چدمبرم نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی کے ذریعہ حملہ کیے جانے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایودھیہ کیسوں میں سرکارعدالت کو متواتر سنوائی کرنے کے لئے راضی کرنے میں میاب رہی ہے۔انہوں یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ بی جے پی ان کو ٹوجی معاملے سے کیوں لنک کررہی ہے۔
چدمبرم نے کہاتھا کہ وہ کسی دوسری وجہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔’’میں سوچتا ہوں کہ وجہ یہ ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ حکومت سنجیدگی سے ان بم دھماکہ کے کیسوں کی تحقیقات کررہی ہے جن میں دائیں بازو کے بنیاد پرست عناصر شامل ہیں۔واضح طور پر ان دائیں بازو کے بنیاد پرست عناصر میں سے کئی آر ایس ایس سے منسلک ہیں۔‘‘
وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ذریعہ بم حملوں کے لئے ان گروہوں پر الزام لگا ئے جانے پر مضبوط تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا تھا کہ ان کا یہ بیان پاکستان کے ذریعہ26/11 حملوں کے قصورواروں کے خلاف کوئی کٹھور کارروائی نہ کرنے کے اس کے موقف کو مزید تقویت دے گا۔
بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہاتھا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ایک دلکش وکیل، جیسے کہ چدمبرم ہیں، نے اپنے دفاع میں کچھ بہتر منطق ایجاد کی ہوتی ۔اب جبکہ ان کی پوری گردن گہرائی تک 2G سکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والوں کا لاکھوں کروڑ روپے کا نقصان ہوا،اور جودن بدن تیزی سے عیاں ہورہا ہے۔‘‘
یہ وہی چدمبرم صاحب ہیں جو تال ٹھونک کر یہ کہہ رہے تھے کے بٹلا ہاؤس انکاؤنٹر بالکل درست تھا اور اس کی جانچ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ابھی پھر انہوں نے اپنے اس موقف کو دوہرایا ہے۔جب انکا موقف یہاں پر بی جے پی کے موقف سے بالکل میل کھاتا ہے تو پھروہ کیسے بی جے پی کو اپنا دشمن بتا تے ہیں۔
چدمبرم اور سوامی میں صرف اتنا فرق ہے کہ جب چدمبرم کو لگا کہ وہ ٹوجی گھوٹالے میں پھنس رہے ہیں تو انہوں نے دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کے خلاف لئے گئے ایکشن کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جبکہ دوسری طرف جب سوامی کو لگا کہ وہ دائیں بازو کی اپنی روش کی وجہ سے پھنس رہے ہیں تو انہوں نے ٹوجی کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
ہمارے ملک میں کافی عقلمنداورقوی قوت برداشت والے لوگ رہتے ہیں اور ایسی بے بنیاد اور بیکار باتوں پر فوراً ردعمل نہیں ظاہرکرتے مگر ایسی باتوں سے دھیرے دھیرے، اندرہی اندر نفرت کا جوالامکھی سلگتا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس ایم ایل مہتہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے انہوں نے یہ بات صاف کردی ہے کہ گنگا جمنی تہذیب والے ملک ہندوستان میں اس طرح کی منافرت پھیلانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے سوامی سے یہ قرار بھی لے لی ہے کہ اب وہ آگے اس قسم کے آرٹیکل نہیں لکھیں گے۔
2G Scam, Afif Ahsen, Chidambaram, Communalism, Daily Pratap, Delhi High Court, Swami, Vir Arjun,

No comments:
Post a Comment